LOG MEDIA

LOG MEDIA LOG MEDIA: Urdu (GB)
سماجی رابطے کی دنیا میں خبر رسانی کا بااعتماد صفحہ

گلگت بلتستان اسمبلی کی 24 نشستوں پر ہر پانچ سال بعد انتخابات ہوتے ہیں۔ ان انتخابات میں مختلف سیاسی و مذہبی جماعتوں کے عل...
09/09/2026

گلگت بلتستان اسمبلی کی 24 نشستوں پر ہر پانچ سال بعد انتخابات ہوتے ہیں۔ ان انتخابات میں مختلف سیاسی و مذہبی جماعتوں کے علاوہ آزاد امیدوار بھی حصہ لیتے ہیں۔ 2026ء کے انتخابات میں ایک دلچسپ اور قابلِ غور رجحان سامنے آیا: گلگت بلتستان کی معروف سیاسی شخصیات کی دوسری نسل بھی بڑی تعداد میں انتخابی میدان میں نظر آئی۔
24 حلقوں میں سے 20 حلقوں میں کسی نہ کسی سابق سیاسی شخصیت کی دوسری نسل یا قریبی خاندانی فرد امیدوار کے طور پر سامنے آیا، جبکہ ایک امیدوار نے بعد ازاں ضمنی انتخاب میں بھی حصہ لیا۔ ان 21 امیدواروں میں سے 9 کامیاب ہو کر گلگت بلتستان اسمبلی کا حصہ بن گئے، جن میں سے بعض نے بعد میں وزارتوں کا بھی حلف اٹھایا۔
گلگت بلتستان کی سیاسی تاریخ میں 2026ء کے انتخابات اس لحاظ سے بھی اہم ہیں کہ سیاسی خاندانوں کی نئی نسل پہلی مرتبہ اس قدر نمایاں تعداد میں انتخابی میدان میں دکھائی دی۔ اس صورتِ حال نے ایک اہم سوال کو جنم دیا ہے: کیا گلگت بلتستان کی سیاست بھی اب آہستہ آہستہ نسل در نسل منتقل ہونے کی راہ پر گامزن ہے؟
یہ سوال اس لیے بھی اہم ہے کہ گلگت بلتستان کو پاکستان کے دوسرے علاقوں کی نسبت نسبتاً زیادہ شرحِ خواندگی رکھنے والا خطہ سمجھا جاتا ہے۔ یہاں پنجاب، سندھ اور بلوچستان کے بعض علاقوں کی طرح جاگیردارانہ یا وڈیرہ شاہی سیاسی ڈھانچہ موجود نہیں۔ مجموعی طور پر یہاں کا معاشرہ بھی سیاسی اور سماجی اعتبار سے نسبتاً آزاد، متحرک اور باشعور سمجھا جاتا ہے۔
یہ ضرور ہے کہ داریل، تانگیر اور چلاس جیسے علاقوں میں قبائلی سماجی ڈھانچے کی اپنی اہمیت ہے، لیکن اس مخصوص طرزِ معاشرت کو پورے گلگت بلتستان کی سیاسی ساخت پر منطبق نہیں کیا جا سکتا۔
اس کے باوجود 2026ء کے انتخابات میں موروثی سیاست کا جو رجحان سامنے آیا، وہ یقیناً سنجیدہ غور و فکر کا متقاضی ہے۔
نوجوان ووٹر اور موروثی سیاست
گلگت بلتستان کی آبادی میں نوجوانوں کا تناسب نمایاں ہے۔ اس مرتبہ نوجوانوں اور Gen Z کے ایک بڑے طبقے نے انتخابی عمل میں حصہ لیا۔ عمومی توقع یہی تھی کہ نئی نسل روایتی سیاست سے ہٹ کر نئے چہروں، نئی سوچ اور نئے سیاسی بیانیے کو ترجیح دے گی۔
لیکن انتخابی نتائج نے کم از کم اس مرتبہ اس تاثر کو مکمل طور پر درست ثابت نہیں کیا۔
نوجوان ووٹرز کی ایک بڑی تعداد نے معروف سیاسی خاندانوں سے تعلق رکھنے والے امیدواروں کو بھی کامیاب کرایا۔ اس سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا نئی نسل واقعی روایتی سیاست سے مکمل طور پر بیزار ہے یا وہ خاندان، شخصیت، مقامی تعلقات اور انتخابی تجربے کو اب بھی اپنی ترجیحات میں اہم مقام دیتی ہے؟
