Pride Store

وہ آدمی جو خود کو دنیا سے مٹا کر جنگل کا سایہ بن گیا1986 کی ایک خاموش صبح تھی۔ کرسٹوفر نائٹ نامی ایک 20 سالہ نوجوان نے ا...
01/03/2026

وہ آدمی جو خود کو دنیا سے مٹا کر جنگل کا سایہ بن گیا

1986 کی ایک خاموش صبح تھی۔ کرسٹوفر نائٹ نامی ایک 20 سالہ نوجوان نے اپنی گاڑی امریکہ کی ریاست مین (Maine) کی ایک سنسان سڑک پر لا کر روکی۔ اس نے انجن بند کیا، چابیاں گاڑی میں ہی چھوڑ دیں، اور بغیر کسی کو الوداع کہے جنگل کی طرف چل دیا۔

اس کے قدم درختوں کے درمیان گم ہو گئے۔
اور اس کے بعد، وہ خود بھی دنیا سے گم ہو گیا۔

کوئی خط نہیں۔
کوئی وضاحت نہیں۔
کوئی نشان نہیں۔

بس ایک خاموش غائب ہو جانا۔
تحریر : Kashif Ali

جنگل کی خاموشی میں گزرتے 27 سال

جنگل کے اندر زندگی کوئی کہانی نہیں ہوتی، بلکہ ایک مسلسل آزمائش ہوتی ہے۔
برف سے جمی ہوئی سردیاں، جہاں سانس بھی دھند بن کر جم جاتی ہے۔
گرمیاں، جہاں مچھروں کی فوج انسان کو ایک زندہ جسم کی یاد دلاتی رہتی ہے۔

مگر کرسٹوفر نائٹ نے یہ سب برداشت کیا۔

اس نے جنگل کے اندر ایک خفیہ کیمپ بنا لیا، جو درختوں اور جھاڑیوں کے پیچھے اس طرح چھپا ہوا تھا کہ کوئی اسے دیکھ نہیں سکتا تھا۔

وہ دن میں تقریباً کبھی حرکت نہیں کرتا تھا۔
رات اس کی ساتھی تھی۔
اندھیرا اس کی پناہ تھا۔

وقت گزرتا رہا۔
مہینے سال بن گئے۔
اور سال دہائیوں میں بدل گئے۔

زندہ رہنے کی خاموش چوری

زندہ رہنے کے لیے اسے خوراک، بیٹریاں، کتابیں، اور ایندھن چاہیے تھا۔
مگر وہ کسی دکان پر نہیں جا سکتا تھا۔

چنانچہ وہ رات کے اندھیرے میں قریبی کیبنز تک جاتا۔
خاموشی سے دروازے کھولتا۔
صرف وہ چیزیں لیتا جو زندہ رہنے کے لیے ضروری ہوتیں۔

خوراک۔
پروپین۔
بیٹریاں۔
کتابیں۔

مگر اس نے کبھی کوئی ذاتی یا جذباتی چیز نہیں لی۔
کوئی تصویر نہیں۔
کوئی یادگار نہیں۔

27 سالوں میں اس نے ایک ہزار سے زیادہ چوریاں کیں۔
اور پھر بھی، کسی نے اسے نہیں دیکھا۔

لوگ کہتے تھے، جنگل میں ایک سایہ ہے۔
ایک ایسا وجود جو آتا ہے، اور بغیر نشان چھوڑے غائب ہو جاتا ہے۔

اسی لیے اسے ایک نام دیا گیا —
“نارتھ پانڈ ہرمیٹ”

گرفتاری — جب سایہ آخرکار نظر آ گیا

2013 میں، ایک رات وہ ایک سمر کیمپ میں داخل ہوا، جیسے وہ برسوں سے کرتا آیا تھا۔
مگر اس بار قسمت اس کے ساتھ نہیں تھی۔

