Islamic Post

Islamic Post Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Islamic Post, Kohat.

زندگی میں، کچھ لوگ ہمیں تکلیف پہنچاتے ہیں، دھوکہ دیتے ہیں، یا ہماری زندگی میں منفی اثرات لاتے ہیں۔ بہت سے لوگ سمجھتے ہیں...
19/03/2026

زندگی میں، کچھ لوگ ہمیں تکلیف پہنچاتے ہیں، دھوکہ دیتے ہیں، یا ہماری زندگی میں منفی اثرات لاتے ہیں۔ بہت سے لوگ سمجھتے ہیں کہ بدلہ لینا ہی اس کا واحد جواب ہے، لیکن بدلہ صرف مزید غصے اور دکھ کو جنم دیتا ہے۔ ایک دانشمندانہ فیصلہ یہ ہے کہ آپ منفی سوچ اور رویوں کو نظر انداز کریں اور اپنے ذہنی سکون کی حفاظت کریں۔
کسی کو نظر انداز کرنے کا مطلب یہ نہیں کہ آپ کمزور ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ آپ غیر ضروری جھگڑوں سے زیادہ اپنی ذہنی صحت کو اہمیت دیتے ہیں۔ کبھی کبھی، سب سے بہترین جواب خاموشی اور دوری اختیار کرنا ہوتا ہے۔ جب کوئی بار بار آپ کی بے عزتی کرے یا آپ کے سکون کو برباد کرے، تو انہیں اپنی زندگی سے نکال دینا بالکل درست ہے۔
منفی لوگوں کو اپنی زندگی سے نکالنا ظلم نہیں، بلکہ خودداری ہے۔ آپ اپنے رشد اور خوشی کے لیے ایک بہتر ماحول کا انتخاب کر رہے ہیں۔
یاد رکھیں، سکون بدلے سے زیادہ طاقتور ہے۔ اپنی زندگی، اپنے اہداف، اور ان لوگوں پر توجہ دیں جو واقعی آپ کی پرواہ کرتے ہیں۔

جب آپ کے والدین امیر نہ ہوں، لیکن پھر بھی وہ آپ کو ایک خوبصورت زندگی دینے میں کامیاب ہو جائیں، تو ان کی قربانیوں کی قدر ...
19/03/2026

جب آپ کے والدین امیر نہ ہوں، لیکن پھر بھی وہ آپ کو ایک خوبصورت زندگی دینے میں کامیاب ہو جائیں، تو ان کی قربانیوں کی قدر کریں۔
​وضاحت
​اس قول کا مقصد والدین کی ان خاموش کوششوں کو اجاگر کرنا ہے جو وہ اپنے بچوں کی خوشی کے لیے کرتے ہیں۔ اس کی گہرائی کو ہم تین نکات میں سمجھ سکتے ہیں:
​وسائل کی کمی کے باوجود بہترین پرورش: بہت سے والدین مالی طور پر مستحکم نہیں ہوتے، لیکن وہ اپنی خواہشات کا گلا گھونٹ کر بچوں کی تعلیم، خوراک اور آرام کا خیال رکھتے ہیں۔ ان کی دی ہوئی "خوبصورت زندگی" کا مطلب صرف مہنگی اشیاء نہیں بلکہ وہ پیار اور تحفظ ہے جو وہ فراہم کرتے ہیں۔
​قربانی کا احساس: والدین اکثر اپنی ضرورتیں (جیسے نئے کپڑے یا آرام) قربان کر دیتے ہیں تاکہ بچوں کی ضروریات پوری ہو سکیں۔ یہ قربانیاں اکثر بچوں کی نظروں سے اوجھل رہتی ہیں۔
​شکر گزاری کی اہمیت: جب ہم اپنی زندگی کا موازنہ دوسروں سے کرتے ہیں، تو ہم اکثر وہ دیکھنا بھول جاتے ہیں جو ہمارے پاس ہے۔ یہ اقتباس یاد دلاتا ہے کہ اگر آپ کو ایک باعزت اور اچھی زندگی ملی ہے، تو اس کے پیچھے آپ کے والدین کا خون
پسینہ شامل ہے، جس پر وہ شکریہ اور عزت کے مستحق ہیں۔

کتاب کو ہمارے اندر کے منجمد سمندر کے لیے کلہاڑی ہونا چاہیے۔​توضیح و مفہوم​کافکا کا مطلب یہ ہے کہ ایک اچھی کتاب وہ ہے جو ...
19/03/2026