دوسری نسل کے امیدوار
جن امیدواروں کا تعلق سابق سیاسی شخصیات کے خاندانوں سے تھا، ان میں جی بی اے 24 سے اسد شفیق ولد محمد شفیق مرحوم، سابق وزیر؛ جی بی اے 11 سے اسید محسن زیدی، فرزند سید اسد زیدی، سابق ڈپٹی اسپیکر، اور آغا محسن رضوی ولد آغا محمد علی شاہ، سابق پارلیمانی سیکرٹری؛ جی بی اے 9 سے وزیر سلیم ولد وزیر صادق، سابق ممبر ناردرن ایریاز کونسل، اور اختر عباس ولد فدا محمد ناشاد، سابق اسپیکر؛ جی بی اے 7 سے توقیر مہدی شاہ ولد مہدی شاہ، سابق وزیر اعلیٰ و موجودہ گورنر؛ جی بی اے 10 سے راجہ ناصر علی خان ولد راجہ عبداللہ خان، سابق ممبر ضلع کونسل سکردو؛ جی بی اے 3 سے سہیل عباس شاہ ولد جعفر شاہ مرحوم، سابق ممبر ناردرن ایریاز کونسل؛ جی بی اے 5 سے ذوالفقار علی مراد ولد قربان علی مرحوم، سابق ممبر ناردرن ایریاز کونسل، میر قاسم علی، پوتا میر شوکت علی، سابق ممبر ناردرن ایریاز کونسل، اور صفدر مرزا ولد مرزا حسین مرحوم، سابق مشیر؛ جی بی اے 6 سے پرنس سلیم ولد میر غضنفر، سابق چیف ایگزیکٹو و گورنر؛ جی بی اے 19 سے جلال شاہ ولد پیر کرام علی مرحوم، سابق ڈپٹی چیف ایگزیکٹو و گورنر؛ جی بی اے 16 سے انجینئر انور بتھجا حاجی جانباز مرحوم، سابق وزیر، اور عتیق اللہ ایڈووکیٹ بتھجا حاجی عبدالقدوس مرحوم، سابق مشیر؛ جی بی اے 18 سے ملک کفایت ولد ملک مسکین، سابق اسپیکر؛ جی بی اے 17 سے محمد نسیم بتھجا حیدر خان، سابق مشیر؛ جی بی اے 13 سے شاہدہ خورشید، زوجہ خورشید خان، سابق ممبر ناردرن ایریاز ایڈوائزری کونسل، اور فہد حنیف بتھجا عبدالحمید، سابق مشیر؛ جبکہ جی بی اے 10 روندو سے ڈاکٹر شریف شفا بتھجا صادق علی، سابق ممبر ناردرن ایریاز کونسل، شامل ہیں۔یہ امیدوار مختلف سیاسی جماعتوں کے ٹکٹ پر یا آزاد حیثیت سے انتخابی میدان میں اترے۔پاکستان کی دوسری اسمبلیوں سے تقابل
اگر ان اعداد و شمار کو پاکستان کی قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے ساتھ رکھ کر دیکھا جائے تو ایک دلچسپ فرق سامنے آتا ہے۔
قومی اسمبلی کے 336 ارکان میں دوسری نسل یا قریبی خاندانی پس منظر رکھنے والے 25 ارکان ہیں، جو تقریباً 7.44 فیصد بنتے ہیں۔
پنجاب اسمبلی کے 371 ارکان میں ایسے ارکان کی تعداد 25 ہے، یعنی تقریباً 6.74 فیصد۔
سندھ اسمبلی کے 168 ارکان میں 20 ایسے ارکان ہیں، جو تقریباً 11.90 فیصد بنتے ہیں۔بلوچستان اسمبلی کے 65 ارکان میں 8 ارکان دوسری نسل سے تعلق رکھتے ہیں، یعنی تقریباً 12.31 فیصد۔
جبکہ خیبر پختونخوا اسمبلی کے 145 ارکان میں 8 ارکان ایسے ہیں، جو تقریباً 5.52 فیصد بنتے ہیں۔
