IBC URDU

IBC URDU Indus Broadcast & Communication is a platform for public interest journalism, established in 2015.

It gives a voice to the voiceless, covers marginalised communities, upholds democratic values, and promotes journalism that serves the public interest.

پاک چین دوستی کے فروغ پر تصور زمان بابر کو شیلڈ سے نواز دیا گیاوفاقی وزیر قیصر احمد شیخ کی جانب سے پاکستان چین تعلقات کے...
12/09/2026

پاک چین دوستی کے فروغ پر تصور زمان بابر کو شیلڈ سے نواز دیا گیا

وفاقی وزیر قیصر احمد شیخ کی جانب سے پاکستان چین تعلقات کے فروغ پر سی جی ٹی این اردو کے ڈائریکٹر پروگرامز و پی آر تصور زمان بابر کو شیلڈ پیش

اسلام آباد: وفاقی وزیر برائے بورڈ آف انویسٹمنٹ قیصر احمد شیخ نے پاکستان اور چین کے درمیان دوطرفہ تعلقات، باہمی تعاون اور عوامی روابط کے فروغ کے لیے خدمات انجام دینے پر سی جی ٹی این اردو، چائنا میڈیا گروپ (سی ایم جی) کے ڈائریکٹر پروگرامز و پی آر تصور زمان بابر کو شیلڈ پیش کی۔

وفاقی وزیر قیصر احمد شیخ نے تصور زمان بابر کی پیشہ ورانہ خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور چین کے درمیان دیرینہ دوستی اور باہمی تعاون کو اجاگر کرنے میں میڈیا کا کردار انتہائی اہم ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور چین کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون کو مؤثر انداز میں اجاگر کرنے اور باہمی دلچسپی کے امور پر مثبت اور تعمیری مکالمے کے فروغ میں تصور زمان بابر کی خدمات قابلِ تحسین ہیں۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان اور چین کی دوستی محض حکومتوں کے درمیان تعلقات تک محدود نہیں بلکہ دونوں ممالک کے عوام کے درمیان مضبوط اور دیرینہ روابط پر بھی قائم ہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے عوام کے درمیان باہمی سمجھ بوجھ اور تعلقات کو مزید مضبوط بنانے میں میڈیا اہم کردار ادا کر رہا ہے۔

قیصر احمد شیخ نے تصور زمان بابر کے ریڈیو پاکستان، پاکستان ٹیلی وژن اور چائنا میڈیا گروپ سے وابستہ طویل پیشہ ورانہ سفر اور خدمات کو بھی سراہا اور ان کے لیے مستقبل میں مزید کامیابیوں اور پیشہ ورانہ ترقی کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔

تصور زمان بابر کو پیش کی جانے والی شیلڈ دراصل پاکستان چین دوستی، عوامی روابط کے فروغ اور دونوں ممالک کے درمیان مثبت اور مضبوط تعلقات کے لیے ان کی قابلِ قدر خدمات کا اعتراف ہے۔

ملک میں سونے کی فی تولہ قیمت میں آج 400 روپےکا اضافہ ہوا ہے۔آل پاکستان صرافہ جیمز اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کے مطابق 400 ...
12/09/2026

ملک میں سونے کی فی تولہ قیمت میں آج 400 روپےکا اضافہ ہوا ہے۔

آل پاکستان صرافہ جیمز اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کے مطابق 400 روپے اضافے کے بعد ملک میں فی تولہ سونا4 لاکھ 57 ہزار 136 روپے ہوگیا ہے۔

10 گرام سونےکی قیمت 343 روپے اضافے سے 3 لاکھ 91 ہزار 920 روپے ہوگیا ہے۔

ایسوسی ایشن کے مطابق عالمی صرافہ میں سونے کی قیمت 4 ڈالر بڑھ کر 4 ہزار346 ڈالر فی اونس ہوگئی ہے۔
#سونا