کتاب کو ہمارے اندر کے منجمد سمندر کے لیے کلہاڑی ہونا چاہیے۔
​توضیح و مفہوم
​کافکا کا مطلب یہ ہے کہ ایک اچھی کتاب وہ ہے جو انسان کے جمود کو توڑ دے، اسے گہری سوچ میں مبتلا کرے اور اس کے سوئے ہوئے احساسات کو جگا دے۔ جس طرح کلہاڑی جمی ہوئی برف کو توڑتی ہے، اسی طرح کتاب کو انسان کے اندر کی بے حسی یا فکری جمود کو ختم کرنا چاہیے۔
"یہ قول دل کو اس لیے لگتا ہے کیونکہ کافکا یہاں ذہنی سکون کی بات نہیں کر رہا۔ وہ ایسی کتاب کی بات کر رہا ہے جو ہماری بے حسی کو ختم کر دے، ہمارے انکار کے پردوں کو چاک کر دے، اور ہمیں وہ سب محسوس کرنے پر مجبور کر دے جسے ہم نے اپنے اندر دفن کر رکھا ہے

اگر تم دوسروں کے ہاتھوں استعمال نہیں ہو گے (یعنی ان کے اشاروں پر نہیں چلو گے)، تو تم سے نفرت کی جائے گی۔​تفصیلی وضاحت​یہ...
18/03/2026

اگر تم دوسروں کے ہاتھوں استعمال نہیں ہو گے (یعنی ان کے اشاروں پر نہیں چلو گے)، تو تم سے نفرت کی جائے گی۔
​تفصیلی وضاحت
​یہ جملہ انسانی رویوں کی ایک تلخ حقیقت کو بیان کرتا ہے۔ اس کا مقصد ہمیں ان چند پہلوؤں سے آگاہ کرنا ہے:
​ذاتی مفاد کی سیاست: بہت سے لوگ آپ سے صرف اس وقت تک خوش رہتے ہیں جب تک آپ ان کی مرضی کے مطابق کام کرتے ہیں یا ان کے مفادات کو پورا کرتے ہیں۔ جیسے ہی آپ اپنی مرضی کرنا شروع کرتے ہیں یا ان کی غلط بات ماننے سے انکار کرتے ہیں، ان کا رویہ بدل جاتا ہے۔
​حدود کا تعین (Setting Boundaries): جب آپ اپنی زندگی میں اصول وضع کرتے ہیں اور دوسروں کو اپنی زندگی "کنٹرول" کرنے سے روک دیتے ہیں، تو وہ لوگ جو آپ کو اپنے فائدے کے لیے استعمال کرنا چاہتے تھے، وہ آپ کو "برا" یا "ضدی" سمجھنے لگتے ہیں۔
​نفرت بطور ردِ عمل: اس جملے کا مطلب یہ ہے کہ اگر لوگ آپ سے نفرت کر رہے ہیں کیونکہ آپ ان کی غلط باتوں میں نہیں آ رہے، تو یہ آپ کی کامیابی ہے، کمزوری نہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ آپ ایک مضبوط شخصیت کے مالک ہیں جسے کوئی موم بتی کی طرح اپنی مرضی سے پگھلا نہیں سکتا۔
​خلاصہ: یہ اقتباس ہمیں سکھاتا ہے کہ ہر ایک کو خوش کرنا ناممکن ہے، خاص طور پر ان لوگوں کو جو آپ کو صرف اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرنا چاہتے ہیں۔ اپنی خودداری (Self-respect) پر سمجھوتہ کرنے سے بہتر ہے کہ آپ دوسروں کی ناپسندیدگی برداشت کر لیں۔

🌟 کسی ایسے سانچے میں ڈھلنے کی کوشش چھوڑ دیں جو آپ کے لیے بنا ہی نہیں!ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک کوا مور کے چمکدار رنگوں س...
18/03/2026