اس کے مقابلے میں گلگت بلتستان کی صورتِ حال خاصی مختلف دکھائی دیتی ہے۔24 حلقوں میں سے 21 میں دوسری نسل یا قریبی خاندانی پس منظر رکھنے والے امیدواروں کی موجودگی کا مطلب ہے کہ امیدواروں کی سطح پر یہ تناسب تقریباً 87 فیصد بنتا ہے۔
ان 21 امیدواروں میں سے 9 کامیاب ہوئے۔ اسد شفیق، اختر عباس، توقیر مہدی شاہ، راجہ ناصر علی خان، سہیل عباس شاہ، ذوالفقار علی مراد، جلال علی شاہ، ملک کفایت اور محمد نسیم اسمبلی کا حصہ بنے۔ یہ 9 کامیاب امیدوار گلگت بلتستان اسمبلی کی 24 نشستوں کا 37.5 فیصد بنتے ہیں۔یہ اعداد و شمار یقیناً بہت کچھ سوچنے پر مجبور کرتے ہیں۔
خاندان یا قابلیت؟
تاہم کسی سیاسی خاندان سے تعلق رکھنا بذات خود کوئی برائی نہیں۔ پاکستان سمیت دنیا بھر میں کئی ایسے سیاسی خاندان موجود ہیں جنہوں نے طویل عرصے تک عوامی خدمت کی اور ان کے بیٹے، بیٹیاں یا دیگر قریبی رشتہ دار بھی اپنی قابلیت، سیاسی جدوجہد اور عوامی مقبولیت کی بنیاد پر کامیاب ہوئے۔اصل سوال یہ نہیں کہ امیدوار کس خاندان سے تعلق رکھتا ہے۔اصل سوال یہ ہے کہ کیا خاندان کا نام اسے کامیابی کی طرف لے جاتا ہے، یا وہ اپنی ذاتی قابلیت، سیاسی جدوجہد اور عوامی خدمت سے بھی خود کو ثابت کرتا ہے؟اگر کسی سیاسی خاندان کا فرد اپنی قابلیت اور کارکردگی کی بنیاد پر عوام کا اعتماد حاصل کرتا ہے تو اسے محض موروثی سیاست کہہ کر مسترد نہیں کیا جا سکتا۔ لیکن اگر سیاسی وراثت ہی کامیابی کا بنیادی ذریعہ بن جائے اور نئے چہروں کے لیے سیاسی میدان محدود ہوتا چلا جائے تو یہ صورتِ حال یقیناً ایک صحت مند جمہوری معاشرے کے لیے سوالیہ نشان بن سکتی ہے۔سوال ابھی باقی ہے 2026ء کے انتخابات نے گلگت بلتستان کے ووٹرز کی ترجیحات کے بارے میں بھی ایک اہم سوال چھوڑا ہے۔ایک طرف نوجوانوں کی بڑی تعداد سیاسی عمل میں داخل ہوئی، دوسری طرف انہی انتخابات میں سیاسی خاندانوں کی دوسری نسل بھی بڑی تعداد میں کامیاب ہوئی۔اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ گلگت بلتستان کے عوام سیاسی طور پر باشعور نہیں۔ شاید اس کا مطلب یہ ہے کہ یہاں کا ووٹر اب بھی امیدوار کی شخصیت، خاندان، سابقہ سیاسی خدمات، مقامی تعلقات، انتخابی جیتنے کی صلاحیت اور دیگر عوامل کو اپنی ترجیحات میں اہمیت دیتا ہے۔ بعض صورتوں میں انتخابی ماحول میں مادی فوائد کا حصول اور مستقبل میں ذاتی مفادات بھی ووٹر کے فیصلے پر اثرانداز ہو سکتے ہیں۔لیکن حتمی فیصلہ ابھی باقی ہے،آنے والے انتخابات ہی یہ بتائیں گے کہ 2026ء میں سامنے آنے والا یہ رجحان محض ایک وقتی انتخابی اتفاق تھا یا گلگت بلتستان میں سیاسی قیادت کی منتقلی بھی اب مستقل طور پر نسل در نسل آگے بڑھنے جا رہی ہے۔یہ بہرحال ایک ایسا سوال ہے جس پر گلگت بلتستان کے سیاسی کارکنوں، نوجوانوں اور بالخصوص نئی نسل کو سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔

اللہ ہم سب کا حامی و ناصر، آمین۔

نوٹ:
اعداد و شمار میں فرق ممکن ہے، لہٰذا پیشگی معذرت خواہ ہوں۔

08/09/2026

#سکردو: بار ایسوسی ایشن کے ذمہ داران کی پریس کلب سکردو میں پریس کانفرنس۔

07/09/2026

آئی ٹی پی کی جانب سے 6 ستمبر یوم دفاع اور پھیالونگ پراجیکٹ کے بانی و اراکین کے اعزاز میں خصوصی تقریب ۔

06/09/2026

ووٹوں کی دوبارہ گنتی| 175 کی لیڈ سے اختر ناشاد کی کامیابی برقرار| فارم 49 جاری | اختر ناشاد کو 8711 ووٹ اور وزیر سلیم کو 8536 ووٹ ملے ۔

06/09/2026

تازہ ترین | جی بی اے 9 سکردو 3
دونوں فریقین کے رضا مندی سے تین پولنگ اسٹیشنز کی ری کاؤنٹنگ مکمل ہونے کے بعد اب پوسٹل بیلٹ پیپرز کی دوبارہ گنتی شروع کر دی گئی ہے۔

06/09/2026

#سکردو: جی بی اے 9 سکردو 3 : وزیر سلیم کی درخواست پر حسین آباد کے 6 پولنگ سٹیشنز کے ووٹوں کی دوبارہ گنتی شروع ۔۔

 #سکردو: (پ ر) انجمن امامیہ بلتستان 6 ستمبر، یومِ دفاعِ پاکستان کے موقع پر وطنِ عزیز کی سلامتی، خودمختاری اور دفاع کے لی...
06/09/2026