وہ پکڑا گیا۔

27 سال بعد، پہلی بار، وہ دوبارہ انسانوں کے درمیان کھڑا تھا۔

جب اس سے پوچھا گیا:
“تم یہاں کتنے عرصے سے رہ رہے ہو؟”

اس نے سادہ لہجے میں جواب دیا:

“اسی کی دہائی سے۔”

نہ کوئی فخر۔
نہ کوئی افسوس۔

بس ایک سادہ حقیقت۔

ایک انسان، جو خود اپنی کہانی بن گیا

27 سال…
بغیر کسی دوست کے۔
بغیر کسی خاندان کے۔
بغیر کسی آواز کے۔

وہ نہ مکمل طور پر غائب ہوا،
نہ مکمل طور پر موجود رہا۔

وہ جنگل کا حصہ بن گیا تھا۔
ایک سایہ۔
ایک خاموش راز۔

اور جب وہ واپس آیا،
تو دنیا بدل چکی تھی —
مگر اس کے اندر وہی خاموشی ابھی تک زندہ تھی۔



سب کو چیلنج ہے یہ جو امپائر کے ہاتھ میں چیز ہےیہ کیوں استعمال ہوتا ہے اگر کسی بھائی نے درست فرمایا تو 1500 روپے انعام مل...
27/02/2026

سب کو چیلنج ہے یہ جو امپائر کے ہاتھ میں چیز ہے
یہ کیوں استعمال ہوتا ہے اگر کسی بھائی نے درست
فرمایا تو 1500 روپے انعام ملے گا 💸
کمنٹ میں درست جواب لکھیں
اپنا (EasyPaisa) اکاؤنٹ نمبر ان باکس کریں
دیکھتے ہیں کون جیتے گا 1500




جنگ بندی کے لیے افـغـانـسـتان کی جانب سے مختلف پوسٹس پر سفید پرچم لہرائے گٸے۔
27/02/2026

جنگ بندی کے لیے افـغـانـسـتان کی جانب سے مختلف پوسٹس پر سفید پرچم لہرائے گٸے۔



🚨 کیا بٹ کوائن کا پراسرار بانی واپس آ گیا ہے؟ یا یہ کوئی گہری سازش ہے؟ 🚨​کیا آپ جانتے ہیں کہ دنیا کا سب سے پہلا بٹ کوائن...
27/02/2026

🚨 کیا بٹ کوائن کا پراسرار بانی واپس آ گیا ہے؟ یا یہ کوئی گہری سازش ہے؟ 🚨
​کیا آپ جانتے ہیں کہ دنیا کا سب سے پہلا بٹ کوائن والیٹ آج بھی ایکٹو ہے؟ جی ہاں! یہ والیٹ بٹ کوائن کے گمنام بانی ستوشی ناکاموتو کا ہے (ایڈریس: 1A1zP1eP5QGefi2DMPTfTL5SLmv7DivfNa)۔
​لیکن اس وقت پوری کرپٹو دنیا میں ہنگامہ برپا ہے! 🤯
اس پراسرار والیٹ میں، جس سے پچھلے 15 سالوں میں ایک روپیہ نہیں نکالا گیا، اچانک کوئی گمنام شخص کروڑوں روپے مالیت کے بٹ کوائن ٹرانسفر کر رہا ہے!
​آخر یہ کون کر رہا ہے؟
کیا ستوشی ناکاموتو جاگ چکا ہے؟
کیا کوئی ارب پتی ہیکر دنیا کو کوئی پیغام دینا چاہتا ہے؟
یا پھر لوگ اندھے عقیدے کے تحت اس "ڈیجیٹل مزار" پر کروڑوں کا نذرانہ چڑھا رہے ہیں؟ 💸
​حیرت کی بات یہ ہے کہ اس والیٹ میں جانے والا پیسہ کبھی واپس نہیں آ سکتا۔ کروڑوں روپے ہمیشہ کے لیے ایک ایسے ڈیجیٹل بلیک ہول میں جا رہے ہیں جس کی چابی کسی کے پاس نہیں!
​آپ کے خیال میں اس سب کے پیچھے کیا راز ہو سکتا ہے؟ کمنٹس میں اپنی رائے ضرور بتائیں! 👇