🌟 کسی ایسے سانچے میں ڈھلنے کی کوشش چھوڑ دیں جو آپ کے لیے بنا ہی نہیں!
ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک کوا مور کے چمکدار رنگوں سے بہت حسد کرتا تھا۔ اپنی کالی رنگت سے بیزار ہو کر، اس نے مور کو منا لیا کہ وہ اسے اپنے وہ بھاری اور چمکدار پر "پہننے" دے تاکہ وہ بھی اعلیٰ نسل کا نظر آ سکے۔
تبدیلی فوری تھی۔ کوا پورے صحن میں اکڑ کر چلنے لگا اور دوسرے جانوروں کی حیران کن نظروں کا لطف اٹھانے لگا۔ اسے شہزادوں جیسا محسوس ہو رہا تھا، جیسے آخر کار اسے اپنی "عام سی" زندگی سے چھٹکارا مل گیا ہو۔ 📍
لیکن اس "چمک دمک" کی ایک چھپی ہوئی قیمت تھی۔
اچانک، اندھیرے سے ایک تیز نظر رکھنے والی بلی نے حملہ کر دیا۔ دوسرے کوے فطری طور پر اپنے پر پھڑپھڑاتے ہوئے پلک جھپکتے ہی آسمان میں غائب ہو گئے۔ "مور نما کوے" نے بھی ایسا ہی کرنے کی کوشش کی، لیکن اس کے نئے پر بہت بڑے اور دم گھٹانے کی حد تک بھاری تھے۔ ✨
اس نے پوری طاقت سے پر مارے، لیکن وہ اڑنے کے لیے ضروری قوت پیدا نہ کر سکا۔ اس کی اصل طاقت—یعنی تیزی اور اونچائی سے اڑنے کی صلاحیت—ایک بھاری لباس کے بدلے فروخت ہو چکی تھی۔ جب وہ ان خوبصورت پروں کو مٹی میں گھسیٹنے کی کوشش کر رہا تھا، بلی نے اسے آسانی سے پکڑ لیا۔ 💎
💡 سبق (The Takeaway):
ایسی چمکدار قدروں کے پیچھے بھاگنا جو آپ کی اصل فطرت کے خلاف ہوں، آخر کار آپ کی زندگی بچانے والی بنیادی مہارتیں چھین لیتی ہیں۔
اعلیٰ معیار کے "پر" بیکار ہیں، اگر وہ آپ کو زمین پر گرا دیں جبکہ آپ اڑنے کے لیے پیدا ہوئے تھے۔
آپ کی "سادہ" خصوصیات ہی اکثر آپ کی بقا کا سب سے بڑا ذریعہ ہوتی ہیں۔
اصلیت (Authenticity) صرف ایک احساس نہیں بلکہ آپ کی حفاظت کی ڈھال ہے۔
تالیاں پانے کی خواہش میں یہ مت بھولیں کہ اڑنا کیسے ہے۔

اکثر لوگ اس لیے تھکاوٹ کا شکار نہیں ہوتے کہ وہ بہت کم جانتے ہیں، بلکہ وہ اس لیے تھکے ہوئے ہیں کیونکہ وہ بوجھ بہت زیادہ ا...
18/03/2026

