Jahaan E Danish

Jahaan E Danish Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Jahaan E Danish, Publisher, Street #33, F-11/3, Islamabad.

03/12/2022
25/04/2022

نئے فلیٹ میں منقتل ہوئے یہ میرا پہلا ہفتہ اور پہلا ہی رمضان بھی تھا ۔ فلیٹوں کی تعمیر کچھ اس طرح ہے کہ ہمارے بلاک اے کے لاؤنج کی کھڑکی سے بلاک بی کے اُسی فلور کی بالکونی سامنے نظر آتی ہے ۔
شہر میں ہُو کا سناٹا تھا ۔ ہر طرف " ہیٹ اسٹروک " کا شکار ہونے والوں کی کہانیاں تھیں ۔
آفس سے لوٹا تو دن کے تین بج رہے تھے ۔ ہوا کا مزاج دیکھنے کے لیے لاؤنج کی کھڑکی کھول دی ۔ ہم چوتھے فلور پر مقیم ہیں ۔ گرم ہوا کے ایک ہی تھپیڑے نے گال سُرخ کر دیے ۔
کھڑکی بند کرنے کے لیے آگے بڑھا تو سامنے والے فلیٹ کی بالکونی میں رسی پر ٹنگے کپڑوں کی اوٹ میں بیٹھے ایک نوجوان پر نظر جا پڑی ۔
پہلا خیال تو آیا کہ بُری بات ہے پرائے گھر میں جھانک رہا ہوں ۔
فوراً وکیل صفائی نے دلیل دی کہ بالکونی کا پردہ نہیں ہوتا ۔ یہ تو سامنے کا منظر ہے میں کوئی خفیہ ٹوہ تو نہیں لے رہا ۔
وہ نوجوان اُکڑوں بیٹھا کُچھ کھا رہا تھا ۔
بے حیا لوگ " رمضان کا تو احترام ہی اُٹھ گیا ہے "
کھڑکی بند کرنے ہی والا تھا کہ خیال آیا کیوں نہ اس بھوکے شیر کی عزت افزائی کی جائے !
پہلا آئیڈیا تھا کہ اِسے فیس بُک پر لائیو لیا جائے !
پھر سوچا لائیٹ جانے والی ہے نیٹ ڈی سی ہو جائے گا اور لائیو پر وڈیو بھی صاف نہیں آتی ۔
موبائل اُٹھایا اور زُوم کر کے وڈیو بنانا شروع کر دی ۔
بمشکل دو منٹ کی وڈیو ہی بن پائی ۔
وہ کوئی پھل شاید گرما کھا رہا تھا جو اب ختم ہو چکا تھا ۔
فوراً فیس بُک آن کر کے " ہمارے پڑوس میں احترام رمضان " کے عنوان سے وڈیو اپ لوڈ کر دی ۔
مؤمنین کی استغفار اور لعنت ملامت کا ایک طُوفان در آیا ۔ ہزاروں لائیکس اور سینکڑوں شئیر ہوئے ۔ دِل روحانیت سے سرشار ہو گیا کہ " آج تو دفاع رمضان کا حق ہی ادا ہو گیا "
آخری عشرے کا قصہ ہے !
آفس سے لوٹا تو سامنے والے بلاک بی کے نیچے ایک ایمبولینس کھڑی دیکھی ۔
چوکیدار سے پُوچھا " خیریت ہے ؟؟ "
چوکیدار کی آنکھوں میں آنسو تھے ۔
سر وہ آپ کے سامنے والے فلیٹ میں عبداللہ کا انتقال ہو گیا ہے ۔
کیسے بھئی !! ؟ کتنی عمر تھی ؟
جیسے چوکیدار نام لے رہا تھا اُس سے لگا کہ کوئی نوجوان ہے ۔
سر جوان بچہ تھا ۔ بیس سال سے کُچھ اُوپر عمر ہو گی ۔
چار ماہ قبل آنتوں کا کینسر تشخیص ہوا تھا ۔ ڈاکٹر کا کہنا تھا کہ آخری اسٹیج ہے ۔ جب سے گھر سے نکلتے نہیں دیکھا ۔
اُس کا چھوٹا بھائی بتا رہا تھا کہ ڈاکٹر نے سختی سے منع کر رکھا تھا کہ اس کو روزہ نہیں رکھنے دینا لیکن بھائی نے لڑ جھگڑ کر چھ روزے رکھ ہی لیے کہ کیا خبر پھر کبھی مہلت ملتی ہے یا نہیں ۔
میرے کانوں میں سیٹیاں بج رہی تھیں ۔ سیڑھیاں چڑھتے ہوئے جب اپنے فلور پر پہنچ کر دیکھا تو اِکا دُکا لوگوں کا آنا جانا لگا تھا ۔ یہ وہی فلیٹ تھا ۔
گھر میں داخل ہوا ۔
لاؤنج کی کھڑکی کھولی تو ٹھنڈی ہوا کے ایک جھونکے نے گالوں پر دستک دی ۔
سامنے والے فلیٹ کی بالکونی ویران پڑی تھی ۔
آج تار پر کپڑے بھی نہیں لٹک رہے تھے !!
ــــــــــ
عابی مکھنوی

18/01/2022

کون کہاں کھڑا تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اصل تاریخ جو ہماری نسل سے چھپا لی گئی

پاکستان میں پہلی دھاندلی 1965 کے صدارتی الیکشن میں فوج ،بیوروکریٹس، پیروں اور وڈیروں کےگٹھ جوڑ سے ہوئی جس کے بعد حق سچ کا ساتھ دینے والے کتنے ہی لوگ جنہوں نے پاکستان کیلئےسب کچھ قربان کردیا تھا غدار کہلائے۔اور کیسے کیسے لوگ معتبر بن بیٹھے ۔
صدارتی الیکشن۔1965 وہ سیاہ دن تھا جب کتّا کنویں میں گرا تھا جسے آج تک نہیں نکالا جاسکا بس ضرورتاً چند ڈول پانی نکال کر ہر کوئی اپنا راستہ ہموار کر لیتا ہے۔

فساد کی ماں 1965 کے صدارتی الیکشن پر اب کوئی بات بھی نہیں کرتا اور نہ انکے بارے میں کچھ لکھا جاتا ہے کہ نئی نسل کو آگہی ہو کہ کیسے اس الیکشن نے پاکستان کی تباہی کی بنیاد رکھی، کیسے اس نے پاکستان کو دولخت کرنے میں جلتی پر تیل کا کردار ادا کیا اور باقی ماندہ پاکستان پر اک ایسی رجیم مسلّط کردی جس نے یہاں کبھی جمہوریت کو پنپنے ہی نہیں دیا۔

1965کےصدارتی الیکشن میں پہلی دھاندلی خود فیلڈ مارشل ایوب خان نےکی جو پہلے الیکشن۔بالغ رائےدہی کی بنیاد پر کروانےکا اعلان کر کے مُکر گئے
یہ اعلان 9اکتوبر1964 کو ہوا مگر مادر ملت فاطمہ جناح کےامیدوار بننے اور ایوب خان کے خلاف میدان میں اترنے کے بعد یہ اعلان صدرِ پاکستان کا نہیں ایوب خان کا انفرادی ‏اعلان ٹھہرا
اور سازش کےتحت یہ ذمہ داری حبیب اللہ خان پر ڈالی گئی ۔یہ پاکستان کی پہلی پری پول دھاندلی تھی۔

