MLC URDU

MLC URDU is now considered as the true market. MLC URDU Social Media Base News Network.

MLC Urdu No 1 Social Media News Network· Islamabad, Pakistan·
Emerging as one of the fastest growing professional Social Media News Network concerns of Pakistan, MLC Urdu. Social Life , Business Life, Real Estate News, Property Projects Info, Property Dealers Introductions,

یہ خبر اگر سچ ہے تو خوفناک ہے۔ خبر یہ نہیں کہ اس عورت نے ٹک ٹوک پر دوستی کی۔ شادی شدہ ہونے کے باوجودخبر یہ بھی نہیں کہ ا...
09/01/2026

یہ خبر اگر سچ ہے تو خوفناک ہے۔

خبر یہ نہیں کہ اس عورت نے ٹک ٹوک پر دوستی کی۔ شادی شدہ ہونے کے باوجود

خبر یہ بھی نہیں کہ اپنے شوہر کو شادی کے نو سال بعد چھوڑ کر اپنے نئے دوست کے پاس اسکے شہر چلی گئی۔

خبر یہ بھی۔نہیں کہ اس عاشق نے اس کے بچوں کو قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ ۔۔

اور خبر یہ بھی نہیں کہ اس عورت نے اپنے بچوں کو دردناک موت کے بعد گمنام قبر میں دفن کر دیا۔ ۔۔

خبر تو بس اتنی سی ہے کہ یہ وقوعہ اکیلا نہیں ہے ۔ ۔

عورت معصوم ہے۔

مرد جنسی درندہ ہے۔

مرد پر جنس سوار ہو تو اندھا ہو جاتا ہے۔

یہ سب تو پچھلی صدی کی کہانیاں تھیں۔

اب عورت بھی جنسی درندہ بن چکی ہے۔

خبر یہ ہے۔

اب عورت خودغرضی کے اس مقام پر پہنچ چکی ہے جہاں شیطان بھی لرزاں ہے۔

خبر یہ ہے۔

👇👇
اففف کتنے سفاک لوگ ہیں ہم؟؟
پیشے کے لحاظ سے موٹر سائیکل مکینک رضوان اقبال کا کہنا ہے کہ جب 19 دسمبر کو وہ معمول کے مطابق کام کاج کے بعد شام کو گھر واپس آئے تو اُن کی والدہ نے بتایا کہ ’تمھاری بیوی بچوں کو ساتھ لے کر یہ کہہ کر نکلی تھیں کہ میں بچوں کے گرم کپڑے وغیرہ لینے بازار تک جا رہی ہوں اور ایک گھنٹے میں واپس آ جاؤں گی۔ لیکن جب انھیں گئے پانچ گھنٹے ہو گئے ہیں تو اہلخانہ کو پریشانی ہوئی۔

والدہ کے ہمراہ موجود تینوں بچوں، سات سالہ فجر، چار سالہ حرم اور دو سالہ محمد ذکریا، کے لاپتہ ہونے پر والد نے کہا کہ ’اپنی والدہ کی یہ بات سُن کر میں پریشان ہوا، لیکن انھیں تسلی دی کہ آپ فکر نہ کریں وہ جلد گھر واپس آ جائیں گے۔‘

رضوان کے مطابق پھر انھوں نے اپنی اہلیہ کے دونوں موبائل نمبرز پر کال کی تو وہ بند تھے جس پر وہ گھبرا گئے۔ اُس وقت تک اُن کے رشتہ دار اور ہمسائے بھی اس بارے میں لاعلم تھے۔
’میں نے فوراً بازار جانے کا فیصلہ کیا۔ بازار جاتے ہوئے بھی میں پاگلوں کی طرح بار بار دائیں بائیں دیکھ رہا تھا اور دماغ میں یہی چل رہا تھا کہ وہ بچوں کے ساتھ واپس آتی ہی ہو گی۔ میں نے دو تین گھنٹے اسی بھاگ دوڑ میں گزار دیے لیکن اُن کا کچھ پتہ نہ چلا۔‘