اکثر لوگ اس لیے تھکاوٹ کا شکار نہیں ہوتے کہ وہ بہت کم جانتے ہیں، بلکہ وہ اس لیے تھکے ہوئے ہیں کیونکہ وہ بوجھ بہت زیادہ اٹھاتے ہیں اور اس پر عمل بہت کم کرتے ہیں۔ 📚
کتابیں لادنے والے گدھے کی کہانی
ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک عالم نے اپنے گدھے کو ایک اہم کام سونپا: اسے اپنی پوری قیمتی لائبریری صحرا کے پار ایک نئے شہر منتقل کرنی تھی۔
گدھے کی پیٹھ پر بکرے کی کھال سے بنے قدیم نسخے، سونے کے حاشیوں والی نایاب کتابیں اور کائنات کے رازوں سے بھرے ہوئے طومار (Scrolls) لادے گئے تھے۔ ✨
گدھے کو اپنے آپ پر بڑا فخر محسوس ہوا۔ وہ بڑے غرور سے کان کھڑے کیے چلنے لگا اور سوچنے لگا:
"میں یقیناً دنیا کی سب سے معزز مخلوق ہوں۔ دیکھو تو، انسانی علم کا پورا خزانہ میری پیٹھ پر دھرا ہے۔"
دوپہر تک سورج آگ برسانے لگا۔ ہوا گرد و غبار سے بھر گئی۔ اب کتابوں نے اپنا اصل وزن دکھانا شروع کیا۔
گدھے کے کندھے جلنے لگے۔ اس کی ٹانگیں کانپنے لگیں۔ جب وہ ایک ندی کے پاس سے گزرا تو اس کی ملاقات ایک دوسرے گدھے سے ہوئی جس نے نمک کی دو بوریاں اٹھا رکھی تھیں۔
اس گدھے نے پوچھا: "دوست، تم نے ایسا کیا اٹھا رکھا ہے جو اتنا اہم معلوم ہوتا ہے؟"
پہلے گدھے نے ناک چڑھائی اور کہا: "میں علم لے کر جا رہا ہوں۔ جو کچھ میری پیٹھ پر ہے، وہ دنیا بدل سکتا ہے اور پوری انسانیت کی مدد کر سکتا ہے۔"
نمک والے گدھے نے سر ہلایا اور جواب دیا: "سننے میں تو یہ بہت متاثر کن لگتا ہے۔ لیکن کیا تم نے اس تمام علم سے یہ سیکھا کہ ٹانگیں تھکائے بغیر کیسے چلا جائے... یا یہ کہ قریب ہی تازہ پانی کہاں ملے گا؟" 💧
یہ سن کر پہلا گدھا ساکت رہ گیا۔
وہ بیماریوں کے علاج کے فارمولے تو اٹھائے ہوئے تھا، مگر اس کا اپنا جسم درد سے چور تھا۔ اس کے پاس نخلستانوں (Oases) تک پہنچنے والے نقشے تو موجود تھے، مگر اس کا اپنا گلا پیاس سے خشک تھا۔
سفر کے اختتام پر جب مالک نے کتابیں اتاریں، تو گدھا تھکاوٹ سے نڈھال ہو کر گر پڑا۔ وہ اب بھی صرف ایک تھکا ہوا گدھا ہی تھا، پہلے سے ذرا بھی زیادہ عقلمند نہیں ہوا تھا۔
دوسری طرف، اس کے مالک کو اس کا درد کم کرنے کا طریقہ ڈھونڈنے کے لیے ان کتابوں کا صرف ایک صفحہ پڑھنے کی ضرورت پڑی۔
سبق: معلومات کے تین جال
یہ کہانی ہمیں معلومات (Information) کے تین جالوں کی یاد دلاتی ہے:
قبضے کا وہم:
کورسز محفوظ کر لینا، کتابوں کے ڈھیر خرید لینا یا سینکڑوں مفید ویڈیوز کو بک مارک کر لینا ہمیں یہ احساس دلاتا ہے کہ ہم میں بہتری آ رہی ہے... حالانکہ ہماری زندگی میں کچھ بھی نہیں بدلا ہوتا۔
معلومات ساکن ہے، عمل زندہ ہے:
ذخیرہ شدہ علم میں کوئی طاقت نہیں ہوتی۔ طاقت تب پیدا ہوتی ہے جب ذہن اسے ہضم کرے اور ہاتھ اسے استعمال میں لائیں۔
تاخیر کا بوجھ:
ہم عمل کیے بغیر جتنا زیادہ جانتے جاتے ہیں، ذہن اتنا ہی بوجھل ہوتا جاتا ہے۔ جو ہم جانتے ہیں اور جس طرح ہم جیتے ہیں، ان کے درمیان کا یہ فاصلہ ایک خاموش دباؤ پیدا کرتا ہے۔
نتیجہ:
کتابیں لادنے والا گدھا نہ بنیں۔ وہ انسان بنیں جو ایک ہی صفحے کو اتنی اچھی طرح استعمال کرے کہ اس سے زندگی بدل جائے۔

اگر دنیا میں واقعی اسلام کے انصاف، دیانت اور اخلاق پر مبنی اصول پوری طرح نافذ ہو جائیں تو بہت سی وہ چیزیں ختم ہو جائیں گ...
18/03/2026

اگر دنیا میں واقعی اسلام کے انصاف، دیانت اور اخلاق پر مبنی اصول پوری طرح نافذ ہو جائیں تو بہت سی وہ چیزیں ختم ہو جائیں گی جن پر آج بڑی بڑی معیشتیں کھڑی ہیں۔

سب سے پہلے سود کا نظام ختم ہو جائے گا۔
کیونکہ اسلام میں سود کو ظلم کہا گیا ہے۔
جب سود ختم ہوگا تو وہ بینکاری نظام جو کمزور کو مزید کمزور اور طاقتور کو مزید طاقتور بناتا ہے، اپنی موجودہ شکل میں باقی نہیں رہ سکے گا۔

