Kiyany

Kiyany کائنات کے تمام گوشے خالی ہیں، جب تک آپ کو کسی طرف اپنا محبوب چہرہ نظر نہ آئے۔ 🖤
(3)

23/08/2026

آپ کیا بننا چاہتے ہو ؟

20/08/2026

شفا انٹرنیشنل ہسپتال اسلام آباد

زبان انسان کا سب سے چھوٹا عضو ہے لیکن اس کا اثر سب سے بڑا ہے۔ یہی زبان کبھی کسی کا دل توڑ دیتی ہے اور کبھی ٹوٹے دل کو جو...
15/08/2026

زبان انسان کا سب سے چھوٹا عضو ہے لیکن اس کا اثر سب سے بڑا ہے۔ یہی زبان کبھی کسی کا دل توڑ دیتی ہے اور کبھی ٹوٹے دل کو جوڑ دیتی ہے۔ ایک جملہ رشتے بنا دیتا ہے اور ایک جملہ برسوں کے رشتے مٹی میں ملا دیتا ہے۔

ہم روزانہ سینکڑوں الفاظ بولتے ہیں لیکن سوچتے نہیں کہ یہ لفظ سامنے والے کے دل پر کیا اثر چھوڑے گا۔ غصے میں کہا گیا ایک طنز سالوں کی دوستی ختم کر دیتا ہے۔ کلاس میں استاد کا کہا ہوا ایک جملہ تم نالائق ہو کسی بچے کا اعتماد ہمیشہ کے لیے ختم کر دیتا ہے۔ گھر میں شوہر یا بیوی کا طنزیہ جملہ گھر کا سکون برباد کر دیتا ہے۔

لیکن دوسری طرف یہی زبان مرہم بھی بنتی ہے۔ ماں کا کہا ہوا بیٹا تم کر لو گے ناکام بچے کو دوبارہ کھڑا کر دیتا ہے۔ دوست کا ایک جملہ "میں تمہارے ساتھ ہوں سب سے بڑی طاقت بن جاتا ہے۔ بیمار کی عیادت میں بولا گیا اللہ شفا دے گا آدھا درد کم کر دیتا ہے۔

آج کے دور میں سوشل میڈیا نے زبان کو اور تیز کر دیا ہے۔ کمنٹ میں لکھا ایک جملہ ہزاروں لوگوں تک پہنچ جاتا ہے۔ اس لیے ہمیں ڈبل احتیاط کرنی ہے۔ تنقید کریں لیکن کردار کشی نہ کریں۔ اختلاف کریں لیکن عزت نہ اچھالیں۔

یاد رکھیں دنیا میں تلوار کے زخم بھر جاتے ہیں لیکن زبان کے زخم نسلوں تک یاد رہتے ہیں۔ اور محبت کے بولے گئے لفظ مرنے کے بعد بھی لوگوں کے دلوں میں زندہ رہتے ہیں۔
Kiyany

13/08/2026

یومِ آزادی پاکستان - 14 اگست

14 اگست کا دن صرف کیلنڈر پر ایک تاریخ نہیں ہے۔ یہ وہ دن ہے جب ایک خواب حقیقت بنا، جب لاکھوں قربانیوں کے بعد ہمیں اپنا گھر، اپنی پہچان اور اپنا پرچم ملا۔

1947 میں جب قائد اعظم محمد علی جناح کی قیادت میں مسلمانوں نے علیحدہ وطن کا مطالبہ کیا تو راستہ کانٹوں سے بھرا تھا۔ ماؤں نے بیٹے قربان کیے، بہنوں نے بھائی کھوئے، اور پناہ گزینوں کے قافلے خون میں نہاتے ہوئے اس سرزمین پر پہنچے۔ وہ سب اس لیے تھا کہ آنے والی نسلیں آزاد فضا میں سانس لے سکیں۔

آزادی کا مطلب صرف انگریزوں سے نجات نہیں تھی۔ آزادی کا مطلب تھا اپنے مذہب، اپنی ثقافت، اپنی زبان اور اپنے نظام کے ساتھ جینا۔ آج ہم جس کھلے آسمان تلے چلتے ہیں، جس اسکول میں پڑھتے ہیں، جو پرچم فخر سے لہراتے ہیں یہ سب اسی آزادی کا نتیجہ ہے۔