کوئٹہ / بلوچستان کی موجودہ صورتحال کے پیش نظر آل پارٹیز کانفرنس کا اجلاس نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر سابق وزیراعلی بلوچستان...
12/09/2026

کوئٹہ / بلوچستان کی موجودہ صورتحال کے پیش نظر آل پارٹیز کانفرنس کا اجلاس نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر سابق وزیراعلی بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کی زیر صدارت نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکریٹری جنرل میر کبیر جان محمد شہی کی میزبانی میں محمدشہی ہاوس کوئٹہ میں منعقد ہوا اجلاس میں جمعیت علمااسلام کے صوبائی صدر سینیٹرمولانا عبدالواسع ، عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر اصغر خان اچکزئی، ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی کے مرکزی صدر عبدالخالق ہزارہ، پشتونخواہ نیشنل عوامی پارٹی کے صوبائی صدر نصراللہ خان زیرے،نیشنل ڈیموکریٹک مومنٹ کے صوبائی صدر احمد جان ، بلوچستان نینشنل پارٹی کے موسی بلوچ اور جماعت اسلامی کے زائد اختر شریک ہوئے، اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے شرکا نے کہا کہ بلوچستان میں انسانی المیہ جنم لے چکا ہے انسانی جان کی کوئی اہمیت نہیں رہی ہے سیاست معیشت اور کاروبار زندگی بے حد متاثر ہو گئے ہیں کاروبار اور شاہراہیں بند ہیں بارڈرز بند کردی گئی ہیں کبھی اعلانیہ کبھی غیر اعلانیہ کرفیو نافذ کی جاتی ہے اشیائے خوردونوش کی ترسیل بند ہوچکی ہے جو کسی بھی وقت اشیائے خوردونوش کا بحران پیدا کرسکتا ہے زیارت ہنہ اوڑک کے واقعات پھر کھڈکوچہ میں پھل دار درختوں کی کٹائی ،لوگوں کو بے دخل کرنا یہ سب اس بات کا تقاضا کررہے ہیں کہ زورآور قوتیں ایک نقطہ پر مشترکہ موقف رکھتے ہیں کہ یہاں سیاست اور سیاسی جماعتیں ناپید ہوجاہیں سیاست شجر ممنوعہ بن جائے اس کے لیئے ضروری ہے کہ سیاسی جماعتیں مشترکہ موقف اختیار کریں آگے بڑھیں اور بھرپور سیاسی کردار ادا کریں ، شرکا نے اپنے خطاب میں کہا کہ پی ڈی ایم کے تلخ تجربے کے بعد یہ امر لازم ہوچکا ہے کہ ہم بلوچستان کی سطع پراتحاد بناہیں مگر پاہیدار اتحاد ہو جس کے لیئے اعتماد اور احترام لازمی ہے، اسٹیبلشمنٹ کا اپنا ایجنڈا ہے وہ جب بھی پھنس جاتے ہیں سیاستدانوں کا کندھا استعمال کرتے ہیں پاہیدار امن کےلیئے لازم ہے کہ سیاسی اور جمہوری جماعتیں یکجا ہوکر بھرپور سیاسی تحریک کا آغاز کریں ، اس وقت بلوچستان میں سیاسی جماعتیں دو زورآور قوتوں کے درمیان بری طرح پھنس گئے ہیں حکومت انہیں سہولت کار اور تنظیمیں کہتے ہیں آپ ریاست کے مضبوطی کی بات کرتے ہو اس لیئے ہمارے لیئے قابل قبول نہیں ہو دونوں طرف سے سیاسی جماعتیں مارکھارہے ہیں کھربوں روپے خرچ کرکے بارڈر پر خاردار تار لگائے گئے سوال یہ ہے کہ اس کے باوجود زیارت اور ہنہ اوڑک میں دہشتگرد کہاں سے آکرعلاقوں کو خالی کرارہے ہیں ، سیاستدانوں نے اربوں روپے خرچ کرکے لوگوں کے گھروں تک دوردراز بجلی پہنچائے اب اربوں روپے کے کھمبے تار اور ٹرانسفارمر کیسکو کمپنی لے جا کر لوگوں کو اندھیرے میں دھکیلا گیا اور حکومت نے بیس بیس لاکھ روپے لے سولر دیکر جان چھڑا لیا ، سرانان زیارت کراس ہنہ اوڑک کے واقعات پھر کھڈکوچہ میں باغات و باغبان کو دہشتگرد قراردیکر درخت کاٹنا لوگوں کو گھروں سے بے دخل کرنا بد ترین آمریت ہے، مولانا واسع نے کہا لوگوں کے لیئے ان کی جھونپڑی ، ان کا باغ دکان ان کا پاکستان ہے اگر ان کا باغ دکان کاروبار کچا گھر برباد کیا جاہیگا سمجھ لو کہ ان کا پاکستان ہی ان سے چھن گیا، دو صوبوں میں پہلے سے بیزاری تھی اب نئے صوبوں کا راگ الاپنے سے سندھ میں بھی خلفشار اور بے چینی پیدا ہوگئی، شرکا نے کہا کہ یہ اتحاد بلوچستان کے عوام کے لیئے سنگ میل ثابت ہوگا اور ان جماعتوں کا موقف ہے کہ بلوچستان کے وسائل بلوچستان کے ہیں اور اس پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا پورے صوبے کےان وسائل کی لوٹ مار سمیت سیاست کو یرغمال بنادیا گیا ہےجو بلوچستان میں بسنے والے تمام اقوام کے لیئے ناقابل قبول ہے کیونکہ یہاں بسنے والے لوگوں کی یہ صوبہ مشترکہ وطن ہے اور ان کے وسائل بھی یکساں ہیں ،