مولانا عبیداللہ سندھی ایک انقلاب آفریں شخصیت۔۔ ✍️مولانا عبیداللہ سندھی برصغیر کی تحریکِ آزادی کے ان چند چوٹی کے رہنماؤں ...
22/02/2026

مولانا عبیداللہ سندھی ایک انقلاب آفریں شخصیت۔۔ ✍️
مولانا عبیداللہ سندھی برصغیر کی تحریکِ آزادی کے ان چند چوٹی کے رہنماؤں میں سے ہیں جنہوں نے نہ صرف عملی طور پر انگریز کے خلاف جدوجہد کی، بلکہ ایک ایسی انقلابی فکر پیش کی جس میں اسلام کے آفاقی اصولوں اور جدید سیاسی و معاشی نظام کا حسین امتزاج تھا۔
​ابتدائی زندگی اور قبولِ اسلام
​مولانا عبیداللہ سندھی 10 مارچ 1872ء کو ضلع سیالکوٹ کے ایک گاؤں "چٹھہ" میں ایک سکھ خاندان میں پیدا ہوئے۔ ان کا پیدائشی نام بوٹا سنگھ تھا۔
​تعلیم اور تبدیلیِ مذہب: دورانِ تعلیم انہوں نے "تحفۃ الہند" اور "شاہ ولی اللہ" کی کتب کا مطالعہ کیا، جس سے متاثر ہو کر انہوں نے 15 سال کی عمر میں اسلام قبول کیا۔
​سندھ ہجرت: قبولِ اسلام کے بعد وہ سندھ منتقل ہو گئے (جس کی وجہ سے وہ 'سندی' کہلائے) اور وہاں بھرچونڈی شریف کے بزرگوں سے فیض حاصل کیا۔
​دارالعلوم دیوبند اور ریشمی رومال تحریک
​مولانا کی شخصیت کی تعمیر میں دارالعلوم دیوبند کا کلیدی کردار ہے۔ وہاں انہوں نے شیخ الہند مولانا محمود حسن سے تعلیم حاصل کی۔
​سیاسی تربیت: شیخ الہند نے انہیں سیاسی طور پر فعال کیا اور انہیں افغانستان بھیجا۔
​ریشمی رومال تحریک: مولانا اس مشہور تحریک کے مرکزی کردار تھے۔ انہوں نے کابل میں رہ کر برطانوی سامراج کے خلاف عالمی سطح پر اتحاد بنانے کی کوشش کی تاکہ ہندوستان کو آزاد کرایا جا سکے۔
​جلاوطنی اور عالمی سفر
​تحریک کی ناکامی کے بعد مولانا کو تقریباً 25 سال جلاوطنی میں گزارنے پڑے۔ اس دوران انہوں نے مختلف ممالک کا سفر کیا اور وہاں کے سیاسی نظاموں کا مطالعہ کیا:
​ کابل میں پہلی "حکومتِ موقتہ" (عارضی حکومت) قائم کی۔
​ ماسکو میں اشتراکی انقلاب کا مشاہدہ کیا اور اس کے معاشی پہلوؤں کو اسلامی تناظر میں سمجھنے کی کوشش کی۔
​مکہ مکرمہ میں طویل عرصہ قیام کیا اور شاہ ولی اللہ کے فلسفے پر گہری تحقیق کی۔
​فکرِ ولی اللہی اور سیاسی نظریہ
​مولانا عبیداللہ سندھی کا سب سے بڑا کارنامہ حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کے فلسفے کو جدید دور کے مطابق پیش کرنا تھا۔
​امام ولی اللہ کا فلسفہ: مولانا کا ماننا تھا کہ اسلام صرف عبادات کا نام نہیں بلکہ یہ ایک مکمل سماجی اور معاشی نظام ہے جو انسانیت کی فلاح (Human Welfare) پر مبنی ہے۔
​طویل جلاوطنی کے بعد 1939ء میں وہ ہندوستان واپس آئے اور اپنی زندگی کے آخری ایام علمی و سیاسی بیداری میں گزارے۔ 22 اگست 1944ء کو دین پور، ضلع رحیم یار خان میں ان کا انتقال ہوا۔
انکی ​اہم تصانیف
​شاہ ولی اللہ اور ان کا فلسفہ
​خطباتِ مولانا عبیداللہ سندھی
​کابل میں سات سال
​"مولانا عبیداللہ سندھی ایک ایسے انقلابی تھے جنہوں نے مذہب کو جمود سے نکال کر ایک متحرک قوت بنایا
زیرِ نظر تصویر مولانا کی جلا وطنی کے بعد کراچی آمد پر لی گئی۔۔۔ ✍️

