Roznama Such News

Roznama Such News Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Roznama Such News, News & Media Website, Islamabad.

روزنامہ سچ نیوز – حق و سچ کا علمبردار۔
We Discover The Truth, Roznama Such Crime News, Pakistani News Paper, Online Urdu Newspaper Of Pakistan, Islamabad News, Azad Kashmir News, & All Citys News

سیاست میں برداشت کا فقدان تحریر: انزلہ صدیقی انسانی معاشرے کی بنیاد جس بنیادی اینٹ پر رکھی گئی ہے، اسے 'برداشت' کہتے ہیں...
19/08/2026

سیاست میں برداشت کا فقدان
تحریر: انزلہ صدیقی

انسانی معاشرے کی بنیاد جس بنیادی اینٹ پر رکھی گئی ہے، اسے 'برداشت' کہتے ہیں۔ کائنات کا پورا نظام ایک خاص توازن اور باہمی ہم آہنگی سے چل رہا ہے۔ درخت زمین سے جڑے ہیں، دریا اپنے راستوں پر رواں ہیں، اور رات دن کو راستہ دے رہی ہے۔ اس پورے نظام میں ایک دوسرے کے وجود کو تسلیم کرنے کا ایک خاموش معاہدہ موجود ہے۔ لیکن جب ہم انسانی معاشرت، اور بالخصوص اپنے سیاسی منظر نامے پر نگاہ ڈالتے ہیں، تو روح کانپ اٹھتی ہے۔ ایسا لگتا ہے جیسے ہم نے اختلافِ رائے کو ایک گناہِ کبیرہ بنا دیا ہے اور سیاست، جو کبھی نظریات کی جنگ اور عوامی خدمت کا ذریعہ ہوا کرتی تھی، اب محض ذاتی دشمنی اور انا کا اکھاڑا بن چکی ہے۔ سیاست میں برداشت کا یہ فقدان ہمارے پورے معاشرتی ڈھانچے کو دیمک کی طرح چاٹ رہا ہے۔

اگر ہم ماضی کے دریچوں میں جھانکیں، تو سیاست کا ایک انتہائی خوبصورت اور باوقار چہرہ سامنے آتا ہے۔ ایک ایسا دور بھی تھا جب سیاسی رہنما پارلیمنٹ کے اندر ایک دوسرے پر سخت ترین تنقید کرتے تھے، لیکن جیسے ہی ایوان سے باہر نکلتے، تو ایک دوسرے کے ساتھ چائے کی پیالی پر بیٹھ کر مسکراتے ہوئے گفتگو کرتے تھے۔ وہ نظریات کے مخالف تھے، ایک دوسرے کے وجود کے دشمن نہیں تھے۔ ان کا لہجہ تلخ ضرور ہوتا تھا، لیکن اس تلخی میں بھی ایک رکھ رکھاؤ، ایک تہذیب اور ایک ادبی چاشنی ہوا کرتی تھی۔ وہ لفظوں کا چناؤ اس طرح کرتے تھے کہ بات بھی پوری ہو جائے اور سامنے والے کی عزتِ نفس پر حرف بھی نہ آئے۔ مگر آج کا سیاسی منظر نامہ اس کے بالکل برعکس ہے۔ اب گفتگو میں دلیل کی جگہ چیخ و پکار نے لے لی ہے ۔

کسی بھی معاشرے کی پختگی کا اندازہ اس بات سے نہیں لگایا جاتا کہ وہاں سب کی رائے ایک ہے، بلکہ اس بات سے لگایا جاتا ہے کہ وہاں مختلف آراء کو کتنی عزت اور احترام کے ساتھ سنا جاتا ہے۔