ایلیسا کارسن ۔ ۔ جو مریخ سے کبھی واپس نہیں آئے گی ۔۔!!تحریر: محمد انتصار الحق رات کے دو بجے تھے۔ دنیا سو رہی تھی لیکن ای...
12/09/2026

ایلیسا کارسن ۔ ۔ جو مریخ سے کبھی واپس نہیں آئے گی ۔۔!!
تحریر: محمد انتصار الحق

رات کے دو بجے تھے۔ دنیا سو رہی تھی لیکن ایلیسا کارسن اپنی کھڑکی کے سامنے کھڑی آسمان کو دیکھ رہی تھی۔ اس کی نظریں ایک سرخ نقطے پر جمی تھیں۔ مریخ۔ وہی مریخ جس کا نام اس نے بچپن میں پہلی مرتبہ سنتے ھی سوچ لیا تھا کہ ایک دن وہ وہاں ضرور جائے گی۔ مگر آج رات معاملہ مختلف تھا۔ آج اس کے سامنے صرف ایک خواب نہیں بلکہ پوری زندگی کا سب سے بڑا فیصلہ تھا۔

کمرے کے ایک کونے میں ایک چھوٹا سا بیگ رکھا تھا۔ اس میں چند کپڑے، والد کی ایک پرانی تصویر اور زمین کی مٹی سے بھری ہوئی شیشی تھی۔ ایلیسا نے شیشی اٹھائی اور اسے دیر تک دیکھتی رہی۔

صبح چار بجے اسے خلائی مرکز پہنچنا تھا۔

وہ جانتی تھی کہ مریخ زمین نہیں۔ وہاں سانس لینے کے لیے ہوا نہیں، پانی براہ راست استعمال نہیں کیا جا سکتا اور گرد کے طوفان اچانک پورے آسمان کو سرخ کر سکتے ہیں۔ سب سے بڑھ کر، واپسی کا کوئی منصوبہ نہیں تھا۔

