13/01/2026
آئے میرے لا حاصل شخص... ہم تمہیں یوں تکتے ہیں جیسے نظر ہٹائی تو سب کچھ کھو دیں گے۔ جیسے ایک پل کی غفلت بھی ہمیں تم سے ہمیشہ کے لیے دور کر دے گی۔
تمہیں دیکھنا ہمارے لیے عادت نہیں، یہ تو ایک ایسی مجبوری ہے جو سانسوں کے ساتھ جڑی ہے۔ بغیر کسی حق، بغیر کسی سوال کے۔ تمہارا لا حاصل ہونا بھی کتنا ظالم ہے۔ سامنے ہو کر بھی چھونے کی اجازت نہیں،
ہم جانتے ہیں کہ تم ہمارے نہیں ہو،
تمہارا نام ہماری تقدیر کی کسی لکیر میں نہیں لکھا،
مگر دل ہے کہ اس سچ کو ہر روز ہار جاتا ہے۔
تمہارے سامنے آکر ہم نے خود کو بھلا دیا،
اپنی خواہشیں، اپنی ضدیں، اپنے سب خواب...
ہم نے سب کچھ خاموشی سے ایک طرف رکھ دیا،
صرف اس لیے کہ تمہیں دیکھتے رہ سکیں،
بغیر کسی حق، بغیر کسی سوال کے۔
تمہارا لا حاصل ہونا بھی کتنا ظالم ہے۔
قریب ہو کر بھی اپنا کہنے کا حق نہیں۔
ہم نے محبت مانگی نہیں،
بس اتنا چاہا کہ نظر بھر کر دیکھ لیں،
کیونکہ ہمیں ڈر ہے...
نظر ہٹائی تو واقعی سب کچھ کھو دیں گے۔
آئے میرے لا حاصل شخص...
یہ محبت نہ مکمل ہونے کی ضد کرتی ہے،
نہ انجام مانگتی ہے،
بس تمہیں دیکھ کر زندہ رہنے کا حوصلہ مانگتی ہے۔