برداشت کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ آپ دوسرے کی بات سے اتفاق کریں۔ برداشت کا اصل مفہوم یہ ہے کہ آپ کو دوسرے کے اختلاف کرنے کے حق کو تسلیم کرنا ہوگا۔ جمہوریت کا حسن ہی اس بات میں ہے کہ یہاں ہر رنگ، ہر نسل اور ہر نظریے کے انسان کو اپنی آواز اٹھانے کا حق حاصل ہو۔ جب ہم سیاست سے اس حسن کو چھین لیتے ہیں، تو جمہوریت ایک ایسی آمریت کی شکل اختیار کر لیتی ہے جہاں صرف ایک ہی آواز کو درست مانا جاتا ہے۔ آج ہماری سیاست میں یہ چلن عام ہو چکا ہے کہ جو میرے ساتھ نہیں، وہ ملک کا خیر خواہ نہیں ہو سکتا۔ یہ سوچ انتہائی خطرناک ہے، کیونکہ یہ معاشرے کو دو حصوں میں تقسیم کر دیتی ہے اور محبتوں کی جگہ نفرتوں کی دیواریں کھڑی کر دیتی ہے۔

اس پورے منظر نامے میں سوشل میڈیا نے جلتی پر تیل کا کام کیا ہے۔ جہاں ٹیکنالوجی کو انسانوں کو قریب لانا چاہیے تھا، وہاں اس نے فاصلوں اور تلخیوں میں بے پناہ اضافہ کر دیا ہے۔ آج ہر شخص اپنے ہاتھ میں ایک ورچوئل ہتھیار لیے بیٹھا ہے اور جیسے ہی کسی کی رائے اس کی پسند کے معیار پر پوری نہیں اترتی، وہ اس پر لفظی گولیوں کی بوچھاڑ کر دیتا ہے۔

نرم اور دھیمے لہجے کی طاقت ہمیشہ چنگھاڑنے والی آواز سے زیادہ ہوتی ہے۔ جب آپ دھیمے لہجے میں دلیل کے ساتھ بات کرتے ہیں، تو وہ سننے والے کے دل میں اترتی ہے۔ لیکن جب آپ چیخ کر اپنی بات منوانے کی کوشش کرتے ہیں، تو سامنے والا آپ کی بات سننے کے بجائے اپنے دفاع کی دیواریں اونچی کر لیتا ہے۔ ہماری سیاسی قیادت کو یہ سمجھنے کی سخت ضرورت ہے کہ ان کا ہر بول، ان کا ہر عمل اور ان کا ہر اشارہ لاکھوں انسانوں کے رویوں کی تشکیل کرتا ہے۔ اگر قیادت خود ٹی وی اسکرینوں پر بیٹھ کر غصے، نفرت اور عدم برداشت کا مظاہرہ کرے گی، تو گلی محلوں میں رہنے والے عام کارکن سے تہذیب کی امید کیسے رکھی جا سکتی ہے؟

سیاست میں برداشت کے اس فقدان نے ہماری نوجوان نسل کو سب سے زیادہ متاثر کیا ہے۔ نوجوان، جو کسی بھی قوم کا مستقبل ہوتے ہیں، اب سیاست کو ایک تعمیری عمل کے بجائے ایک تخریبی کھیل سمجھنے لگے ہیں۔ ان کے ذہنوں میں یہ بات بیٹھ رہی ہے کہ کامیابی حاصل کرنے کے لیے بدتمیزی، جارحیت اور دوسروں کو نیچا دکھانا ضروری ہے۔ یہ ایک ایسی فکری پستی ہے جس کے نتائج ہمیں آنے والی کئی دہائیوں تک بھگتنا پڑیں گے۔ اگر ہم نے اب بھی اپنے رویوں پر نظرِ ثانی نہ کی، تو ہم ایک ایسا معاشرہ بن جائیں گے جہاں امن و آشتی کا تصور صرف کتابوں تک محدود رہ جائے گا۔

اختلاف کا ہونا زندگی کی علامت ہے۔ اگر اس دنیا میں سب لوگ ایک ہی جیسا سوچنے لگیں، تو یہ کائنات بے رنگ اور بے جان ہو جائے۔ فکر کا یہ تنوع ہی انسانی ارتقاء کا ضامن ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم سیاست میں مکالمے کی روایت کو دوبارہ زندہ کریں۔ مکالمہ وہ راستہ ہے جہاں دو مختلف سوچ کے حامل افراد ایک دوسرے کے سامنے بیٹھتے ہیں، اپنی بات کہتے ہیں اور دوسرے کی بات کو ٹھنڈے دل سے سنتے ہیں۔ مکالمے کا مقصد کسی کو ہرانا یا خود کو سچا ثابت کرنا نہیں ہوتا، بلکہ اس کا مقصد ایک درمیانی راستہ تلاش کرنا ہوتا ہے جہاں سب کا بھلا ہو۔