ایک سائنس دان نے آخری مرتبہ پوچھا، ’’اگر آپ نے غلط فیصلہ کیا تو؟‘‘

ایلیسا نے جواب دیا، ’’پھر بھی واپس نہیں آ سکوں گی۔ میں فیصلہ کر چکی ہوں۔‘‘

خلائی مرکز میں اس کے خاندان کے لوگ موجود تھے۔ شیشے کی دوسری طرف اس کے والد اسے دیکھ رہے تھے۔ ان کی آنکھوں میں فخر بھی تھا اور خوف بھی۔ ایلیسا نے ہاتھ ہلایا، والد نے بھی ہاتھ اٹھایا مگر پھر چہرہ دوسری طرف کر لیا۔

چند لمحوں بعد ایلیسا خلائی جہاز کے اندر تھی۔

دروازہ بند ہوا۔

الٹی گنتی شروع ہوئی۔

دس۔

نو۔

آٹھ۔

ایلیسا نے آنکھیں بند کر لیں۔

تین۔

دو۔

ایک۔

راکٹ زمین سے بلند ہو گیا۔

چند منٹ بعد نیلی زمین اس کے نیچے ایک چھوٹی سی گیند بن چکی تھی۔ اس نے کھڑکی سے دیکھا تو آنکھوں میں آنسو آگئے۔ اتنی دور سے نہ کوئی ملک، نہ سرحد، نہ شہر نظر آتا تھا۔ صرف ایک چھوٹی سی نیلی دنیا۔

اس کا سفر کئی مہینوں پر محیط تھا۔

وہ روزانہ تجربات کرتی، مریخ کے ماحول کے اعداد و شمار جمع کرتی اور ایسے جراثیم کا مطالعہ کرتی جو انتہائی سخت ماحول میں زندہ رہ سکتے تھے۔ وہ پودوں کے بیجوں پر بھی تجربات کرتی۔

لیکن رات کے وقت اسے زمین یاد آتی۔

ایک رات اس نے والد کی تصویر سامنے رکھی۔

’’اگر میں واپس نہ آ سکی تو؟‘‘

اس نے تصویر کو سینے سے لگا لیا۔

’’تو میری آخری نظر بھی زمین ہی کی طرف ہوگی۔‘‘

پھر وہ دن آ گیا۔

مریخ جہاز کی کھڑکی سے اتنا بڑا دکھائی دے رہا تھا کہ ایلیسا کی سانس رک گئی۔ سرخ میدان، گہری وادیاں اور دور تک پھیلا ہوا بے رنگ افق۔

خلائی جہاز مریخ کے ماحول میں داخل ہوا۔

شدید جھٹکے لگے۔

الارم بجنے لگے۔

چند سیکنڈ کے لیے مواصلاتی نظام بند ہو گیا۔

ایلیسا نے آنکھیں بند کر لیں۔

’’خدا حافظ زمین۔‘‘

پھر رابطہ بحال ہو گیا۔

جہاز نیچے اترنے لگا۔

ایک زوردار جھٹکے کے ساتھ وہ مریخ کی سطح پر پہنچ گیا۔

کچھ دیر تک ایلیسا بالکل خاموش بیٹھی رہی۔

پھر اس نے اپنا خلائی لباس پہنا۔ آکسیجن چیک کی۔ دستانے مضبوط کیے اور دروازے کے سامنے جا کھڑی ہوئی۔

دروازہ کھلا۔

سامنے مریخ تھا۔

اس نے اپنا پہلا قدم سرخ مٹی پر رکھا۔

زمین سے لاکھوں میل دور ایک انسان پہلی مرتبہ اس خاموش دنیا میں کھڑا تھا۔

ایلیسا نے آسمان کی طرف دیکھا۔ وہاں زمین ایک معمولی سے روشن نقطے کی طرح نظر آ رہی تھی۔

اس نے ریڈیو کھولا۔

’’میں پہنچ گئی ہوں۔‘‘

زمین سے آواز آئی۔

’’ایلیسا، ہم تمہیں دیکھ رہے ہیں۔‘‘

مگر اسی لمحے دور افق پر سرخ گرد کا ایک دیوہیکل بادل اٹھنے لگا۔ طوفان تیزی سے اس کی طرف بڑھا۔ وہ فوراً رہائشی مرکز کی طرف بھاگی۔ چند لمحوں بعد پورا آسمان سرخ ہو چکا تھا اور رابطہ کمزور پڑ گیا۔

