30/12/2025
پاکستان کی سفارتی پالیسی ایک ایسے موڑ پر کھڑی دکھائی دیتی ہے جو بیک وقت حیران کن بھی ہے اور تشویشناک بھی۔ یمن کے گرد منڈلاتے جنگی خطرات کے تناظر میں یہ سوال اب شدت اختیار کر گیا ہے کہ اگر خطہ ایک نئی کشیدگی کی لپیٹ میں آتا ہے تو پاکستان کہاں کھڑا ہوگا۔
گزشتہ ہفتے کی ہفتہ وار پریس بریفنگ میں پاکستان کے دفترِ خارجہ کے ترجمان نے یمن کے معاملے میں متحدہ عرب امارات کے اقدامات کی حمایت کی۔ اس بیان کے فوراً بعد شمالی یمن میں قائم خودمختار سپریم کونسل کی حکومت نے ان ہی اماراتی اقدامات کو کھلی جنگ کی دعوت قرار دے دیا۔ اسی دوران متحدہ عرب امارات کے صدر پاکستان کے مختصر مگر معنی خیز دورے پر بھی آئے، جس نے اس سفارتی موو کو مزید سوالیہ بنا دیا۔
صورتحال اس وقت اور پیچیدہ ہو گئی جب گزشتہ روز سعودی عرب نے متحدہ عرب امارات کی یمن پالیسیوں پر شدید تنقید کی۔ اس تنقید کو شمالی یمن کی جانب سے لگائے گئے الزامات کی بالواسطہ توثیق کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ آج متحدہ عرب امارات نے سعودی عرب کے الزامات کو افسوس ناک قرار دیتے ہوئے ان پر سخت ردعمل دیا، جس سے دونوں قریبی اتحادی ممالک کے درمیان کھچاؤ واضح ہو کر سامنے آ گیا ہے۔
اس پس منظر میں پاکستان کی پوزیشن نہایت حساس ہو چکی ہے۔ ایک طرف پاکستان سعودی عرب کے ساتھ ایک باقاعدہ دفاعی معاہدہ رکھتا ہے، جس کے تحت ایک ملک پر حملے کو دوسرے پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ دوسری طرف یمن کے معاملے میں متحدہ عرب امارات کی حمایت نے پاکستان کو ایسی سفارتی دلدل میں دھکیل دیا ہے جہاں وہ نہ مکمل طور پر کسی ایک بلاک میں کھڑا نظر آتا ہے اور نہ ہی خود کو غیر جانبدار ثابت کر پا رہا ہے۔ یوں “نہ تین میں نہ تیرہ” کی کیفیت کے باوجود پاکستان رفتہ رفتہ ایک ممکنہ علاقائی تنازع میں پھنستا دکھائی دے رہا ہے۔
یہاں سابق وزیر اعظم عمران خان کے اس سفارتی رویے کا حوالہ دینا ناگزیر ہے جو یمن پر سعودی عرب کے حملے کے وقت اپنایا گیا تھا۔ شدید بین الاقوامی دباؤ کے باوجود پاکستان کو براہ راست جنگ میں جھونکنے کے بجائے ثالثی کی پیشکش کی گئی اور واضح طور پر غیر جانبداری کا اعلان کیا گیا۔ اس پالیسی نے نہ صرف پاکستان کو ایک تباہ کن جنگ سے دور رکھا بلکہ اسے ایک ذمہ دار اور متوازن ریاست کے طور پر بھی پیش کیا۔
آج سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان اسی متوازن اور محتاط سفارت کاری کی طرف واپس لوٹے گا یا پھر خلیجی طاقتوں کی باہمی کشمکش میں ایک بار پھر اپنے لیے نئے اور خطرناک محاذ کھول لے گا۔ یہ فیصلہ آنے والے دنوں میں پاکستان کے علاقائی کردار اور خارجہ پالیسی کی سمت کا تعین کرے گا۔
(تیسرا رخ، رضی طاہر)