کابینہ اجلاس میں تو وزراء نےخوشامد کی انتہا کردی حبیب اللّہ خان نےفاطمہ جناح کو ایبڈو کرنےکی تجویز دی ، اگر یہ تجویز منظور کر کے مس فاطمہ جناح کو غدّار قرار دے دیا جاتا تو پاکستان کی تاریخ کا بھیانک سانحہ ہوتا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وحید خان نےجو وزیر اطلاعات اور کنویشن لیگ کےجنرل سیکرٹری تھےتجویز دی کہ ایوب
‏کو تاحیات صدر قرار دینےکیلئے ترمیم کی جائے ایوب خان کےمنہ بولے بیٹے ذوالفقار بھٹو نے مس جناح کو بڑھیا اور ضدی کے القابات سے نوازا۔
دوسری طرف جماعت اسلامی کے مولاناابوالاعلی مودودی ، سندھ سےجی ایم سید اور صوبہ سرحد سےخان عبدالغفار خان نے جبکہ مشرقی پاکستان سے شیخ مجیب نےکھل کر فاطمہ جناح کی حمایت کی۔

‏پنجاب کےتمام سجادہ نشینوں نے سوائے پیر مکھڈ صفی الدین کےفاطمہ جناح کےخلاف فتویٰ دیا۔

ایوب خان کی انتظامی مشینری نے دھاندلی کا منصوبہ ترتیب دیا اور الیکشن تین طریقوں سےلڑنےکا فیصلہ کیا

پہلا مذھبی سطح پر
جس کےانچارج پیر آف دیول شریف تھے جنہوں نےمس جناح کےخلاف فتوے نکلوائے

*دوسرا انتظامی سطح پر
چونکہ 62 کےآئین کے تحت ایوب خان کو یہ سہولت میسرتھی کہ وہ تب تک صدر رہ سکتےتھےجب تک انکاجانشین نہ منتخب ہو جائے ۔لہذا اک حاضر سروس طاقتور صدر کے حق میں پوری سرکاری مشینری استعمال کی گئی۔ جسکا نتیجہ یہ ہےکہ آج بھی الیکشن سرکاری ملازمین کےدباؤ سےجیتےجاتے ہیں

*تیسری سطح پر*
مس جناح کےحامیوں پر جھوٹے مقدمات درج کئےگئے ۔عدالتوں سے ‏انکے خلاف فیصلے لئے گئے
اور یہی عدلیہ کےتابوت میں پہلی اور آخری کیل ثابت ہوئی جو آج تک ٹھکی ھوئی ہے

سندھ کےتمام جاگیردار گھرانے ایوب خان کےساتھ ھو گئے تھے۔
بھٹو فیملی ،جتوئی فیملی ،محمدخان جونیجو فیملی ،ٹھٹھہ کے شیرازی ،خان گڑھ کےمہر
نواب شاہ کےسادات ،بھرچونڈی۔۔رانی پور
‏ہالا👈کے اکثر پیران کرام، ایوب خان کے ساتھ تھے

سوائے کراچی میں گہری جڑیں رکھنےوالی جماعت اسلامی ،اندرون سندھ کےجی ایم سید_ حیدرآباد کےتالپور برادران ،بدین کے فاضل راہو اور رسول بخش پلیجو
مس جناح کےحامی تھے ۔تاریخ کا جبر دیکھیں یہی لوگ بعد میں پاکستان کےغدار بھی ٹہراےُ گئے
پنجاب کےتمام گدّی نشین اور صاحبزادگان و سجادہ نشین سوائےپیر مکھڈ۔صفی الدین
باقی سب ایوب خان کےساتھ ھو گئےتھے
سیال شریف کےپیروں نےتو فاطمہ جناح کےخلاف فتوی بھی دیا تھا۔
پیر آف دیول نےداتادربار پر مراقبہ کیا اور فرمایا کہ داتا صاحب نےحکم دیا ہےایوب خان کو کامیاب کیاجائے ‏ورنہ خدا پاکستان سےخفا ہوجائے گا۔
آلو مہارشریف کےصاحبزادہ فیض الحسن نےعورت کےحاکم ہونے کےخلاف فتوی جاری کیا
مولانا عبدالحامد بدایونی صدر جمعیت علماء پاکستان نےفاطمہ جناح کی نامزدگی کو شریعت سےمذاق اورناجائز قرار دیا
مولانا حامدسعیدکاظمی کےوالد علامہ احمد سعید کاظمی نے ‏ایوب خان کو ملت اسلامیہ کی آبرو قرار دیا
یہ وہ لوگ تھے جو دین کےخادم ہیں

لاھور کےمیاں معراج الدین نے
فاطمہ جناح کےخلاف جلسہ منعقد کیاجس سےمرکزی خطاب عبدالغفار پاشا اور وزیر بنیادی جمہوریت نےخطاب کیا
معراج الدین نے فاطمہ جناح پر اخلاقی بددیانتی کا الزام لگایا موصوف موجودہ بیمار
‏وزیر صحت یاسمین راشد کےسسر تھے۔

گجرانوالہ کےغلام دستگیر نے مس جناح کی تصویریں کتیا کےگلے میں ڈال کر پورے گجرانوالہ میں جلوس نکالے
میانوالی کی ضلع کونسل نےفاطمہ جناح کےخلاف قرار داد منظور کی۔
مولانا غلام غوث ہزاروی سابق ناظم اعلی مجلس احرار اور مرکزی رہنماء جمعیت علمائےاسلام ‏نےکھل کر ایوب خان کی حمایت کا اعلان کیا اور دعا بھی کی۔
پیر آف زکوڑی نےفاطمہ جناح کی نامزدگی کو اسلام سےمذاق قرار دیکر عوامی لیگ سے استعفی دیا۔اور ایوب کی حمایت کا اعلان کیا

دوسری طرف جماعت اسلامی
کےامیر مولانا سید ابوالاعلی مودودی کا ایک جملہ زبان زد عام ہوگیا
ایوب خان میں ‏اسکے سوا کوئی خوبی نہیں کہ وہ مرد ہیں اورفاطمہ جناح میں اسکے سوا کوئی کمی نہیں کہ وہ عورت ہیں۔

بلوچستان میں مری سرداروں اور جعفر جمالی ظفر اللہ جمالی کے والد صاحب کوچھوڑ کر
سب فاطمہ جناح کےخلاف تھے
قاضی محمد عیسی جسٹس فائز عیسی کےوالد مسلم لیگ کا بڑا نام ‏بھی فاطمہ جناح کےمخالف اور ایوب خان کےحامی تھے
انہوں نےکوئٹہ میں ایوب خان کی مہم چلائی
حسن محمود نےپنجاب اور سندھ کے۔روحانی خانوادوں کو ایوب کی حمایت پرراضی کیا
پورا مشرقی پاکستان غدار ٹہرا کہ وہ سب مس جناح کےساتھ تھے

خطۂ پوٹھوہار کے۔تمام بڑے گھرانے اور سیاسی لوگ ایوب خان کےساتھ تھے
‏برئگیڈئر سلطان والد چودھری نثار، ملک اکرم دادا امین اسلم، ملکان کھنڈا۔کوٹ فتح خان۔
پنڈی گھیب۔تلہ گنگ۔ایوب کےساتھ تھے اسکی وجہ یہاں کے سب لوگ فوج سے وابستہ تھے سوائےچودھری امیر۔اور ملک نواب خان کے جن کو الیکشن کےدو دن بعد قتل کردیا گیا۔

