Sohail Altaf journalist

Sohail Altaf journalist Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Sohail Altaf journalist, Media, G8/4 islamabad, Islamabad.

14/06/2026

راولاکوٹ دریک دھرنے پر کریک ڈاؤن کی اطلاعت موصول ہو رہی ہیں ہم اپنے نمائندے سے رابطہ کرنے کی کوشش کررہے ہیں رابطہ ہونے کی صورت میں مزیدتفصیلات شیئر کریں گے۔

سوشل میڈیا پر جمعہ کی نماز پر پابندی فورسز کی تعیناتی اور سامان کی چوری کے حوالے سے گردش کرنے والی تصویر مکمل طور پر فیک...
12/06/2026

سوشل میڈیا پر جمعہ کی نماز پر پابندی فورسز کی تعیناتی اور سامان کی چوری کے حوالے سے گردش کرنے والی تصویر مکمل طور پر فیک اور اے آئی (AI) جنریٹڈ ہے۔ اس تصویر کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے بلکہ یہ عوام اور اداروں کے درمیان انتشار اور دوریاں پیدا کرنے کی ایک سوچی سمجھی سازش کا حصہ ہے جس کا براہ راست فائدہ بھارت نواز عناصر اٹھا رہے ہیں۔ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے رہنما عمر نظیر کشمیری کی وال سے بھی اس تصویر کو شیئر کیا گیا جسے ان کے کچھ فالوورز اور اوورسیز بنا تحقیق آگے پھیلانے کا باعث بن رہے ہیں۔ اگر باریک بینی سے دیکھا جائے تو اس تصویر میں مقبوضہ کشمیر کے فون نمبرز واضح نظر آ رہے ہیں جو اس جھوٹے پروپیگنڈے کو بے نقاب کرنے کے لیے سب سے بڑی نشانی ہے۔ چور کتنا ہی ہوشیار کیوں نہ ہو کوئی نہ کوئی خامی ضرور چھوڑ جاتا ہے۔ اس طرح کا منفی بیانیہ پرامن تحریک کو شدید نقصان پہنچائے گا۔ تمام شعور اور سمجھ بوجھ رکھنے والے ذمہ دار شہریوں سے اپیل ہے کہ ایسی فیک چیزوں کو شیئر کرنے سے مکمل گریز کریں ذمہ داری کا ثبوت دیں اور ہر حال میں امن و امان برقرار رکھیں۔ جو لوگ مثبت سوچ رکھتے ہیں وہ اس معاملے پر اپنی رائے ضرور دیں جبکہ گالم گلوچ اور منفی ذہنیت رکھنے والے لوگ اس پوسٹ سے دور رہیں۔
#سچ جان کر جیو
شکریہ

11/06/2026

آزاد کشمیر ڈیڈ لاک برقرار
مذاکرات دھرنے کے خاتمے سے مشروط قرار۔ذرائع
حالات کسی وقت بھی خراب ہو سکتے ہیں

مولانا سعید یوسف صاحب جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی اور حکومت کے مابین جاری ڈیڈ لاک کو ختم کرنے اور مذاکرات کو کامیاب بنانے م...
11/06/2026

