05/09/2026
آہ! مولانا عبدالحنان صدیقی بھی رخصت ہوئے۔ وہ کوئی پیشہ ور خطیب نہ تھے، دل کے واعظ تھے؛ بات ان کے سینے سے اٹھتی اور سننے والوں کے دل میں اترتی تھی۔ ذکرِ الٰہی اور محبتِ رسول ﷺ میں خود بھی روتے، دوسروں کو بھی رلاتے اور پوری مجلس پر ایک عجیب رقت طاری کر دیتے۔ اب وہ پُرسوز آواز خاموش ہو گئی، وہ اشک بار آنکھیں ہمیشہ کے لیے بند ہو گئیں اور منبر ایک صاحبِ تاثیر واعظ سے خالی ہو گیا۔ اللّٰہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے، ان کی دعوت و تبلیغ کو صدقۂ جاریہ بنائے اور پس ماندگان کو صبرِ جمیل عطا کرے؛ آمین