شیخ مسعود صادق نےایوب خان کی لئےوکلاء
‏کی حمایت کا سلسلہ شروع کیا کئی لوگوں نےانکی حمایت کی ،پنڈی سے راجہ ظفرالحق بھی ان میں شامل تھے
اسکے علاوہ میاں اشرف گلزار بھی فاطمہ جناح کےمخالفین میں شامل تھے
صدارتی الیکشن۔1965 کے دوران گورنر امیر محمد خان صرف چند لوگوں سے پریشان تھے
ان میں سرفہرست سید ابوالاعلی مودودی،
‏شوکت حیات ،خواجہ صفدر والد خواجہ آصف
چودھری احسن والد اعتزازاحسن، خواجہ رفیق والد سعدرفیق، کرنل عابد امام والد عابدہ حسین اور علی احمد تالپور شامل تھے یہ لوگ آخری وقت تک فاطمہ جناح کےساتھ رہے
صدارتی الکشن کےدوران فاصمہ جناح پر پاکسان توڑنےکا الزام بھی لگا
یہ الزام ZA-سلہری نے ‏اپنی ایک رپورٹ میں لگایا جسمیں مس جناح کی بھارتی سفیر سےملاقات کا حوالہ ديا گیا تھا
یہ بیان کہ قائداعظم تقسیم کےخلاف تھے یہ وہی تقسیم تھی جسکا پھل کھانےکیلئےآج سب اکٹھےہوئے تھے
یہ اخبار ہرجلسےمیں لہرایا گیا ۔ایوب اسکو لہرا لہرا کر مس جناح کوغدار کہتے رہے

پاکستان کا مطلب کیا
‏لاالہ الااللّہ
جیسی نظم لکھنے والے اصغرسودائی ایوب خان کے قصیدے اور ترانے لکھتے تھے

اوکاڑہ کےایک شاعر ظفراقبال نےچاپلوسی کےریکارڈ توڑ ڈالے یہ وہی ظفراقبال ہیں جو بعد میں اپنےکالموں میں سیاسی راہنماؤں کا مذاق اڑاتے رہے۔
سرورانبالوی و دیگر کئی شعراء اسی کام میں مصروف تھے
دوسری طرف حبیب جالب، ‏ابراھیم جلیس میاں بشیر فاطمہ جناح کےجلسوں کے شاعر تھے۔ جالب نے ان جلسوں سے اپنے کلام میں شہرت حاصل کی
میانوالی جلسے کے دوران جب گورنر امیرخان کےغنڈوں نےفائرنگ کی توفاطمہ جناح ڈٹ کر کھڑی ہوگئیں
اسی حملےکی یادگار
*بچوں پہ چلی گولی۔*
*ماں دیکھ کے یہ بولی* نظم ہے
فیض صاحب خاموش حمائتی تھے

‏چاغی۔لورالائی،سبی ،ژوب، مالاکنڈ،باجوڑ، دیر،سوات، سیدو، خیرپور، نوشکی،دالبندین، ڈیرہ بگٹی، ہرنائی، مستونگ، چمن، سبزباغ، سے فاطمہ جناح کو کوئی ووٹ نہیں ملا۔

سارا اردو اسپیکنگ طبقہ جو جماعت اسلامی کی طاقت تھا فاطمہ جناح کی حمایت کرتا رہا
انکو کراچی سے 1046 ایوب خان کو837 ووٹ ملے
‏مشرقی پاکستان مس جناح کےساتھ تھا
فاطمہ جناح کو ڈھاکہ سے353 اور ایوب خان کو 199ووٹ ملے
جسکی سزا اسٹیبلشمنٹ نےیہ دی کہ انہیں دو نمبر شہری اور پاکستان سےالگ ہونےپر مجبور کردیاگیا
ٹوبہ ٹیک سنگھ میں ایوب خان اور مس فاطمہ کے ووٹ برابر تھے
مس جناح کےایجنٹ ایم حمزہ تھے اور اے-سی جاویدقریشی جو بعد میں چیف سیکرٹری بنے
‏مس جناح کوکم ووٹوں سےشکست اکیلی عورت
فوج ،بیوروکریٹ، پیروں، وڈیروں، جاگیر داروں سےمقابلہ کر رہی تھی
جہلم سے ایوب کے82 اور مس جناح کے67 ووٹ تھے
اس الیکشن میں جہلم کےچودھری الطاف فاطمہ جناح کےحمائتی تھے مگر نواب کالاباغ کے دھمکانےکے بعد پیچھے ہٹ گئے یہاں تک کہ جہلم کےنتیجے پر دستخط کیلئے
‏مس جناح کےپولنگ ایجنٹ گجرات سے آئے
اسطرح کی دھونس اور دھاندلی عام رہی

اس الیکشن میں مس فاطمہ جناح نہیں ہاری بلکہ جمہوریت ہار گئی_ پاکستان ہار گیا۔۔۔۔جو محبِ وطن اور جان نثار تھے غدّار ٹہرے اور اسمبلیوں اور ایوانوں سے ان کا خاتمہ ہو گیا۔ ابن الوقت اور چاپلوسی کرنے والے معتبر ٹہرے اور آج بھی اسمبلیوں میں انہی ‏کی اولادیں موجود ہیں
اس کے بعد پاکستان کی عوام نےکوئی نیا لیڈر پیدا نہیں کیا

*حوالےکیلئے دیکھئے

ڈکٹیٹرکون۔۔ایس-ایم-ظفر
میرا سیاسی سفر۔۔حسن محمود
فاطمہ جناح۔۔ابراھیم جلیس
مادرملت۔۔ظفرانصاری۔
فاطمہ جناح۔۔حیات وخدمات۔۔وکیل انجم
اور کئی پرانی اخبارات
👈پڑھیں اور جانےآپنا ماضی

کھائی جاؤ وے کھائی جاؤوسعت اللہ خانموجودہ حکومت قومی خزانے کی گردن پر سے اسٹیل ملز اور پی آئی اے سمیت متعدد سفید ہاتھ...
20/12/2020

کھائی جاؤ وے کھائی جاؤ

وسعت اللہ خان

موجودہ حکومت قومی خزانے کی گردن پر سے اسٹیل ملز اور پی آئی اے سمیت متعدد سفید ہاتھیوں کا بوجھ اتارنا چاہ رہی ہے ، اٹھارویں ترمیم کے تحت صوبوں کو ملنے والے مالیاتی حصے پر بھی نظرِ ثانی کی خواہش مند ہے ، ٹیکس کا دائرہ بھی بڑھانا چاہ رہی ہے ، آئی ایم ایف کی سفارشات کی روشنی میں پانی ، بجلی ، گیس کی قیمتوں میں اضافہ بھی کر رہی ہے۔ عوامی استعمال کی متعدد ضروری اشیا پر سرکاری سبسڈی کو بھی کم سے کم کرنا چاہ رہی ہے۔

سرمایہ کاروں اور زرِ مبادلہ کی زیادہ سے زیادہ ترسیل کی حوصلہ افزائی کے لیے دوست پالیسیاں بھی وضع کر رہی ہے۔سول سروس میں مستعدی اور پیشہ ورانہ اہلیت بڑھانے کے لیے اصلاحات کا منصوبہ بھی تکمیل پذیر ہے۔ مقصد یہ ہے کہ اتنا پیسہ میسر آ سکے کہ کسی غیر کے آگے ہاتھ پھیلائے بغیر ترقیاتی کام اور میگا پروجیکٹس کو تیزی سے آگے بڑھا کر معیشت کو اپنے پاؤں پر کھڑا کیا جاسکے۔

