Radio Pakistan

Radio Pakistan Official page of Radio Pakistan Official page of Radio Pakistan's Programme Section.
(1)

اُڑنے کو تیار، دو سفید پرندےریاستِ بہاولپور کے منفرد شاہی علامتی نقش کا اَحوال“مَیں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ بادشاہ (ج...
06/10/2026

اُڑنے کو تیار، دو سفید پرندے

ریاستِ بہاولپور کے منفرد شاہی علامتی نقش کا اَحوال

“مَیں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ بادشاہ (جہانگیر) نے اپنے ایک کم سِن بیٹے (شہزادے) شہریار، جو سات برس کا بچّہ تھا، کو حکم دیا کہ وہ ہاتھی کے قریب چلا جائے تاکہ وہ اُسے اپنی سُونڈ سے اُٹھا لے۔

ہاتھی نے بھی ایسا ہی کیا اور شہزادے کو سُونڈ سے اُٹھا کر فِیل بان، جو آنکُس (لوہے کے آنکڑے) کے ذریعے اُسے قابو کررہا تھا، کے حوالے کردیا۔ شہزادے کے ساتھ ایسا کرنے کے بعد ہاتھی نے بہت سے دوسرے بچّوں کے ساتھ بھی یہی کیا۔

جب بادشاہ (جہانگیر) سفر کرتا ہے تو سَدھائے ہوئے کئی ہاتھی اُس کے ہمراہ ہوتے ہیں۔ وہ اپنی شاہانہ شان کے اِظہار کے لیے بھی اُنہیں اپنی سواری کے آگے چلواتا ہے۔ اُنہیں پیتل کے اُبھرے ہوئے زیورات سے آراستہ کیا جاتا ہے، جبکہ بعض زیورات خالص چاندی یا سونے کے بنے ہوئے بھی ہوتے ہیں۔ اُن کے ساتھ مختلف گھنٹیاں بھی لٹکتی ہیں، جن کی آواز ہاتھی پسند کرتے ہیں۔ اُن پر عُمدہ پوشاکیں بھی ڈالی جاتی ہیں، جو قیمتی کپڑے یا مخمل، حتّیٰ کہ سونے اور چاندی کی تاروں والے قیمتی زَربَفت تک کی بنی ہوتی ہیں۔

مزید شاہانہ شان کے لیے اِن ہاتھیوں کے آگے ریشم کے پھریرے اُٹھائے جاتے ہیں۔ اِن پھریروں پر بادشاہ کا نشان نقش ہوتا: ایک بیٹھا ہوا شیر اور اُس کے عقب میں سورج، جس کا ایک حصّہ شیر کے جسم کے پیچھے چھپا دکھائی دیتا ہے۔”

یہ مشاہدات انگریز پادری ایڈورڈ ٹیری کے ہیں، جو اُس نے اپنی خود نوشت ’اے وائج ٹو ایسٹ انڈیا‘ میں درج کیے ہیں۔ اِس کتاب کے سبھی مشاہدات مُغل دربار اور ہندوستانی لوگوں کی بُود و باش اور رہن سہن سے متعلق ہیں۔

ٹیری، سَر تھامس رو (جو انگلستان کے بادشاہ جیمز اوّل کے سفیر کی حیثیت سے مُغل بادشاہ جہانگیر کے دربار میں رہا تھا) کے سفارتی مشن کے ساتھ ۱۶۱۶ء سے ۱۶۱۹ء تک بطور پادری وابستہ رہا تھا۔ اِس سفارت کا ایک اہم مقصد مُغل سلطنت میں انگریز تاجروں اور ایسٹ انڈیا کمپنی کے لیے تجارتی مراعات اور شاہی سرپرستی حاصل کرنا تھا۔

ٹیری نے جہانگیر کی شاہی سواری کے آگے چلنے والے جس عَلَم یا ریشمی پھریرے کا ذکر کیا ہے، اُس طرح عَلَموں اور اُن پر بنے مخصوص نشانات کے ذریعے اپنی شناخت ظاہر کرنے کی روایت خود ٹیری کے اپنے یورپ میں بھی صدیوں سے موجود چلی آرہی تھی۔

صلیبی جنگوں (۱۰۹۵ء تا ۱۲۹۱ء) میں یورپ سے آنے والی عیسائی افواج بالعموم صلیب کے نشان والے عَلَموں کے ساتھ میدانِ جنگ میں اُترتی تھیں۔ تاہم اِن جنگوں میں شریک مختلف بادشاہوں اور اُمرا کے اپنے علیحدہ عَلَم اور نشان بھی ہوتے تھے۔ مثال کے طور پر، انگلستان کے بادشاہ رچرڈ اوّل کے ۱۱۸۹ء کے شاہی نشان پر ایک شیر دکھائی دیتا ہے۔ بعد کے سالوں میں اُس کے شاہی نشان پر ایک کی بجائے تین شیر نمودار ہوئے، جو آگے چل کر انگلستان کے شاہی نشان کی نہایت معروف علامت بنے۔

۱۸۵۸ء میں جب ہندوستان کا اِقتدار ایسٹ انڈیا کمپنی سے تاجِ برطانیہ کو منتقل ہوا، برٹش انڈیا بہت سی شاہی ریاستوں پر مشتمل سرزمین تھی؛ اِن میں سے ہر ایک کا اپنا حکمران خاندان، اپنی تاریخ، نَسَب، جغرافیہ اور مقامی روایات تھیں۔

لیکن اِن شاہی ریاستوں میں کچھ تو علامتوں اور نقوش والی شناخت سرے سے رکھتی ہی نہیں تھیں، جبکہ باقی اپنی شاہی علامات و نشانات کے اِستعمال کے معاملے میں کسی ایک مشترک ضابطے کی پیروی یا یکساں طرز کا سانچہ رکھنے کی روادار ہی نہیں تھیں۔

۱۸۷۶ء کا سال برٹش انڈیا کے اِنتظامی ڈھانچے میں ایک بڑی تبدیلی لایا؛ ’رائل ٹائٹلز ایکٹ ۱۸۷۶ء‘ کے تحت برطانیہ کی ملکہ وکٹوریہ کے شاہی اَلقاب میں ہندوستان کے لیے ’اِیمپریس آف انڈیا‘ کا لقب تجویز کیا گیا، جو ہندوستان میں ’قیصرۂ ہند‘ کے طور پر ترجمہ ہوا۔

اِس اہم تبدیلی کے بعد ملکہ کے اِس نئے شاہی لقب کے اِعلان کو ہندوستان میں غیر معمولی شان و شوکت کے ساتھ منانے کے لیے وائسرائے لارڈ لِٹن کے عہد میں دہلی میں ایک عظیم شاہی اِجتماع منعقد کرنے کی تیاری شروع ہوئی۔ اِس اِجتماع میں ہندوستان کے مختلف حصّوں سے راجوں، مہاراجوں، نوابوں اور دوسرے حکمرانوں کو جمع کیا جانا تھا، اور یکم جنوری ۱۸۷۷ء کو دہلی میں منعقد ہونے والے اِسی ’اِمپیریل اَسیمبلیج‘ (شاہی خاندانوں کے اِکٹھ) میں ملکہ وکٹوریہ کے نئے شاہی لقب ’قیصرۂ ہند‘ کے اِعلان کے ساتھ ساتھ ہندوستانی حکمرانوں اور ریاستوں کے لیے اُن کے منفرد شاہی علامتی نشانات یا نقوش کے اِعلان کی تجویز بھی سامنے آئی۔

۱۸۷۷ء کے اِس دربار کے طفیل برٹش انڈیا کا اِنتظامی اور شاہی ڈھانچا علامتی نشانوں کے ضمن میں یکسر بدلنے لگا تھا؛ اب ایک تو ہر شاہی ریاست کوئی نہ کوئی علامت یا نقش (insignia) اِختیار کرنے لگی تھی یا اُس کے پہلے سے موجود کسی کچّے پکّے نقش کو اب ایک مستقل پکّا سانچہ (standard format) ملنے لگا تھا۔ برٹش انڈیا اب ’ہِیرالڈری‘ (heraldry) کی طرف راغب ہونے لگا، جس کا اِشتیاق خود تاجِ برطانیہ نے پیدا کیا۔

“ہِیرالڈری” انگریزی زبان کی اِصطلاح ہے جس سے مراد علامتوں اور نقوش کا وہ باقاعدہ نظام ہے، جس کے تحت بادشاہ، شاہی خاندان اور اُمرا مخصوص علامات اور نشانات کے ذریعے اپنے جلال و جبروت اور اپنے زیرِ اِنتظام علاقوں کی خوبصورتی یا اِنفرادیت کا اِظہار کرتے ہیں۔

۱۸۷۷ء کا شاہی اِجتماع ملکۂ برطانیہ کے لیے محض ایک نئے لقب کے اِعلان کی تقریب نہیں تھا؛ مختلف علاقوں، خاندانوں، مذاہب اور روایات سے تعلق رکھنے والے حکمران، جو کبھی ایک دوسرے کے دشمن بھی رہے تھے، اب ایک ہی مقام پر جمع ہونے والے تھے۔ اُن میں سے ہر ایک کی اپنی جداگانہ شناخت تھی، لیکن اُن سب کو تاجِ برطانیہ کے زیرِ سایہ ایک مشترک شاہی نظام کے حصّے کے طور پر دکھانا تھا۔ چنانچہ اِس مقصد کے لیے باقاعدہ ہِیرالڈک نشان اور عَلَم مرتب کرنے کا منصوبہ اِختیار کیا گیا۔ اِس کام کے لیے رابرٹ ٹیلر کی خدمات حاصل کی گئیں۔

رابرٹ ٹیلر کیمبرج سے تعلیم یافتہ اور بنگال سول سروس کا افسر تھا، جسے ہِیرالڈری سے خصوصی دل چسپی تھی اور وہ ہندوستانی حکمرانوں کے لیے علامتی نشان مرتب کرنے کا تجربہ بھی رکھتا تھا؛ ۱۸۶۹ء–۷۰ء میں ملکہ وکٹوریہ کے بیٹے ڈیوک آف ایڈنبرا کے دورۂ ہندوستان کے موقع پر اُس نے ہندوستانی شہزادوں کے لیے عَلَم اور اُن پر شاہی نشان مرتب کیے تھے۔ بعد ازاں ۱۸۷۵ء–۷۶ء میں پرنس آف ویلز کے دورۂ ہندوستان کے موقع پر بھی ہندوستانی حکمرانوں کے لیے بڑی تعداد میں نشان اور عَلَم درکار ہوئے اور ٹیلر ایک مرتبہ پھر اِس کام سے وابستہ رہا تھا۔