’گھر واپس لوٹا تو دماغ میں عجیب طرح کے خیالات آ رہے تھے۔ گھر کے افراد کی باتوں سے یہی لگ رہا تھا کہ بیوی گھر سے بھاگ گئی ہے لیکن دل نہیں مان رہا تھا۔

بقول رضوان کے ’بیوی بچوں کے بغیر پہلی رات قیامت کی رات تھی۔ میں نے گھر کا بیرونی دروازہ کھلا رکھا تھا کہ شاید وہ اچانک آ جائیں۔

رضوان اقبال کے بقول وہ دو دن تک اپنے بیوی بچوں کو تلاش کرتے رہے مگر انھیں کوئی کامیابی نہ ملی۔ وہ 21 دسمبر کو علاقے کے کچھ لوگوں کے ساتھ تھانے گئے اور پولیس کو درخواست دی۔
گجرات کے ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر عمر فاروق نے بی بی سی کو بتایا کہ پولیس نے خاتون کے زیرِ استعمال دونوں موبائل نمبرز کا ڈیٹا اور لوکیشن حاصل کی جس سے معلوم ہوا کہ ان کی آخری لوکیشن پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے علاقے بھمبھر آزاد کشمیر کی تھی۔

وہ کہتے ہیں کہ ’خاتون کو ٹریس کر کے ٹریپ کرنا ایک مشکل کام تھا۔ ہماری انٹیلیجنس ٹیم اس میں کامیاب رہی اور خاتون کو ٹریپ کر کے واپس سرائے عالمگیر کے قریب بلوایا گیا جہاں پہلے سے موجود پولیس کی خفیہ ٹیم کے اہلکاروں نے اسے حراست میں لے لیا۔ بعد ازاں خاتون کی نشاندہی پر اُن کے دوست ملزم بابر حسین کو بھی پکڑ لیا گیا۔‘

ڈسٹرکٹ پولیس آفیسرعمرفاروق نے بتایا کہ اس وقت تک یہ معلوم نہیں ہو سکا تھا کہ تینوں بچے کہاں ہیں۔ پولیس کے مطابق ملزمہ ’کبھی کہتی تھیں کہ بچے گوجرانوالہ میں رشتے دار کے گھر ہیں اور کبھی کہتی کہ انھیں راولپنڈی بھجوا دیا ہے۔‘
تاہم کچھ گھنٹوں بعد پولیس افسر کے بقول خاتون نے ’اعتراف کیا کہ اس نے بابر حسین کے ساتھ مل کر بچوں کو مار دیا ہے کیونکہ اس کے بغیر اُن کی شادی نہیں ہو سکتی تھی۔
وہ کہتے ہیں کہ جب تفتیشی افسران نے پوچھا کہ لاشیں کہاں ہیں تو خاتون نے کہا کہ ’(ملزم) بابر کو اس علاقے کا علم ہے، جہاں لاشیں دفن ہیں۔

گجرات پولیس نے بھمبھر کی پولیس سے رابطہ کیا اور کرائم سین انویسٹیگیشن کی ٹیم وہاں روانہ کی جنھوں نے ’ملزمان کی نشاندہی پر‘ ویران پہاڑی علاقے میں ایک مقام پر کھدائی کر کے بچوں کی لاشیں برآمد کیں۔

ملزمان کے بیانات کی روشنی میں پولیس کا الزام ہے کہ دونوں ملزمان شادی کرنا چاہتے تھے مگر اس منصوبے کی راہ میں ’بچے رکاوٹ تھے۔

ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر عمر فاروق کا کہنا تھا کہ دوران تفتیش یہ معلوم ہوا کہ ملزم بابر نے ملزمہ کی جانب سے بچے ہمراہ لانے پر ناراضی کا اظہار کیا۔