مگر معیشت کی بالٹی میں سوراخ اتنا بڑا ہے کہ فوری مرمت کی خاطر پرانے قرضے تو خیر کیا کم ہوں گے۔ان پر پچھلے ڈھائی برس میں تئیس اعشاریہ چھ ارب ڈالر کے نئے قرضوں کی تہہ چڑھ گئی ہے۔ان میں سے ساڑھے چار ارب ڈالر کے قرضے صرف نئے مالی سال کے پہلے پانچ ماہ ( جولائی تا نومبر ) میں حاصل کیے گئے ہیں۔یہ کسی نجی ادارے کے نہیں بلکہ وزارتِ اقتصادی امور کے جاری کردہ تازہ ترین اعداد و شمار ہیں۔
پچھلے ڈھائی برس میں آٹا ، چینی ، سیمنٹ سمیت کئی سکینڈلز سامنے آئے ہیں۔ان کے ڈانڈے گزشتہ ادوار سے بھی جڑے ہوئے ہیں۔مگر اچھی بات یہ ہے کہ موجودہ حکومت نہ صرف ان کی تحقیقات کروا رہی ہے بلکہ تحقیقاتی رپورٹیں عام بھی کر رہی ہے۔ان سکینڈلز کے تالاب میں کئی نجی و سرکاری شارکیں اور وہیل مچھلیاں اور مگرمچھ تیرتے نظر آ رہے ہیں۔ان رپورٹوں کی اشاعت کے بعد اب ان پر بھی کمند ڈلے گی کہ نہیں ؟ یہ بالکل الگ موضوع ہے۔

ان تمام اسکینڈلز کا باپ پٹرولیم اسکینڈل ہے۔ اس کی تفصیلی رپورٹ نے سرکاری و نجی شعبے و فیصلہ سازی کی چادر میں پوشیدہ بڑے بڑے سوراخوں کو عریاں کر کے رکھ دیا ہے۔یہ اسکینڈل اس لحاظ سے بھی کلیدی اہمیت رکھتا ہے کہ پاکستان کا کم ازکم چالیس فیصد زرِ مبادلہ پٹرولیم مصنوعات کی درآمد پر صرف ہو جاتا ہے۔مگر اس شعبے کو باقاعدہ و منظم رکھنے کے نظام میں ایسے ایسے کمالات دکھائے گئے ہیں کہ عوام کی جیب بھی خالی ہو جائے اور پتہ بھی نہ چلے اور عوام کیا حکومتوں کو بھی پتہ نہ چلے۔

چند برس قبل سپریم کورٹ کے ایک سابق چیف جسٹس بھگوان داس کی سربراہی میں ایک کمیٹی نے توانائی کے شعبے میں کرپشن اور بد انتظامی سے متعلق لگ بھگ ایسی ہی رپورٹ تیار کی تھی۔اگر اس پر نصف عمل بھی ہوجاتا تو اس سال کے شروع میں عالمی منڈی میں کوویڈ کے سبب پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں انتہائی کمی کے باوجود آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا)کے ہوتے ہوئے مصنوعی ذخیرہ اندوزی اور بدانتظامی کو عوام لوٹ پروگرام میں بطور ہتھیار استعمال شائد نہ کیا جا سکتا۔

تازہ رپورٹ میں جو متعدد سفارشات کی گئی ہیں ان میں اوگرا کے موجودہ ڈھانچے کے خاتمے اور وزارت پٹرولیم کے کلیدی اہلکاروں کی برطرفی و پوچھ گچھ کا مطالبہ بھی شامل ہے۔

رپورٹ کے مطابق اوگرا کا قیام دو ہزار دو میں عمل میں آیا مگر اس کے آپریشنل قوانین دو ہزار سولہ تک نافذ نہ ہو سکے۔یعنی چودہ برس تک ایس آر اوز ( عبوری حکم ناموں) کے ذریعے کام چلایا گیا۔

تیل درآمد کرنے کے تمام فیصلے آئل مارکیٹنگ کمپنیوں اور ریفائنریز پر مشتمل مشاورتی کونسل ( او سی اے سی ) کے فراہم کردہ اعداد و شمار کی روشنی میں کیے جاتے ہیں۔اوگرا ان اعداد و شمار کی صحت کی اپنے طور پر جانچ کرنے کی پابند ہے مگر ایسا ش*ذ و نادر ہی ہوتا ہے۔

چنانچہ اوگرا محض ایک نمائشی ریگولیٹری کٹھ پتلی میں تبدیل ہو چکی ہے۔یہ نجی آئل مارکیٹنگ کمپنیوں پر مشتمل مشاورتی کونسل ہی ہے جو تیل بردار جہازوں کی بندرگاہ میں برتھنگ میں ترجیح و تاخیر کی سفارش کر کے کسی بھی فریق کو فائدے یا نقصان سے دوچار کر سکتی ہے۔

جنوبی ایشیا کے پانچ ممالک میں آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کی تعداد بیس مگر پاکستان میں چونتیس ہے۔ ان میں سے اکیس کو دو ہزار سولہ کے صرف چھ ماہ میں لائسنس جاری ہوئے۔ جواز یہ پیش کیا گیا کہ جتنی زیادہ کمپنیاں ہوں گی اتنی ہی پٹرولیم اسٹوریج کی گنجائش میں بھی اضافہ ہوگا اور ان کے درمیان کاروباری مسابقت سے حکومت اور عوام کو فائدہ ہوگا۔

اوگرا قوانین کے تحت کوئی بھی آئل مارکیٹنگ کمپنی مطلوبہ ذخیرہ گنجائش بنائے بغیر مارکیٹنگ نہیں کر سکتی۔ مگر چونتیس میں سے پچیس کمپنیاں جنھیں عبوری لائسنس جاری کیے گئے اس پابندی کی پاسداری نہیں کرتیں۔

متعدد مارکیٹنگ کمپنیاں رٹیل آؤٹ لیٹ نہ ہونے کے باوجود پٹرولیم مصنوعات درآمد کر رہی ہیں۔حالانکہ رٹیل آؤٹ لیٹ کے بغیرکوٹے درآمدی کوٹہ الاٹ نہیں ہو سکتا۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ جو کمپنیاں کوٹے کے بغیر تیل منگوا رہی ہیں وہ اسے بڑی آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کو فروخت کر رہی ہیں حالانکہ اس حرکت کی بھی اوگرا قوانین کے تحت سختی سے ممانعت ہے مگر اوگرا نے اس بے قاعدگی سے بھی آنکھیں موند رکھی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق ڈی جی آئل پیشے کے اعتبار سے ڈنگر ڈاکٹر رہے ہیں۔انھوں نے کئی کمپنیوں کو امپورٹ لائسنس کے بغیر درآمد کی اجازت دی۔اور جس دن درآمدی مصنوعات پہنچیں اسی دن ان کمپنیوں کو امپورٹ لائسنس جاری کر دیے۔اب آپ اس سے جو نتیجہ چاہے اخذ کر لیں۔