مولانا سعید یوسف صاحب جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی اور حکومت کے مابین جاری ڈیڈ لاک کو ختم کرنے اور مذاکرات کو کامیاب بنانے میں ایک کلیدی اور تاریخی کردار ادا کر سکتے ہیں۔ حالیہ دنوں میں ان کی جانب سے دونوں فریقین کو ایک میز پر لانے کے لیے مخلصانہ کوششیں کی گئی ہیں اور ذرائع کے مطابق اس سلسلے میں انہوں نے وزیراعظم پاکستان، صدرِ پاکستان اور دیگر اعلی حکام کو اہم خطوط لکھے ہیں جبکہ دوسری جانب جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کو بھی خطوط لکھ کر اپنا فعال کردار پیش کیا ہے۔
ذرائع کے مطابق آج بھی ان کے اعلیٰ حکام سے اہم رابطے ہوئے ہیں جس میں ان مخلصانہ کوششوں کو گرین سگنل ملا ہے اور ان اعلی سطح کے رابطوں اور مراسلات کے نتیجے میں اب مثبت اور اچھی پیش رفت سامنے آ رہی ہے۔ایک معزز اور غیر متنازع شخصیت ہونے کے ناطے وہ حکومت اور جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی دونوں حلقوں میں یکساں احترام کی نظر سے دیکھے جاتے ہیں جس کی بدولت وہ دونوں فریقین کے تحفظات کو بہتر انداز میں سمجھ کر غلط فہمیاں دور کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔
اس کشیدہ صورتحال میں خاموش رہنے کے بجائے آگے بڑھ کر مصالحت کا راستہ چننا اور تمام اسٹیک ہولڈرز تک رسائی حاصل کرنا ان کی اعلی ظرفی اور حب الوطنی کا عکاس ہے۔کسی بھی تنازع کا آخری حل ہمیشہ مذاکرات کی میز پر ہی نکلتا ہے اور اس عمل کو آگے بڑھانے میں ان کی یہ سنجیدہ کوششیں انتہائی قابل ستائش ہیں۔ اللہ پاک مولانا سعید یوسف صاحب کو اس خیر کے کام میں مکمل کامیابی عطا فرمائے اور ان کی ان کوششوں سے ایک ایسا منصفانہ معاہدہ طے پائے جو عوام کے حقوق کی ضمانت بھی ہو اور خطے میں پائیدار امن کا ضامن بھی بنے۔ آمین۔

امیر جمعیت علماء اسلام جموں و کشمیر مولانا سعید یوسف خان کے اعلیٰ حکام اور عوامی ایکشن کمیٹی کو الگ الگ خطوطمولانا سعید ...
11/06/2026

امیر جمعیت علماء اسلام جموں و کشمیر مولانا سعید یوسف خان کے اعلیٰ حکام اور عوامی ایکشن کمیٹی کو الگ الگ خطوط
مولانا سعید یوسف خان نے صدر پاکستان، وزیراعظم پاکستان اور دیگر اعلیٰ حکام کو خصوصی خط ارسال کر دیا
خط میں آزاد کشمیر کی کشیدہ صورتحال پر تشویش اور تصادم سے گریز کی اپیل کی گئی
مولانا سعید یوسف خان نے جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی قیادت کو بھی مذاکرات کی دعوت دے دی
شوکت میر، عمر نذیر اور خواجہ مہران کے نام بھی باضابطہ خط تحریر کیا گیا
معاملات کو افہام و تفہیم اور مذاکرات کے ذریعے حل کیا جائے، مولانا سعید یوسف خان
مزید کشیدگی اور تشدد سے گریز کیا جائے، مولانا سعید یوسف خان کی فریقین سے اپیل
ضرورت پڑی تو مولانا فضل الرحمان کی خدمات بھی حاصل کی جا سکتی ہیں، مولانا سعید یوسف خان
مولانا فضل الرحمان کی رہنمائی میں مسئلے کے حل کی کوشش کی جا سکتی ہے، خط کا متن
ریاست کے معززین اور اہلِ دانش کو ساتھ ملا کر پائیدار حل نکالنے کے لیے تیار ہیں، مولانا سعید یوسف خان
فریقین موقع فراہم کریں تو بحران کے باوقار حل کے لیے ہر ممکن کردار ادا کریں گے، مولانا سعید یوسف خان
آزاد کشمیر میں امن، استحکام اور سیاسی ہم آہنگی وقت کی اہم ضرورت ہے، مولانا سعید یوسف خان
ثالثی اور مفاہمت کے ذریعے موجودہ بحران کا حل نکالنے کی ضرورت ہے، مولانا سعید یوسف خان

فوجی قیادت سے مخلصانہ اور دردمندانہ اپیل عزت ماب چیف آف آرمی اسٹاف، پاکستان۔السلام علیکم!یہ تحریر ایک محب وطن  اور دردمن...
11/06/2026