ان کا دعویٰ ہے کہ ’اسی بحث و تکرار میں دونوں نے مبینہ طور پر فیصلہ کر لیا کہ بچوں کو ٹھکانے لگانا ہے۔
تحقیقاتی ٹیم کے ایک رکن اور سرائے عالمگیر کے ڈی ایس پی ممتاز میکن نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ دوران تفتیش ملزمان نے ’اعتراف کیا ہے کہ انھوں نے بڑی مقدار میں بچوں کو فروٹ چاٹ نیند کی گولیاں دیں۔ جب وہ گہری نیند میں چلے گئے تو انھوں نے باری باری تینوں بچوں کے گلے دبا کر انھیں قتل کر ڈالا۔
پولیس افسر کا کہنا تھا کہ ملزمان نے ایک ویران مقام پر ’لاشیں جلا دیں تاکہ وہ شناخت کے قابل نہ رہیں جس کے بعد انھوں نے لاشوں کو وہیں دفن کر دیا۔

یاد رہے کہ عدالت میں پولیس کی جانب سے لیے گئے اعترافی بیان کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہوتی ہے۔
پولیس کے تفتیشی افسران کے مطابق ملزمہ نے بتایا کہ اُن کی ڈیڑھ سال قبل بابر سے ٹک ٹاک پر دوستی ہوئی تھی۔
’جب انھوں نے شادی کا پلان بنایا تو ملزمہ نے اپنے خاوند سے طلاق لینے کے لیے کئی بار بات کی اور جھگڑے کیے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ اس کیس کے دوسرے ملزم بابر کا تعلق بھمبھر سے ہے۔

تھانہ سٹی بھمبھر کے ڈیوٹی آفیسر سجاد حسین شاہ نے رابطہ کرنے پر بی بی سی اردو کو بتایا کہ بابر حسین کی گرفتاری کے بعد ان کے گھر والے تالہ لگا کر نامعلوم مقام پر روپوش ہو گئے ہیں۔

سجاد حسین شاہ نے بتایا کہ ملزم بابر حسین غیر شادی شدہ ہیں۔

خواتین سے معذرت کے ساتھ

"یہاں پر میں ڈاکٹر اسرار احمد مرحوم کی ایک بات کا حوالہ ضرور دینا چاہونگا انہونے کہا تھا احادییث کی روشنی میں قیامت کی نشانیوں میں ایک نشانی یہ بھی ہوگی کہ تم اپنی عورتوں کو زنجیروں سے جکڑ بھی دوگے لیکن وہ آزادی کے نام پر زنجیریں توڑ کر پھر بھی باہر نکلے گی" اگر آپ ٹک ٹاک پر پابندی نہیں لگوا سکتے تو کم سے کم اپنے گھر کی خواتین کے موبائل میں سے کم سے کم ٹاک کو ڈیلیٹ کیجۓ ورنہ رسوائی اور ذلت کے لیۓ تیار رہیۓ۔۔ شکریہ

19/12/2025

حاجی صاحب نے آخری عمر میں فیکٹری لگالی اور چوبیس گھنٹے فیکڑی میں رہنےلگے۔ وہ سولہ سے اٹھارہ گھنٹے دفتر میں کام کرتے تھے اور جب تھک جاتے تھے تو فیکٹری کے گیسٹ ہاؤس میں سو جاتے تھے۔ حاجی صاحب کے مزاج کی یہ تبدیلی سب کے لیے حیران کن تھی۔

وہ تیس برس تک دنیاداری کاروبار اور روپے پیسے سے الگ تھلگ رہے تھے انہوں نے یہ عرصہ عبادت اور ریاضت میں گزارا تھا اور اللہ تعالی نے انہیں اس ریاضت کا بڑا خوبصورت صلہ دیا تھا وہ اندر سے روشن ہوگئے تھے وہ صبح آٹھ بجے اپنی بیٹھک کھولتے تھے اور رات گئے تک ان کے گرد لوگوں کا مجمع رہتا تھا، لوگ اپنی اپنی حاجت لے کر ان کے پاس آتے تھے۔ وہ ان کے لیے دعا کا ہاتھ بلند کر دیتے تھے اور اللہ تعالی سائل کے مسائل حل فرما دیتا تھا۔

اللہ تعالی نے ان کی دعاؤں کو قبولیت سے سرفراز کر رکھا تھا لیکن پھر اچانک حاجی صاحب کی زندگی نے پلٹا کھایا۔
وہ ایک دن اپنی گدی سے اٹھے، بیٹھک بند کی، اپنے بیٹوں سے سرمایہ لیا اور گارمنٹس کی ایک درمیانے درجے کی فیکٹری لگالی- انہوں نے اس فیکٹری میں پانچ سو خواتین رکھیں۔ خود اپنے ہاتھوں سے یورپی خواتین کے لیے کپڑوں کے نئے ڈیزائن بنائے۔