شکل مومناں کرتوت کافراں دو دن قبل چکوال سے جو ایک حافظ قرآن بچے کی لاش ملی جیسے جانوروں نے نوچ نوچ کر کھایا ہوا تھا اس ک...
18/02/2026

شکل مومناں کرتوت کافراں
دو دن قبل چکوال سے جو ایک حافظ قرآن بچے کی لاش ملی جیسے جانوروں نے نوچ نوچ کر کھایا ہوا تھا اس کو مارنے والا اور کوئی نہیں اس کا ظالم سوتیلا باپ تھا جس کا نام مبشر ہے۔

اس شخص کا طریقہ واردات یہ تھا کہ یہ نکاح پہ نکاح کرتا تھا اور اس خاتون کی جائیداد ہڑپ کرتا تھا ۔

مزمل کی والدہ سے اس کا تیسرا نکاح تھا اس رات مزمل جب نانی اماں کی وفات کا سن کر گھر آیا تو اس سے پہلے مزمل کے سوتیلے باپ نے اس بچے کی والدہ پہ دباؤ ڈالا کہ

تمہارے حصے میں والد کی طرف سے جائیداد آتی ہے تو تم اسے میرے نام کردو تو مزمل کی والدہ نے کہا کہ یہ جائیداد اس بچے کی ہے ۔

تب جب مزمل نانی کا انتقال سن کر آیا تو اس رات مبشر نے ایک کام کے بہانے مزمل کو ساتھ لیا اور ایک ویرانے میں تیز دھار آلہ سے اس کی گردن اڑا دی اس کے بعد سلفیورک ایسڈ یعنی ڈال کر چہرہ مسخ کردیا ۔

اور پھر ایک کھیت کے درمیان پھینک دیا جہاں جانور پرندے اسکو نوچتے رہے ۔۔۔۔۔ کل رات پولیس نے مبشر کی لتر پریڈ کی تو اس نے تمام بات اگل دی کہ میں نے کیا ہے ۔
مزمل کی ڈیڈ باڈی دیکھ کر مجھ جیسے لاکھوں لوگوں نے انصاف کی آواز اٹھائی
اس کے بعد ابھی خبر ملی ہے کہ سی سی ڈی والوں نے مزمل کس انصاف دے دیا ہے یہ پولیس حراست سے بھاگتا ہوا مارا گیا ہے ۔
شکر ہے دل کو سکون مل گیا اور شکریہ آپ سب کی آواز اٹھانے کا ۔

یہ ظلم کی انتہا نہیں ہے تو کیا ہے ایک بچہ فائر کھا کر بھی بار بار صلح کا پیغام بھجوا رہا ہے کہ اس کی غلطی بھی نہیں ہے اس...
18/02/2026

یہ ظلم کی انتہا نہیں ہے تو کیا ہے ایک بچہ فائر کھا کر بھی بار بار صلح کا پیغام بھجوا رہا ہے کہ اس کی غلطی بھی نہیں ہے اس نے غصہ میں بدتمیزی کی پھر تم اس کو مار دیتے ہو
ایک اور حافظ قرآن بچہ پرانی رنجش کی بھینٹ چڑھ گیا
فراز نامی بچہ جس کی عمر 16 سال تھی اس کی کسی نواجوان سے بدکلامی ہوگئی ۔

