Razi Tahir

Razi Tahir Investigative Journalist, Social Media Influencer & Vlogger

محمد رضی الرحمن، قلمی نام رضی طاہر تحقیقاتی صحافی ہونے کے ساتھ ساتھ تحریر و تقریر کا فن جانتے ہیں اور گزشتہ 10 سالوں سے سماجی میدان میں اپنے حصے کے دیپ جلارہے ہیں

02/01/2026

ایران ہم پر حملہ نہ کرے نیتن یاہو کے ترلے منتیں!

01/01/2026

بچوں کی ٹافی میں آئس ہونے کا انکشاف

01/01/2026

ایران خوفناک جنگ کیلئے تیار کیا اسرائیل غلطی کرے گا؟ سعودی عرب UAE میں دراڑ یمن میں مفاداتی جنگ!

31/12/2025

سینیٹرراجا ناصر عباس کو سبق سکھانے کی دھمکی!!
سوشل میڈیا پر وائرل پوسٹ کے پیچھے کون؟

31/12/2025

پنجاب پولیس کے افسران کے ویزوں کا معاملہ!
سینیئر صحافی حامد میر نے خبر کی توثیق کردی

30/12/2025

پاکستان کی سفارتی پالیسی ایک ایسے موڑ پر کھڑی دکھائی دیتی ہے جو بیک وقت حیران کن بھی ہے اور تشویشناک بھی۔ یمن کے گرد منڈلاتے جنگی خطرات کے تناظر میں یہ سوال اب شدت اختیار کر گیا ہے کہ اگر خطہ ایک نئی کشیدگی کی لپیٹ میں آتا ہے تو پاکستان کہاں کھڑا ہوگا۔

گزشتہ ہفتے کی ہفتہ وار پریس بریفنگ میں پاکستان کے دفترِ خارجہ کے ترجمان نے یمن کے معاملے میں متحدہ عرب امارات کے اقدامات کی حمایت کی۔ اس بیان کے فوراً بعد شمالی یمن میں قائم خودمختار سپریم کونسل کی حکومت نے ان ہی اماراتی اقدامات کو کھلی جنگ کی دعوت قرار دے دیا۔ اسی دوران متحدہ عرب امارات کے صدر پاکستان کے مختصر مگر معنی خیز دورے پر بھی آئے، جس نے اس سفارتی موو کو مزید سوالیہ بنا دیا۔

صورتحال اس وقت اور پیچیدہ ہو گئی جب گزشتہ روز سعودی عرب نے متحدہ عرب امارات کی یمن پالیسیوں پر شدید تنقید کی۔ اس تنقید کو شمالی یمن کی جانب سے لگائے گئے الزامات کی بالواسطہ توثیق کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ آج متحدہ عرب امارات نے سعودی عرب کے الزامات کو افسوس ناک قرار دیتے ہوئے ان پر سخت ردعمل دیا، جس سے دونوں قریبی اتحادی ممالک کے درمیان کھچاؤ واضح ہو کر سامنے آ گیا ہے۔

اس پس منظر میں پاکستان کی پوزیشن نہایت حساس ہو چکی ہے۔ ایک طرف پاکستان سعودی عرب کے ساتھ ایک باقاعدہ دفاعی معاہدہ رکھتا ہے، جس کے تحت ایک ملک پر حملے کو دوسرے پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ دوسری طرف یمن کے معاملے میں متحدہ عرب امارات کی حمایت نے پاکستان کو ایسی سفارتی دلدل میں دھکیل دیا ہے جہاں وہ نہ مکمل طور پر کسی ایک بلاک میں کھڑا نظر آتا ہے اور نہ ہی خود کو غیر جانبدار ثابت کر پا رہا ہے۔ یوں “نہ تین میں نہ تیرہ” کی کیفیت کے باوجود پاکستان رفتہ رفتہ ایک ممکنہ علاقائی تنازع میں پھنستا دکھائی دے رہا ہے۔

یہاں سابق وزیر اعظم عمران خان کے اس سفارتی رویے کا حوالہ دینا ناگزیر ہے جو یمن پر سعودی عرب کے حملے کے وقت اپنایا گیا تھا۔ شدید بین الاقوامی دباؤ کے باوجود پاکستان کو براہ راست جنگ میں جھونکنے کے بجائے ثالثی کی پیشکش کی گئی اور واضح طور پر غیر جانبداری کا اعلان کیا گیا۔ اس پالیسی نے نہ صرف پاکستان کو ایک تباہ کن جنگ سے دور رکھا بلکہ اسے ایک ذمہ دار اور متوازن ریاست کے طور پر بھی پیش کیا۔