یہ ڈیزائن یورپ بھجواۓ۔ باہر سے آرڈر آۓ اور حاجی صاحب نے مال بنوانا شروع کردیا۔ یوں ان کی فیکٹری چل نکلی اور حاجی صاحب دونوں ہاتھوں سے ڈالر سمیٹنے لگے۔ دنیا میں اس وقت گارمنٹس کی کم و بیش دو، تین کروڑ فیکٹریاں ہوں گی اور ان فیکٹریوں کے اتنے ہی مالکان ہوں گے لیکن ان دو تین کروڑ مالکان میں حاجی صاحب جیسا کوئی دوسرا کردار نہیں ہوگا۔

پوری دنیا میں لوگ بڑھاپے تک کاروبار کرتے ہیں اور بعد ازاں روپے پیسے اور اکاؤنٹس سے تائب ہو کر اللہ اللہ شروع کر دیتے ہیں لیکن حاجی صاحب ان سے بالکل الٹ ہیں۔ انہوں نے پینتیس سال کی عمر میں کاروبار چھوڑا اللہ سے لو لگائی لیکن جب وہ اللہ کے قریب ہو گئے تو انہوں نے اچانک اپنی آباد خانقاہ چھوڑی اور مکروہات کے گڑھے میں چھلانگ لگا دی۔ وہ دنیا کے واحد بزنس مین ہیں جو فیکٹری سے درگاہ تک گئے تھے اور پھر درگاہ سے واپس فیکٹری پر آگئے۔

حاجی صاحب کی کہانی ایک کتے سے شروع ہوئی تھی اور کتے پر ہی ختم ہوئی۔۔۔

حاجی صاحب کی گارمنٹس فیکٹری تھی، حاجی صاحب صبح صبح فیکٹری چلے جاتے اور رات بھیگنے تک کام کرتے تھے۔ ایک دن وہ فیکٹری پہنچے تو انہوں نے دیکھا ایک درمیانے قد کاٹھ کا کتا گھسٹ گھسٹ کر ان کے گودام میں داخل ہو رہا ہے، حاجی صاحب نے غور کیا تو پتہ چلا کتا شدید زخمی ہے، شاید وہ کسی گاڑی کے نیچے آ گیا تھا جس کے باعث اس کی تین ٹانگیں ٹوٹ گئی تھیں اور وہ صرف ایک ٹانگ کے ذریعے اپنے جسم کو گھسیٹ کر ان کے گودام تک پہنچا تھا۔ حاجی صاحب کو کتے پر بڑا رحم آیا، انہوں نے سوچا وہ کتے کو جانوروں کے کسی ڈاکٹر کے پاس لے جاتے ہیں، اس کا علاج کراتے ہیں اور جب کتا ٹھیک ہوجائے گا تو وہ اسے گلی میں چھوڑ دیں گے۔ حاجی صاحب نے ڈاکٹر سے رابطے کے لیۓ فون اٹھایا لیکن نمبر ملانے سے قبل ان کے دل میں ایک انوکھا خیال آیا اور حاجی صاحب نے فون واپس رکھ دیا۔

حاجی صاحب نے سوچا کتا شدید زخمی ہے، اس کی تین ٹانگیں ٹوٹ چکی ہیں، اس کا جبڑا زخمی ہے اور پیٹ پر بھی چوٹ کا نشان ہے چنانچہ کتا روزی روٹی کا بندوبست نہیں کرسکتا- حاجی صاحب نے سوچا' اب دیکھنا یہ ہے قدرت اس کتے کی خوراک کا بندوبست کیسے کرتی ہے، حاجی صاحب نے مشاہدے کا فیصلہ کیا اور چپ چاپ بیٹھ بیٹھ گئے۔