فوجی قیادت سے مخلصانہ اور دردمندانہ اپیل
عزت ماب چیف آف آرمی اسٹاف، پاکستان۔
السلام علیکم!
یہ تحریر ایک محب وطن اور دردمند دل رکھنے والے شہری کی حیثیت سے آپ کی خدمت میں پیش کی جا رہی ہے۔ آزاد کشمیر کی موجودہ صورتحال انتہائی تشویشناک ہو چکی ہے جہاں جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی اور حکومت کے درمیان شدید ڈیڈ لاک ہے۔ خصوصا مہاجرین کی 12 نشستوں کے خاتمے کا معاملہ اور دیگر عوامی مطالبات ایسے ہیں جنہیں فوری طور پر مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی ضرورت ہے۔ عمر نظیر کشمیری جیسے رہنما سراسر محب وطن ہیں، جو ماضی میں بھی یہ بات واضح طور پر کہہ چکے ہیں کہ ہمارا اسٹیج بنیادی حقوق کی بات کرنے والا اسٹیج ہے اور یہاں سے کبھی بھی پاکستان پاک فوج اور قومی اداروں کے خلاف بات کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ حالیہ دنوں میں عمر نظیر کشمیری پر قاتلانہ حملہ ہوا اور ان کا ایک قریبی ساتھی بھی شہید ہوا۔ لیکن اس شدید ترین اشتعال انگیز صورتحال اور ذاتی صدمے کے باوجود وہ ماحول کو ٹھنڈا رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں اور اب بھی یہی چاہ رہے ہیں کہ یہ تمام معاملات پرامن مذاکرات کے ذریعے ہی حل ہوں۔تاریخ گواہ ہے کہ نہتے شہریوں پر گولیاں برسانے سے کبھی مسائل حل نہیں ہوتے بلکہ اس کا براہ راست فائدہ ہمارے ازلی دشمن بھارت کو ہو رہا ہے۔ وفاقی حکومت کے ذاتی مفادات اور غلط پالیسیوں کی وجہ سے پاکستان سے والہانہ محبت کرنے والے کشمیریوں اور ہمارے اداروں کے درمیان دوریاں بڑھ رہی ہیں۔ یہ تلخ حقیقت سوشل میڈیا پر واضح دیکھی جا سکتی ہے جہاں وہ لوگ بھی اب فورسز کے خلاف نعرے بازی پر مجبور ہو رہے ہیں جو کل تک پاکستان کے دفاع کی پہلی لائن تھے۔ دوسری طرف اصل حقائق اور کشمیریوں کے جائز مطالبات کو سمجھے بغیر پاکستان کے کچھ عام شہری بھی سوشل میڈیا پر کشمیریوں کے خلاف سخت تنقید کر رہے ہیں، جس سے یہ خلیج مزید گہری ہوتی جا رہی ہے۔اس نازک موڑ پر وفاقی وزراء کے پرانے معاہدوں کی پاسداری نہ ہونا کشمیریوں کا جائز گلہ ہے۔
لہذا آپ سے مخلصانہ اور براہ راست انوالومنٹ کی اپیل ہے کہ آپ خود اس معاملے میں مداخلت کریں اور وفاقی حکومت پر زور دیں کہ وہ طاقت کا راستہ چھوڑ کر سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اپنائے۔ جب پراپر طریقے سے ٹیبل پر بیٹھ کر مسائل حل کیے جائیں گے تو پاکستان اور کشمیر کے عوام میں غلط فہمیاں دور ہوں گی اور کسی بھی دشمن یا بھارت نواز عنصر کو پاکستان کے خلاف سازش کرنے کا موقع نہیں ملے گا بلکہ ان کے منہ پر طمانچہ لگے گا۔امید ہے کہ آپ اس دردمندانہ اپیل پر غور فرماتے ہوئے اس دیرینہ رشتے کو بچانے اور مسئلے کے پرامن حل کے لیے اپنا کلیدی کردار ادا کریں گے
شکریہ
سہیل الطاف خان
DG ISPR
Pakistan Army