گزشتہ اپریل سے جون تک کے تیل بحران کے بارے میں رپورٹ کہتی ہے کہ جنوری سے جون تک کے چھ ماہ کے دوران نوے فیصد آئل مارکیٹنگ کمپنیوں نے کسی بھی ہنگامی حالت سے نمٹنے کے لیے بیس دن کی ضروریات کے لیے تیل ذخیرہ کرنے کی لازمی شرط پوری نہیں کی کیونکہ تیل کی قیمتیں تیزی سے نیچے آ رہی تھیں۔فروری اور مارچ میں حکومت نے ریفائنریز کا اسٹاک اٹھانا کم کر دیا۔اور پھر عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں تیزی سے کمی کے باوجود تیل کی مزید درآمد پر یہ کہہ کر پابندی لگا دی گئی کہ ہم مقامی ریفائنریز کو اضافی سپلائی سے پیدا ہونے والی بلا ضرورت بہتات کے سبب ممکنہ مالی نقصان سے بچانا چاہتے ہیں۔

مگر اس دعویٰ کے برعکس جون میں پٹرولیم مصنوعات کی قلت کو اربوں روپے کے مالی نقصان کی شکل میں بھگتنا پڑا۔تیل کمپنیوں کے فراہم کردہ اعداد و شمار کی جانچ کیے بغیر تیل کی درآمد پر عارضی پابندی کے سبب تین ریفائنریز کو بارہ سے اکتیس دن کے لیے کام معطل کرنا پڑا۔

جون میں سرکاری کمپنی پاکستان اسٹیٹ آئل کے علاوہ تمام آئل مارکیٹنگ کمپنیوں نے مارکیٹ شیئر میں زبردست کمی ظاہر کی اور اس کی آڑ میں مزید پٹرول درآمد نہ کرنے اور قیمتیں مستحکم ہونے تک ذخیرہ اندوزی کا فیصلہ کیا۔پی ایس او کو قلت کے سبب ہنگامی طلب پورا کرنے کے لیے تنہا چھوڑ دیا گیا۔قیمتِ خرید اور فروخت میں خاصے فرق کے سبب بھاری مالی خسارہ ہوا۔

جیسے ہی جون کے اواخر میں نئی قیمتوں کا اعلان ہوا بہت سی کمپنیوں نے تیل کا اسٹاک سوفیصد گنجائش کے ذخیرے تک پہنچا دیا۔اسے عام الفاظ میں ذخیرہ اندوزی کہتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق پی ایس او کے سوا تمام آئل مارکیٹنگ کمپنیوں نے ذخیرہ اندوزی کی چنانچہ صرف جون کے مہینے میں نجی تیل مارکیٹنگ کمپنیوں کو ساڑھے پانچ ارب روپے کا فائدہ پہنچا۔

تیل کی قلت عروج پر تھی اس کے باوجود اسی ملین لیٹر تیل لانے والے ایک بحری جہاز کو پندرہ روز تک برتھ نہیں ملی۔جب قیمتوں میں رد و بدل ہوا تب اسے آف لوڈ کیا گیا۔صرف اس ایک حرکت سے ذخیرہ اندوزوں کو دو ارب روپے کا فائدہ ہوا۔ ایک بڑی نجی آئل مارکیٹنگ کمپنی نے تیل کا ذخیرہ کر کے چار سو ملین روپے کمائے۔یہ بس ایک مثال ہے۔

حالانکہ صارفین تک تیل کی سپلائی چوالیس فیصد تک کم ہو گئی تھی۔مگرکمپنیوں نے کاغذوں میں اپنی سیلز کو زیادہ سے زیادہ ظاہر کیا۔اس کا مطلب ہے کہ تیل کی اوور سپلائی کے دعوے مشکوک ہو گئے جن کی بنیاد پر سرکار نے آنکھیں بند کر کے فیصلے کیے تھے۔

مثلاً لاک ڈاؤن کے سبب خیبر پختون خوا کے ضلع دیر پائین میں سیاحت ٹھپ پڑی تھی مگر وہاں پٹرولیم مصنوعات کی سپلائی کی ریکارڈ ڈلیوری دکھائی گئی۔ گجرات میں صرف ایک پٹرول پمپ پر تین ملین لیٹر کی ڈلیوری دکھائی گئی جب کہ وہاں پٹرول زخیرہ کرنے کی گنجائش صرف اکتیس ہزار لیٹر ہے۔چنانچہ کاغذوں پر اس کرتب بازی کے ذریعے کروڑوں روپے کا فائدہ ایک سے دوسرے کو منتقل ہوا۔ رپورٹ کے مطابق ایسی بیسیوں مثالیں ہیں۔

رپورٹ کے مطابق تمام بڑی مارکیٹنگ کمپنیاں اوگرا قوانین کے برعکس تیل مصنوعات کی مشترکہ اسٹوریج کر رہی ہیں۔اوگرا نے جتنے سیلز آؤٹ لیٹس کی اجازت دی تھی اس سے کہیں زیادہ قائم ہیں۔

مثلاً ایک کمپنی کو ذخیرہ کرنے کے لیے ستر آؤٹ لیٹس کی اجازت دی گئی لیکن اس کے چھ سو آؤٹ لیٹس ہیں۔ اس وقت آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے اکیس سو رٹیل آؤٹ لیٹس چالیس ٹن پٹرولیم مصنوعات کے لازمی ذخیرے کی سہولت کے بغیر کام کر رہے ہیں۔

اوگرا ان خلاف ورزیوں پر دس لاکھ روپے روزانہ تک کا جرمانہ عائد کرنے کی مجاز ہے۔مگر عملاً ایک لاکھ روپے تک کا جرمانہ عائد کیا جاتا ہے۔ذخیرہ اندوزی کے سبب منافع میں سے ایک لاکھ روپے جرمانہ بھرنا کسی بھی کمپنی کے لیے کون سی بڑی بات ہے۔

رپورٹ کے مطابق تیل کی ترسیل کے لیے استعمال ہونے والے آئل ٹینکر ٹرکوں کے پاس کیو کیٹگری کا لائسنس ہونا چاہیے۔مگر ایک بھی آئل ٹینکر کے پاس یہ لائسنس نہیں۔

کھائی جاؤ وے کھائی جاؤ بھید کنے کھولنا

وچوں وچوں کھائی جاؤ اتوں رولا پائی جاو

16-12-2014Peshawar AttackBLACK DAY-144 |Stories|Remembering Our Heros
16/12/2020

16-12-2014
Peshawar Attack
BLACK DAY

-144 |Stories|
Remembering Our Heros

09/11/2020
31/10/2020

: فہد نے1
گھنٹے میں 10 کلو میٹر فاصلہ طے کیا
حارث نے ڈیڑھ گھنٹے میں یہی فاصلہ طے کیا

دونوں میں سے کون تیز رفتار اور صحت مند ہوا ؟
یقینا ہمارا جواب ہوگا "فہد "

اگر ہم کہیں کہ فہد نے یہ فاصلہ ایک تیار ٹریک پر طے کیا جب کہ حارث نے ریتیلے راستے پر چل کر طے کیا تب؟
تب ہمارا جواب ہوگا "حارث"

لیکن ہمیں معلوم ہوا کہ فہد کی عمر 50 سال ہے جب کہ حارث کی عمر 25 سال تب؟
ہم دوبارہ کہیں گے کہ "فہد "

مگر ہمیں یہ بھی معلوم ہوا کہ حارث کا وزن 140 کلو ہے جب کہ فہد کا وزن 65 کلو تب؟
تب ہم کہیں گے "حارث"

جوں جوں ہم فہد اور حارث سے متعلق زیادہ جان لیں گے ان میں سے کون بہتر ہے ان سے متعلق ہماری رائے اور فیصلہ بھی بدل جائے گا.

