03/05/2026
ابن الولید (خالد بن ولید رضی اللہ عنہ) ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ کو خراج تحسین پیش کرنے کیلئے نہ رکے۔ وہ گھوڑ سوار دستے کے پاس چلے گئے جو انہوں نے اس روز کی جنگ کیلئے تیار کیا تھا۔ آٹھ ہزار سواروں کے اس دستے کو دائیں پہلو پر عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کے دستوں کے عقب میں ایسی جگہ کھڑا کیا گیا تھا جہاں سے یہ دشمن کو نظر نہیں آسکتا تھا۔ خالد رضی اللہ عنہ نے اپنی تمام فوج کو سامنے کا حملہ کرنے کا حکم دے دیا۔ رومی سالار حیران ہوئے ہوں گے کہ مسلمان سالاروں کا دماغ جواب دے گیا ہے کہ انہوں نے ایک ہی بار ساری فوج حملے میں جھونک دی ہے۔ رومیوں نے یہ بھی نہ دیکھا کہ مسلمانوں کے گھوڑ سوار دستے حملے میں شریک نہیں۔ رومیوں کو یہ سب کچھ دیکھنے کی فرصت ہی نہیں ملی تھی، کیونکہ خالد رضی اللہ عنہ کے حکم کے مطابق بہت تیز حملہ کیا جا رہا تھا۔ رومیوں کی بہت سی نفری ہلاک اور شدید زخمی ہو چکی تھی۔ پھر بھی ان کی نفری مسلمانوں کی نسبت سہ گنا تھی، مسلمانوں کا جانی نقصان بھی ہوا۔ اتنی کم نفری کا اتنی بڑی تعداد پر حملہ خودکشی کے برابر تھا۔ انہیں آنے دو۔ رومی سالار ماہان چلا رہا تھا۔ ” اور آگے آنے دو دو... یہ ہمارے ہاتھوں مرنے کیلئے آ رہے آ رہے ہیں۔ “ خالد رضی اللہ عنہ آٹھ ہزار سواروں کو پیچھے لے جا کر رومیوں کے بائیں پہلو سے پرے لے گئے۔ انہوں نے سالار عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ سے کہا تھا کہ رومیوں کے اس پہلو پر تیز اور زور دار حملہ کریں۔ عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے حکم کی تعمیل کی اور جانیں لڑادیں۔ خالد رضی اللہ عنہ چاہتے تھے کہ دشمن کو پہلو کے دستوں کے سامنے سے الجھا لیا جائے۔
عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے خالد رضی اللہ عنہ کا مقصد پورا کر دیا۔ خالد رضی اللہ عنہ نے آٹھ ہزار سواروں میں سے دو ہزار سواروں کا ایک دستہ الگ کر دیا گیا تھا۔ انہوں نے جب دیکھا کہ دشمن کے پہلو کے دستے عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کے دستوں سے الجھ گئے ہیں تو چھ ہزار سواروں کے ساتھ رومیوں کے پہلو والے دستوں کے خالی پہلو کی طرف سے حملہ کر دیا۔ رومیوں کیلئے یہ حملہ غیر متوقع تھا۔ ان کے پاؤں اکھڑ گئے۔ عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے اپنے حملوں میں شدت پیدا کر دی۔ دشمن کے انہی دستوں پر سامنے سے شرحبیل بن حسنہ رضی اللہ عنہ نے بھی حملہ کیا تھا۔ خالد رضی اللہ عنہ نے جن دو ہزار سواروں کو الگ کیا تھا، انہیں حکم دیا کہ وہ دشمن کے اس سوار دستے پر حملہ کریں جو اپنے پہلو کے دستوں کی مدد کیلئے تیار کیا تھا۔ ان دو ہزار سواروں کیلئے یہ حکم تھا کہ وہ دشمن کے سوار دستے کو روک رکھیں یعنی حملہ شدید نہ کریں بلکہ دشمن کو دھوکے میں رکھیں۔ بعد میں پتا چلا کہ رومیوں کا یہ سوار دسته خاص طور پر تیار کیا گیا تھا۔ اسے ہر اس جگہ مدد کیلئے پہنچنا تھا جہاں مدد کی ضرورت تھی۔ مسلمان سواروں نے اس سوار دستے کو اس طرح الجھایا کہ حملہ کرتے اور پیچھے یا دائیں بائیں نکل جاتے، پینترا بدل کر پھر آگے بڑھتے اور ہلکی سی جھڑپ لے کر ادھر اُدھر ہو جاتے۔ خالد رضی اللہ عنہ کی یہ چال کار گر ثابت ہوئی۔ انہوں نے دشمن کے مقابلے میں اتنی کم تعداد کو ایسی عقلمندی سے استعمال کیا تھا کہ دشمن کے پہلو کے دستوں کے پاؤں اکھڑ گئے۔ ان دستوں کو توقع تھی کہ مشکل کے وقت سوار دستے مدد کو آجائیں گے لیکن مدد کو آنے والے سواروں کو خالد رضی اللہ عنہ کے دو ہزار سواروں نے آنکھ مچولی جیسی جھڑپوں میں الجھا رکھا تھا۔ دشمن کے پہلو کے دستے ایک بار پیچھے ہٹے تو خالد رضی اللہ عنہ نے چھ ہزار سواروں سے حملے میں شدت پیدا کر دی، ماہان نے خود آکر اپنے دستوں کو جم کر لڑانے کی کوشش کی لیکن اس کا سوار دستہ بری طرح بکھرنے اور پیچھے ہٹنے لگا۔ پیادہ دستے سوار دستوں کی مدد بغیر لڑ نہیں سکتے تھے، وہ بے طرح بکھرنے اور بھاگنے لگے۔ بھاگنے والے پیادہ دستے آرمینی تھے۔ مؤرخ لکھتے ہیں کہ ان کے بھاگنے کی ایک وجہ تو مسلمانوں کے سوار دستے کا حملہ تھا اور ان پر سامنے سے بھی بہت زیادہ دباؤ پڑ رہا تھا، اور دوسری وجہ یہ تھی کہ آرمینی سالاروں نے محسوس کیا کہ انہیں دانستہ سواروں کی مدد سے محروم رکھا جا رہا ہے۔ ان کے پیچھے عیسائی عرب تھے۔ جن کا سالار جبلہ بن الامیم تھا۔ انہوں نے بھی رسالے کی مدد نہ آنے کو غلط سمجھا اور لڑنے سے منہ موڑ گئے۔ مؤرخ لکھتے ہیں کہ آرمینیوں اور عیسائیوں کی پسپائی بھگدڑ کی مانند تھی۔ مؤرخوں نے اسے سیلاب بھی کہا ہے جس کے آگے جو کچھ بھی آتا ہے سیلاب اسے اپنے ساتھ بہا لے جاتا ہے۔ رومیوں کے بائیں پہلو سے بھاگنے والوں کی تعداد چالیس ہزار بتائی گئی ہے، چالیس ہزار انسانوں کی بھگدڑ ایسا بے قابو سیلاب تھا جو اپنے سالاروں کو بھی اپنے ساتھ بہا لے گیا، یہاں تک کہ سالار اعلیٰ ماہان جو ابھی میدان نہیں چھوڑنا چاہتا تھا اپنے محافظوں سمیت اس سیلاب کی لپیٹ میں آگیا اور بہتا چلا گیا۔ یہ کامیابی خالد رضی اللہ عنہ کی عسکری دانش کا حاصل تھی۔ انہوں نے دشمن کے پیادوں کو سواروں کی مدد سے محروم کر دیا تھا اور سواروں سے پیاروں پر ہلہ بول دیا تھا۔ خالد رضی اللہ عنہ کے آگے بڑھنے کا رخ ماہان اور اس کے دو ہزار سوار محافظوں کی طرف تھا۔ ادھر ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ اور یزید بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ اپنے سامنے کے دستوں پر اس انداز سے حملے کر رہے تھے کہ بھر پور لڑائی بھی نہیں لڑتے تھے اور پیچھے بھی نہیں بٹتے تھے۔ ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ نے دشمن کے ان دستوں کو روکا ہوا تھا جو زنجیروں میں بندھے ہوئے تھے۔ یہ دستے تیزی سے آگے پیچھے نہیں ہو سکتے تھے۔
خالد رضی اللہ عنہ دشمن کے اس رسالے کو جس نے سارے محاذ کو مدد دینی تھی، بکھیر کر بھگا چکے تھے۔ اس رسالے کو کھل کر لڑنے کا موقع ہی نہیں دیا گیا تھا۔ خالد رضی اللہ عنہ اب اپنے رسالے (سوار دستے) کے ساتھ رومیوں کے عقب میں چلے گئے تھے۔ انہوں نے عقب سے حملہ کر دیا۔ یہ رومی فوج کا دوسرا حصہ تھا۔ اس پر اپنے بائیں پہلو کے دستوں اور سوار دستوں کے بھاگنے کا بہت برا اثر پڑ چکا تھا۔ ماہان کے غائب ہو جانے کی وجہ سے مرکزیت بھی ختم ہو گئی تھی۔ اب سالار اپنی اپنی لڑائی لڑ ہے تھے۔ وہ اب صرف دفاع میں لڑ سکتے تھے۔ کسی بھی فوج کا بڑا حصہ بھاگ نکلے اور کمک کی امید نہ رہے تو اس صورت میں یہی ہو سکتا ہے کہ اپنی جانیں بچانے کیلئے لڑا جاتا ہے اور موقع ملتے ہی پسپائی اختیار کی جاتی ہے۔ رومی لشکر کیلئے یہ صورت حال پیدا ہو چکی تھی۔ خالد رضی اللہ عنہ نے دشمن کے بھاگنے کے راستے روک لیے تھے سوائے ایک ، کہ خالد رضی اللہ عنہ کی بھی یہی کوشش تھی کہ رومی اسی راستے سے بھاگیں۔ چنانچہ دشمن کے بھاگنے والے دستے اسی راستے پر جارہے تھے۔ رومی فوج بھی پسپا ہو رہی تھی لیکن منظم طریقہ سے۔ اس کا کچھ حصہ بھگدڑ میں بہہ گیا تھا۔ زیادہ تعداد منظم انداز سے پسپا ہوئی۔ خالد رضی اللہ عنہ نے اس تمام علاقے کی زمین کو دور دور تک دیکھ لیا تھا اور انہوں نے اس زمین سے فائدہ اٹھانے کیلئے اور جو کچھ سوچ لیا تھا وہ کسی عام دماغ میں نہیں آسکتا تھا۔ رومی لشکر جب بھاگ رہا تھا تو خالد رضی اللہ عنہ کے حکم سے ان کے دستے بھاگنے والوں کا تعاقب کر کے ایک خاص طرف جانے پر مجبور کر رہے تھے۔ اس طرف وادی الرقاد تھی جس میں ایک ندی بہتی تھی اور اس وادی کے خدوخال کچھ اس طرح تھے۔ وادی ارد گرد کی زمین سے گہرائی میں چلی جاتی تھی۔ اس کی ایک طرف کی ڈھلان تو ٹھیک تھی لیکن اس کے بالمقابل کی ڈھلان زیادہ تر سیدھی تھی۔ وہاں سے اوپر چڑھا تو جا سکتا تھا لیکن بہت مشکل سے۔ رومی فوج کے باقاعدہ دستے اس طرف چلے گئے۔ ان کے سامنے ایک یہی راستہ تھا۔ وہ آسان ڈھلان اتر گئے اور انہوں نے ندی بھی پار کر لی۔ جب وہ دوسری ڈھلان چڑھنے لگے تو مشکل پیش آئی۔ آہستہ آہستہ اوپر چلے گئے۔ اچانک اوپر سے نعرے بلند ہوئے اور للکار سنائی دی۔ نعرے لگانے والے مسلمان سوار تھے، اور ان کے سالار ضرار بن الازور رضی اللہ عنہ تھے۔ ان کا جسم ناف کے اوپر سے ننگا تھا۔ خالد رضی اللہ عنہ نے رات کو جو منصوبہ بنایا تھا اس کے مطابق انہوں نے اسی وقت ضرار رضی اللہ عنہ کو پانچ سو سوار دے کر وادی الرقاد کے دوسرے کنارے پر بھیج دیا اور اچھی طرح سمجھا دیا تھا کہ انہیں کیا کرنا ہے۔ خالد رضی اللہ عنہ نے جیسے سوچا تھا ویسا ہی ہوا۔ رومی فوج کی دراصل کوشش یہی تھی کہ کے تعاقب میں جو مسلمان آرہے ہیں، ان سے بہت فاصلہ رکھا جائے۔ اس لیے وہ بہت جلدی میں جا رہے تھے۔ خالد رضی اللہ عنہ نے تعاقب اس مقصد کیلئے جاری رکھا تھا کہ رومی فوج جلدی میں رہے۔ اس مقصد میں کامیابی یوں ہوئی کہ رومی اوپر گئے تو اوپر ضرار رضی اللہ عنہ کے پانچ سو سوار برچھیاں تانے کھڑے تھے۔ رومی جو اوپر چلے گئے وہ مسلمانوں کے ہاتھوں مارے گئے اور جو ابھی اوپر جا رہے تھے وہ پیچھے مڑے لیکن عمودی کنارے سے وہ تیزی سے نہیں آسکتے تھے۔ مسلمانوں نے ان پر پتھر برسانے شروع کر دیئے، جو انہوں نے اسی مقصد کیلئے اکٹھے کر رکھے تھے۔ اوپر والے گرتے اور لڑھکتے ہوئے نیچے جاتے تھے۔ اوپر سے ان پر وزنی پتھر کرتے تھے۔ ان میں گھوڑ سوار بھی تھے۔ گھوڑے بھی گرے اور پیادے ان کے نیچے آکر مرنے لگے۔
رومی کچھ کم تو نہ تھے، ابھی ایک بڑی تعداد ندی تک نہ پہنچی تھی۔ رومی سالاروں نے اپنے آگے جانے والوں کی تباہی دیکھی تو اپنے دستوں کو آگے جانے سے روک دیا اور وادی میں اترنے کے بجائے انہیں اوپر صف آراء کر دیا۔ وہ لڑ کر مرنا چاہتے تھے۔ آرمینیوں اور عیسائی عربوں کی بھی کچھ نفری ان سے آملی تھی۔ یہ نفری بھاگ رہی تھی اور مسلمان انہیں وادی کی طرف لے آئے تھے۔ خالد رضی اللہ عنہ اپنی فوج کے ساتھ تھے۔ انہوں نے دشمن کو صف آراء دیکھا تو اپنے سالاروں کو بلا کر کہا کہ دشمن پر حملہ کر دیں۔ ان میں لڑنے کا دم نہیں رہا۔ خالد رضی اللہ عنہ نے کہا۔ ”سیدھا حملہ کرو۔ میرے حکم کا انتظار نہیں کرنا۔ ان کیلئے پیچھے ہٹنے کی جگہ نہیں ہے۔ ایک طرف دریا ( یرموک) ہے ، دوسری طرف گہری وادی ہے۔ سامنے ہم کھڑے ہیں۔ ان پر ہلہ بول دو۔ رومی پھندے میں آگئے تھے۔ ان کا لڑنے کا جذبہ پہلے ہی ختم ہو چکا تھا۔ بعض مؤرخوں نے مسلمانوں کی تعداد تیس ہزار اور دو نے اس سے کچھ کم لکھی ہے۔ شہادت اور شدید زخمیوں کی وجہ سے نفری کم ہو گئی تھی۔ ایک دستے کو عورتوں اور بچوں کی حفاظت کیلئے پیچھے چھوڑ دیا گیا تھا۔ مسلمانوں نے حملہ کر دیا۔ اس میں کوئی چال نہ چلی گئی، اس حملے کا انداز ٹوٹ پڑنے جیسا تھا۔ سوار اور پیادے گڈ مڈ ہو گئے تھے، رومی اب زندگی اور موت کا معرکہ لڑنے کیلئے تیار ہو گئے تھے۔ وہ تو تربیت یافتہ فوج تھی۔ اس فوج کی اگلی صف نے مسلمانوں کا جم کر مقابلہ کیا لیکن وہ جگہ ایسی تھی جہاں دائیں بائیں ہونے اور گھوم پھر کر لڑنے کی گنجائش نہیں تھی۔ اس وجہ سے رومی اپنے ہی ساتھیوں کے ساتھ ٹکرانے اور ایک دوسرے کیلئے رکاوٹ بننے لگے۔ یہ صورت حال مسلمانوں کیلئے سودمند تھی۔ رومیوں کی اگلی صف نے مقابلہ تو کیا لیکن اس کا کوئی ایک بھی آدمی زندہ نہ رہا۔ مسلمان سواروں نے رومی پیادوں پر گھوڑے چڑھا دیئے اور انہیں صحیح معنوں میں کچل ڈالا، جہاں جگہ کچھ کشادہ تھی۔ وہاں رومیوں نے مقابلہ کیا لیکن مؤرخوں کے مطابق، یوں بھی ہوا کہ گرد و غبار میں رومیوں نے رومیوں کو ہی کاٹ ڈالا۔ اپنے پرائے کی پہچان نہ رہی۔ یہ بڑا خوفناک معرکہ تھا۔ بڑی بھیانک لڑائی تھی۔ یہ رومیوں، عیسائی عربوں اور ان کے اتحادی قبیلوں کا قتل عام تھا۔ ”گھوڑوں کو اٹھا کر ان پر گراؤ۔“ یہ خالد رضی اللہ عنہ کی للکار تھی۔ ” مومنین! کفر کی چٹانوں کو پیس ڈالو۔ مسلمان سوار باگوں کو جھٹکا دیتے تو گھوڑے اپنی اگلی ٹانگیں اٹھا لیتے اور جب گھوڑے ٹانگیں نیچے لاتے تو ایک دو رومی کچلے جاتے۔ یہ تو رومیوں کا قتل عام تھا۔ رومی وادی الرقاد کی طرف بھاگ رہے تھے جہاں وہ اگلے عمودی کنارے کی ایک گھائی چڑھتے تو ضرار کے سواروں کی برچھیوں سے چھلنی ہوتے اور اوپر سے لڑھکتے ہوئے نیچے آتے۔ مسلمانوں نے اس فتح کیلئے بہت سی جانیں قربان کی تھیں اور جو شدید زخمی ہوئے تھے ان میں کئی ایک ساری عمر کیلئے معذور ہو گئے تھے۔ یہ جنگ مسلمان عورتیں بھی لڑی تھیں۔ عورتوں نے اپنے بھاگتے مردوں کو دھمکیاں دے کر بھاگنے سے روکا تھا۔ اب وہ دشمن جو اسلام کو ہمیشہ کیلئے ختم کرنے کے ارادے سے ڈیڑھ لاکھ کا لشکر لایا تھا۔ بڑے بڑے پھندے میں آگیا تھا۔ وادی الرقاد اس کیلئے موت کی وادی بن گئی تھی۔ اللہ نے مومنین کی وہ دعائیں قبول کر لی تھیں جو وہ راتوں کو جاگ جاگ کر مانگتے اور اللہ کے حضور گڑ گڑاتے رہے تھے۔ وہ ایک آیت کا ورد کرتے رہے تھے: ”کتنی ہی بار چھوٹی چھوٹی جماعتیں اللہ کے چاہنے سے بڑی بڑی جماعتوں پر غالب آئی ہیں۔ اللہ صبر و استقامت والوں کا ساتھ دیتا ہے۔ قرآن حکیم ۲/۲۴۹ اب میدانِ جنگ کی یہ کیفیت ہو چکی تھی کہ رومیوں کی چیخیں اٹھتی تھیں جو مسلمانوں کے نعروں میں دب جاتی تھیں۔ داوی میں گہری کھائیاں بھی تھیں، بعض رومی ان میں بھی گرے اور بڑی بری موت مرے۔
جنگ یرموک کے چھٹے اور آخری روز کا سورج میدانِ جنگ کے گردو غبار میں ڈوب گیا۔واللہ اعلم بالصواب ۔
امید ہے آج آپ کے دل کو سکون ملا ہو گا کیونکہ پچھلے دو دن کے معاملات بہت پریشان کرنے والے تھے ۔اگر قسط مکمل پڑھ لیں تو اسے شئیر کر دیں اللہ آپ کو جزا عطا فرمائے۔
゚