چنانچہ مئی ۱۸۷۶ء میں جب دہلی کے آئندہ شاہی اِجتماع کی تیاریوں کے سلسلے میں ٹیلر کو ہندوستانی حکمرانوں اور ریاستوں کے لیے باقاعدہ ہِیرالڈک نشان اور عَلَم مرتب کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی تو اُسے تقریباً اَسّی (۸۰) مزید نشان تیار کرنے تھے، کیونکہ وہ دس کے نشان پہلے ہی مختلف اوقات میں مرتب کرچکا تھا۔

اِن شاہی ریاستوں کے لیے علامتی نقش بنانے کا کام بھی کچھ آسان نہیں تھا؛ ٹیلر کے پاس وقت کم تھا، لہٰذا اُس نے ایک سادہ سا منصوبہ بنایا۔ اُس نے ہِیرالڈری کا ایک بنیادی اور تقریباً یکساں سانچہ تیار کیا، جس میں ڈھال (Shield)، اُس کے دونوں طرف حامی پیکر (Supporters)، بالائی نشان (Crest) اور شِعار (Motto) کے لیے جگہ مقرر تھی۔

اب ہر شاہی ریاست نے اپنی اِنفرادی شناخت کے لیے اِس سانچے کے اندر متعلقہ معلومات پُر کرنی تھیں؛ علامتوں اور نقوش کو اِس سانچے میں رکھنے کا کام ٹیلر نے کرنا تھا۔

ٹیلر نے ریاستوں سے متعلق معلومات اور تجاویز برطانوی ریزیڈنٹوں اور پولیٹیکل ایجنٹوں کے ذریعے حاصل کیں؛ کہیں حکمران یا دربار نے اپنی پسند کی علامت تجویز کی، کہیں کوئی خاکہ فراہم کیا گیا اور کہیں ریاست یا حکمران خاندان کی تاریخ، نَسَب، مذہبی روایت، مقامی داستانوں اور جغرافیائی خصوصیات سے مناسب علامت اَخذ کی گئی۔ شاہی ریاست ٹراونکور سے متعلق محفوظ مراسلت بھی اِس طریقۂ کار کی تصدیق کرتی ہے، جہاں ٹیلر نے ریزیڈنٹ کے ذریعے حکمران خاندان کی تاریخ اور اِمتیازی خصوصیات سے متعلق معلومات طلب کی تھیں۔

اِس عمل کی ایک دل چسپ مثال میواڑ کی ہے، جہاں سے ٹیلر کو باقاعدہ رنگین خاکہ بھیجا گیا۔ اُس میں چتوڑ اور میواڑ کے پہاڑی علاقے، دسہرے کے موقع پر پوجی جانے والی تلوار، رانا پرتاپ اور خاندان کے مذہبی سرپرست ایکلِنگ مہادیو تک کو علامتی صورت میں پیش کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔

یوں تاجِ برطانیہ کی یہ کارروائی محض برطانوی علامات اور نقوش کا نظام ہندوستانی ریاستوں پر مسلط کرنے کی نہیں تھی بلکہ شاہی ریاستوں سے حاصل ہونے والی مقامی علامات اور روایات کو بھی نئے ہِیرالڈک سانچے میں ڈھالا جانا تھا۔

ٹیلر نے اِس مختلف النوع مواد کو ایک ایسے مشترک بصری سانچے میں ڈھالا جسے برطانوی علامتی روایت کے قواعد کے مطابق پڑھا اور پہچانا جاسکتا تھا۔ یہی وہ مقام تھا جہاں ہِیرالڈری اِس پورے منصوبے کی بنیادی زبان بن گئی۔

البتہ اِن نشانوں کو بڑے ریشمی عَلَموں کی عملی صورت دینے کا کام ٹیلر نے خود نہیں کیا۔ یہ ذمہ داری لاہور اسکول آف آرٹس کے سپرنٹنڈنٹ جان لاک وُڈ کِپلنگ کو سونپی گئی، جو بعد میں عالمی شہرت پانے والے ادیب رڈیارڈ کِپلنگ کے والد تھے۔ ٹیلر کے مرتب کردہ ہِیرالڈک نشان اِنہی عَلَموں پر منتقل کیے گئے، جنہیں دہلی کے شاہی اِجتماع کے موقع پر ہندوستانی حکمرانوں کو پیش کیا جانا تھا۔

یوں رابرٹ ٹیلر نے، پرانے اور نئے ملا کر، مجموعی طور پر نوّے ہندوستانی ریاستوں کے لیے ہِیرالڈک نشان مرتب کیے۔ اِن میں سے ۶۳ حکمرانوں کو یکم جنوری ۱۸۷۷ء کے ’اِمپیریل اَسیمبلیج‘ میں جان لاک وُڈ کِپلنگ کے تیار کردہ، اُن کے نشانوں سے آراستہ عَلَم پیش کیے گئے۔

اِن نشانوں کے بنیادی سانچے میں خاصی یکسانیت تھی، لیکن ڈھال پر بنائے گئے نقوش، اُس کے اوپر رکھا گیا تاجی نشان اور خصوصاً ڈھال کے دونوں جانب کھڑے کیے گئے حامی پیکر ریاست بہ ریاست بدلتے چلے جاتے تھے۔ یوں ایک ہی ہِیرالڈک سانچے میں ہندوستان کے مختلف علاقوں، حکمران خاندانوں اور مقامی روایات سے وابستہ جانوروں، پرندوں اور دوسری علامتوں کو جگہ ملتی گئی۔

مثلاً بڑودہ، جو آج بھارت کی ریاست گجرات میں وڈودرا کے نام سے جانا جاتا ہے، کے نشان میں ڈھال کے دونوں جانب دو ہاتھی حامی پیکر بنائے گئے۔ وسطی ہندوستان کی ریاست دِیواس کی دونوں شاخوں کے لیے بھی دو دو ہاتھی رکھے گئے؛ حیدرآباد دکن کے نظام کے نشان میں ڈھال کے دونوں جانب دو شیر تھے، جبکہ جوناگڑھ کے نواب کے لیے دو سفید شیر حامی پیکر بنائے گئے۔

ناہن یا سِرمور کی ریاست، جس کا علاقہ آج ہماچل پردیش میں شامل ہے، کے نشان میں ڈھال کے دونوں جانب دو تیندوے تھے، جبکہ گجرات کی سابق ریاست بانسدا کے دونوں حامی پیکر ریچھ تھے، جن کے کندھوں پر شعلوں کی علامت بنائی گئی تھی۔ یوں ایک ہی بنیادی ہِیرالڈک ساخت میں کہیں ہاتھی، کہیں شیر، کہیں تیندوے اور کہیں ریچھ کسی ریاست یا حکمران خاندان کی جداگانہ شناخت کا حصّہ بن رہے تھے۔

حامی پیکروں کے طور پر پرندوں کا اِستعمال بھی خاصا دل چسپ تھا۔ بالاسینور، جو موجودہ گجرات میں واقع ہے، کے نشان میں ڈھال کے دونوں جانب دو کبوتر رکھے گئے۔ اِسی علاقے کی ریاست لوناواڑا کے حامی پیکر دو سارس کُلنگ تھے۔ شمالی ہندوستان کی پہاڑی ریاست سُکیت، جس کا علاقہ آج ہماچل پردیش میں شامل ہے، کے لیے ۱۸۷۷ء کے نشان میں دو کوّے حامی پیکر بنائے گئے، جنہیں پَر اُٹھائے ہوئے دکھایا گیا تھا۔

یہ بھی لازم نہیں تھا کہ ڈھال کے دونوں جانب ایک ہی نوع کے دو حامی پیکر ہوں۔ وسطی ہندوستان کی ریاست دَتیا، جس کا علاقہ آج مدھیہ پردیش میں ہے، اِس کی ایک واضح مثال تھی: اُس کی ڈھال کے ایک جانب شیر اور دوسری جانب سانبھر ہرن رکھا گیا تھا۔ اِس سے ظاہر ہوتا ہے کہ دو یکساں جانور یا پرندے رکھنا ایک عام ہِیرالڈک ترتیب ضرور تھی، لیکن کوئی لازمی قاعدہ نہیں تھا۔

ٹیلر کے مرتب کردہ نشانوں میں پاکستان کا حصّہ بننے والی ریاست بہاولپور بھی شامل تھی۔

۱۸۷۷ء میں بہاولپور کے تخت پر نواب صادق محمد خان چہارم عباسی متمکن تھے۔ اُن کے لیے مرتب کیے گئے ہِیرالڈک نشان میں ڈھال کے دونوں جانب دو پیلیکن حامی پیکر بنائے گئے۔ اصل ہِیرالڈک عبارت میں اِنہیں “Two pelicans rousant, Argent, billed and membered Or” کہا گیا، یعنی: ’’دو سفید یا نقرئی پیلیکن، جن کے پَر اُٹھے ہوئے تھے اور چونچیں اور ٹانگیں سنہری دکھائی گئی تھیں۔‘‘

لیکن بہاولپور کے نشان کی اصل کہانی اِن دو پیلیکنوں کی شکل و صورت سے کہیں زیادہ دل چسپ ہے۔ سوال یہ نہیں کہ ٹیلر نے اُنہیں کس رنگ میں بنایا یا ہِیرالڈری کے کس قاعدے کے تحت ڈھال کے دونوں جانب کھڑا کیا؛ اصل سوال یہ ہے کہ بہاولپور کے لیے پیلیکن ہی کیوں منتخب کیے گئے؟

اِس سوال کے جواب کے ضِمن میں کہ ریاستِ بہاولپور نے پیلیکن پرندے کو اپنے علامتی نقش کے لیے کیوں منتخب کیا، چار وجوہات سامنے آتی ہیں۔

اوّل: ریاست کا حکمران عبّاسی خاندان چونکہ اپنے نَسَب کو عراق کے عبّاسی خاندان سے ملاتا تھا، جہاں پیلیکن کثرت سے پائے جاتے تھے، اِس لیے اِس پرندے کو ریاست کے نشان میں جگہ دی گئی۔ یہ وضاحت پیلیکن کو محض ہِیرالڈری کی کوئی اِتّفاقی یا آرائشی علامت قرار دینے کے بجائے براہِ راست حکمران خاندان کی عبّاسی اور عراقی نِسبت سے جوڑتی ہے۔