ہم بہت سطحی چیزیں اور بہت جلدی میں رائے قائم کرتے ہیں جس سے ہم خود اور دوسروں کے ساتھ انصاف نہیں کر پاتے ہیں.

اسی طرح خود کو دوسروں کے ساتھ تقابل کرتے ہوئے بھی ہم میں سے بہت سارے اسی سطحیت کا شکار ہو کر مایوس ہو جاتے ہیں حالانکہ

ہر ایک کا ماحول مختلف ہوتا ہے
مواقع مختلف ہوتے ہیں
زندگی مختلف ہوتی ہے
وسائل مختلف ہوتے ہیں
مسائل مختلف ہوتے ہیں

آپ اپنے کسی ہم عمر سے کسی کام میں پیچھے ہیں تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ کامیاب اور آپ ناکام ہیں،وہ افضل اور آپ کمتر ہیں،ممکن ہے آپ کو میسر مواقع،ظروف اور درپیش حالات کو دیکھا جائے تو آپ ان سے بہت بہتر ہوں.

زندگی کی دوڑ میں خود کو کبھی کمتر نہ سمجھو،احساس کمتری شکست کی پہلی سیڑھی ہے.

23/09/2020

شیر اور شارک دونوں پیشہ ور شکاری ہیں لیکن شیر سمندر میں شکار نہیں کرسکتا اور شارک خشکی پر شکار نہیں کر سکتی۔
شیر کو سمندر میں شکار نہ کر پانے کیوجہ سے ناکارہ نہیں کہا جا سکتا اور شارک کو جنگل میں شکار نہ کر پانے کیوجہ سے ناکارہ نہیں کہا جا سکتا۔
دونوں کی اپنی اپنی حدود ہیں جہاں وہ بہترین ہیں۔
اگر گلاب کی خوشبو ٹماٹر سے اچھی ہے تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ اسے کھانا تیار کرنے میں بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔
ایک کا موازنہ دوسرے کے ساتھ نہ کریں۔
آپ کی اپنی ایک طاقت ہے اسے تلاش کریں اور اس کے مطابق خود کو تیار کریں۔
کبھی خود کو حقارت کی نظر سے نہ دیکھیں بلکہ ہمیشہ خود سے اچھی اُمیدیں وابستہ رکھیں۔
یاد رکھیں ٹوٹا ہوا رنگین قلم بھی رنگ بھرنے کے قابل ہوتا ہے۔
اپنے اختتام تک پہنچنے سے پہلے خود کو بہتر کاموں کے استعمال میں لے آئیں۔
وقت کا بدترین استعمال اسے خود کا دوسروں کے ساتھ موازنہ کرنے میں ضائع کرنا ہے
مویشی گھاس کھانے سے موٹے تازے ہو جاتے ہیں جبکہ یہی گھاس اگر درندے کھانے لگ جائیں تو وہ اسکی وجہ سے مر سکتے ہیں۔
کبھی بھی اپنا موازنہ دوسروں کے ساتھ نہ کریں اپنی دوڑ اپنی رفتار سے مکمل کریں ۔
جو طریقہ کسی اور کی کامیابی کی وجہ بنا، ضروری نہیں کہ آپ کیلئے بھی سازگار ہو۔
خُدا کے عطاء کردہ تحفوں نعمتوں اور صلاحیتوں پر نظر رکھیں
اور اُن تحفوں سے حسد کرنے سے باز رہیں جو خُدا نے دوسروں کو دیے ہیں.

23/09/2020

یہ FATF کیا ھے ؟
تحریر : گمنام مار خور

پچھلے کئی دنوں سے ہم سب میڈیا میں FATF نامی چیز کی بازگشت سن رہے ہیں ۔

ایف اے ٹی ایف ہے کیا ؟

پاکستان کا اس کیا لینا دینا ہے ؟

اس موضوع پر سیاسی جماعتوں کی آپس کی کھینچا تانی کے اسباب کیا ہیں ؟

فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) عالمی منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی اعانت کے سد باب کا نگران عالمی ادارہ ہے جو 1989 میں قائم ہوا , پاکستان اس کا رکن ہے ۔

اس ادارے کے زمے ہے کہ وہ حکومتوں کو ایسے اقدامات , قوانین تجویز کرے جن پر عمل پیرا ہو کر ممالک اپنے مالی معاملات میں شفافیت لا سکیں , منی لانڈرنگ ، دہشتگردی کی مالی معاونت جیسی چیزوں کا سدباب کیا جا سکے ۔

تجویز کیئے گئے اقدامات پر ہونے والے عملدرآمد کی بنیاد پر ادارہ ممالک کو تین کیٹیگریز میں تقسیم کرتا ہے ۔
١ بلیک لسٹ
٢ گرے لسٹ
٣ وائٹ لسٹ

بلیک لسٹ ممالک پر پابندیاں عائد کر دی جاتی ہیں ، بیرونی سرمایہ کاری رک جاتی ہے ، بینک بین الاقوامی کاروبار کے حقوق سے محروم کر دئیے جاتے ہیں ، ائیرلائنز پر پابندیاں لگ جاتی ہیں ، مختصر یہ کے ممالک معاشی طور پر تنہائ کا شکار ہو جاتے ہیں ۔

گرے لسٹ میں موجود ممالک کچھ حد تک مالی معاملات چلانے کی اجازت ہوتی ہے لیکن بین بین الاقوامی ٹرانزیکشنز پر کڑی نگاہ رکھی جاتی ہے ، گرے لسٹ ممالک کو بین الاقومی کاروباری ادارے ، مالیاتی ادارے ، بینکس مشکوک نظر سے دیکھتے ہیں ۔

وائٹ لسٹ ممالک کو ہر قسم کے کاروبار ، مالی معاملات ، ٹرانزیکشنز کی آزادی ہوتی ہے ، بین القوامی طور پر ایسے ممالک کو اعتماد کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے ، سرمایہ کار پورے اعتماد کے ساتھ سرمایہ کاری کرتے ہیں ۔

پاکستان کا ایف اے ٹی ایف سے تعلق کچھ ایسا رہا ۔

2008 میں پاکستان کو بلیک لسٹ میں ڈال دیا گیا ۔
2010 میں پاکستان گرے لسٹ میں چلا گیا ۔
2012 میں دوبارہ بلیک لسٹ ۔
2014 میں پھر گرے لسٹ ۔
2015 میں وائٹ لسٹ ۔

2018 میں مجھے کیوں نکالا کے ساتھ پاکستان کو بھی وائٹ لسٹ سے نکال کر پچھلے تین سال کی کارکردگی کی بنیاد پر دوبارہ گرے لسٹ میں ڈال دیا گیا اور بلیک لسٹ کی تلوار تب سے پاکستان کے سر پر لٹک رہی ہے ۔

پاکستان کو بلیک لسٹ میں دھکیلنے کی قیادت ہمارا ازلی دشمن بھارت کر رہا ہے ۔

2018 میں نئی حکومت کے آنے کے بعد سے اب تک ایف اے ٹی ایف کی تین اجلاس ہوئے جن میں پاکستان کو گرے سے بلیک لسٹ میں ڈالنے کا معاملہ ایجینڈے پر شامل تھا ، لیکن بہترین سفارتی حکمت عملی مثبت اقدامات کے سبب پاکستان تینوں بار بلیک لسٹ میں جانے سے بچ گیا ، FATF کی طرف سے بتائے گِئے اقدامات پر عملدرآمد کے لیئے مزید وقت ملتا گیا ۔