آج 78 سال بعد پاکستان چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے، لیکن ساتھ ہی امید بھی ہے۔ ہمارے نوجوان، ہمارے سائنسدان، ہمارے کھلاڑی اور ہمارے فنکار دنیا بھر میں ملک کا نام روشن کر رہے ہیں۔ مارگلہ سے کراچی تک، شاہدرہ سے گوادر تک ہر کونے میں کوئی نہ کوئی اس ملک کو بہتر بنانے میں لگا ہے۔

یہ سوال ہر 14 اگست کو دل میں آتا ہے۔ سچ یہ ہے کہ ترقی صرف نعروں سے نہیں آتی تعلیم اور تحقیق پر توجہ کم رہی۔ جب تک ہم اپنے بچوں کو علم اور ہنر نہیں دیں گے، آگے نہیں بڑھ سکتے ہم نے ذاتی مفاد کو اجتماعی مفاد پر ترجیح دی کرپشن اور میرٹ کی پامالی نے نظام کو کمزور کیا قومیں تب بنتی ہیں جب ہر شخص اپنی جگہ پر ذمہ داری سے کام کرے۔ بجلی بچانا، ٹیکس دینا، قانون ماننا یہی چھوٹی چیزیں بڑا فرق لاتی ہیں۔

لیکن مایوس ہونے کی ضرورت نہیں۔ دنیا کی بڑی قومیں بھی ایک دن میں نہیں بنیں۔ ہمارے پاس سب سے بڑا سرمایہ ہمارے نوجوان ہیں۔ اگر ہم نے تعلیم، ٹیکنالوجی اور کردار پر کام کیا تو ان شاءاللہ یہ کمی بھی پوری ہو جائے گی۔

آئیے آج عہد کریں کہ ہم اس پرچم کی عزت رکھیں گے، اس مٹی سے محبت کریں گے، اور اپنے عمل سے پاکستان کو ترقی کی راہ پر ڈالیں گے۔

پاکستان زندہ باد💚

کیانی رائٹس

12/08/2026

سفر انسان کو اندر سے صاف کر دیتا ہے۔ جب آپ اپنا بیگ اٹھا کر گھر سے نکلتے ہیں تو لگتا ہے جیسے دل کا بوجھ بھی وہیں چھوڑ آئے ہیں۔ نئی سڑکیں، نئی ہوائیں، انجان چہرے اور ان کی کہانیاں... سب کچھ آہستہ آہستہ آپ کو بدل دیتا ہے۔

کھڑکی کے باہر سے گزرتے پہاڑ، دریا، کھیت اور رات کے وقت شہر کی جگمگاتی روشنیاں دیکھ کر دل خود ہی ہلکا ہو جاتا ہے۔ کبھی راستے میں تھکن ہوتی ہے، کبھی چڑھائی، لیکن جب اوپر پہنچ کر سانس لیتے ہیں تو سمجھ آتا ہے کہ یہی اصل سکون ہے۔

سفر میں سب سے خوبصورت بات یہ ہے کہ آپ خود سے ملتے ہیں۔ اکیلے بیٹھ کر چائے پیتے ہوئے، کسی نئی جگہ کی خاموشی سنتے ہوئے، آپ کو پتہ چلتا ہے کہ آپ کو اصل میں کیا پسند ہے۔ بڑا سفر کرنا ضروری نہیں، کبھی شاہدرہ کا راستہ یا رملی کی پہاڑی پر شام گزار لینا بھی روح کو وہی راحت دے دیتا ہے جو دور دراز علاقوں کے پکنک پوائنٹ دیتے ہیں۔

کہتے ہیں جہاں پاؤں تھک جائیں وہیں روح کو پر لگ جاتے ہیں۔

12/08/2026

سنگتی لجپال نہ دیوے

11/08/2026

سرکاری ہسپتالوں کے لیے سٹی سکین مشینیں مہیا کر دی گئی چائینیز سٹاف بھی پہنچ گیا عوام میں خوشی کی لہر دوڑ گئی