آئیے، ایک لمحے کے لیے رکیں اور سوچیں کہ ہم اپنے ملک کو کس سمت لے کر جا رہے ہیں۔ سیاست اقتدار کے حصول کا نام نہیں، بلکہ یہ ایک امانت ہے جس کا مقصد عوام کی فلاح و بہبود ہے۔ جب تک ہماری سیاست میں رواداری، درگزر اور ایک دوسرے کے احترام کا جذبہ بیدار نہیں ہوگا، ہم ایک مہذب قوم نہیں بن سکتے۔ وقت کا تقاضا ہے کہ تمام سیاسی دھارے اپنے ذاتی اور سیاسی مفادات سے بالاتر ہو کر ایک میز پر بیٹھیں اور یہ عہد کریں کہ وہ اپنے لہجوں میں نرمی، دلوں میں وسعت اور سیاست میں برداشت کو دوبارہ جگہ دیں گے۔

ہمیں یہ بات ہمیشہ یاد رکھنی چاہیے کہ حکومتیں آتی جاتی رہتی ہیں، اقتدار کے سورج طلوع اور غروب ہوتے رہتے ہیں، لیکن جو چیز باقی رہ جاتی ہے وہ انسان کا کردار اور اس کا رویہ ہے۔ اگر ہم نے سیاست کی اس جنگ میں اپنی اخلاقیات اور تہذیب کو کھو دیا، تو پھر حاصل ہونے والی کوئی بھی فتح دراصل ہماری سب سے بڑی شکست ہوگی۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم نفرتوں کے اس بازار کو بند کریں اور محبت، اخوت اور برداشت کے چراغ روشن کریں، تاکہ ہماری آنے والی نسلیں ایک پرامن اور مہذب ماحول میں سانس لے سکیں۔

روزنامہ سچ نیوز  رپورٹ () اسرائیلی وزیر کا غزہ میں روزانہ 30 سے 40 افراد کو قتل کرنے کا مطالبہ، ایران کا شدید ردعملمقبوض...
17/08/2026

روزنامہ سچ نیوز رپورٹ () اسرائیلی وزیر کا غزہ میں روزانہ 30 سے 40 افراد کو قتل کرنے کا مطالبہ، ایران کا شدید ردعمل

مقبوضہ بیت المقدس: اسرائیل کے انتہائی دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے قومی سلامتی کے وزیر اتمار بن گویر نے غزہ کے حوالے سے ایک انتہائی اشتعال انگیز بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیلی فوج کو وہاں ہر رات 30 سے 40 افراد کو ہلاک کرنا چاہیے۔

اسرائیلی وزیر نے ایک انٹرویو میں غزہ کے رہائشیوں کے بارے میں سخت اور توہین آمیز زبان استعمال کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی فوج کی کارروائیوں کو صرف ان افراد تک محدود نہیں ہونا چاہیے جنہیں اسرائیل خطرہ سمجھتا ہے۔

بن گویر نے دعویٰ کیا کہ غزہ میں کچھ ایسے لوگ بھی موجود ہیں جنہیں ان کے بقول زندہ رہنے کا حق نہیں ہونا چاہیے۔ ان کا یہ بیان فلسطینی شہریوں کے حوالے سے انتہائی سخت موقف کی عکاسی کرتا ہے اور اس پر شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔

ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے اسرائیلی وزیر کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ بن گویر نے غزہ میں قتل عام کے لیے روزانہ 30 سے 40 افراد کی تعداد مقرر کرنے کی بات کی ہے۔