اُنیسویں صدی کے یورپی ماخذ بھی عراق اور بینُ النَّہرَین(دو دریاؤں، یعنی دِجلہ اور فُرات کے درمیان کے خطّے) کے آبی علاقوں میں پیلیکن کی موجودگی کی تصدیق کرتے ہیں۔ دریائے دِجلہ و فُرات اور اُن سے وابستہ جھیلوں، دلدلوں اور نشیبی آبی علاقوں میں یہ پرندہ پایا جاتا تھا۔ برطانوی افسر اور سیّاح فرانسس راڈن چَیسنی نے ۱۸۳۵ء سے ۱۸۳۷ء کے درمیان دِجلہ و فُرات کے سروے کے لیے کی جانے والی اپنی مشہور مہم کے مشاہدات، جو بعد میں ۱۸۵۰ء میں ’دی ایکسپیڈیشن فار دی سروے آف دی رِوَرز یوفریٹیز اینڈ ٹائگرس‘ کے نام سے شائع ہوئے، میں علاقے کے پرندوں کا ذکر کرتے ہوئے بہت بڑی جسامت کے پیلیکنوں کی موجودگی بھی درج کی۔

اُنیسویں صدی کی دوسری سیّاحتی تحریروں میں بھی فُرات کے سفر کے دوران پیلیکنوں کے خاصی تعداد میں دکھائی دینے اور دلدلی جزیروں پر اُن کی کثرت کا ذکر ملتا ہے۔ اور صرف یہی نہیں، عراق اور عرب دنیا میں پیلیکن محض موجود ہی نہیں تھا بلکہ عربی علمی روایت بھی اِس پرندے سے واقف تھی۔

عربی میں پیلیکن کے لیے ’اَلْبَجَع‘ اور ’اَلْحَوْصَل‘ جیسے نام ملتے ہیں، جبکہ قدیم عربی حیوانی لُغت میں اُسے ’جَمَلُ الْمَاءِ‘، یعنی ’پانی کا اُونٹ‘ بھی کہا گیا۔ کمال الدین دَمیری نے چودھویں صدی عیسوی کی اپنی معروف کتاب ’حَیاۃُ الحَیَوان الکُبریٰ‘ میں ’جَمَلُ الْمَاءِ‘ کی وضاحت کرتے ہوئے لکھا: ’اَلْبَجَعُ وَهُوَ الْحَوْصَلُ‘، یعنی جَمَلُ الْمَاءِ سے مراد بَجَع ہے اور یہی حَوْصَل ہے۔

اِس سلسلے میں ایک اور دل چسپ شہادت عراقی عالمِ لُغت فادر اَنستاس ماری الکرمَلی کی ۱۹۳۸ء میں شائع ہونے والی کتاب ’نشوء اللغة العربية ونموها واكتهالها‘ سے ملتی ہے۔ پیلیکن کے مختلف عربی نام بیان کرتے ہوئے الکرمَلی لکھتے ہیں کہ عراق کے عوام اِس پرندے کو ’نُعَیْجُ الْمَاءِ‘ بھی کہتے ہیں۔

اِسی کتاب میں الکرمَلی پیلیکن کے ساتھ وابستہ ایک قدیم تمثیلی روایت بھی نقل کرتے ہیں۔ اُن کے مطابق اِس پرندے کے متعلق یہ تصوّر پایا جاتا تھا کہ وہ اپنے بچّوں کی خاطر ’يَشُقُّ صَدْرَهُ شَقًّا لِيُطْعِمَ فِرَاخَهُ، أَوْ لِيُغَذِّيَهَا مِنْ دَمِهِ‘ (ترجمہ: وہ اپنے بچّوں کو کھلانے کے لیے اپنا سینہ چیر دیتا ہے، یا اپنے خون سے اُنہیں غذا دیتا ہے)۔

اِسی روایت کی ایک اور صورت یعقوب اوجین مَنّا کی ۱۹۰۰ء میں شائع ہونے والی آرامی لُغت ’دلیل الراغبین فی لغۃ الآرامیین‘ میں ملتی ہے، جہاں پیلیکن کے بارے میں یہ قصّہ نقل کیا گیا ہے کہ اگر اُس کا کوئی بچّہ مَر جائے تو وہ اپنا سینہ چیر کر اُس پر اپنا خون چھڑکتا ہے اور اُسے دوبارہ زندگی مل جاتی ہے۔

یہی تمثیل مسیحی روایت میں پیلیکن کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے منسوب قربانی کی علامت بنانے کا سبب بنی اور یورپی ہِیرالڈری میں اِس مخصوص صورت کو ’پیلیکن اِن ہر پائٹی‘ کہا گیا۔ تاہم بہاولپور کے نشان میں رابرٹ ٹیلر نے دونوں پیلیکنوں کو ’اِن ہر پائٹی‘ نہیں بلکہ ’راؤزنٹ‘ لکھا تھا، یعنی اُن کے پَر اُٹھے ہوئے تھے۔ اِس لیے قربانی کی یہ روایت پیلیکن کے عمومی علامتی مفہوم کو سمجھنے میں تو مدد دیتی ہے، مگر اِسے مسیحی روایت سے اَخذ شدہ قرار نہیں دیا جاسکتا۔

دوم: اُسی زمانے میں پیلیکن بہاولپور کے دریاؤں تک بھی پہنچ رہا تھا۔ ریاست کا وسیع علاقہ دریائے سَتلُج، چناب اور سِندھ کے دریائی نظام سے وابستہ تھا اور اِس کا آبی ماحول نقل مکانی کرنے والے پرندوں کے لیے موزوں تھا۔ انگریز طبیب، مصوّر اور سیّاح جیمز ایٹکنسن جب ۱۸۳۹ء میں دریائی راستے سے بہاولپور کی طرف بڑھ رہا تھا تو اُس نے اپنے ۱۸۴۲ء میں شائع ہونے والے سفرنامے ’دی ایکسپیڈیشن اِنٹو اَفغانستان‘ میں لکھا کہ بہاولپور پہنچنے سے تقریباً ایک ہفتہ پہلے ’برف کی طرح سفید پیلیکنوں کے بڑے بڑے غول دکھائی دینے لگے‘۔

یوں ایک ہی پرندہ حکمران خاندان کے منسوب آبائی وطن اور اُس کی موجودہ ریاست، دونوں کے جغرافیے سے وابستہ تھا۔ ایک طرف عراق میں دِجلہ و فُرات اور اُن سے وابستہ دلدلی علاقے تھے اور دوسری طرف بہاولپور کا اپنا دریائی خطّہ، جہاں سفید پیلیکنوں کے غول اُترنے کا چشم دید ثبوت موجود تھا۔ اگر بہاولپور کے نشان کے لیے کسی ایسے پرندے کی تلاش تھی جو عبّاسی خاندان کی عراقی نِسبت کی طرف بھی اِشارہ کرے اور خود ریاست کے قدرتی ماحول سے بھی اجنبی نہ ہو تو پیلیکن اِن دونوں نسبتوں کو بیک وقت اپنے اندر سمیٹتا تھا۔

سوم: پیلیکن کے اِنتخاب کے پس منظر میں ایک تیسرا شخص بھی قابلِ توجّہ ہے: کرنل چارلس چیری مِنچن، جو ریاستِ بہاولپور کا پولیٹیکل ایجنٹ رہا تھا۔ نواب صادق محمد خان چہارم کی کم سِنی کے زمانے میں بہاولپور کے نظم و نسق میں برطانوی عمل دخل بہت گہرا تھا اور ریاست کا اِنتظام پولیٹیکل ایجنسی اور مجلسِ نیابت کے ذریعے چلایا جارہا تھا جس کا مدارالمہام یہی کرنل منچن تھا۔اسی نے “منچن آباد” شہر بھی آباد کیا۔

مِنچن بہاولپور کے سیاسی و اِنتظامی معاملات سے طویل عرصے تک وابستہ رہا اور ریاست کے اِنتظامِ حکومت، آب پاشی اور دوسرے معاملات سے براہِ راست واقف تھا۔ اِس لیے ۱۸۷۶ء میں جب رابرٹ ٹیلر ہندوستانی ریاستوں کے ہِیرالڈک نشان مرتب کرنے کے لیے پولیٹیکل افسروں اور ریاستی درباروں سے معلومات اور تجاویز حاصل کررہا تھا تو یہ سوال اہم ہوجاتا ہے کہ بہاولپور کے نشان کے اِنتخاب میں مِنچن یا اُس وقت کی پولیٹیکل ایجنسی کا کتنا عمل دخل تھا۔

مِنچن کا خاندانی پس منظر آئرلینڈ سے تھا اور پیلیکن یورپی، بالخصوص مسیحی، علامتی روایت میں کوئی نامانوس علامت نہیں تھا۔ اِس لیے یہ اِمکان پیش کیا جاسکتا ہے کہ بہاولپور اور اُس کے ماحول سے گہری واقفیت رکھنے والا یہ برطانوی افسر اِس پورے عمل میں پیلیکن کے اِنتخاب کا ایک ممکنہ واسطہ رہا ہو۔ تاہم ایسی اصل مراسلت سامنے آنے تک، جس میں مِنچن کے کردار کی تصدیق ہو، اِسے ایک تاریخی قرینہ ہی سمجھنا چاہیے، ثابت شدہ واقعہ نہیں۔

چہارم: پیلیکن سے وابستہ اپنے بچّوں کی خاطر اپنا خون تک بہا دینے کی قدیم تمثیل بہاولپور کے شاہی نشان کو ایک ایسا مفہوم بھی دیتی تھی جسے حکمران اور رعایا کے باہمی تعلق پر منطبق کیا جاسکتا تھا: ایسا حکمران جو اپنی رعایا کی نگہداشت اور فلاح کے لیے ایثار اور قربانی کو اپنا وصف سمجھے۔

اِن دو پیلیکنوں کے ریاستی شناخت میں رَچ بس جانے کا پتا اُن اَشیا سے چلتا ہے جن پر بہاولپور کا نشان اِستعمال ہونے لگا۔ نوابوں کے لیے تیار ہونے والی ذاتی اور شاہی اَشیا پر بھی یہی نشان دکھائی دیتا ہے۔ نواب صادق محمد خان چہارم سے منسوب اُنیسویں صدی کے اَواخر کی ایک نفیس طلائی گھڑی کے بیرونی حصّے پر بہاولپور کا شاہی نشان بنایا گیا، جس میں ڈھال کے دونوں جانب پیلیکن موجود ہیں۔ اِسی طرح بہاولپور کے شاہی اِستعمال کے لیے یورپ میں تیار ہونے والی کراکری اور چینی کے برتنوں پر بھی ریاست کا نشان نمایاں کیا گیا۔