بات اس حد تک بڑھی کہ انہوں نے اس بچے کو پہلے فائر مارا یہ بچہ بچ گیا اس نے ان کے ساتھ پھر بھی راضی نامہ کرنا چاہا لیکن انہوں نے رد کردیا ۔
ان کے اریسٹ ورانٹ نکلے یہاں ایس ایچ او نے فراز کو کہا کہ تم پریشان نہ ہو اب کچھ نہیں ہوگا ۔

اس کے بعد وہ لوگ ضمانت پہ رہا ہوگئے ان کا غرور اتنا زیادہ تھا کہ انہوں نے کہا کہ اس لڑکے کی اوقات ہی کیا ہے اسکو تو ہم مسل کر رکھ دیں گے

فراز جب گھر سے باہر نکلا تو انہوں نے فائرنگ کرکے اس حافظ قرآن بچے کو جان سے مار دیا جبکہ یہ بچہ رمضان کی تراویح پڑھانے کی تیاری کر رہا تھا

افسوس غریب ہونے کی وجہ سے اس کو شاید انصاف مل پائے میری گزراش میانوالی پولیس سے ہے کہ اپنا بچہ سمجھیں پہلے بھی ملزمان کو جج صاحب نے ضمانت دے دی اور اس بیچارے کو وہ جان سے مار گئے

پلیز فراز کے لیئے آواز اٹھائیں تاکہ ملزمان کو لٹکایا جائے آپ خود دیکھ لیں جب جب آواز اٹھائی ہے ملزمان یا فل فرائی ہوئے یا پکڑے گئے
فراز کا انصاف آپ کے ہاتھ میں ہے
باقی یہ وہ فراز بچہ ہے جس کو شہید کردیا گیا
😪😪😪😪😶

I've just reached 2K followers! Thank you for continuing support. I could never have made it without each and every one ...
18/02/2026

I've just reached 2K followers! Thank you for continuing support. I could never have made it without each and every one of you. 🙏🤗🎉

سیٹھ بہروز کریم کا عالی شان گھر پری زاد ڈرامے میں ایمانداری اور وفاداری کی بدولت پری زاد کو مل جاتا ہے لیکن حقیقت میں 10...
03/02/2026