غریب آبادی نے الزام عائد کیا کہ اسرائیلی حکام ایک جانب فلسطینیوں کی بے دخلی اور دوسری جانب مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں یہودی بستیوں کی تعمیر کی بات کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسے بیانات اور اعترافات کو محفوظ کیا جانا چاہیے تاکہ مستقبل میں اسرائیلی حکام کے خلاف کسی بھی ممکنہ قانونی کارروائی میں انہیں ریکارڈ کے طور پر پیش کیا جاسکے۔

اسرائیلی وزیر کا بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب غزہ میں جنگ اور انسانی بحران پر عالمی سطح پر شدید تشویش پائی جاتی ہے۔ فلسطینی شہریوں کی ہلاکتوں، نقل مکانی اور بنیادی سہولیات کی تباہی کے حوالے سے اسرائیل کو مسلسل عالمی تنقید کا سامنا ہے۔

روزنامہ سچ نیوز ()میرے مرنے کی خبریں جھوٹی ہیں ، الحمد للہ بالکل ٹھیک اور زندہ سلامت  ہوں ۔۔۔۔۔۔انعامو وینس کی ساتھیوں ک...
08/08/2026

روزنامہ سچ نیوز ()میرے مرنے کی خبریں جھوٹی ہیں ، الحمد للہ بالکل ٹھیک اور زندہ سلامت ہوں ۔۔۔۔۔۔انعامو وینس کی ساتھیوں کی فا۔ئیرنگ سے ہلا۔کت کی افواہیں ۔۔۔۔ کل سے خبروں میں چھائے اشتہاری کا پیغام سامنے آگیا ۔۔۔۔ اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر ایک پوسٹ میں انعامو وینس نے لکھا ۔۔۔۔۔۔میں چوہدری انعام وینس بالکل خیریت سے ہوں اور زندہ ہوں۔ سوشل میڈیا پر میرے حوالے سے یہ جھوٹی خبر اور پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے کہ میں ساتھیوں کی فا۔ئیرنگ سے ہلا۔ک ہو گیا ہوں، جو کہ بالکل جھوٹ اور بے بنیاد ہے۔براہِ کرم میرے بارے میں پھیلائی جانے والی جھوٹی خبروں پر یقین نہ کریں۔
اللہ تعالیٰ قرآنِ پاک میں فرماتا ہے:
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِن جَاءَكُمْ فَاسِقٌ بِنَبَإٍ فَتَبَيَّنُوا
ترجمہ:"اے ایمان والو! اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لے کر آئے تو خوب تحقیق کر لیا کرو۔"

روزنامہ سچ نیوز ()کون کہتا ہے کہ ٹیسٹ کھیلنے والے باؤلر کیلیے سپیڈ گن ہونا بہت ضروری ہے؟اس بوڑھے ہوتے شیر کے پاس نہ وقار...
29/07/2026

روزنامہ سچ نیوز ()کون کہتا ہے کہ ٹیسٹ کھیلنے والے باؤلر کیلیے سپیڈ گن ہونا بہت ضروری ہے؟

اس بوڑھے ہوتے شیر کے پاس نہ وقار یونس جیسے یارکرز ہیں ، نہ وسیم اکرم جیسی سوئنگ، شعیب اختر جیسی دہشت ہے اور نا ہی عمران خان جیسی کاٹ دار باؤلنگ، محمد آصف جیسی گیند کو گھمانے کی صلاحیت ہے اور نا ہی محمد سمیع جیسی رفتار

مگر پھر بھی یہ ہر میچ میں پاکستان کیلیے سر جھکا کر باؤلنگ کرتا نظر آتا ہے، وکٹیں لیتا ہے اور خاموشی سے سب کو بتلا دیتا ہے کہ اگر آپ کے پاس رفتار نہیں ہے تو بھی اپنی مہارت کو اپنی اصل طاقت بنائیں، عمدہ اور زبردست لائن اینڈ لینتھ پر باؤلنگ کریں تو کامیابی آپ کے قدم چومے گی ۔