10/08/2026

امی کے لیے
آج آپ کے دنیا سے رخصت ہوئے 40 دن ہو گئے۔ گھر اب بھی آپ کا منتظر ہے، اور دل اب بھی آپ کی آواز کا۔ آپ نے ہمیں چلنا سکھایا، گِر کر سنبھلنا سکھایا۔
اب آپ نہیں ہیں پر آپ کی دعائیں ہر قدم پر ساتھ ہیں۔ اللہ آپ کو جنت کے باغوں میں جگہ دے۔ آمین

09/08/2026

شہر کے شور سے پہاڑوں کے سکون تک

زندگی کی دوڑ میں ہم اتنے الجھ چکے ہیں کہ سانس لینے کے لیے بھی وقت نہیں ملتا۔ نوکری، مہنگائی، ٹریفک اور موبائل کی مسلسل گھنٹی نے ہمیں تھکا دیا ہے۔ لیکن اسلام آباد اور اس کے گرد و نواح میں قدرت نے ایسا علاج رکھا ہے جس کے لیے نہ کوئی فیس ہے نہ کوئی نسخہ۔ بس اپنے جوتے پہنیے اور پہاڑ کی طرف نکل پڑیے۔

پہاڑ پر چڑھتے وقت موبائل کے سگنل چلے جاتے ہیں اور ذہن کا شور بھی ۔جب آپ درختوں کے بیچ چل رہے ہوتے ہیں تو ٹینشن، پریشانی اور مستقبل کا خوف پیچھے رہ جاتا ہے۔ صرف آپ، سانس اور راستہ رہ جاتا ہے۔ایک گھنٹے کی چڑھائی جم کے دو گھنٹے کے برابر ہے۔ دل مضبوط ہوتا ہے، وزن کم ہوتا ہے اور نیند بہتر آتی ہے۔فیملی یا دوستوں کے ساتھ ٹریل پر جانے سے یادیں بنتی ہیں۔ جب آپ تھک کر بھی چوٹی پر پہنچ جاتے ہیں اور نیچے پورا شہر دیکھتے ہیں تو دل کہتا ہے اگر یہ مشکل پار کر لی تو باقی بھی کر لوں گا۔

مارگلہ ٹریل 3
یہ ٹریل سب سے زیادہ مشہور ہے۔ راستہ تھوڑا دشوار گزار ہے لیکن نتیجہ کمال کا ہے۔ تقریبا ڈیڑھ سے دو گھنٹے کی چڑھائی کے بعد آپ کو فیصل مسجد، ڈی چوک اور پورا اسلام آباد پرندے کی طرح نظر آتا ہے۔

مارگلہ ٹریل 5
اگر آپ پہلی بار جا رہے ہیں یا بچوں کے ساتھ ہیں تو یہ سب سے محفوظ اور آسان ٹریل ہے۔ راستہ سایہ دار ہے اور 45 منٹ سے ایک گھنٹے میں اوپر پہنچ جاتے ہیں۔

ہمیں سکون کے لیے کہی اور جانے کی ضرورت نہیں۔ ہمارے مارگلہ کے پہاڑ کسی سے کم نہیں۔ ہفتے میں صرف دو گھنٹے اپنے لیے نکالیں۔ موبائل بند کریں اور پہاڑ پر چڑھ جائیں۔

زندگی بھی ٹریل کی طرح ہے۔ چڑھائی میں تھکن ہوگی، سانس پھولے گا، رک کر بیٹھنے کا دل کرے گا۔ لیکن جس دن آپ ہمت نہیں ہاریں گے، اسی دن اوپر سے سب سے خوبصورت نظارہ آپ کا منتظر ہوگا۔

کیا ہمارے لیڈر واقعی ہماری فکر کرتے ہیں یا صرف ووٹ تک؟پاکستان میں ہر 5 سال بعد ایک ہی تماشا دہرایا جاتا ہے۔ گلی گلی نعرے...
08/08/2026