11/06/2026

راولا کوٹ میں فائرنگ کے واقعات رپورٹ ہو رہے ہیں ۔اللہ پاک سب کو اپنے حفظ و امان میں رکھے۔آمین

08/06/2026

آزاد کشمیر کے حالیہ بحران اور 12 مہاجرین کی نشستوں کے معاملے پر وفاقی حکومت کی موجودہ حکمت عملی انتہائی مایوس کن ہے۔ یہ تاثر دن بہ دن پختہ ہو رہا ہے کہ پاکستان میں ن لیگ کی قیادت جموں کشمیر کی زمینی حقیقتوں کو سمجھنے کے بجائے محض وادی میں اپنی سیاسی برتری اور حکومت سازی کی خواہش کے تحت جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے ان جائز مطالبات کو پسِ پشت ڈال رہی ہے۔حقوق مانگنے والے معصوم کشمیریوں پر طاقت کا بے جا استعمال اور گولیوں کی بوچھاڑ کسی بھی طور پر قابل قبول نہیں۔ کشمیر کے غیور عوام ریاست کی اس جابرانہ پالیسی اور اپنے پیاروں کے بہنے والے خون کو کبھی فراموش نہیں کریں گے۔ اقتدار کی جنگ کے لیے وادی کے امن کو داؤ پر لگانے کا یہ رویہ بند ہونا چاہیے۔وفاقی حکومت کو اپنی ہٹ دھرمی چھوڑ کر عوامی ایکشن کمیٹی کے مطالبات پر سنجیدگی سے غور کرنا ہوگا کیونکہ کشمیر کا مسئلہ گولیوں سے نہیں بلکہ عوامی امنگوں کا احترام کرنے سے ہی حل ہوگا۔
سچ جان کر جیو

08/06/2026

گزشتہ رات جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی اور پولیس کے درمیان ہونے والی کشیدگی انتہائی افسوسناک ہے۔ اس تصادم کے نتیجے میں عوامی ایکشن کمیٹی کے 5 لوگ(ہسپتال انتظامیہ کے مطابق) اور پولیس کے ایک سب انسپکٹر سمیت 2 جوان شہید ہوئے۔ اس نازک صورتحال میں سوشل میڈیا پر سینکڑوں ہلاکتوں کی بے بنیاد اور جھوٹی خبریں پھیلا کر خوف و ہراس پیدا کیا گیا جو کہ انتہائی غیر ذمہ دارانہ عمل ہے۔ ہماری سب سے پہلی ذمہ داری یہ ہے کہ بغیر تصدیق کوئی بھی خبر شیئر نہ کریں۔جہاں تک جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے مطالبات بالخصوص مہاجرین کی 12 نشستوں کا تعلق ہے تو یہ ایک جائز عوامی مطالبہ ہے۔ ریاست کو ایسے معاملات میں طاقت کے استعمال سے سخت گریز کرنا چاہیے اور وفاقی حکومت کو اپنے فیصلوں پر نظرثانی کرنی چاہیے۔ کسی بھی مسئلے کا پائیدار حل تشدد میں نہیں بلکہ صرف اور صرف ٹیبل ٹاک (مذاکرات) اور افہام و تفہیم میں موجود ہے۔ امن کا راستہ ہی بہترین راستہ ہے۔
سچ جان کر جیو

کھائی گلہ شاہزیب حبیب کی شہادت  جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے مطالبات اور مقتدر اداروں سے اپیلتحریر:سہیل الطاف خان آزاد کش...
07/06/2026