محمد عباس نے پانچ وکٹیں حاصل کر کے ویسٹ انڈیز کی پیش قدمی کو روک دیا ہے، پاکستان کیلیے 211 کا ہدف آسان ہو گا یا مشکل؟

ہمیں آپ کی آراء کا انتظار رہے گا ۔

روزنامہ سچ نیوز رپورٹ (چاند بابو گجراتی) واسا گجرات۔!!!!گجرات میں گزشتہ رات سے جاری 100 ملی میٹر موسلا دھار بارش جاری وا...
21/07/2026

روزنامہ سچ نیوز رپورٹ (چاند بابو گجراتی) واسا گجرات۔!!!!
گجرات میں گزشتہ رات سے جاری 100 ملی میٹر موسلا دھار بارش جاری واسا گجرات ہائی الرٹ۔
ڈپٹی کمشنر نورالعین قریشی کا ایم ڈی واسا کاشان حفیظ بٹ کے ہمراہ شہر بھر اور ڈسپوزل اسٹیشنز کا دورہ
جیل چوک، کچہری چوک، نوبزادہ چوک، پرنس چوک، فوارہ چوک اور دیگر علاقوں کی صورتحال کا جائزہ۔
شہر کے تینوں زونز میں واسا گجرات کی 18 ایمرجنسی فیلڈ ٹیمیں مسلسل متحرک۔
اسسٹنٹ کمشنر عبدالقدیر زرکون، ڈائریکٹر انجینئرنگ شیخ عبدالوہاب بھی دورے میں شریک۔
ڈپٹی منیجنگ ڈائریکٹر واسا فیصل حسنین بھلی مرکزی کنٹرول روم سے آپریشن کی نگرانی میں مصروف
تمام ڈسپوزل اسٹیشنز مکمل استعداد کے ساتھ فعال، بارشی پانی کے فوری اخراج کیلئے آپریشن جاری۔
بارش نہ تھمنے کے باعث نکاسیٔ آب کا آپریشن مسلسل جاری، واسا کی ٹیمیں فیلڈ میں موجود۔
ڈپٹی کمشنر نورالعین قریشی اور ایم ڈی واسا کاشان حفیظ بٹ خود مختلف علاقوں کی نگرانی میں مصروف۔
تمام ڈسپوزل اسٹیشنز مکمل استعداد کے ساتھ آپریشنل، پمپنگ کا عمل بلا تعطل جاری۔
ڈی واٹرنگ سیٹس، سکشن مشینیں اور ہیوی مشینری مسلسل پانی نکالنے میں مصروف۔
بارش جاری رہنے کے باعث فیلڈ آپریشن چوبیس گھنٹے جاری رکھنے کا فیصلہ۔
ضلعی انتظامیہ اور واسا گجرات کی مشترکہ مانیٹرنگ، نشیبی مقامات پر اضافی مشینری تعینات۔
ڈی واٹرنگ سیٹس، سکشن مشینیں اور ہیوی مشینری نشیبی علاقوں میں مسلسل کام کر رہی ہیں۔
بارش ختم ہونے تک تمام افسران اور فیلڈ عملے کو الرٹ رہنے کی ہدایت۔
شہریوں کو فوری ریلیف کی فراہمی کیلئے ضلعی انتظامیہ اور واسا گجرات کا مشترکہ ایمرجنسی آپریشن جاری۔
مون سون ایمرجنسی پلان کے تحت نکاسیٔ آب کے نظام کی مسلسل مانیٹرنگ جاری۔
ڈپٹی کمشنر کی ہدایت، شہریوں کو کم سے کم وقت میں بارشی پانی سے ریلیف فراہم کیا جائے۔
PUNJAB WASA Govt of Punjab Maryam Nawaz Sharif Deputy Commissioner Gujrat Chief Secretary Punjab Commissioner Gujranwala, Division, Gujranwala Housing Department Punjab Chaudhry Salik Hussain Noor ul amin Mengal CM Punjab Official Watan Volunteers Gujrat