اب حکومت ، پاکستان کو گرے لسٹ سے نکال کر وائٹ لسٹ میں لے جانے کی کوششوں کو انجام تک پہنچانے کے لیئے کوشاں ہے ۔ 2018 میں FATF کے بتائے گئے 40 اقدامات میں سے
1 پر 100 فیصد عملدرآمد ۔
9 پر 70 سے 80 فیصد عملدآامد ۔
26 پر 50 فیصد یا اس سے زائد عملدرآمد ۔
کرنے میں کامیاب ہوا ہے ۔

4 نکات ایسے ہی جن پر بالکل بھی عملدرامد نہیں ہو سکا اور اس کے لیئے قانون سازی کی ضرورت تھی ۔

اب آتے ہیں اس بات پر کہ FATF کے موضوع پر پاکستان کی سیاسی جماعتوں میں آپس میں چپقلش کیوں چل رہی ہے ؟

بنیادی طور پر ان 4 نامکمل معاملات اور عمومی طور پر تمام معاملات کو ٹھیک کرنے کے لیئے قانون سازی کی ضرورت تھی ۔ ایک اچھا تاثر دینے کے لیئے حکومت کی کوشش تھی کہ اپوزیشن کے ساتھ مل کر یہ قوانین پاس کروائے جائیں ، لہٰذا اپوزیشن سے بات کی گئ ، لیکن جو جواب آگے سے ملا وہ سن کر ایک شعر یاد آ گیا ۔۔۔۔۔۔

دل کو سکون روح کو آرام آ گیا
بندہ لا لوے چھتر تے پا لوے لمیاں

نون ، پی پی کی مشترکہ مذاکراتی ٹیم پاکستان کے اس عالمی سطح پر شرمندگی ، مالی مسائل کا باعث بننے والےمعاملے پر ووٹ دینے کے بدلے اپنی فرمائشوں کی ایک لسٹ لے کر آگئ جس کا ون پوائنٹ ایجینڈا اپنی اپنی لیڈرشپ کے خلاف کرپشن کے کیسز کا خاتمہ تھا ۔ مطلب ایک اور این آر او ۔
ایف اے ٹی ایف گرے لسٹ سے نکل کر وائٹ لسٹ میں جانے کے لیئے پیش کردہ قوانین کو ووٹ دینے کے بدلے نون ، پی پی انوکھے لاڈلوں نے کھلینے کو مندرجہ زیل چاند مانگے تھے ۔

1۔ نیب قوانین کا اطلاق 16 نومبر 1999 کے بعد سے ہو اس سے پہلے والے تمام کیسز ختم ۔
2 ۔ منی لانڈرنگ کی تحقیقات کا اختیار نیب سے واپس لیا جائے ۔
3 ۔ 5 سال سے پرانے کرپشن کے مقدمات کی تحقیقات نہیں ہونی چاہیئے ۔
4 ۔ 1 ارب سے کم مالی بد عنوانی کو کرپشن کی فہرست سے نکالا جائے ۔
5 ۔ عدالتوں سے اپیلوں کا فیصلہ آنے تک عہدوں سے نا اہل نہ کیا جائے ۔
6 ۔ بینک نادہندگان پر نیب کا کیس بنانے کا اختیار ختم کیا جائے ۔
7 ۔ بیرون ملک اثاثوں کو نیب کے دائرہ کار سے نکالا جائے ۔
8 ۔ آمدن سے زائد اثاثوں کی تحقیق کا اختیار نیب سے واپس لیا جائے ۔

مطلب کہ نیب اس کے بعد صرف بندے کی روٹیاں ہی گن سکے اور گھر سے 200 روپے کا سامان لینے کے لیئے جانے والے بندے کو 20 روپے اپنی جیب میں ڈالنے جیسے جرائم پر ہی کیس کر سکے ۔

مختصر یہ کہ ایسا وقت جب ایک طرف ملکی وقار ، عزت داوُ پر لگے ہوں ، ملک کو بلیک لسٹ میں ڈالا جانے والا ہو ، اس سے بچنے کیلئے اقدامات کی حمایت کرنے کے وقت بھی جو سیاستدان اپنی ذاتی لوٹ مار کو بچانے کے لیئے کوشاں ہوں , حکومت کو بلیک میل کریں تو ان کی اس ملک سے وابستگی پر سوال نہ اٹھائے جائیں تو اور کیا کیا جائے ؟

تازہ ترین اطلاعات کے مطابق حکومت نے گزشتہ روز قومی اسمبلی سے مطلوبہ بل اپوزیشن کے ووٹوں کے بغیر ہی پاس کروانے کے بعد آج سینیٹ سے بھی پاس کروا لیئے ہیں ۔

22/09/2020

🧕 پردہ پردہ پردہ ...!
لڑکی نے کہا :
🌹🌹🌻🍃🌻🌹🌹

تنگ آگئے مولویوں سے! پردہ پردہ پردہ! بھائی ہم آزاد ہیں، جیسا لباس پہنیں، مرد نہ دیکھیں، کیوں آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر سر سے پاؤں تک عورت کو دیکھتے ہیں! ان کےگھر میں بہن بیٹی نہیں. ہم کیوں پردہ کریں، تــــــم دیکھـــــو ہی نہیں"

میں نے کہا جی جی! بات تو تمہاری صحیح ہے کہ مرد کو نظریں نیچی رکھنے کا حکم ہے، نا محرم کو دیکھنا حرام ہے مگر جو منطق تم پیش کر رہی ہو وہ دماغ کی بتی فیوز منطق ہے .

بولی وہ کیسے؟

میں نے کہا کل میں بھی رات دو بجے گھر میں بڑا سا ایکو ساؤنڈ لگا کر قرآن کی تلاوت چلاؤنگا کوئی پڑوسی اعتراض کرے تو کہوں گا تم اور تمہارے بچے اپنے کان بند کرلو! مجھے ہی کیوں کہتے ہو! میں آزاد ہوں، پورا محلہ مجھے ہی بولے جا رہا ہے اپنے کان بند نہیں کرسکتے...

یا پھر ھسپتال میں بیٹھ کر سگرٹ کے سٹے لگاؤں گا لوگوں نے اعتراض کیا تو کہوں گا میری مرضی تم نہ سونگھو! اپنی ناک بند رکھو! کیوں سانس لیتے ہو!

شبانہ تھوڑی چونک سی گئی اور کہا "ہممم. لیکن دیکھنے میں بھلا کیسا گناہ، دیکھنا بھی حرام ہے عورت کو، دیکھنے سے بھلا کیا ہو جاتا ہے.؟

میں نے کہا سانپ دیکھ کر دل کی دھڑکن تیز کیوں ہوجاتی ہے؟ طبیعت و احساسات میں تبدیلی کیوں آجاتی ہے. سڑک پہ انسانی خون دیکھ کر طبیعت کیوں خراب ہوتی ہے... ثابت ہوا کہ جذبات و احساسات کا دیکھنے سے بھی تعلق ہے. لہٰذا تم جوان لڑکیاں یہ مت کہو کہ ہم تنگ لباس پہنیں گی اور دیکھنے والے کو کچھ نہیں ہوگا. ہوگا! "طبیعت" خراب ہوگی جوانوں کی.

"يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ قُلْ لِأَزْوَاجِكَ وَبَنَاتِكَ وَنِسَاءِ الْمُؤْمِنِينَ يُدْنِينَ عَلَيْهِنَّ مِنْ جَلَابِيبِهِنَّ ۚ ذَٰلِكَ أَدْنَىٰ أَنْ يُعْرَفْنَ فَلَا يُؤْذَيْنَ ۗ وَكَانَ اللَّهُ غَفُورًا رَحِيمًا "

۵۹۔ اے نبیﷺ اپنی ازواج اور اپنی بیٹیوں اور مومنین کی عورتوں سے کہدیجیٔے: وہ اپنے اُوپر چادر لپیٹا کریں، یہ عمل ان کی شناخت کے لیے (احتیاط کے) قریب تر ہو گا پھر کوئی انہیں اذیت نہ دے گا اور اللہ بڑا معاف کرنے والا، مہربان ہے۔

21/09/2020

📚 اردو تحریریں 📚

🔵 اللہ تعالی پر آپ کا یقین..؟ 🔵

ایک کوہ پیما سخت سردی کے موسم میں برف کے پہاڑ کے اوپر چڑھ رہا تھا کہ رات ہوگئی، پر وہ رکا نہیں اور اپنی چڑھائی جاری رکھی...
اس بار جب اس نے اپنا کُنڈہ برف میں پھنسانا چاہا تو وہ صحیح طرح سے پھنس نہ سکا اور وہ اپنے ہی زور میں رسی پکڑے کئی فٹ نیچے آگیا..

اب حالت یہ تھی کہ وہ زمین اور آسمان کے درمیان اس طرح معلق ہوگیا کہ اگر اسی طرح لٹکا رہتا تو سردی سے ٹھٹھر کے مر جاتا..

اسی حالت میں وہ بڑی لجاحت سے اللہ سے دعا کرتا ہے.. آسمان سے آواز آتی ہے..
"کیا تجھے مجھ پہ کامل یقین ہے.؟"
وہ جواب دیتا ہے..
"یقیناً مجھے تیری ذات پہ مکمل بھروسہ ہے."
آواز آتی ہے..
"تو پھر اپنی رسی کاٹ دے."

وہ تذبذب کا شکار ہوتا ہے پر رسی کاٹنے سے انکار کر دیتا ہے..

صبح لوگ دیکھتے ہیں کہ ایک کوہ پیما سردی سے ٹھٹر کے مرگیا ہے اور زمین سے صرف دو فٹ اوپر ہے..!!

🔹کیا ہمیں بھی ایسا ہی یقین ہے..؟؟؟
سوچیئے کہ ابھی وقت ہمارے ہاتھ میں ہے..!!

21/09/2020

دنیا کی سافٹ وئیر کی سب سے بڑی کمپنی مائیکرو سافٹ کو آج سے دس سال پہلے آفس بوائز یعنی چپڑاسیوں کی ضرورت تھی.
کمپنی نے اس پوسٹ کے لئے بیس پڑھے لکھے نوجوانوں کا انتخاب کرلیا.ان بیس نوجوانوں نے نوکری کا فارم بھر کر منیجر ایچ آر کے پاس جمع کرا دئیے۔
منیجر نے فارمز کامطالعہ کیا تواس نے دیکھاایک نوجوان نے فارم میں اپنا ای میل ایڈریس نہیں لکھا تھا۔ منیجر نے اس نوجوان سے وجہ پوچھی تو اس نے جواب دیا.
”جناب میرے پاس کمپیوٹر نہیں ہے چنانچہ میں نے اپنا ای میل اکاؤنٹ نہیں بنایا“.
منیجر نے اس سے غصے سے کہا .
”آج کے دور میں جس شخص کا ای میل ایڈریس نہیں ہوتاوہ گویا دنیا میں وجود نہیں رکھتا اور ہم ایک بے وجود شخص کو نوکری نہیں دے سکتے۔
منیجر نے اس کے ساتھ ہی اس کی درخواست پر ریجیکٹڈ (Rejected) کی مہر لگا دی۔
اس وقت اس نوجوان کی جیب میں صرف دس ڈالرز تھے۔ نوجوان نے ان دس ڈالرز سے اپنی قسمت آزمانے کا فیصلہ کیا.
اس نے دس ڈالرز سے ٹماٹر خریدے اور شہر کے ایک محلے میں گھر گھر بیچنا شروع کر دئیے۔ ایک گھنٹے میں نہ صرف اس کے ٹماٹر بِک گئے بلکہ اسے 15ڈالر منافع بھی ہو گیا۔ دوسرے دن وہ 20 ڈالرز کے مزید ٹماٹر خرید لایا.
یہ ٹماٹر 40 ڈالرز میں بِک گئے‘دو دن بعداس کا سرمایہ سو ڈالرز تک پہنچ گیا۔
قصہ مختصر نوجوان کا کاروبار چل نکلا اوراس نے موٹر سائیکل پر پھیری لگانا شروع کر دی‘ پھر اس نے وین خرید لی‘ اس کے بعد اس نے بڑا ٹرک لے لیا اور لوگوں کے گھروں میں سبزی سپلائی کرنے لگا۔ اس ٹرک نے جلد ہی کمپنی کی شکل اختیار کر لی۔ اس نے بڑے بڑے گودام بنائے‘ دو اڑھائی سو لوگ ملازم رکھے۔ بیس پچیس گاڑیاں لیں اور پورے شہرکو سبزیاں فراہم کرنے لگا۔ تین چار برسوں میں امریکا کی دوسری ریاستوں میں بھی اس کی کمپنی کی شاخیں کُھل گئیں اور یوں وہ کروڑ پتی بن گیا۔
اس دوران اس شخص نے شادی کر لی‘ شادی کے بعد اس نے اپنی بیوی کیلئے انشورنس پالیسی لینے کا فیصلہ کیا. انشورنس ایجنٹ آیا. اس نے انشورنس کا فارم پُر کیا اور اس سے کہا
”مسٹر فِلپ آپ مجھے اپنا ای میل ایڈریس لکھوا دیں تا کہ میں آپ کو کانٹریکٹ میل کر دوں“
فِلپ نے مسکرا کر جواب دیا
”لیکن میں نے تو آج تک اپنا ای میل نہیں بنایا“
انشورنس ایجنٹ نے حیرت سے اس کی طرف دیکھا اور بولا
”کمال ہے جناب آپ نے کمپیوٹر اور ای میل کے بغیر اتنی ترقی کر لی۔ آپ سوچئے آپ اگر کمپیوٹر اور ای میل استعمال کررہے ہوتے تو کہاں ہوتے“۔
فلپ نے یہ سن کر قہقہہ لگایا اور بولا.

”اگر میراای میل ہوتا تو میں اس وقت مائیکرو سافٹ میں چپڑاسی ہوتا"

کیونکہ جن انیس نوجوانوں کے ای میل ایڈریس تھے وہ آج بھی وہاں چپڑاسی کی نوکری کر رہے ہیں۔

سچ ہے زندگی میں بعض اوقات انسان کی بعض خامیاں، بعض کوتاہیاں اور بعض کمیاں اس کی ترقی کا باعث بن جاتی ھے۔

Address

Street #33, F-11/3
Islamabad
44000

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Jahaan E Danish posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Category