وہ زیر زمین مرکز میں بیٹھ گئی۔

اس کے سامنے زمین کی مٹی والی شیشی رکھی تھی۔

باہر مریخ کا طوفان چیخ رہا تھا۔

اندر مکمل خاموشی تھی۔

اس لمحے ایلیسا کو احساس ہوا کہ شاید مریخ پہنچنا سب سے بڑی کامیابی نہیں۔ اصل امتحان یہ تھا کہ انسان اتنی دور جا کر بھی اپنے اندر زمین کو زندہ رکھ سکتا ہے یا نہیں۔

وہ کھڑکی کے پاس گئی۔

گرد کے پردے کے پیچھے زمین نظر نہیں آ رہی تھی۔

اس نے آہستہ سے کہا، ’’میں واپس آؤں گی۔‘‘

پھر خود ہی رک گئی۔

واپسی کا کوئی راستہ تھا ہی نہیں۔

مریخ خاموش تھا اور ایلیسا اس سرخ سیارے پر اکیلی کھڑی تھی۔

لیکن حقیقت اس کہانی سے مختلف ہے۔ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ان خبروں کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں کہ ایلیسا کارسن کو مریخ کے یک طرفہ مشن کے لیے منتخب کیا گیا ہے یا وہ وہاں جا کر کبھی واپس نہیں آئے گی۔ حقیقت صرف اتنی ہے کہ ایلیسا کارسن امریکہ کی ریاست لوزیانا کے شہر ہیمنڈ میں پیدا ہوئی، بیٹن روج میں پلی بڑھی اور اسے بچپن ہی سے مریخ اور خلائی تحقیق میں گہری دلچسپی ہے۔

11/09/2026

اطلاعات کے مطابق اسلام آباد اسپورٹس کمپلیکس میں ہونے والا یہ پروگرام کینسل ہو گیا ہے
اسلام آباد میں تیز ہوا کے باعث سپورٹس کمپلیکس میں لگایا گیا سٹیج گر گیا
اس ایونٹ کے اب تک کروڑوں روپے کے ٹکٹ فروخت ہو چکے ہیں۔
اس ایونٹ کے آرگنائزر اقلیتی ایم این اے رامیش کمار تھے۔

ٹرمپ: ایران کے خلاف جنگ شروع کرنے پر کوئی افسوس نہیںامریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے خلاف جنگ شروع کرنے کے فی...
11/09/2026

ٹرمپ: ایران کے خلاف جنگ شروع کرنے پر کوئی افسوس نہیں

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے خلاف جنگ شروع کرنے کے فیصلے پر انہیں کوئی افسوس نہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر انہیں دوبارہ یہی فیصلہ کرنا پڑتا تو وہ بالکل وہی کرتے۔

ٹرمپ نے کہا کہ انہیں توقع ہے کہ ایران کے ساتھ تنازع امریکی وسط مدتی انتخابات کے فوراً بعد ختم ہوجائے گا۔ انہوں نے جنگ کے باعث اپنے حامیوں میں مایوسی کی قیاس آرائیوں کو بھی مسترد کردیا۔

کراچی: مختلف تھانوں کے اچانک دورے، 3 ایس ایچ اوز معطلکراچی میں وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار اور میئر کراچی مرتضیٰ وہ...
11/09/2026

کراچی: مختلف تھانوں کے اچانک دورے، 3 ایس ایچ اوز معطل

کراچی میں وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار اور میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے مختلف تھانوں کے اچانک دورے کیے۔ وزیر داخلہ نے ڈیوٹی میں غفلت اور غیر حاضری پر 3 ایس ایچ اوز سمیت متعدد پولیس اہلکاروں کو معطل کردیا۔