#سکردو: (پ ر) انجمن امامیہ بلتستان 6 ستمبر، یومِ دفاعِ پاکستان کے موقع پر وطنِ عزیز کی سلامتی، خودمختاری اور دفاع کے لیے جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے تمام شہداءِ پاکستان، غازیانِ وطن اور افواجِ پاکستان کے بہادر جوانوں کو سلامِ عقیدت پیش کرتی ہے۔
پاکستان کی سرزمین کے دفاع کی تاریخ میں بلتستان کے سپوتوں کا کردار ناقابلِ فراموش ہے۔ 1948ء، 1965ء، 1971ء اور بالخصوص 1999ء کی کارگل جنگ میں بلتستان سے تعلق رکھنے والے فوجی جوانوں نے اپنی جانوں کی پروا کیے بغیر وطن عزیز کی سرحدوں کے دفاع کے لیے عظیم قربانیاں پیش کیں۔ برف پوش پہاڑوں، دشوار گزار محاذوں اور نامساعد حالات میں ان جوانوں نے جس عزم، حوصلے اور شجاعت کا مظاہرہ کیا، وہ ہماری قومی تاریخ کا قابلِ فخر باب ہے۔
یہ قربانیاں محض تاریخ کے صفحات میں محفوظ کرنے کے لیے نہیں بلکہ ہماری قومی اجتماعی ذمہ داری کا احساس دلانے کے لیے ہیں۔ جن شہداء نے اپنا آج وطن کے مستقبل پر قربان کیا، ان کی قربانیاں کسی صورت رائیگاں نہیں جانی چاہئیں۔ ایک قوم کی اصل عظمت یہی ہے کہ وہ اپنے محسنوں کو یاد رکھے، اپنے شہداء کی قربانیوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھے اور ان کے اہلِ خانہ کی عزت و تکریم کو اپنا قومی فریضہ سمجھے۔
آج اگر ہم امن، آزادی اور قومی خودمختاری کے ماحول میں زندگی بسر کر رہے ہیں تو اس کے پیچھے ہمارے شہداء اور غازیوں کی بے مثال قربانیوں، افواجِ پاکستان کی شبانہ روز محنت اور پوری قوم کے عزم و اتحاد کا ایک طویل سفر موجود ہے۔ سرحدوں پر کھڑے سپاہی کا حوصلہ دراصل قوم کے اجتماعی حوصلے کا آئینہ دار ہوتا ہے۔
حالیہ آپریشن بنیان المرصوص کے دوران افواجِ پاکستان نے جس عزم، پیشہ ورانہ مہارت، حکمتِ عملی اور بہادری کا مظاہرہ کیا، اس نے ایک مرتبہ پھر دنیا کے سامنے پاکستان کی دفاعی صلاحیت اور قومی عزم کو اجاگر کیا۔ دشمن کے مقابلے میں مؤثر اور فیصلہ کن جواب نے عالمی سطح پر پاکستان کے دفاعی وقار اور قومی اعتماد کو تقویت دی۔
انجمن امامیہ بلتستان اس امر پر زور دیتی ہے کہ دفاعِ وطن صرف افواج کی ذمہ داری نہیں بلکہ پوری قوم کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ ہمیں قومی اتحاد، سیاسی و سماجی شعور، علم و تحقیق، معاشی استحکام اور باہمی احترام کے ذریعے پاکستان کو مزید مضبوط بنانا ہوگا۔ کیونکہ مضبوط سرحدوں کے ساتھ مضبوط قوم ہی ایک مستحکم اور باوقار پاکستان کی ضمانت بن سکتی ہے۔
ہم بلتستان کے ان تمام سپوتوں کو خصوصی خراجِ عقیدت پیش کرتے ہیں جنہوں نے وطن عزیز کے دفاع میں اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا اور ان خاندانوں کو سلام پیش کرتے ہیں جنہوں نے اپنے پیاروں کی جدائی کا غم برداشت کرکے قوم کو محفوظ مستقبل عطا کیا۔
انجمن امامیہ بلتستان کا عزم ہے کہ شہداء کی قربانیوں کو فراموش نہیں ہونے دیا جائے گا، ان کی یاد کو نسل در نسل منتقل کیا جائے گا اور وطن عزیز پاکستان کی سلامتی، وحدت، ترقی اور سربلندی کے لیے ہر مثبت اور تعمیری کردار ادا کیا جائے گا۔
اللہ تعالیٰ وطنِ عزیز پاکستان کو ہمیشہ امن، استحکام، ترقی اور سربلندی عطا فرمائے، اس کے دفاع پر مامور تمام جوانوں کو اپنی حفظ و امان میں رکھے اور تمام شہداء کے درجات بلند فرمائے۔

 #سکردو: (لوگ میڈیا الیکشن سیل)حلقہ جی بی اے  9 سکردو تین کے کل ہونے والے ضمنی الیکشن کے نتائج کا فارم 47 جاری کر دیا گی...
06/09/2026

#سکردو: (لوگ میڈیا الیکشن سیل)حلقہ جی بی اے 9 سکردو تین کے کل ہونے والے ضمنی الیکشن کے نتائج کا فارم 47 جاری کر دیا گیا جس کے مطابق کامیاب ہونے والے پیپلزپارٹی کے امیدوار اختر عباس ناشاد کے حاصل کردہ ووٹوں کی تعداد 8,399 جبکہ آزاد امیدوار وزیر سلیم کو 8,094 ووٹ ملے، فارم 47 کے مطابق کامیابی کا مارجن 305 ووٹ اور ٹرن آؤٹ 51.79 فیصدرہا۔

06/09/2026

#سکردو: یوم دفاع پاکستان کے موقع پر ایڈمنسٹریشن کمپلیکس میں پرچم کشائی، پولیس کے چاق و چوبند دستے کی سلامی اور بڑی ریلی کا انعقاد۔ ریلی ہائی اسکول سکردو پہنچ کر تقریب میں تبدیل ہوگئی جہاں مقررین نے شہداء و غازیوں کو خراج عقیدت پیش کیا۔

05/09/2026

Address

Islamabad
16100

Telephone

+923445407882

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when LOG MEDIA posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to LOG MEDIA:

Shortcuts

Share