اِس علامت کا اِستعمال محل تک محدود نہیں رہا۔ وقت گزرنے کے ساتھ سرکاری مطبوعات، ڈاک سے متعلق مواد اور ریاستی اِداروں کے نشانات میں بھی پیلیکن کی مختلف صورتیں دکھائی دینے لگیں۔ تعلیمی اِداروں نے اِسی علامتی روایت کو اپنایا، جبکہ ریاستی اَفواج سے وابستہ علامتی مواد میں بھی پیلیکن کو جگہ ملی۔ یوں رابرٹ ٹیلر کے مرتب کردہ نشان کے دو حامی پیکر رفتہ رفتہ ریاستِ بہاولپور کی اِجتماعی بصری شناخت کا حصّہ بنتے چلے گئے۔

پیلیکن اور بہاولپور کا یہ تعلق ریاست کی سرحدوں سے باہر بھی ایک دل چسپ صورت میں سامنے آیا۔ ۱۹۵۱ء میں اَمیرِ بہاولپور کی طرف سے لندن کے سینٹ جیمز پارک کے لیے پیلیکن پیش کرنے کی پیش کش برطانوی پارلیمان تک پہنچی اور برطانوی حکومت نے یہ تحفہ قبول کرلیا۔ اُس وقت ٹیلر کے بہاولپور کی ڈھال کے دونوں جانب دو پیلیکن بنانے کو تقریباً پون صدی گزر چکی تھی۔

یوں ۱۸۷۶ء–۷۷ء کے ایک ہِیرالڈک منصوبے سے شروع ہونے والی یہ علامت کاغذ پر بنے ایک نشان تک محدود نہ رہی۔ وہ شاہی گھڑی پر کندہ ہوئی، کراکری پر اُبھری، سرکاری اور اِدارہ جاتی اِستعمال میں آئی اور ریاستی اَفواج کی علامتی دنیا تک پہنچی۔ جس پرندے کے اِنتخاب میں عراق کی عبّاسی نِسبت، بہاولپور کا اپنا دریائی ماحول اور ایثار و قربانی سے وابستہ قدیم تمثیلی روایت مختلف معنوی تہیں پیدا کرتی تھیں، اُسی پرندے کو بہاولپور نے اپنے مسلسل اِستعمال سے بالآخر ایک مقامی ریاستی علامت بنادیا۔

اور شاید یہی کسی علامتی نشان کی اصل قوّت ہوتی ہے کہ اُس کے اندر تاریخ کے کئی زمانے ایک ہی تصویر میں جمع ہوجاتے ہیں۔ ایڈورڈ ٹیری نے سترھویں صدی میں جہانگیر کی سواری کے آگے ایک ریشمی پھریرے پر شیر اور سورج دیکھا تھا؛ ڈھائی صدیاں بعد ٹیری ہی کے ہم وطنوں نے ہندوستان کی شاہی ریاستوں کی شناخت کو اپنی ہِیرالڈک زبان میں ڈھالا تو بہاولپور کی ڈھال کے دونوں جانب دو سفید پیلیکن کھڑے ہوگئے۔

پھر وقت گزرتا گیا، حکمران بدلے، سلطنتیں ختم ہوئیں اور ریاستی نظام بھی بدل گیا، مگر یہ دو پرندے بہاولپور کی تاریخی شناخت میں باقی رہے۔ علامتیں کبھی کبھی اَلفاظ سے زیادہ دیر زندہ رہتی ہیں؛ اور بہاولپور کے یہ دو پیلیکن آج بھی اپنی خاموش زبان میں اُس تاریخ کا ایک حصّہ سناتے ہیں۔

وفا کا اِستعارہ چاہے اَساطیری یا دیومالائی ہی کیوں نہ ہو، وفا کی نِسبت اپنے ساتھ جُڑ جانے سے معتبر تو بن ہی جاتا ہے۔

تحریر: سعید احمد شیخ، ڈی جی ریڈیو پاکستان

06/10/2026

پروگرام : سنڌ رنگ
ڪمپيئر: شبیر شاہ
مهمان: عبدالمالڪ چانڊيو(چيئرمين چانڍيہ اتحاد ويلفيئر ۽ اسسٽنٽ ڊائريڪٽر پرائيويٽ اسڪول لاڙڪاڻہ ريجن)
پروڊيوسر: وسند علي مهر
اسٽوڊيو انجنيئر: اطھر حسين ميمڻ
پيشڪش: ريڊيو پاڪستان لاڙڪاڻو

06/10/2026

پروگرام: صبحِ پاکستان
میزبان: مدثرہ اطہر
پروڈیوسر: وقاص توفیق خان
پیشکش: ریڈیو پاکستان، اسلام آباد

#پاکستان

05/10/2026

کہاں ہو تم چلے آؤ محبت کا تقاضا ہے
غم دنیا سے گھبرا کر تمہیں دل نے پکارا ہے
گلوکارہ: شہناز بیگم


fans Radio Pakistan Bahawalpur RadioPakistan Karachi Medium Wave Multan Radio Pakistan World Service Radio Pakistan Multan

04/10/2026

دل کے ویرانے میں اک شمع ہے اب تک روشن
آواز: مالا بیگم

’پیرِ رومی را رفیقِ راہ ساز‘قونیہ (تُرکی) میں مولانا رومؒ کے مزار کے احاطے میں موجود علامہ محمد اقبالؒ کی تدفینی یادگار ...
03/10/2026

’پیرِ رومی را رفیقِ راہ ساز‘

قونیہ (تُرکی) میں مولانا رومؒ کے مزار کے احاطے میں موجود علامہ محمد اقبالؒ کی تدفینی یادگار (علامتی قبر) کا احوال

۳۰ نومبر ۱۹۲۵ء کی خُنک رات، قونیہ میں مولانا جلال الدین رومؒ کی درگاہ میں پینتیس مَولوی درویش مقیم تھے اور احاطۂ مزار کے ساتھ جُڑے قدیم حُجروں میں اُن کی یہ آخری شب بسری تھی کیونکہ اگلے دن ان حُجروں پر تالے پڑ جانا تھے۔

مولانا جلال الدین محمد رومیؒ (۱۲۰۷–۱۲۷۳ء) ایک صوفیٔ صافی، عارف باللہ اور روحانی بزرگ ہو گزرے ہیں۔ آپ کا آبائی وطن بلخ تھا، مگر آپ نے زندگی کا بڑا حصہ قونیہ میں گزارا اور آپ وہیں مدفون ہیں۔ آپ کی مشہور تصنیف ’مثنویِ مولویِ معنوی‘ ہے، جبکہ ’کلیاتِ شمس‘ کے نام سے آپ کا ایک دیوانِ غزلیات بھی ہے۔

مصطفیٰ نظام الدین نے اُس شام بڑے بھاری دل کے ساتھ، دوسرے خادموں کے ساتھ مل کر، درگاہ کے مَطبخ (باورچی خانے) میں داداؤں (درویشوں) اور زائرین کے لیے کھانا بنوایا۔

مَولوی سلسلے میں درویش اور طریقت میں مرتبہ حاصل کرنے والے شخص کے لیے ’دادا‘ کا لقب استعمال ہوتا تھا۔

مصطفیٰ نظام الدین خود بھی ایک ’دادا‘ تھے اور اس کے ساتھ ساتھ، کیونکہ اُن کے مرحوم والد صلاح الدین چلبی درگاہ کے سَرطَبّاخ (باورچیوں کے منتظم) بھی تھے، تو اُنہیں اپنے والد کی وفات کے بعد یہ منصب بھی کسی تردد کے بغیر ورثے میں مل گیا تھا۔

مَولوی روایت میں سَرطَبّاخ کا کام صرف کھانا پکوانے کا انتظام و انصرام نہیں تھا بلکہ بڑے مَولوی خانوں میں یہ ایک اہم روحانی و انتظامی منصب بھی تھا جس کی ذمہ داریوں میں درویشوں کی تربیت کرنا بھی شامل تھا۔ [بحوالہ: وَلَد چلبی اِزبوداق، ’خانقاہ سے مجلس تک: ایک غیر معمولی چلبی کی یادداشتیں‘، استنبول، تیماش یاینلری، ۲۰۰۹ء]

سَماع خانے میں عشاء کی نماز کے بعد شروع ہونے والی محفلِ سَماع، جس میں ’مَولوی آئین‘ گایا جاتا تھا، اُس میں مصطفیٰ نظام الدین بطور ’آئین خواںِ ثانی‘ بھی شریک ہوتے تھے۔

مَولوی آئین پڑھنے والے گویّوں کی جماعت کا سربراہ ’سَرآئین خواں‘ کہلاتا تھا۔ سَماع کی محافل میں پہلے سَرآئین خواں مصرعہ پڑھتا اور پھر ’آئین خواںِ ثانی‘ اسے دُہراتا تھا، جس کے بعد باقی آئین خواں آواز ملا کر ایک اجتماعی آہنگ پیدا کرتے تھے۔ یوں آئین خوانی کا یہ معاملہ قریب قریب برِّصغیر میں قَوّالی کی محفل سے مماثلت رکھتا تھا؛ قَوّالی میں بھی مرکزی قَوّال کے اٹھائے ہوئے مصرعے کو ساتھ بیٹھا دوسرا قَوّال دہراتا اور پھر ہمنوا اُس میں اپنی آوازیں شامل کرتے ہیں۔

مصطفیٰ نظام الدین ’قُدومی‘ بھی تھے۔ ’قُدوم‘ چھوٹے نَقّاروں سے مشابہ دو طبلوں پر مشتمل ساز تھا، جس کی ضرب سَماع کی تال قائم رکھتی تھی، اور اسے بجانے والے کو ’قُدومی‘ کہا جاتا تھا۔

’مولوی آئین‘ دراصل مولویہ سلسلے کی محفلِ سَماع کا مخصوص موسیقائی طریقۂ کار ہے۔ اس میں عموماً مولانا رومؒ کی فارسی غزلیں یا اشعار مخصوص عثمانی و ترکی موسیقی کے مقامات اور آلات، بالخصوص نَے (بانسری سے مشابہ ساز) اور قُدوم، کے ساتھ گائے جاتے ہیں۔