08/07/2026
روزنامہ سچ نیوز ()مصری ٹیم کے ہیڈ کوچ حسام حسن نے ارجنٹائن کے خلاف میچ کے بعد ریفری کے فیصلوں پر شدید احتجاج کرتے ہوئے ک...
08/07/2026

روزنامہ سچ نیوز ()
مصری ٹیم کے ہیڈ کوچ حسام حسن نے ارجنٹائن کے خلاف میچ کے بعد ریفری کے فیصلوں پر شدید احتجاج کرتے ہوئے کوچنگ سے استعفیٰ دینے کا اعلان کر دیا۔

حسام حسن نے مبینہ طور پر کہا کہ مصر کو ارجنٹائن نے نہیں بلکہ ریفری کے متنازع فیصلوں نے شکست دی۔ پوسٹس میں یہ بھی دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ مصر کا ایک اہم گول فاؤل قرار دے کر مسترد کر دیا گیا، جبکہ ارجنٹائن کا ایک گول آف سائیڈ ہونے کے باوجود منظور کیا گیا۔ مزید الزام لگایا گیا ہے کہ میچ کے دوران کئی فیصلے مصر کے خلاف گئے اور اہم مواقع پر کھیل کو بار بار روک کر مصری ٹیم کی رفتار متاثر کی گئی۔

حسام حسن نے کہا کہ انہیں اپنی ٹیم کی کارکردگی پر فخر ہے، لیکن وہ ناانصافی پر دل گرفتہ ہیں۔ اسی دعوے میں کہا گیا ہے کہ انہوں نے فیفا سے میچ آفیشلز کے فیصلوں کی تحقیقات کا مطالبہ کیا اور کوچنگ سے مستعفی ہونے کا اعلان بھی کیا۔

⚠️ اہم وضاحت: اس وقت تک ان دعوؤں، مبینہ بیان یا استعفے کی کسی معتبر بین الاقوامی خبر رساں ادارے، فیفا یا مصری فٹبال حکام کی جانب سے باضابطہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔ اس لیے اسے تصدیق شدہ خبر کے بجائے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والا غیر مصدقہ دعویٰ سمجھا جانا چاہیے۔

آپ کی رائے میں کیا میچ کے ریفری کے فیصلے متنازع تھے؟ اپنی رائے کمنٹس میں ضرور بتائیں۔

ایران-امریکا جنگ بندی اور خطے کی تازہ ترین صورتحال جانیےشہید ایرانی سپریم لیڈر آیت اللّٰہ خامنہ ای اور ان کے خاندان کے ...
07/07/2026

ایران-امریکا جنگ بندی اور خطے کی تازہ ترین صورتحال جانیے

شہید ایرانی سپریم لیڈر آیت اللّٰہ خامنہ ای اور ان کے خاندان کے 4 افراد کی نمازِ جنازہ تہران میں ادا
شہید لیڈر اور اہلخانہ کی میتیوں کو 8 جولائی کو عراق کے شہروں نجف اور کربلا لے جایا جائے گا
9 جولائی کو شہید آیت اللہ علی امنہ ای اور اہل خانہ کو مشہد میں سپردِ خاک کیا جائے گا

روزنامہ سچ نیوز () یومِ عالمی صحافت: آزادیٔ قلم3 مئی کو دنیا بھر میں "عالمی یومِ آزادیٔ صحافت" منایا جاتا ہے۔ اس دن کا م...
07/07/2026

روزنامہ سچ نیوز () یومِ عالمی صحافت: آزادیٔ قلم

3 مئی کو دنیا بھر میں "عالمی یومِ آزادیٔ صحافت" منایا جاتا ہے۔ اس دن کا مقصد صحافت کی آزادی، صحافیوں کے حقوق اور سچ بولنے کے حق کو عالمی سطح پر تسلیم کرنا اور اسے اجاگر کرنا ہے۔ یہ دن دنیا بھر کے ان تمام صحافیوں کو خراجِ تحسین پیش کرنے کا موقع ہے جو حق کی خاطر برسرِ پیکار ہیں۔