کھائی گلہ شاہزیب حبیب کی شہادت جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے مطالبات اور مقتدر اداروں سے اپیل
تحریر:سہیل الطاف خان
آزاد کشمیر اس وقت ایک انتہائی نازک اور حساس موڑ سے گزر رہا ہے۔ وادی کی پرامن فضا جو ہمیشہ پاکستان سے محبت اور یکجہتی کا گہوارہ رہی ہے حالیہ دنوں میں سیاسی کھینچ تان اور ناقص پالیسیوں کی وجہ سے شدید اضطراب کا شکار ہے۔ گذشتہ روز کھائی گلہ راولاکوٹ کے علاقے میں ایک نوجوان کی شہادت نے اس سلگتی ہوئی آگ پر مزید تیل کا کام کیا ہے۔ یہ واقعہ صرف ایک جان کا زیاں نہیں بلکہ آزاد کشمیر کے عوامی شعور اور مقتدر حلقوں کے درمیان بڑھتی ہوئی خلیج کا ایک خطرناک اشاریہ ہے۔سب سے پہلے اس غلط فہمی کا ازالہ ہونا ضروری ہے جو بعض حلقوں کی جانب سے دانستہ یا غیر دانستہ طور پر پھیلائی جا رہی ہے کہ یہ تحریک کسی مخصوص نظریے یا نیشنلسٹ گروہوں کی جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی ہے۔ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ یہ تحریک کسی ایک طبقے لسانی گروہ یا مخصوص سیاسی جماعت کی نہیں بلکہ یہ آزاد کشمیر کے چپے چپے سے تعلق رکھنے والے عام شہریوں، تاجروں، اور تمام بڑی سیاسی جماعتوں سے وابستہ افراد کا ایک متحدہ پلیٹ فارم ہے۔ اس پلیٹ فارم کی قیادت اور اس میں شامل عوام نے بارہا اور واضح الفاظ میں یہ اعلان کیا ہے کہ ہم اس اسٹیج کو پاک فوج یا پاکستان کے ریاستی اداروں کے خلاف کسی صورت استعمال نہیں ہونے دیں گے۔ یہ حب الوطنی اور اداروں پر اعتماد کا وہ اعلی ترین معیار ہے جسے وفاق اور مقامی حکومت کو قدر کی نگاہ سے دیکھنا چاہیے تھا نہ کہ اس پر شکوک و شبہات کا اظہار کیا جاتا۔عوامی ایکشن کمیٹی کے مطالبات بنیادی طور پر گڈ گورننس اور عوامی ریلیف سے جڑے ہوئے ہیں جن میں سے بیشتر مطالبات کو حکومت نے پہلے تسلیم بھی کیا۔ لیکن بعد میں معاہدوں کی پاسداری نہ کرنا اور مذاکرات کے بجائے طاقت کے استعمال یا آپریشن کی سوچ اپنانا ایک سنگین انتظامی اور سیاسی غلطی ہے۔ ان مطالبات میں ایک سب سے اہم اور حساس ترین نکتہ مہاجرین کی 12 نشستوں کا ہے۔ آزاد کشمیر کے اکثریتی رائے عامہ کا یہ واضح اور متفقہ موقف بن چکا ہے کہ پاکستان بھر میں مقیم کشمیری مہاجرین کے لیے مخصوص ان 12 نشستوں کو یا تو مکمل طور پر ختم کیا جائے یا پھر ان کے سیاسی اختیارات کو محدود کر دیا جائے۔ عوامی حلقے اب یہ کھل کر کہہ رہے ہیں کہ وفاق میں برسراقتدار پاکستان مسلم لیگ ن آزاد کشمیر میں اپنی حکومت بنوانے کے لالچ میں ان 12 نشستوں کو ختم نہیں کرنا چاہتی۔ وفاق کی جانب سے ان نشستوں کو آزاد کشمیر کے مقامی مینڈیٹ کو تبدیل کرنے اور بیرونی کنٹرول قائم رکھنے کے لیے بطور آلہ استعمال کرنا کشمیر کے اپنے سیاسی نظام کو مفلوج کر رہا ہے۔ یہ جائز مطالبہ ہے کہ حکومت سازی کا فیصلہ صرف اور صرف آزاد کشمیر کی مقامی آبادی کے حقیقی منڈیٹ سے ہونا چاہیے۔