درگاہ کے آخری کارکنوں کی محفوظ فہرست میں مصطفیٰ نظام الدین کے نام کے ساتھ اُن کے چاروں مناصب ایک ساتھ درج ملتے ہیں: سَرطَبّاخ، دادا، آئین خواںِ ثانی اور قُدومی۔ [بحوالہ: یعقوب شفق، ’مولانا درگاہ کے آخری کارکن‘، ماہنامہ ’ینی اِپیک یولو‘، شمارہ: ۲۲۶، قونیہ، دسمبر ۲۰۰۶ء، ص ص: ۵۱–۵۳۔]

۳۰ نومبر ۱۹۲۵ء کی اس تاریخی رات نظام الدین دادا سمیت سبھی آئین خواں اور قُدومی اُداس، مضطرب اور بے یقینی کا شکار تھے، البتہ لمبے سفید ’تَنُّورے‘ اور مخصوص نمدی ٹوپی ’سِکّہ‘ پہنے مَولوی درویش اُس رات بھی معمول کے مطابق اپنا مخصوص سَماع کرتے رہے۔ شاید صاحبِ مزار کی روحانی صحبت نے اُنہیں اُس آخری رات تک بھی بے باک رکھا تھا۔

مولانا رومؒ خود بھی حالتِ وَجد میں سَماع اور گردش کیا کرتے تھے۔ بعد ازاں آپ کے سلسلے کے درویشوں میں بھی سَماع کے دوران گردش کی یہ روایت جاری رہی اور وقت کے ساتھ اس نے ایک باقاعدہ اور مروّج طریقۂ کار کی شکل اختیار کرلی۔

۳۰ نومبر ۱۹۲۵ء کی رات مولانا رومؒ کی درگاہ میں دیکھا جانے والا یہ اضطراب تُرک مجلس کے منظور کردہ قانون نمبر ۶۷۷ کی وجہ سے پیدا ہوا تھا، جس کے تحت جمہوریہ تُرکی کی حدود میں درگاہیں، تکیے اور زاویے بند کردیے گئے تھے اور شیخی، درویشی، مریدی، دادا، چلبی اور بعض دوسرے طریقتی القاب اور ان سے وابستہ مناصب کی قانونی حیثیت بھی ختم کردی گئی تھی۔

وَلَد چلبی اِزبوداق کے مطابق قونیہ میں مولانا رومؒ کی صدیوں پرانی درگاہ کے اس قانون کی زد میں آنے کے اگلے دن ہی پینتیس داداؤں، یعنی مَولوی درویشوں، میں سے بعض اپنے اپنے گاؤں واپس چلے گئے اور بعض نے حَلَب کا رُخ کیا، جبکہ اَنقَرہ کے محمد دادا اکیلے وہیں رہ گئے۔ اُنہوں نے اپنی کتاب بعنوان ’یادداشتیں‘ میں اس پورے عہد کے خاتمے کو ’اب مَولویت تاریخ کا حصہ بن چکی تھی‘ کے طور پر بھی بیان کیا ہے۔ [بحوالہ: وَلَد چلبی اِزبوداق، ’یادداشتیں‘، استنبول، ترکیہ یاینے وی، ۱۹۴۶ء، ’زندہ تاریخیں‘، جلد چہارم، ص: ۶۷۔]

مولانا رومؒ کا مزار البتہ بند نہیں کیا گیا۔ سبز گنبد اپنی جگہ موجود رہا، مولانا رومؒ بھی وہیں آسودۂ خاک رہے، مگر اُن کے مزار کے گرد آباد ایک پوری خانقاہی دنیا ختم ہوگئی۔

مولانا رومؒ کی تیرہویں صدی کے آخری رُبع سے آباد چلی آنے والی درگاہ کے گرد قائم خانقاہی دنیا کے خاتمے کے پیچھے تُرکی کا وہ سیاسی، سماجی اور تہذیبی انقلاب تھا جو مصطفیٰ کمال اتاترک لے کر آئے تھے۔ اُن کی قیادت میں عثمانی سلطنت کے صدیوں پرانے سیاسی نظام کے خاتمے کے بعد ۲۹ اکتوبر ۱۹۲۳ء کو تُرکی کو جمہوریہ قرار دیا گیا، جس کے وہ پہلے صدر بنے۔

اپنے متعارف کردہ انقلاب کو مزید آگے بڑھاتے ہوئے مصطفیٰ کمال کی سیاسی جماعت نے ۳ مارچ ۱۹۲۴ء کو قانون سازی کے ذریعے خلافت کا ادارہ ختم کرتے ہوئے آخری عثمانی خلیفہ عبدالمجید ثانی کو بھی ملک بدر کر دیا تھا۔ وہ تُرکی سے پہلے سوئٹزرلینڈ گئے اور بعد میں فرانس میں سکونت اختیار کی۔

نئی تُرک قیادت اپنی ریاست کو پرانی عثمانی ترتیب سے نکال کر ایک جدید قومی ریاست کی صورت دینا چاہتی تھی۔

اتاترک نئی تُرک ریاست کو مذہبی اداروں کے بجائے قومی حاکمیت، جدید قانون، سائنس اور عصری تمدن کی بنیاد پر استوار کرنا چاہتے تھے۔ اُن کا مؤقف تھا کہ تکیے اور خانقاہیں اپنے اصل روحانی مقصد سے ہٹ کر توہّمات، بے عملی اور بعض اوقات مذہب کے سیاسی استعمال کا ذریعہ بن چکی ہیں اور جدید تُرکی کی ترقی کی راہ میں ایسی صورتِ حال باقی نہیں رہنی چاہیے۔

اس وسیع تر اصلاحی عمل کے دوران ملک میں موجود خانقاہی ادارے، اُن کے تکیے اور زاویے بھی تبدیلی کی زد میں آئے اور انہیں بند کردیا گیا۔

تاہم تُرکی میں ہونے والی یہ تبدیلیاں صرف تُرکوں کا داخلی معاملہ نہیں تھیں بلکہ ہزاروں میل دُور برِّصغیر کے مسلمان بھی ان سے براہِ راست متاثر ہورہے تھے۔ وہ خلافتِ عثمانیہ کے ساتھ گہری دینی، جذباتی اور سیاسی وابستگی رکھتے تھے اور برِّصغیر کے مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد عثمانی خلیفہ کو عالمِ اسلام کی وحدت کی علامت سمجھتی تھی۔ اور صرف یہی نہیں، وہ اس خلافت کو اُس اسلامی سیاسی روایت کا تسلسل خیال کرتی تھی جس کی ابتدا عہدِ خلفائے راشدینؓ سے ہوئی تھی۔

خلافتِ عثمانیہ کی بنیاد ۱۵۱۷ء میں سلطان سلیم اوّل نے رکھی۔ بعد کے عثمانی سلاطین نے اپنے لیے ’خلیفہ‘ کا لقب اختیار کیا۔ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ جیسے مقدس مقامات کی سرپرستی کے سبب اس خلافت کو عالمِ اسلام میں خاص مذہبی وقار حاصل تھا۔

پہلی جنگِ عظیم (۱۹۱۴ء تا ۱۹۱۸ء) میں عثمانی تُرکی، برطانیہ اور اُس کے اتحادیوں کے مقابلے میں جنگ میں شریک ہوا جبکہ برِّصغیر کے مسلمان عین اسی زمانے میں تاجِ برطانیہ کی رعایا تھے۔ یہ ایک مشکل صورتِ حال تھی، لیکن اس میں مزید بگاڑ اُس وقت آیا جب جنگ میں اتحادی طاقتیں فاتح ہوئیں اور برِّصغیر کے مسلمانوں میں یہ اندیشہ شدت اختیار کرگیا کہ فاتح طاقتیں عثمانی علاقوں کو تقسیم کرنے کے ساتھ ساتھ خلافت کو بھی بے اختیار یا ختم کردیں گی۔

اسی پس منظر میں برٹش انڈیا میں ۱۹۱۹ء میں ’تحریکِ خلافت‘ ایک منظم سیاسی تحریک کی صورت میں سامنے آئی۔ مولانا محمد علی جوہر، مولانا شوکت علی، مولانا ابوالکلام آزاد اور دوسرے مسلم رہنما اس کے نمایاں قائدین تھے۔ اُن کا مطالبہ تھا کہ جنگ کے بعد ہونے والے امن معاہدوں میں خلافتِ عثمانیہ، عثمانی خلیفہ کے اقتدار اور مسلمانوں کے مقدس مقامات سے وابستہ حقوق کو کوئی نقصان نہ پہنچایا جائے۔ [بحوالہ: محمد نعیم قریشی، ’ہندوستان میں تحریکِ خلافت، ۱۹۱۹ء–۱۹۲۴ء‘، پی ایچ ڈی مقالہ، اسکول آف اورینٹل اینڈ افریقن اسٹڈیز، جامعۂ لندن، ۱۹۷۳ء۔]

مہاتما گاندھی نے نہ صرف ’تحریکِ خلافت‘ کی حمایت کی بلکہ ۱۹۲۰ء میں اسے برطانوی حکومت کے خلاف اپنی ’تحریکِ عدم تعاون‘ کے ساتھ جوڑ دیا۔ سرکاری اداروں، عدالتوں اور تعلیمی اداروں کے بائیکاٹ سمیت عدم تعاون کا پروگرام رفتہ رفتہ ایک بڑی عوامی تحریک کی صورت اختیار کرنے لگا۔

لیکن محمد علی جناح کو گاندھی کے اس طریقِ سیاست، بالخصوص مذہبی جذبات اور عوامی عدم تعاون کو ایک وسیع سیاسی تحریک کی صورت دینے سے بنیادی اختلاف تھا۔ ۳۱ اکتوبر ۱۹۲۰ء کو گاندھی کے نام اپنے ایک خط میں جناح نے اُن کے تجویز کردہ طریقِ کار کے نتائج کے بارے میں سخت تشویش ظاہر کی۔ جناح نے لکھا کہ گاندھی کا پروگرام بالخصوص ناتجربہ کار نوجوانوں اور ’جاہل اور اَن پڑھ‘ لوگوں کے تخیل کو اپنی گرفت میں لے رہا ہے اور اس کا نتیجہ ’مکمل بدنظمی اور انتشار‘ ہوگا۔ جناح نے یہ بھی لکھا کہ وہ اپنے ہم وطنوں کو ایک ایسی کھائی کے کنارے تک لے جاتے نہیں دیکھنا چاہتے جہاں وہ تباہ ہوجائیں۔ [بحوالہ: محمد علی جناح، مہاتما گاندھی کے نام خط، ۳۱ اکتوبر ۱۹۲۰ء؛ منقولہ مجموعۂ مکاتیب و تقاریرِ جناح، جلد اوّل، ص: ۴۰۰۔]