عزیز بھٹی تھانے کے ایس ایچ او سمیت پورے عملے، شارع فیصل تھانے کے ایس ایچ او سمیت 6 اہلکاروں جبکہ ڈیفنس تھانے کے ایس ایچ او اشرف جوگی کو معطل کیا گیا۔ فیروز آباد تھانے میں بغیر وردی ڈیوٹی دینے پر بھی سب انسپکٹر وسیم اور کانسٹیبل عبدالوہاب کے خلاف کارروائی کی گئی۔

وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ پولیس اہلکاروں کو وردی میں ڈیوٹی دینا ہوگی، تھانے سے غیر حاضری اور بغیر وردی ڈیوٹی کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔

11/09/2026

اسلامی یونیورسٹی کے تعلیمی ڈھانچے کی بہتری کے لیے سعودی عرب کی 15 کروڑ روپے گرانٹ

اسلام آباد: سعودی حکومت نے بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد کے تعلیمی ڈھانچے کو جدید خطوط پر استوار کرنے اور کلاس رومز و کمپیوٹر لیبارٹریز کی حالت بہتر بنانے کے لیے 15 کروڑ روپے کی گرانٹ فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے۔

سعودی عرب کی جانب سے فراہم کی جانے والی اس مالی معاونت سے بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی میں موجود کلاس رومز اور کمپیوٹر لیبارٹریز کو اپ گریڈ کیا جائے گا، جبکہ طلبہ کے لیے بہتر، جدید اور سازگار تعلیمی ماحول کی فراہمی کو یقینی بنانے میں مدد ملے گی۔

یہ گرانٹ یونیورسٹی کے تعلیمی بنیادی ڈھانچے کی بہتری کے لیے جاری کوششوں میں اہم پیش رفت قرار دی جا رہی ہے۔ اس کے ذریعے تدریسی سہولیات کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے، تعلیمی ماحول کو بہتر بنانے اور طلبہ کو جدید سہولیات فراہم کرنے میں مدد ملے گی۔

سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان دیرینہ برادرانہ تعلقات کے تناظر میں یہ تعاون دونوں ممالک کے درمیان تعلیم، علم اور اعلیٰ تعلیم کے فروغ کے لیے مشترکہ عزم کی بھی عکاسی کرتا ہے۔ سعودی عرب ماضی میں بھی بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد کی تعلیمی و ترقیاتی سرگرمیوں میں معاونت کرتا رہا ہے۔

بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد کے قائم مقام ریکٹر و صدر پروفیسر ڈاکٹر احمد سعد الاحمد نے سعودی عرب کی مسلسل معاونت کو سرا�

پاکستان کو ترقی یافتہ اور فلاحی ریاست بنانا قائداعظم کی سیاسی میراث کا اولین مقصد ہے: وزیراعظماسلام آباد: وزیراعظم شہباز...
11/09/2026

پاکستان کو ترقی یافتہ اور فلاحی ریاست بنانا قائداعظم کی سیاسی میراث کا اولین مقصد ہے: وزیراعظم

اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے قائداعظم محمد علی جناحؒ کی 78ویں برسی پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ پاکستان کو ترقی یافتہ اور فلاحی ریاست بنانا قائداعظم کی سیاسی میراث کا اولین مقصد ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ قائداعظم کی قیادت، بصیرت اور سیاسی حکمت عملی کو پوری قوم خراجِ عقیدت پیش کرتی ہے۔ آج کا دن اس عزم کی تجدید کا تقاضا کرتا ہے کہ ہم قائداعظم کے رہنما اصول ایمان، اتحاد اور نظم و ضبط پر کاربند رہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی ترقی، خوشحالی اور عوام کی فلاح پوری قوم کی مشترکہ کاوشوں سے ممکن ہے۔

10/09/2026

خواتین کے حقوق کے دعوے دار ملک میں
خواتین کے حقوق کیسے پامال ہوئے؟

پروفیسر طاہر نعیم ملک

Address

Islamabad
44000

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when IBC URDU posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to IBC URDU:

Shortcuts

Share