وہ کتا سارا دن گودام میں بیہوش پڑا رہا، شام کو جب اندھیرا پھیلنے لگا تو حاجی صاحب نے دیکھا ان کی فیکٹری کے گیٹ کے نیچے سے ایک دوسرا کتا اندر داخل ہوا، کتے کے منہ میں ایک لمبی سی بوٹی تھی۔ کتا چھپتا چھپاتا گودام تک پہنچا، زخمی کتے کے قریب آیا، اس نے پاؤں سے زخمی کتے کو جگایا اور بوٹی اس کے منہ میں دے دی۔ زخمی کتے کا جبڑا حرکت نہیں کر پا رہا تھا چنانچہ اس نے بوٹی واپس اگل دی۔ صحت مند کتے نے بوٹی اٹھا کر اپنے منہ میں ڈالی، بوٹی چبائی، جب وہ اچھی طرح نرم ہوگئی تو اس نے بوٹی کا لقمہ سا بنا کر زخمی کتے کے منہ میں دے دیا- زخمی کتا بوٹی نگل گیا۔

اسکے بعد وہ کتا گودام سے باہر آیا، اس نے پانی کے حوض میں اپنی دم گیلی کی، واپس گیا اور دم زخمی کتے کے منہ میں دے دی۔ زخمی کتے نے صحت مند کتے کی دم چوس لی۔ صحت مند کتا اس کروائی کے بعد اطمینان سی واپس چلا گیا۔ حاجی صاحب مسکرا پڑے۔ اس کے بعد یہ کھیل روزانہ ہونے لگا۔ روز کتا آتا اور زخمی کتے کو بوٹی کھلاتا، پانی پلاتا اور چلا جاتا،حاجی صاحب کئی دنوں تک یہ کھیل دیکھتے رہے۔

ایک دن حاجی صاحب نے اپنے آپ سے پوچھا "وہ قدرت جو اس زخمی کتے کو رزق فراہم کر رہی ہے کیا وہ مجھے دو وقت کی روٹی نہیں دے گی؟" سوال بہت دلچسپ تھا، حاجی صاحب رات تک اس سوال کا جواب تلاش کرتے رہے یہاں تک کہ وہ توکل کی حقیقت بھانپ گئے،

انہوں نے فیکٹری اپنے بھائی کے حوالے کی اور تارک الدنیا ہوگئے۔ وہ مہینے میں تیس دن روزے رکھتے اور صبح صادق سے اگلی صبح کاذب تک رکوع و سجود کرتے، وہ برسوں اللہ کے دربار میں کھڑے رہے، اس عرصے میں اللہ انہیں رزق بھی دیتا رہا اور ان کی دعاؤں کو قبولیت بھی۔ یہاں تک کہ وہ صوفی بابا کے نام سے مشہور ہوگئے اور لوگ ان کے پاؤں کی خاک کا تعویز بنا کر گلے میں ڈالنے لگے لیکن پھر ایک دوسرا واقعہ پیش آیا اور صوفی بابا دوبارہ حاجی صاحب ہو گئے.۔

یہ سردیوں کی ایک نیم گرم دوپہر تھی، صوفی بابا کی بیٹھک میں درجنوں عقیدت مند بیٹھے تھے۔ صوفی بابا ان کے ساتھ روحانیت کے رموز پر بات چیت کر رہے تھے۔ باتوں ہی باتوں میں صوفی بابا نے کتے کا قصہ چھیڑ دیا اور اس قصے کے آخر میں حاضرین کو بتایا....

"رزق ہمیشہ انسان کا پیچھا کرتا ہے لیکن ہم بیوقوف انسانوں نے رزق کا پیچھا شروع کر دیا ہے۔ اگر انسان کی توکل زندہ ہو تو رزق انسان تک ضرور پہنچتا ہے بلکل اس کتے کی طرح جو زخمی ہوا تو دوسرا کتا اس کے حصے کا رزق لے کر اس کے پاس آ گیا۔ میں نے اس زخمی کتے سے توکل سیکھی۔ میں نے دنیاداری ترک کی اور اللہ کی راہ میں نکل آیا- آج اس راہ کا انعام ہے میں آپ کے درمیان بیٹھا ہوں- ان تیس برسوں میں کوئی ایسا دن نہیں گزرا جب اللہ تعالی نے کسی نہ کسی وسیلے سے مجھے رزق نہ دیا ہو یا میں کسی رات بھوکا سویا ہوں- میں ہمیشہ اس زخمی کتے کو تھینک یو کہتا رہتا ہوں جس نے مجھے توکل کا سبق سکھایا تھا-"

