16/07/2026
گاجر اور گوبھی کی انوکھی دوستی
ایک ہرے بھرے باغ میں، جہاں سورج کی کرنیں پھولوں کو چومتی تھیں، ایک پیاری سی گاجر
(Gajar) اور ایک گول مٹول پھول گوبھی (Gobhi) رہتے تھے۔
گاجر زمین کے نیچے چھپی رہتی، ہمیشہ اپنی چمکتی ہوئی نارنگی جلد پر ناز کرتی۔ وہ
تھوڑی چلبلی اور نٹکھٹ تھی۔ دوسری طرف، گوبھی زمین کے اوپر شان سے بیٹھی رہتی، بڑی
اور سفید۔ وہ بہت پرسکون، سمجھدار اور ملنسار تھی۔
شروع میں، دونوں میں کوئی خاص بات چیت نہیں ہوتی تھی۔ گاجر کو لگتا تھا کہ گوبھی
بہت سست ہے، اور گوبھی سوچتی تھی کہ گاجر بہت جلد باز ہے۔ لیکن ایک دن، باغ میں ایک
خوفناک طوفان آیا!
تیز ہوائیں چلنے لگیں اور زوروں کی بارش ہونے لگ گئی۔ گاجر زمین میں پھنسی ہوئی
کانپ رہی تھی، اسے ڈر تھا کہ پانی اسے بہا لے جائے گا۔ تبھی، گوبھی نے اپنی بڑی بڑی
پتیوں کو پھیلا کر ایک ڈھال کی طرح گاجر کو ڈھک لیا۔ پوری رات، گوبھی نے گاجر کو
طوفان اور بارش سے بچائے رکھا۔
صبح جب دھوپ کھلی، گاجر نے گوبھی کا شکریہ ادا کیا۔ اس رات کے بعد سے، دونوں کی سوچ
بدل گئی۔ انہوں نے محسوس کیا کہ وہ ایک دوسرے کے کتنے کام آ سکتے ہیں۔
وہ ہر دن باتیں کرتے۔ گاجر گوبھی کو زمین کے نیچے کی مزیدار باتیں بتاتی، اور گوبھی
گاجر کو آسمان اور بادلوں کے قصے سناتی۔
کچھ دنوں بعد، باغ کا مالی آیا اور اس نے دونوں کو باغ سے نکال لیا۔ وہ بہت ڈر گئے
کہ اب ان کا کیا ہوگا۔ لیکن مالی انہیں سیدھے باورچی خانے میں لے گیا اور ایک ٹوکری
میں رکھ دیا۔
اس ٹوکری میں آلو، مٹر اور ٹماٹر بھی تھے۔ جب اماں نے سبزی بنانی شروع کی، تو انہوں
نے گاجر اور گوبھی کو ایک ساتھ کاٹ کر کڑاہی میں ڈال دیا۔
گرم تیل اور مصالحوں میں پکتے ہوئے، گاجر اور گوبھی ایک دوسرے میں پوری طرح گھل مل
گئے۔ جب سبزی تیار ہوئی، تو اس کی خوشبو لاجواب تھی۔
گاجر اور گوبھی نے محسوس کیا کہ الگ الگ ہونے سے زیادہ مزہ ساتھ رہنے میں تھا۔ مل
کر، وہ ایک مزیدار اور صحت بخش 'مکس ویج' بن گئے تھے، جو سب کو بہت پسند آیا۔
کہانی کا سبق: ہم سب الگ الگ ہیں، لیکن جب ہم مل جل کر رہتے ہیں، تو ہم اور بھی
بہتر اور مضبوط بن جاتے ہیں۔