آج سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان اسی متوازن اور محتاط سفارت کاری کی طرف واپس لوٹے گا یا پھر خلیجی طاقتوں کی باہمی کشمکش میں ایک بار پھر اپنے لیے نئے اور خطرناک محاذ کھول لے گا۔ یہ فیصلہ آنے والے دنوں میں پاکستان کے علاقائی کردار اور خارجہ پالیسی کی سمت کا تعین کرے گا۔

(تیسرا رخ، رضی طاہر)

30/12/2025

امریکہ کو چیلنج کرنے والا دنیا کا کم عمر ترین | برکینا فاسو کا صدر ابراہیم تراوڑے کون؟

30/12/2025

سوشل ایکٹیوسٹ کےسنگین سوالات | آرمی چیف فارغ؟

30/12/2025

Like and Share

‏سینیٹر علامہ راجا ناصر عباس جعفری کی زیر تعمیر یونیورسٹی کو نشانہ بنانے کی آن لائن دھمکیٹی ٹی پی کے ضلع کرم میں سرگرم د...
30/12/2025

‏سینیٹر علامہ راجا ناصر عباس جعفری کی زیر تعمیر یونیورسٹی کو نشانہ بنانے کی آن لائن دھمکی

ٹی ٹی پی کے ضلع کرم میں سرگرم دہشتگرد کاظم کے گروپ سے تعلق رکھنے والا افغانی شخص جو عرف عام میں "پڑوچکی" کے نام سے جانا جاتا ہے، کی سینیٹر علامہ راجا ناصر عباس کی زیر تعمیر یونیورسٹی کو نشانہ بنانے کی آن لائن دھمکی سامنے آئی ہے۔

پڑوچکی نے سترہ میل اسلام آباد کے مقام سے ایک تصویر اپنے سوشل میڈیا پر نشر کی جس پر سینیٹر علامہ راجا ناصر عباس کی یونیورسٹی پر ٹارگٹ کا نشان لگا دیکھا جاسکتا ہے۔

پڑوچکی اس سے قبل بھی کئی ایسی دھمکیاں دے چکا ہے جس کے بعد ٹی ٹی پی کاظم گروپ عملی طور پر ان دھمکیوں کر سر انجام کرتا دکھائی دیا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ مبینہ طور پر کرم میں سر کاٹ کر ویڈیو پوسٹ کرنے والے افراد میں بھی پڑوچکی شامل رہا۔

30/12/2025

2025 میں ڈونلڈ ٹرمپ کے 25 جھوٹ!! | امریکی صدر کو عالمی سطح پر شرمندگی کا سامنا

صحافی رضی طاہر کی خبر کے مطابق، پنجاب پولیس کے دو اعلیٰ افسران، جن میں ایک ڈی آئی جی اور ایک ایس ایس پی شامل ہیں، کو فرا...
29/12/2025

صحافی رضی طاہر کی خبر کے مطابق، پنجاب پولیس کے دو اعلیٰ افسران، جن میں ایک ڈی آئی جی اور ایک ایس ایس پی شامل ہیں، کو فرانس کا وزٹ ویزا دینے سے انکار کر دیا گیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ دونوں افسران نے نجی دورے کی غرض سے فرانس جانے کیلئے ویزا درخواست جمع کرائی تھی، جس کے ساتھ آئی جی پنجاب کی جانب سے جاری کردہ سپورٹنگ لیٹر بھی نتھی تھا تاکہ سفارتی سطح پر درخواست کو تقویت دی جا سکے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ فرانس کے سفارت خانے نے ویزا درخواستوں پر غور کے بعد انہیں مسترد کر دیا اور تحریری طور پر واضح کیا کہ ویزا مسترد ہونے کی بنیادی وجہ پاکستان میں انسانی حقوق کی مبینہ خلاف ورزیوں میں پنجاب پولیس کا ملوث ہونا ہے۔

سفارتی جواب میں یہ بھی اشارہ دیا گیا کہ یورپی یونین اور فرانس کی پالیسی کے تحت انہیں ویزا نہیں دیا جا سکتا جن کا تعلق ایسے ادارے سے ہو جس پر انسانی حقوق کی پامالیوں کے سنگین الزامات ہوں یا جن کے خلاف قابلِ اعتماد رپورٹس موجود ہوں۔

Address

Islamabad

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Razi Tahir posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Razi Tahir:

Share

Category