صوفی بابا کی محفل میں ایک نوجوان پروفیسر بھی بیٹھا تھا، پروفیسر نے جینز پہن رکھی تھی اور اس کے کان میں ایم پی تھری کا ائر فون لگا تھا- نوجوان پروفیسر نے ائر فون اتارا اور قہقہہ لگا کر بولا "صوفی بابا ان دونوں کتوں میں افضل زخمی کتا نہیں تھا بلکہ وہ کتا تھا جو روز شام کو زخمی کتے کو بوٹی چبا کر کھلاتا تھا اور اپنی گیلی دم سے اس کی پیاس بجھاتا تھا- کاش آپ نے زخمی کتے کے توکل کی بجائے صحت مند کتے کی خدمت، قربانی اور ایثار پر توجہ دی ہوتی تو آج آپ کی فیکٹری پانچ، چھ سو لوگوں کا چولہا جلا رہی ہوتی-"

صوفی بابا کو پسینہ آ گیا- نوجوان پروفیسر بولا "صوفی بابا! اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے افضل ہوتا ہے، وہ صحت مند کتا اوپر والا ہاتھ تھا جبکہ زخمی کتا نیچے والا- افسوس آپ نے نیچے والا ہاتھ تو دیکھ لیا لیکن آپ کو اوپر والا ہاتھ نظر نہ آیا- میرا خیال ہے آپ کا یہ سارا تصوف اور سارا توکل خود غرضی پر مبنی ہے کیونکہ ایک سخی بزنس مین دس ہزار نکمے اور بے ہنر درویشوں سے بہتر ہوتا ہے" نوجوان اٹھا' اس نے سلام کیا اور بیٹھک سے نکل گیا..
حاجی صاحب نے دو نفل پڑھے، بیٹھک کو تالا لگایا اور فیکٹری کھول لی، اب وہ عبادت بھی کرتے ہیں اور کاروبار بھی۔۔۔۔

نوٹ :- عمدہ قسم کے سبق آموز واقعات وحکایات کیلئے آج ہی ہمیں لائک شیئر اور فالو کر لیں شُکریہ

جزاک اللہ خیرا کثیرا

02/12/2025

Real Estate Guides | Investment Tips | Market Updates | Property Verification | Safe Deals

11/11/2025

اسلام آباد کچہری میں ہونے والے خودکش دھماکے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتا ہوں۔ یہ بزدلانہ اور انسانیت سوز کارروائی نہ صرف معصوم جانوں کے ضیاع کا باعث بنی بلکہ عدلیہ اور قانون کی بالادستی پر حملہ بھی ہے۔
اس سانحے میں شہید ہونے والے وکلاء، سائلین اور دیگر شہریوں کے لواحقین سے دلی ہمدردی کا اظہار کرتا ہوں۔
دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ شہداء کے درجات بلند فرمائے، زخمیوں کو صحتِ کاملہ عطا کرے، اور ہمارے ملک کو امن و استحکام نصیب فرمائے۔

📢 Hiring Alert – Real Estate News Team Required! 🏘️Hum apne page aur YouTube Channel (MLC Urdu) ke liye Real Es...
09/11/2025

📢 Hiring Alert – Real Estate News Team Required! 🏘️
Hum apne page aur YouTube Channel (MLC Urdu) ke liye Real Estate News & Updates Staff hire kar rahe hain.