تحریکِ خلافت کی سرگرمیاں ابھی جاری تھیں کہ ۱۹۲۰ء کے موسمِ گرما میں ’تحریکِ ہجرت‘ شروع ہوگئی۔ بعض علماء اور مذہبی حلقوں نے یہ مؤقف اختیار کیا کہ برطانوی اقتدار کے تحت ہندوستان میں اسلام کے مطابق زندگی گزارنے کے حالات باقی نہیں رہے اور مسلمانوں کو کسی آزاد مسلم ملک کی طرف ہجرت کرنی چاہیے۔ افغانستان ہمسایہ آزاد مسلم ملک تھا؛ چنانچہ دسیوں ہزار ہندوستانی مسلمان اپنے گھر بار، زمینیں اور کاروبار چھوڑ کر افغانستان کی طرف نکل پڑے۔ اُن میں سے بہت سوں کے لیے افغانستان ’دارالاسلام‘ تھا، جہاں وہ برطانوی اقتدار سے آزاد ہوکر زندگی بسر کرسکتے تھے۔

افغانستان ابتدا میں مہاجرین کو قبول کرتا رہا، لیکن اتنی بڑی تعداد کو سنبھالنا مشکل ہوگیا اور بالآخر افغان حکومت نے سرحد بند کردی۔ راستے میں اور افغانستان پہنچنے کے بعد بہت سے مہاجرین سخت مصائب کا شکار ہوئے۔ جن لوگوں نے ہندوستان میں اپنی زمینیں، مکانات اور کاروبار فروخت یا ترک کردیے تھے، اُن میں سے بہت سوں کو بالآخر خالی ہاتھ واپس لوٹنا پڑا۔

لیکن جس خلافت کو بچانے کے لیے برِّصغیر میں جلسے ہورہے تھے، گرفتاریاں دی جارہی تھیں اور ہزاروں لوگ اپنا گھر بار چھوڑ کر افغانستان تک جاپہنچے تھے، اُس کے مستقبل کا فیصلہ بالآخر ہندوستان میں نہیں بلکہ خود تُرکی میں ہوگیا۔ ۳ مارچ ۱۹۲۴ء کو خلافت کے خاتمے کے ساتھ تحریکِ خلافت کا بنیادی مقصد ہی باقی نہ رہا اور برِّصغیر کی یہ غیر معمولی تحریک بھی رفتہ رفتہ اپنے اختتام کو پہنچ گئی۔

مگر تُرکی میں تبدیلی کا عمل اُسی شد و مد سے جاری و ساری رہا۔ یکم ستمبر ۱۹۲۶ء کو سابق مَولوی درگاہ کو ’قونیہ آثارِ عتیقہ میوزیم‘ میں تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ درگاہ میں موجود اشیاء کی درجہ بندی، مرمت اور نمائش کا کام شروع ہوا اور ۲ مارچ ۱۹۲۷ء کو اسے باقاعدہ طور پر عوام کے لیے کھول دیا گیا۔ درویشوں کے حُجرے، مَطبخ، موسیقی کے ساز، ملبوسات، قالین، خطاطی کے نمونے اور قیمتی مخطوطات، جو کبھی ایک زندہ خانقاہ کی روزمرہ زندگی کا حصہ تھے، اب تاریخ کے محفوظ آثار بن گئے تھے۔ [بحوالہ: ہاشم کارپوز، ’مولانا میوزیم‘، دائرۃ المعارفِ اسلام، تُرکی دیانت وقف، جلد: ۲۹، ۲۰۰۴ء۔]

درگاہ کے گرد ایک قدیم قبرستان بھی تھا، جسے ’حدیقۃ الارواح‘ یعنی ’روحوں کا باغ‘ کہا جاتا تھا۔ میوزیم کے قیام کے بعد اس احاطے کی نئی ترتیب کے دوران یہاں موجود متعدد قبریں ہٹانے اور زمین ہموار کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ اخبارات کے ذریعے اعلان کیا گیا کہ سابق درگاہ کے چار دروازوں کے اندر واقع باغات میں ایسی قبریں، جنہیں تاریخ یا فن کے اعتبار سے محفوظ رکھنا ضروری نہیں سمجھا گیا، ہٹا دی جائیں گی۔ جن خاندانوں کے عزیز وہاں مدفون تھے، اُنہیں اجازت دی گئی کہ وہ چاہیں تو اپنے متعلقین کی باقیات اور سنگِ مزار کسی دوسری مناسب جگہ منتقل کرلیں۔

ریکارڈ کے مطابق ۶ جون ۱۹۲۷ء سے ۵ جولائی ۱۹۳۲ء تک ۱۵۷ سنگِ مزار متعلقہ خاندانوں کے حوالے کیے گئے، جبکہ تاریخی اور فنی اہمیت کے حامل سنگِ مزار میوزیم میں محفوظ رکھے گئے۔ خالی ہونے والی جگہوں کو ہموار کرکے وہاں پھولوں کی کیاریاں، سبزہ زار اور راہداریاں بنادی گئیں۔

یوں صدیوں سے درگاہ کے گرد پھیلی ہوئی ’حدیقۃ الارواح‘ کی پرانی صورت یکسر بدل گئی۔ جو احاطہ کبھی درگاہ، درویشوں کے حُجروں اور قدیم قبروں پر مشتمل ایک زندہ خانقاہی دنیا کا حصہ تھا، وہ اب ایک باقاعدہ میوزیم کے احاطے میں ڈھل چکا تھا؛ یہاں انتظامی دفاتر اور تحقیق کی غرض سے آنے والوں کے لیے سہولتیں کی سبیل وضع ہورہی تھی۔

تُرکی میں آنے والی اِن تبدیلیوں کو مسلمان مفکر اور شاعر ڈاکٹر علامہ محمد اقبال گہری دلچسپی سے دیکھ رہے تھے، اِس لیے کہ اُن کے روحانی پیر مولانا رومؒ کا مزار اِسی مملکت کے ایک شہر قونیہ میں واقع تھا۔

اقبال کے ہاں مولانا رومؒ محض ایک پسندیدہ صوفی شاعر نہیں بلکہ روحانی رہنما اور ’پیر‘ کی حیثیت رکھتے تھے۔ اپنی فارسی مثنوی ’اَسرارِ خودی‘ میں وہ مولانا رومؒ سے حاصل ہونے والے روحانی فیض کا اعتراف اِن الفاظ میں کرتے ہیں:

پیرِ رومی خاک را اِکسیر کرد
از غُبارم جلوہ ہا تعمیر کرد۔۔
(ترجمہ: پیرِ رومی نے میری خاک کو اِکسیر بنادیا اور میرے غُبار سے جلوے تعمیر کردئیے۔)

مولانا رومؒ سے اقبال کا یہ تعلق صرف فارسی شاعری تک محدود نہیں رہا۔ ’بالِ جبریل‘ کی نظم ’یورپ سے ایک خط‘ میں اقبال اپنے آپ کو باقاعدہ اُس قافلۂ شوق کا ایک فرد قرار دیتے ہیں جس کے سالار مولانا رومؒ ہیں:

ہم خُوگرِ محسوس ہیں، ساحل کے خریدار
اِک بحرِ پُرآشوب و پُراسرار ہے رومیؔ
تُو بھی ہے اُسی قافلۂ شوق میں اقبالؔ
جس قافلۂ شوق کا سالار ہے رومیؔ۔۔
[بحوالہ: ’کلیاتِ اقبال (اُردو)‘، مطبوعہ شیخ غلام علی اینڈ سنز، لاہور، ص: ۴۴۱]

اقبال تصوف کے اِنکاری نہیں تھے، مگر وہ ایسی خانقاہی زندگی اور درویشی کے سخت ناقد تھے جو انسان کو حرکت، جدوجہد اور عملی زندگی سے کاٹ دے۔ اُن کے نزدیک محض خانقاہ میں بیٹھ جانا فَقر نہیں تھا بلکہ اُن کے تصورِ فَقر میں قوتِ عمل، خودی، جرأت اور زمانے کی مشکلات سے مقابلہ بھی بنیادی حیثیت رکھتا تھا۔

’ضربِ کلیم‘ کی نظم ’فَقر و راہبی‘ میں وہ فَقر اور رُہبانیت کے اِسی بنیادی فرق کو نہایت صراحت سے بیان کرتے ہیں:

سکُوں پرستیِ راہب سے فَقر ہے بیزار
فقیر کا ہے سفینہ ہمیشہ طوفانی۔۔۔۔
یہ فَقر مردِ مسلماں نے کھو دیا جب سے
رہی نہ دولتِ سلمانی و سلیمانی۔۔۔۔
[بحوالہ:’کلیاتِ اقبال (اُردو)‘، مطبوعہ شیخ غلام علی اینڈ سنز، لاہور، ص: ۵۱۲]

’بالِ جبریل‘ میں بھی اقبال فَقر کی دو متضاد صورتوں میں امتیاز کرتے ہوئے ایک ایسے فَقر کو رد کرتے ہیں جو انسان کو مسکینی اور دِلگیری میں مبتلا کردے، جبکہ دوسرے فَقر کو قوت اور جہاں گیری سے وابستہ کرتے ہیں:

اِک فَقر سِکھاتا ہے صیّاد کو نخچیری۔۔۔
اِک فَقر سے کھُلتے ہیں اَسرارِ جہاں گیری
اِک فَقر سے قوموں میں مسکینی و دِلگیری
اِک فَقر سے مِٹّی میں خاصیّتِ اِکسیری۔۔
[بحوالہ: کلیاتِ اقبال (اُردو)، مطبوعہشیخ غلام علی اینڈ سنز، لاہور، ۱۹۷۳ء، ص: ۴۵۲]

یہی وجہ ہے کہ اقبال کی شاعری میں ایک طرف مولانا رومؒ کے لیے بے پناہ عقیدت ملتی ہے اور دوسری طرف وہ خانقاہی جمود پر نہایت سخت ضرب لگاتے بھی دکھائی دیتے ہیں۔ ’اَرمغانِ حجاز‘ میں وہ کہتے ہیں:

نکل کر خانقاہوں سے اَدا کر رسمِ شبیّری۔۔۔۔
کہ فَقرِ خانقاہی ہے فقط اندوہ و دِلگیری۔۔۔۔۔
ترے دِین و اَدب سے آ رہی ہے بُوئے رُہبانی
یہی ہے مرنے والی اُمّتوں کا عالَمِ پیری۔۔۔۔
[بحوالہ: ’کلیاتِ اقبال (اُردو)‘، مطبوعہ شیخ غلام علی اینڈ سنز، لاہور، ص: ۶۸۰]

عین اِسی زمانے میں علامہ محمد اقبال اور تُرکی کے شاعر محمد عاکف اَرسوئے کے مابین رابطہ قائم ہوا۔ مارچ ۱۹۲۵ء میں محمد عاکف کے پاس ہندوستان سے اقبال کی دو منظوم کتابیں پہنچیں، جن میں سے ایک ’پیامِ مشرق‘ تھی۔

محمد عاکف اَرسوئے کے لیے ’پیامِ مشرق‘ محض ہندوستان سے آنے والا ایک فارسی مجموعۂ کلام نہیں تھا بلکہ یہ کتاب اُنہیں ایک ایسے شاعر سے متعارف کروانے کی سبیل بنی تھی جس کے اَفکار میں اُنہیں اپنے فکری اور روحانی اضطراب کی بازگشت سنائی دیتی تھی۔

اِس اَمر کا اہم دستاویزی ثبوت عاکف کا ۸ مارچ ۱۹۲۵ء کا وہ خط ہے جو اُنہوں نے مصر سے اپنے قریبی دوست حافظ عاصم کو لکھا۔ عاکف نے لکھا کہ گزشتہ ہفتے اُنہیں ’ہندوستان کے اسلامی شاعر محمد اقبال‘ کی دو منظوم کتابیں ملی ہیں۔ اقبال کا نام اُن کے لیے بالکل نیا نہیں تھا؛ اِس سے پہلے وہ اَنقَرہ میں اُن کی ایک مختصر کتاب دیکھ چکے تھے، لیکن اب اُن کے ہاتھ اقبال کی باقاعدہ شعری کتابیں آئی تھیں، جن میں ’پیامِ مشرق‘ بھی شامل تھی۔

عاکف نے خاص طور پر لکھا کہ اقبال نے مولانا رومؒ کو بہت پڑھا ہے، اُن سے بہت محبت کرتے ہیں اور اُنہیں اپنا ’مُرشد‘ کہتے ہیں۔ ’پیامِ مشرق‘ کی غزلوں اور قطعات نے عاکف کو بہت زیادہ متاثر کیا۔ اِسی خط میں اُنہوں نے ایک دلچسپ بات یہ بھی بتائی کہ استنبول میں ’سبیلُ الرشاد‘ کے دفتر آنے والے چند ہندوستانی مسلمانوں کے ہاتھ اُنہوں نے اپنی کتاب ’صفحات‘ کے نسخے اقبال تک پہنچانے کے لیے دیے ہیں۔[بحوالہ: محمد اُندر، ’محمد عاکف اور محمد اقبال‘، ’ملّی کُلتور‘، ش: ۵۷، مئی ۱۹۸۷ء، ص: ۵۱–۵۳]

محمد عاکف کے دوست ماہر اِز اپنی یادداشتوں میں لکھتے ہیں کہ وہ ’پیامِ مشرق‘ کو دو مرتبہ پڑھ چکے تھے اور اسے اتنا پسند کرتے تھے کہ اُنہوں نے ماہر اِز سے کہا کہ اب ہم دونوں اسے مل کر پڑھتے ہیں۔ اِس مقصد کے لیے منگل کا دن مقرر ہوا؛ ایک منگل عاکف اُن کے ہاں جاتے اور اگلے منگل ماہر اِز عاکف کے ہاں آتے۔ ماہر اِز فارسی متن پڑھتے اور عاکف سنتے۔ کہیں کسی شعر پر رُک جاتے، کہیں دوبارہ پڑھواتے اور کہیں بے اختیار مسکرا دیتے۔

پھر عاکف مصر چلے گئے، لیکن ’پیامِ مشرق‘ اُن کے ذہن سے نہیں نکلی۔ یکم فروری ۱۹۲۷ء کو مصر سے ماہر اِز کو لکھے گئے خط میں اُنہوں نے خاص طور پر اُس نسخے کے بارے میں پوچھا ’جسے ہم نے مل کر پڑھا تھا‘ اور کہا کہ اگر کتاب اُن کے پاس رہ گئی ہے تو اسے عمر رضا دوغرول کے حوالے کردیں تاکہ اُن تک مصر پہنچائی جاسکے۔[بحوالہ: ماہر اِز، ’برسوں کے نقوش‘، اِرفان یاینے وی، استنبول، ۱۹۷۵ء، ص: ۱۳۹]

فارسی کے عالم اور محمد عاکف کے ایک اور قریبی دوست، عبدُالوہّاب عزّام کے مطابق، قاہرہ میں اپنے قیام کے دوران عاکف نے اُن کے ساتھ اقبال کا کلام پڑھنے کا سلسلہ جاری رکھا۔ عزّام لکھتے ہیں کہ عاکف ہی نے اُنہیں اقبال سے متعارف کروایا اور ایک روز ’پیامِ مشرق‘ اُنہیں پڑھنے کے لیے دی۔ بعد ازاں دونوں نے مل کر ’اَسرارِ خودی‘ پڑھی اور چند نشستوں میں اسے مکمل کیا؛ پھر ’رُموزِ بے خودی‘ کا بھی اِسی طرح مطالعہ کیا اور اسے دوبارہ پڑھنے کا فیصلہ کیا۔ یوں اقبال عاکف کے لیے کسی دُور دراز ملک کے اجنبی شاعر نہیں رہے تھے بلکہ اُن کی فکری اور اَدبی دنیا کا حصہ بن چکے تھے۔

اور پھر یہ کہ اِن دونوں عظیم شاعروں کے مابین تعلق یک طرفہ نہیں تھا؛ علامہ محمد اقبال بھی محمد عاکف سے واقف تھے۔ اِس کی ایک دلچسپ شہادت یہ ہے کہ محمد عاکف کی ’صفحات‘ کا ایک پرانا نسخہ ۱۹۷۶ء تک علامہ اقبال کی ذاتی لائبریری میں موجود تھا۔ یہ وہی کتاب تھی جس کے بارے میں عاکف نے ۸ مارچ ۱۹۲۵ء کے اپنے خط میں لکھا تھا کہ استنبول میں ’سبیلُ الرشاد‘ کے دفتر آنے والے چند ہندوستانی مسلمانوں کے ہاتھ اُنہوں نے اِس کے نسخے اقبال تک پہنچانے کے لیے دیے تھے۔

تُرک محقق محمد اُندر کے مطابق ۱۹۳۰ء کے بعد، جب عاکف قاہرہ میں مقیم تھے، دونوں شاعروں کے درمیان خط و کتابت بھی ہوتی رہی۔ عاکف کے داماد عمر رضا دوغرول نے ۱۹۶۶ء میں قونیہ میں ’مولانا اور اقبال‘ کے موضوع پر ایک تقریر کے دوران اقبال کا محمد عاکف کے نام ایک فارسی خط بھی پڑھ کر سنایا تھا۔

خط کے متن میں اقبال تُرک قوم اور نئے تُرکی سے اپنی محبت کا اظہار کرتے اور تُرکی، بالخصوص قونیہ میں مولانا رومؒ کے مقام کی زیارت کی خواہش ظاہر کرتے ہیں۔ اِسی خط میں اقبال سے منسوب ایک خوب صورت تمثیل بھی ملتی ہے: دل کی گہرائیوں میں ایک گلستان، اُس کے وسط میں روشن آگ اور اُس آگ کی طرف بڑھتا ہوا پروانہ، اور یہ آگ مولانا رومؒ کی محبت ہے۔[بحوالہ: محمد اُندر، ’محمد عاکف اور محمد اقبال‘، ’ملّی کُلتور‘، ش: ۵۷، مئی ۱۹۸۷ء، ص: ۵۳، ڈیجیٹل ایڈیشن۔]

علامہ محمد اقبال کا تُرک شاعر محمد عاکف اَرسوئے سے متاثر ہونا اِس لیے بھی قابلِ فہم تھا کہ عاکف اپنے زمانے کے تُرکی کے ممتاز ترین شاعروں میں شمار ہوتے تھے۔ اِس حقیقت کا اندازہ اِس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اُنہی کی لکھی ہوئی نظم ’اِستقلال مارشی‘ ۱۲ مارچ ۱۹۲۱ء کو تُرکی کے قومی ترانے کے طور پر منظور ہوئی۔ اِسی نسبت سے عاکف آج بھی تُرکی میں ’ملّی شاعر‘، یعنی قومی شاعر، کے طور پر یاد کیے جاتے ہیں۔

دوسری طرف محمد عاکف کا اقبال کی شاعرانہ عظمت کو تسلیم کرنا، ہندوستان کے اِس شاعر کی طرف تُرکی کے اہلِ علم و اَدب کی توجہ مبذول کرانے میں اہم ثابت ہوا۔ تُرکی میں محمد عاکف کا اپنا علمی و اَدبی قد کاٹھ اتنا بڑا تھا کہ اُن کا اقبال کے لیے رَطبُ اللِّسان ہونا تُرک علمی و اَدبی حلقوں میں اقبال کے تعارف اور پذیرائی کا ایک مؤثر ذریعہ بن گیا۔

محمد عاکف اَرسوئے ۲۷ دسمبر ۱۹۳۶ء کو استنبول میں وفات پاگئے اور اُنہیں اِدرنہ قاپی قبرستان میں سپردِ خاک کیا گیا، جہاں آج بھی اُن کی قبر موجود ہے۔ تقریباً سولہ ماہ بعد، ۲۱ اپریل ۱۹۳۸ء کو، اُن کے ممدوح علامہ محمد اقبال بھی اِس دنیا سے رخصت ہوگئے اور لاہور میں بادشاہی مسجد کے پہلو میں سپردِ خاک ہوئے۔

محمد عاکف کے بعد تُرکی میں اقبال شناسی کا بیڑا علی نہاد تارلان نامی ممتاز تُرک عالمِ اَدبیات، فارسی کے صاحبِ نظر محقق اور شاعر نے اٹھایا۔ وہ اقبال کی فارسی شاعری کے اہم تُرک مترجمین میں شامل ہوئے اور اُنہوں نے اقبال کے متعدد فارسی مجموعوں کو تُرکی زبان میں منتقل کیا۔ اقبال کے ساتھ قائم ہونے والا یہ علمی و اَدبی تعلق بالآخر اُنہیں خود لاہور تک بھی لے آیا۔