کیا ہمارے لیڈر واقعی ہماری فکر کرتے ہیں یا صرف ووٹ تک؟

پاکستان میں ہر 5 سال بعد ایک ہی تماشا دہرایا جاتا ہے۔ گلی گلی نعرے، دروازے دروازے وعدے، اور ہر زبان پر ایک ہی جملہ: میں آپ کا خادم ہوں۔ لیکن جیسے ہی ووٹ کا صندوق بند ہوتا ہے، وہی لیڈر، وہی وعدے، وہی عوام سب غائب۔

انتخابات سے چند ماہ پہلے پورا ملک بدل جاتا ہے۔
وعدے بجلی سستی کریں گے نوجوانوں کو روزگار دیں گے ہر گاؤں میں ہسپتال اور سڑک بنے گی ملاقاتیں کرتے ہیں لیڈر خود چائے پینے آتا ہے۔ غریب کے گھر بیٹھ کر سیلفی بنتی ہے عوام کی حکومت تبدیلی آئے گی اب ظلم نہیں سہیں گے اس وقت لگتا ہے جیسے ملک کی تقدیر واقعی بدلنے والی ہے۔

ووٹ پڑتے ہی منظر بدل جاتا ہے فون نہیں اٹھتا، دفتر میں ملاقات کے لیے مہینوں چکر لگانے پڑتے ہیں بہانے شروع ہو جاتے ہیں کہ فنڈ نہیں آیا پچھلی حکومت قرض چھوڑ گئی معاشی حالات ٹھیک نہیں وہی مہنگی ٹرانسپورٹ، وہی بند ہسپتال، وہی بے روزگار نوجوان، وہی ٹوٹی سڑکیں 5 سال بعد پھر وہی چہرے، پھر وہی وعدے، پھر وہی امید

کراچی کا مزدور 4 گھنٹے سفر کر کے کام پر جاتا ہے۔
سوات اور خضدار کا طالب علم کے لیے بنیادی سہولیات کو ترستا ہے۔ جنوبی پنجاب کا کسان اپنی فصل منڈی تک نہیں پہنچا پاتا۔ اسلام آباد، لاہور کے چند شہروں میں میٹرو اور گرین بس کو ترقی کا نام دے کر پورے ملک کو مطمئن کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔

سچ یہ ہے کہ تمام لیڈر ایک جیسے نہیں ہوتے اس ملک میں کچھ لوگ آج بھی رات 2 بجے عوام کے لیے دوڑتے ہیں، ہسپتال پہنچتے ہیں، مسائل حل کرتے ہیں۔ ان کو سلام۔ لیکن بدقسمتی سے اکثریت کے لیے ہم صرف ایک نمبر ہیں۔ ووٹ کا ہندسہ۔ الیکشن کے دن استعمال ہونے والا ہجوم۔ اس کے بعد 5 سال تک ہم ان ک کو یاد نہیں رہتے ہیں

شکایت سے ملک نہیں بدلتے، سوال سے بدلتے ہیں۔ہر لیڈر سے پوچھیں پچھلے 5 سال میں آپ نے اپنے حلقے کے لیے کیا کیا؟ لسٹ دیں ایک فرد کی آواز دب جاتی ہے۔ پورے شہر، پورے ضلع کی آواز کو ماننا پڑتا ہے ووٹ نعرے پر نہیں، کارکردگی پر دیں۔ جو کام کرے اسے ووٹ دیں اور جو صرف وعدہ کرے اس سے سوال کریں

لیڈر برے نہیں ہوتے ہم خاموش ہو جاتے ہیں۔ جس دن عوام نے سوال کرنا شروع کر دیا اس دن لیڈر کو ووٹ کے بعد بھی ہماری فکر کرنا پڑے گی ہمیں خیرات نہیں چاہیے ہمیں اپنا حق چاہیے ہمیں تصویریں نہیں چاہیے ہمیں سہولت چاہیے ہمیں نعرے نہیں چاہیے ہمیں کام چاہیے۔

کیونکہ پاکستان صرف ایک شہر کا نام نہیں پاکستان تھر سے لے کر گلگت تک، گوادر سے لے کر چترال تک ہر اس شخص کا نام ہے جو صبح روزی کے لیے نکلتا ہے
آپ کے علاقے کا لیڈر کیسا ہے ؟

Address

Street 4
Islamabad

Telephone

+923124535470

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Kiyany posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Kiyany:

Shortcuts

Share