3 مئی کو عالمی یومِ صحافت سے منسوب کرنے کی بنیاد 1991 میں افریقہ کے شہر ونڈہوک (Windhoek) میں ہونے والے ایک اہم اعلامیے (Windhoek Declaration) سے پڑی، جس میں آزاد اور خودمختار صحافت کی ضرورت پر زور دیا گیا۔ بعد ازاں، اقوامِ متحدہ نے 1993 میں باضابطہ طور پر 3 مئی کو عالمی یومِ صحافت قرار دیا۔

صحافت اور آزادیٔ اظہارِ رائے کا آپس میں گہرا تعلق ہے۔ آزادیٔ صحافت معاشرے کا وہ آئینہ ہے جس میں خبروں اور تجزیوں کے ذریعے وہ حقائق سامنے لائے جاتے ہیں جو عام طور پر عوام کی نظروں سے اوجھل رہتے ہیں۔ صحافت صرف خبریں پہنچانے کا نام نہیں، بلکہ یہ مظلوم کی آواز بننے اور معاشرتی برائیوں کو بے نقاب کرنے کا ذریعہ ہے۔ آزادیٔ صحافت ہر اس صحافی کا بنیادی حق ہے جو اپنے ملک اور پیشے سے مخلص ہے۔

آج کے دور میں جہاں معلومات کی بھرمار ہے، وہاں سچ اور جھوٹ میں فرق کرنا بہت مشکل ہو گیا ہے۔ جہاں سوشل میڈیا کے بے شمار فوائد ہیں، وہیں اس کے ذریعے جھوٹی خبروں اور افواہوں کے پھیلنے کا خطرہ بھی بڑھ گیا ہے۔ ایسے حالات میں ہمیں ایسی صحافت کی ضرورت ہے جو سچ اور جھوٹ میں فرق واضح کرنے کی جرات رکھتی ہو۔ جو نہ صرف خبر دے، بلکہ اس کی تصدیق، تحقیق اور شفافیت کو بھی یقینی بنائے۔

یہ دن ہمیں سبق دیتا ہے کہ صحافت محض ایک پیشہ نہیں بلکہ ایک بڑی ذمہ داری ہے۔ صحافی کا قلم معاشرے کی اصلاح کا طاقتور ذریعہ بن سکتا ہے، بشرطیکہ اسے دیانتداری اور سچائی کے ساتھ استعمال کیا جائے۔ عوام کو بھی چاہیے کہ وہ ہمیشہ مستند ذرائع سے معلومات حاصل کریں اور غیر مصدقہ خبریں پھیلانے سے گریز کریں۔

آخر میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ ایک آزاد، مضبوط اور ذمہ دار صحافت ہی ایک روشن اور باشعور معاشرے کی ضمانت ہے۔ آئیے اس عالمی یومِ صحافت کے موقع پر ہم سب عہد کریں کہ سچ کا ساتھ دیں گے، آزادیٔ اظہار کا احترام کریں گے اور صحافت کے وقار کو برقرار رکھنے میں اپنا بھرپور کردار ادا کریں گے۔

فیض احمد فیض کا یہ مشہور مصرع یاد رہے:
"بول کہ لب آزاد ہیں تیرے، بول زباں اب تک تیری ہے

حق اور سچ کی خاطر اپنی جانیں قربان کرنے والے تمام صحافیوں کو سلام

پاکستان زندہ باد!

روزنامہ سچ نیوز () آئی جی اسلام آباد پولیس علی ناصر رضوی کا کہنا ہے کہ گروپ کیپٹن عاصم طارق کو فائرنگ کر کے شہید کیا گ...
06/07/2026

روزنامہ سچ نیوز () آئی جی اسلام آباد پولیس علی ناصر رضوی کا کہنا ہے کہ گروپ کیپٹن عاصم طارق کو فائرنگ کر کے شہید کیا گیا جبکہ فائرنگ کرنے والے ملزم سعد کو گرفتار کرلیا گیا ہے اور یہ کیس ہمارے لیے ہمارے لیے بہت اہم اور چیلنجنگ تھا

Address

Islamabad

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Roznama Such News posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share