پھر جنگوں سے منافع کمانے والی صنعتیں متاثر ہوں گی۔
اسلام انصاف اور امن کا درس دیتا ہے، اس لیے وہ کاروبار جو خوف، ہتھیاروں اور جنگ کے سائے میں چلتے ہیں، ان کا فائدہ کم ہو جائے گا۔

اسی طرح کاسمیٹک اور مصنوعی خوبصورتی کی بڑی صنعتیں بھی کمزور پڑ جائیں گی۔
کیونکہ اسلام انسان کو یہ سکھاتا ہے کہ اصل خوبصورتی کردار، حیا اور وقار میں ہوتی ہے—نہ کہ مصنوعی نمائش میں۔

جب معاشرہ سادگی، حیا اور فطری حسن کو اہمیت دینے لگے گا تو وہ دوڑ ختم ہونے لگے گی جس میں انسان کو یہ باور کرایا جاتا ہے کہ وہ تب تک خوبصورت نہیں جب تک وہ درجنوں مصنوعات استعمال نہ کرے۔

آج اربوں ڈالر کی بیوٹی اور کاسمیٹک انڈسٹری انسان کے عدمِ اعتماد پر کھڑی ہے۔
لوگوں کو مسلسل یہ احساس دلایا جاتا ہے کہ وہ کافی خوبصورت نہیں—تاکہ وہ مزید خریدتے رہیں۔

لیکن جب انسان کو اپنی اصل قدر اور وقار کا شعور مل جائے گا تو وہ اس مصنوعی دوڑ کا حصہ بننے سے خود ہی رک جائے گا۔

اور جب ایسا ہوگا تو وہ صنعتیں جو انسان کے احساسِ کمتری کو بیچ کر کماتی ہیں آہستہ آہستہ اپنی طاقت کھونے لگیں گی

اگر سچائی غالب ہو جائے تو
جھوٹ پر کھڑی سیاست کمزور پڑ جائے گی۔
اگر انصاف عام ہو جائے تو
کمزور کا استحصال کم ہو جائے گا۔
اگر ذمہ داری کا احساس بڑھ جائے تو
لالچ کی بنیاد پر بنے بہت سے نظام بدلنے پڑیں گے۔

اصل حقیقت یہ ہے کہ اسلام صرف عبادات کا نام نہیں…
یہ ایک ایسا نظام ہے جو انسان کو انسان کے ساتھ انصاف، احترام اور ذمہ داری کا درس دیتا ہے۔

اور جب کسی معاشرے میں
• سود کی جگہ انصاف
• دھوکے کی جگہ امانت
• لالچ کی جگہ ذمہ داری
• اور نفرت کی جگہ انسانیت آ جائے

تو پھر دنیا کا نقشہ خود ہی بدلنے لگتا ہے۔

یہ تحریر کسی پر الزام لگانے کے لیے نہیں،
بلکہ ہمیں یہ یاد دلانے کے لیے ہے کہ اخلاق اور انصاف کے بغیر کوئی معاشرہ مضبوط نہیں رہ سکتا۔

اے اللہ!
ہمیں سچ کو سمجھنے کی عقل دے،
عدل اور دیانت کے ساتھ جینے کی توفیق دے،
اور ہمارے دلوں میں انسانیت، رحم اور انصاف کو زندہ فرما۔
آمین

18/03/2026

انسان کے اندر دو جہان آباد ہیں… ایک روح، ایک نفس۔

روح وہ لطیف چراغ ہے جو اپنے رب کو پہچانتا ہے۔
وہ جانتی ہے کہ اس کا گھر دنیا نہیں… اس کی سانسیں کہیں اور سے چلتی ہیں۔
روح ہمیشہ روشنی کی طرف دوڑتی ہے، سچ، محبت، پاکیزگی اور اللہ کی طرف۔

مگر دوسری طرف نفس ہے—
جو ہمیشہ کھینچتا ہے، روکتا ہے، بہکاتا ہے۔
جو چاہتا ہے کہ انسان گرے، تھکے، بہکے، اور اندھیروں میں کھو جائے۔

اسی لیے انسان کا جسم دراصل میدانِ جنگ ہے۔
ایک طرف روح آواز دیتی ہے:
“واپس آ جا، تو کسی اور کا ہے…”

اور دوسری طرف نفس سرگوشی کرتا ہے:
“رک جا، لطف لے… دنیا ہی سب کچھ ہے”۔

روح نرم ہے…
نفس شور مچاتا ہے۔
روح روشنی ہے…
نفس دھواں ہے۔
روح بلندی کی طرف اٹھاتی ہے…
نفس نیچے دھکیلتا ہے۔