سیٹھ بہروز کریم کا عالی شان گھر پری زاد ڈرامے میں ایمانداری اور وفاداری کی بدولت پری زاد کو مل جاتا ہے لیکن حقیقت میں 10 کنال کے پلاٹ پر بنا یہ شاہانہ گھر کرپشن کے پیسوں سے بنایا گیا ہے۔
نیب کے مطابق یہ رہائش گاہ دراصل کوہستان سکینڈل سے حاصل ہونے والی مبینہ کرپشن کی رقم سے تعمیر کی گئی تھی۔ یہ عالی شان بنگلہ اسلام آباد کے علاقے گلبرگ گرینز میں واقع ہے جسے پری زاد ڈرامے کی شوٹنگ کے لیے تقریباً 13 دنوں تک استعمال کیا گیا۔ اس 10 کنال کے پلاٹ کا تعمیر شدہ رقبہ تقریباً 38 ہزار مربع فٹ ہے۔
شاہانہ انداز میں تعمیر شدہ اس بنگلے میں بڑے بڑے لاؤنجز، ہالز، لانگ ڈرائنگ روم، ڈائننگ ایریا، سٹور رومز وغیرہ شامل ہیں۔ ڈرائنگ روم، ڈائننگ روم، بڑا مرکزی صحن، داخلی دروازہ، دو لاؤنج ایریاز، چار بیڈرومز، چار کار پارکنگ ایریاز، گارڈ روم، عملے کے بیٹھنے کی جگہ وغیرہ گراؤنڈ فلور پر ہیں جبکہ پہلی منزل پر چار بیڈرومز، ایک اور لاؤنج، ڈائننگ ایریا، ایک کچن، ایک بڑا سٹور روم اور دفاتر وغیرہ بھی ہیں۔
گھر میں اضافی کوریڈورز، بڑے داخلی راستے اور کھڑکیوں کے ساتھ خوبصورت روشنی اور نظاروں کے انتظامات بھی کیے گئے ہیں۔ جب یہ گھر پری زاد ڈرامے سے مشہور ہوا تو اس کی قیمت تقریباً 60 کروڑ پاکستانی روپے رکھی گئی تھی۔
تاہم اب یہ انکشاف ہوا ہے کہ یہ رہائش گاہ دراصل کوہستان سکینڈل سے حاصل ہونے والی مبینہ کرپشن کی رقم سے تعمیر کی گئی تھی۔
اب سوال یہ اٹھتا ہے کہ ایک کلرک سے شروع ہونے والا کوہستان سکینڈل 'پری زاد کے بنگلے' تک کیسے پہنچا؟ چھوٹے پیمانے سے شروع ہونے والے سکینڈل میں قریباً 40 ارب روپے کرپشن کا انکشاف کیسے ہوا؟ نیب نے دیواروں، آٹے کے ڈبوں، گھی کے ڈبوں اور پینٹ کے ڈبوں سے کروڑوں روپے کیسے نکالے؟ خفیہ مقامات پر چھپائی گئی لگژری گاڑیاں کیسے برآمد ہوئیں؟ اور ٹرک ڈرائیوروں، بینک ڈرائیوروں اور دیگر غیر متعلقہ افراد کے اکاؤنٹس میں خفیہ طور پر کروڑوں روپے کیسے پہنچے؟
ان تمام سوالوں سے متعلق اردو نیوز کے رپورٹر صالح سفیر عباسی نے تفصیلی سٹوری کی ہے جو پن کمینٹ میں موجود ہے۔ ملاحظہ فرمائیے۔



ان حضرت کے قصیدے ہمارے ملک کے بہت سارے پڑھے لکھے اور باشعور لوگ پڑھتے آئے ہیں۔ ایسے کہ جیسے حضرت بڑی ہی کوئی پہنچی ہوئی ...
03/02/2026

ان حضرت کے قصیدے ہمارے ملک کے بہت سارے پڑھے لکھے اور باشعور لوگ پڑھتے آئے ہیں۔ ایسے کہ جیسے حضرت بڑی ہی کوئی پہنچی ہوئی ہستی تھے۔ حالیہ ایپسٹیین (Epstein) فائلز میں ان حضرت کا بھی نام آیا تو کہا گیا: "اخے! جب وہ ٹھیک تھے تب کی زندگی میں ایسی حرکات میں ملوث رہے ہوں گے"۔
جنابِ بزرگوار کی اسی حالت میں تصاویر بھی منظرِ عام پر آ چکی ہیں، جہاں یہ حرکت نہ کر سکنے والا نیم مردہ جسم بھی کمسن شباب اور شراب میں ڈوبا بیٹھا ہے۔ لہٰذا، تعریف کے پل باندھتے وقت خیال کیا کریں کہ جن کو آپ اگلی نسلوں کے لیے ہیرو بنا کر پیش کر رہے ہیں، ان کی تاریک حقیقت بھی مدنظر رہے تاکہ صحیح اور غلط کی پہچان باقی رہے۔ ایک بات تو ثابت ہوتی ہے اس سے کہ جس کی فطرت میں حرام ہو، وہ بسترِ مرگ پر بھی اس سے باز نہیں آئے گا۔



02/02/2026

‏اُن لوگوں کو کبھی مت بھولیں جنہوں نے مشکل وقت میں آپ کی مشکلات میں مزید اضافہ کیا. 🙂‍↔️

28/01/2026

اج کل یہ کیس بہت دیکھنے کو مل رہے ہیں پاکستان میں




Address

Rahimyar Khan

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Pride Store posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Pride Store:

Share