تاریخ گواہ ہے کہ پونچھ اور پلندری کی اس دھرتی پر جب بھی زبردستی کی گئی یا طاقت کا استعمال کیا گیا تو یہاں کے غیرت مند لوگوں نے اسے کبھی تسلیم نہیں کیا۔ تاریخ کے جھروکوں میں جھانکیں تو 1951ء اور 1955ء کا وہ دور سامنے آتا ہے جب مقامی حکومت کی برطرفی اور پنجاب کانسٹیبلری PC کے ذریعے طاقت کے استعمال کی کوشش کی گئی تھی۔ اس وقت سدوزئی (سدھن) قبیلے اور پونچھ کے غیور عوام نے جنہوں نے کشمیر کی آزادی میں ہراول دستے کا کردار ادا کیا تھا ہتھیار ڈالنے کے بجائے باقاعدہ مزاحمت کی اور یہ ثابت کیا کہ یہ لوگ گولی اور دھمکی سے ڈرنے والے نہیں ہیں۔ پونچھ کی تاریخ بتاتی ہے کہ یہاں کے مسائل کا حل گولی نہیں بلکہ ہمیشہ ٹیبل ٹاک اور ڈائیلاگ رہا ہے۔ اگر آج بھی طاقت کی زبان استعمال کی گئی تو اس کا فائدہ وہ شرپسند اور بھارت نواز طبقہ اٹھائے گا جو ہمیشہ ایسے موقعوں کی تلاش میں رہتا ہے تاکہ پاکستان اور کشمیر کے درمیان خلیج پیدا کر سکے۔سب سے اہم نکتہ یہ ہے کہ ماضی قریب میں دہشت گردی کے خلاف جنگ اور مختلف بحرانوں میں بنیان مرصوص اور پاک فوج کی قربانیوں کے بعد عوام کے دلوں میں اداروں کے لیے جو بے پناہ محبت، احترام اور ساکھ ابھری تھی وہ گولی کی سیاست سے شدید متاثر ہو سکتی ہے۔ اگر پونچھ کی سرزمین پر دوبارہ گولی چلی یا کسی اور نوجوان کا جانی نقصان ہوا تو لوگوں کے دلوں میں شدید تشویش دوری اور بغض جنم لے گا جس سے اداروں کا وہ مثبت امیج اور بیانیہ متاثر ہوگا جو بڑی قربانیوں کے بعد قائم ہوا ہے۔اب وقت آ گیا ہے کہ پاکستان کے مقتدر ادارے عدلیہ اور وفاق اس معاملے کی سنگینی کو سمجھیں۔ریاستی اداروں کو چائیے کہ آزاد کشمیر کے عوام کے مطالبات کو نیشنلسٹ یا ریاست مخالف رنگ دینے کی ہر کوشش کو سختی سے مسترد کریں اور گولی کے بجائے ٹیبل ٹاک کے ذریعے مسائل حل کیے جائیں۔کھائی گلہ میں نوجوان کی شہادت کی فوری اور شفاف تحقیقات کرائی جائیں۔مہاجرین کی 12 نشستوں کے حوالے سے عوامی اکثریت کی رائے کا احترام کیا جائے اور ن لیگ و وفاق سیاسی مفادات سے بالاتر ہو کر یہاں آئینی اصلاحات لائیں۔عوام کی بھلائی کے لیے ایسی دوراندیش پالیسی بنائی جائے جو کشمیر کے پاکستان کے ساتھ غیر مشروط محبت کے رشتے کو مزید مضبوط کرے نہ کہ اسے کمزور کرے۔کشمیر کے عوام کا خون انتہائی محترم ہے۔ سیاسی مفادات کی خاطر اس پرامن خطے کو بے یقینی کی دلدل میں دھکیلنا کسی بھی طور ملک اور قوم کے مفاد میں نہیں ہے۔ اداروں کو چاہیے کہ وہ آگے بڑھیں عوام کے زخموں پر مرہم رکھیں اور ان کے جائز سیاسی و معاشی حقوق کو تسلیم کر کے اس بحران کا مستقل حل نکالیں۔

Address

G8/4 Islamabad
Islamabad

Telephone

03461885544

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Sohail Altaf journalist posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Sohail Altaf journalist:

Shortcuts

Share

Category