07/08/2026
پاکستان میں ملائیشیا کے سفیر داتو محمد اظہر مظلان نے سوات چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کا دورہ کیا، جہاں دونوں ممالک کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری، سیاحت، تعلیم اور صنعتی تعاون کے فروغ سے متعلق تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔سوات چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر نور محمد خان نے سفیر کو سوات میں سرمایہ کاری کے امکانات، ہینڈی کرافٹس، ماربل انڈسٹری، پھلوں اور سبزیوں کی پیداوار، معدنی وسائل اور سیاحت کے شعبوں سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی۔ انہوں نے کہا کہ سوات قدرتی وسائل، زرعی پیداوار اور سیاحتی مواقع سے مالا مال خطہ ہے، جہاں غیر ملکی سرمایہ کاری کے وسیع امکانات موجود ہیں۔اس موقع پر نائب صدرخالد خان، سیکرٹری جنرل نوید جاوید، سابق صدر راحت علی خان، یوسف علی خان، عدنان علی، سلمان، عمر علی باچا، فرہاد علی خان، حاجی بخت کرم، امجد علی خان، خورشید انور، عبید اللہ عابد، ہارون رشید، محبوب ہارون، علی محمد خان، رحیم زادہ اور دیگر ممبران بھی موجود تھیں۔ملائیشین سفیر کے ہمراہ مسز وان زیٹی رافینہ، مسز شاہدہ، عرفان خان اورشفیع اللہ قریشی بھی وفد میں شامل تھے۔اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے داتو محمد اظہر مظلان نے کہا کہ پاکستان اور ملائیشیا کے درمیان برادرانہ تعلقات دہائیوں پر محیط ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعاون کو مزید وسعت دینے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ سوات ایک خوبصورت اور پُرامن سیاحتی خطہ ہے، جہاں کے لوگ انتہائی مہمان نواز ہیں، اسی وجہ سے ہر سال بڑی تعداد میں ملائیشین سیاح وادیئ سوات کا رخ کرتے ہیں۔سفیر نے بتایا کہ ملائیشیا میں ضلع بونیر سے تعلق رکھنے والے ایک لاکھ سے زائد پختون آباد ہیں، جو تجارت اور کاروبار کے مختلف شعبوں میں نمایاں کردار ادا کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہہماری کوشش ہے کہ ملائیشین چیمبر آف کامرس کا ایک تجارتی وفد جلد سوات کا دورہ کرے، جبکہ سوات چیمبر آف کامرس کے وفد کو بھی ملائیشیا کے مطالعاتی اور تجارتی دورے کی دعوت دی جائے تاکہ دونوں ممالک کے کاروباری حلقوں کے درمیان براہِ راست روابط مضبوط ہوں۔ملائیشین سفیر نے کہا کہ پاکستان، بالخصوص خیبرپختونخوا کے لوگ انتہائی محنتی، باصلاحیت اور دیانت دار ہیں۔ انہوں نے یاد دلایا کہ دو سال قبل ملائیشیا کے وزیراعظم داتو سری انور ابراہیم کے دورہئ پاکستان کے دوران متعدد اقتصادی معاہدے طے پائے تھے، جن پر عمل درآمد کے لیے پیش رفت جاری ہے۔تعلیم کے شعبے پر گفتگو کرتے ہوئے سفیر نے بتایا کہ اس وقت پانچ ہزار سے زائد پاکستانی طلبہ ملائیشیا کی مختلف جامعات میں زیرِ تعلیم ہیں، جن میں بڑی تعداد اسکالرشپ پر تعلیم حاصل کر رہی ہے۔ انہوں نے اس خواہش کا اظہار کیا کہ مستقبل میں خیبرپختونخوا اور بالخصوص سوات کے طلبہ کے لیے بھی مزید تعلیمی مواقع فراہم کیے جائیں گے۔علاقائی صورتحال پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ میں حالیہ کشیدگی اور ایران و اسرائیل تنازع کے باعث عالمی تجارت اور سپلائی چین متاثر ہوئی ہے، جس کے اثرات ملائیشیا کی برآمدات، خصوصاً پٹرولیم مصنوعات کی تجارت پر بھی مرتب ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملائیشیا دیگر مسلم ممالک کی طرح خطے میں امن اور کشیدگی کے خاتمے کا خواہاں ہے اور اس سلسلے میں اپنی سفارتی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