۲۳ اپریل ۱۹۵۷ء کے دن علی نہاد تارلان، علامہ محمد اقبالؒ کی اُنیسویں برسی کے موقع پر پاکستان آئے؛ عبدالحمید عرفانی اور محمد باقر بھی اُن کے ساتھ تھے۔ وہ مزارِ اقبالؒ پر گئے اور ایک بے خودی کی سی کیفیت میں اُنہوں نے فارسی میں ایک نظم لکھی جس کا عنوان تھا: ’قونیۂ دوم—اقبالؒ کی قبر پر‘۔[بحوالہ: علی نہاد تارلان، ’مولانا‘، استنبول، ۱۹۷۴ء، ص: ۱۰۵–۱۰۸]

جیسا کہ عنوان سے ظاہر ہے، اِس نظم میں تارلان کے لیے پہلا قونیہ وہ تھا جہاں مولانا رومؒ آسودۂ خاک ہیں، مگر لاہور میں اقبالؒ کی قبر کے سامنے کھڑے ہوکر اُنہیں ایک دوسرا قونیہ دکھائی دیا؛ ہزاروں میل کے جغرافیائی فاصلے کے باوجود تارلان کی نگاہ میں دونوں ہستیاں ایک ہی روحانی سلسلے سے جڑی ہوئی تھیں۔

تُرک مآخذ بھی تارلان کی اِس نظم ’اِکنجی قونیہ‘ (دوسرا قونیہ) کا اختصاص کے ساتھ ذکر کرتے ہیں۔ علی نہاد تارلان نے اقبالؒ کی فارسی شاعری کو تُرک زبان میں منتقل کرنے اور تُرکی میں اقبال شناسی کو فروغ دینے میں نمایاں کردار ادا کیا۔ اُنہوں نے ’پیامِ مشرق‘، ’اَسرار و رُموز‘ اور اقبالؒ کے دوسرے فارسی کلام کے تراجم کیے۔ حکومتِ پاکستان نے اقبالؒ کے تراجم اور تُرکی میں اُن کے تعارف کے لیے انجام دی گئی خدمات کے اعتراف میں تارلان کو ستارۂ امتیاز سے بھی نوازا۔

لاہور میں اقبالؒ کی قبر پر ’قونیۂ دوم‘ لکھنے کے آٹھ برس بعد علی نہاد تارلان نے اِس روحانی نسبت کو قونیہ میں ایک مستقل علامت دینے کا فیصلہ کیا۔ مولانا رومؒ کی درگاہ کے احاطے ’حدیقۃُ الارواح‘ میں اُنہوں نے ۱۲ دسمبر ۱۹۶۵ء کو دو شاعروں کے نام پر دو ’مقام‘ قائم کروائے: ایک عثمانی عہد کے معروف شاعر نفعی کے لیے اور دوسرا پاکستان کے شاعر اور مفکر محمد اقبالؒ کے لیے۔ مولانا میوزیم کے باغ میں اقبالؒ اور نفعی کے اِن ’مقامات‘ کی افتتاحی تقریب بھی منعقد ہوئی تھی۔

یہاں لفظ ’مقام‘ (makam) اِس پوری داستان کو سمجھنے کے لیے نہایت اہم ہے۔ تُرکی میں اِس لفظ کا ایک مخصوص تدفینی اور زیارتی مفہوم بھی پایا جاتا ہے۔ معروف تُرک لغت نویس مہمت دوغان اپنی ’بُیوک تُرکچہ سوزلُک‘ میں ’مقام‘ کے معنوں میں کسی بلند مرتبہ شخصیت کی قبر کے ساتھ ساتھ اُس شخصیت کے نام پر قائم کی گئی تُربت یا زیارت گاہ کا مفہوم بھی بیان کرتے ہیں۔ اِس اعتبار سے ’مقام‘ کے لیے ضروری نہیں کہ جس شخصیت کے نام پر وہ قائم کیا گیا ہو، اُس کی میت بھی وہیں مدفون ہو۔ اقبالؒ کے قونیہ والے ’مقام‘ کی نوعیت بھی یہی ہے: وہ اُن کا حقیقی مدفن نہیں بلکہ اُن کے نام پر قائم علامتی مزار ہے۔[بحوالہ: مہمت دوغان، ’بُیوک تُرکچہ سوزلُک‘، انقرہ، ۲۰۰۱ء، ص: ۸۷۱۔]

نفعی سترہویں صدی کے عثمانی اَدب کے بڑے شاعروں میں شمار ہوتے ہیں۔ اصل نام عمر تھا اور ’نفعی‘ تخلّص کرتے تھے۔ قصیدہ گوئی کے ساتھ ساتھ اُن کی شہرت اُن کی نہایت تند و تیز ہجویہ شاعری کے باعث بھی تھی۔ سلطان مراد چہارم کے عہد میں اُنہیں غیر معمولی شہرت حاصل ہوئی، لیکن یہی بے باک ہجو اُن کے لیے جان لیوا ثابت ہوئی اور ۱۶۳۵ء میں اُنہیں قتل کردیا گیا۔

نفعی کی قبر کا مقام معلوم نہیں؛ بعض روایات کے مطابق قتل کیے جانے کے بعد اُن کی میت سمندر بُرد کردی گئی تھی۔ علامہ محمد اقبالؒ کی طرح نفعی بھی مولانا رومؒ سے عقیدت رکھتے اور اُن کی مدح کہتے تھے۔ اِسی روحانی نسبت کے باعث تارلان نے اُنہیں بھی مولانا رومؒ کی بارگاہ میں ایک ’مقام‘ دیا۔ خود تُرک ماخذ نفعی کو ’جس کی قبر نہیں‘ قرار دیتے ہوئے اُن کے لیے ’مقام‘ قائم کیے جانے کا ذکر کرتا ہے، جس سے یہاں اِس اصطلاح کا مفہوم مزید واضح ہوجاتا ہے۔

نفعی کے سنگ پر اُن کا نام اور سنینِ حیات ۱۵۷۲ء–۱۶۳۵ء درج ہیں اور تحریر کا مفہوم ہے: ’روئے زمین پر جس کی قبر موجود نہیں، اُس عظیم تُرک شاعر نفعی کو اُن کے عزیز مُرشد مولانا کی بارگاہ میں یہ مقام دیا گیا۔‘

دوسرے سنگِ مرمر پر محمد اقبالؒ، ۱۸۷۳ء–۱۹۳۸ء درج ہے اور کتبے کا مفہوم ہے: ’پاکستان کے قومی شاعر اور مفکر محمد اقبالؒ کو اُن کے عزیز مُرشد مولانا کی بارگاہ میں یہ مقام دیا گیا۔‘

قونیہ میں علامہ اقبالؒ کا یہ ’مقام‘ ۱۹۶۵ء میں قائم ہوا، اور اُس وقت آپؒ کی تاریخِ پیدائش کا مسئلہ ابھی قطعی طور پر حل نہیں ہوا تھا۔ بیسویں صدی کے وسط تک پاکستان میں بھی ۱۸۷۳ء کو اقبالؒ کا سالِ پیدائش ماننے کی ایک مضبوط روایت موجود تھی۔ ۱۹۵۱ء میں بزمِ اقبال کی قائم کردہ کمیٹی نے دستیاب ریکارڈ کی تحقیق کے بعد ۲۲ فروری ۱۸۷۳ء کو تاریخِ پیدائش قرار دیا تھا۔ اِسی بنا پر عبدالمجید سالک نے ’ذکرِ اقبال‘ (۱۹۵۵ء) میں ۱۸۷۳ء لکھا، اور خود محکمہ ڈاک پاکستان نے ۱۹۵۸ء کے اقبالؒ یادگاری ڈاک ٹکٹ پر بھی ۱۸۷۳ء ہی چھاپا تھا۔

پھر معاملہ بدلا۔ ۱۹۵۸ء میں چیک محقق یان ماریک نے اقبالؒ کی اپنی فراہم کردہ معلومات کی طرف توجہ دلائی۔ اقبالؒ نے اپنے ڈاکٹریٹ کے کاغذات میں اپنی پیدائش ۳ ذوالقعدہ ۱۲۹۴ھ لکھی تھی، اگرچہ عیسوی سال کے حساب میں اُنہوں نے خود ۱۸۷۶ء لکھ دیا تھا۔ اِس ہجری تاریخ کی درست عیسوی تطبیق ۹ نومبر ۱۸۷۷ء بنتی ہے۔ بعد میں پاکستان میں قائم ہونے والی تحقیقی/سرکاری کمیٹیوں نے بھی اِسی نتیجے کو قبول کیا۔ اقبال اکادمی کے تحقیقی مواد میں بھی ۹ نومبر ۱۸۷۷ء ہی اختیار کیا گیا ہے۔ اِس تناظر میں اِس سنگِ مرمر کی تختی کی درستگی بھی ضروری ٹھہرتی ہے۔

اقبالؒ کا حقیقی مدفن لاہور میں بادشاہی مسجد کے پہلو میں ہے۔ قونیہ کا یہ ’مقام‘ آپؒ کا علامتی مزار اور تدفینی یادگار ہے؛ ایک ایسے شاعر کی یادگار جس نے مولانا رومؒ کو اپنا ’پیرِ رومی‘ کہا اور خود کو اُن کا ’مُریدِ ہندی‘ قرار دیا۔

علامہ محمد اقبالؒ نے اپنے بیٹے جاوید اقبال کو نصیحت کرتے ہوئے کہا تھا:

پیرِ رومی را رفیقِ راہ ساز
تا خدا بخشد ترا سوز و گداز

(ترجمہ: پیرِ رومی کو اپنا رفیقِ راہ بنا، تاکہ خدا تجھے سوز و گداز عطا کرے۔)

اقبالؒ اپنی زندگی میں قونیہ نہ پہنچ سکے، مگر اُن کی وفات کے ستائیس برس بعد مولانا رومؒ کے مزار کے احاطے میں اُن کے نام کا ایک ’مقام‘، ایک علامتی مزار، وجود میں آگیا۔

رفیقِ راہ شاید ایسے ہی ہوتے ہوں گے۔

تحریر: سعید احمد شیخ، ڈی جی ریڈیو پاکستان

Address

Constitution Avenue‚ Sector G-5‚ Islamabad
Islamabad

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Radio Pakistan posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Radio Pakistan:

Shortcuts

Share

Category