اور سچ یہ ہے کہ
جب نفس غالب آ جائے تو روح سو نہیں جاتی… صرف خاموش ہو جاتی ہے۔
وہ بجھتی نہیں… بس دبی رہتی ہے، کسی کونے میں، تمہاری واپسی کا انتظار کرتی ہے۔

روح کو تھوڑا سا ذکر چاہیے،
تھوڑی سی یاد،
تھوڑی سی تڑپ،
اور وہ دوبارہ جاگ اٹھتی ہے۔

لیکن نفس…
وہ کبھی نہیں تھکتا۔
وہ ہر کمزوری سے گزرتا ہے،
ہر دراڑ سے اندر آتا ہے،
اور انسان کو خود اس سے دور کر دیتا ہے۔

صوفیا کہتے ہیں:
“انسان وہ نہیں جو دنیا میں نظر آتا ہے—انسان وہ ہے جو اپنے اندر لڑ رہا ہوتا ہے۔”

اگر تمہیں لگتا ہے تم کمزور ہو…
تو یقین رکھو تمہاری روح کمزور نہیں—
تمہارا نفس زور میں ہے۔

جس دن تم نے ایک لمحے کے لیے بھی اپنی روح کو آواز دی…
وہ تمہاری پوری زندگی بدل سکتی ہے۔

کیونکہ روح ہمیشہ اپنے رب کے دروازے کی طرف لے جاتی ہے—
اور نفس ہمیشہ تمہیں خود تم سے دور کر دیتا ہے۔

یا اللہ…
ہماری روح کے چراغ کو روشن کر دے،
ہمیں وہ راستہ دکھا دے جہاں دل بھی سلامت ہوں اور ایمان بھی۔
آمین۔

ع

#

"ہر پیالے سے مت پئیں—دانشمندی سے انتخاب کریں۔وضاحتیہ جملہ ایک نصیحت یا استعارہ (Metaphor) کے طور پر استعمال ہوا ہے، جس ک...
18/03/2026

"ہر پیالے سے مت پئیں—دانشمندی سے انتخاب کریں۔
وضاحت
یہ جملہ ایک نصیحت یا استعارہ (Metaphor) کے طور پر استعمال ہوا ہے، جس کے گہرے معانی ہیں:
ہر پیالے سے مت پئیں: اس کا مطلب یہ ہے کہ زندگی میں آپ کو ہر موقع، ہر پیشکش، یا ہر قسم کے تجربات کو آنکھ بند کر کے قبول نہیں کر لینا چاہیے۔ جس طرح تصویر میں سانپ کا زہر شامل کیا جا رہا ہے، اسی طرح کچھ چیزیں بظاہر پرکشش ہو سکتی ہیں لیکن وہ نقصان دہ ہو سکتی ہیں۔
دانشمندی سے انتخاب کریں: یہ انسان کو متنبہ کرتا ہے کہ اپنے قریبی تعلقات، مواقع، یا فیصلوں کا انتخاب کرتے وقت ہوشیاری اور احتیاط سے کام لیں۔ ہر چیز جو سامنے پیش کی جائے، وہ آپ کے حق میں بہتر نہیں ہوتی۔
خلاصہ: یہ تصویر اور عبارت دراصل احتیاط اور بصیرت کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے کہ اپنے لیے وہی چیز چنیں جو آپ کے لیے محفوظ اور مناسب ہو۔

17/03/2026

جب برے کے ساتھ برا کرنے کی باری ہماری آئی، تو اندر سے آواز آئی کہ تم یہ نہیں ہو ۔🖤

‏وراثت صرف جائیداد کی نہیں ہوتی۔‏نام ، کردار ، اخلاق ، ظرف ، تعلقات ، فطرت‏یہ سب بھی وراثت میں جاتے ہیں۔
17/03/2026

‏وراثت صرف جائیداد کی نہیں ہوتی۔
‏نام ، کردار ، اخلاق ، ظرف ، تعلقات ، فطرت
‏یہ سب بھی وراثت میں جاتے ہیں۔

اکیلے رہنے والے کبھی کبھی بھاری ہو جاتے ہیں ۔۔!! #فرشتے 🖤
17/03/2026

اکیلے رہنے والے کبھی کبھی بھاری ہو جاتے ہیں ۔۔!!
#فرشتے 🖤

Address

Kohat

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Islamic Post posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share