🎯 Positions Available:

News Voice Over / Anchor

Content Researcher

Script Writer

Video Editor

💼 Work Type: Part-Time / Full-Time (Online + Onsite Options)
📍 Industry: Real Estate & Property Market (Pakistan)
📲 Interested candidates contact on WhatsApp:
👉 0325-9229666
👤 Admin: MLC Urdu

12/10/2025

احسان فراموش اپنے ہی استاد پر بھونک رہے ہیں!
ابھی بھی وقت ہے، ہوش کے ناخن لو۔
دوسروں کے اشاروں پر اپنے ہی گھر میں انتشار مت پھیلاؤ۔
جو اپنے محسن کے خلاف بولتا ہے، دراصل اپنی عزت اور ایمان دونوں گنوا بیٹھتا ہے۔
یاد رکھو! دشمن تمہیں صرف استعمال کرے گا، مگر نقصان تمہارا اپنا ہو گا۔
اپنے ہی گھر کو کمزور مت کرو — یہی وقت ہے ایک ہونے کا، سچے ہونے کا، اور وفادار رہنے کا۔ 🇵🇰
Pakistan Zindabad.
Asif Jutt.

11/10/2025

🇵🇰 تجزیاتی رپورٹ

عنوان: افغانستان کو تاریخ یاد رکھنی چاہیے — پاکستان اپنی قربانیوں کا محافظ ہے، کمزور نہیں
تحریر: آصف جٹ
تاریخ: 11 اکتوبر 2025
---

مقدمہ

افغان وزیرِ خارجہ امیر خان متقی کے حالیہ بیانات نہ صرف افسوسناک بلکہ تاریخی حقائق سے لاعلمی کا ثبوت ہیں۔ پاکستان کے خلاف جارحانہ جملے بولنے سے پہلے کابل کو یاد رکھنا چاہیے کہ اگر پاکستان کی قربانیاں نہ ہوتیں تو آج افغانستان کا نام و نشان بھی دنیا کے نقشے پر باقی نہ رہتا۔
---

تاریخی حقیقت — پاکستان نے افغانستان کو بچایا

جب 1979 میں سوویت یونین نے افغانستان پر حملہ کیا تو دنیا خاموش تھی۔ صرف پاکستان وہ ملک تھا جس نے اپنے دروازے کھولے، اپنی سرزمین، اپنے وسائل اور اپنی سیکیورٹی قربان کی تاکہ افغان عوام آزاد رہ سکیں۔

پاکستان کی فوج، آئی ایس آئی اور عوام نے جس بہادری اور عزم سے افغان جہاد کی مدد کی، وہ تاریخ کا روشن باب ہے۔

لاکھوں افغان مہاجرین کو پناہ دی۔

افغان مجاہدین کو اسلحہ، تربیت اور لوجسٹک مدد فراہم کی۔

عالمی طاقتوں کے دباؤ کے باوجود اسلامی بھائی چارے کا فرض نبھایا۔

اگر پاکستان نہ ہوتا تو آج کابل ماسکو کا ایک صوبہ ہوتا، اور “آزادی” صرف ایک خواب رہ جاتی۔
---

آج کا افغانستان — احسان فراموشی یا حقیقت سے فرار؟

امیر خان متقی کا یہ کہنا کہ “ہمیں چھیڑنے سے پہلے امریکا، نیٹو اور سوویت یونین سے پوچھ لو” دراصل تاریخی احسان فراموشی ہے۔
پاکستان نے چالیس سال تک افغانستان کے لیے اپنے خون، اپنی معیشت اور اپنی سیکیورٹی کی قربانی دی۔
مگر آج افغان قیادت وہی ملک کے خلاف زبان درازی کر رہی ہے جس نے ان کے لیے اپنا سب کچھ داؤ پر لگایا۔
---

دہشتگردی — پاکستان کے صبر کا امتحان

جب سے افغانستان میں طالبان حکومت قائم ہوئی ہے، پاکستان نے امید رکھی کہ دونوں ممالک امن و تعاون کے ساتھ آگے بڑھیں گے۔ مگر بدقسمتی سے افغان سرزمین اب بھی دہشتگرد گروہوں کی پناہ گاہ بنی ہوئی ہے جو پاکستان کے خلاف حملے کر رہے ہیں۔

پاکستان ایک خوددار ملک ہے —
نہ ہم دوسروں کے سامنے جھکتے ہیں، نہ اپنے دفاع میں پیچھے ہٹتے ہیں۔
اگر کابل اپنی سرزمین پر قابو نہیں رکھ سکتا تو پاکستان کو حق حاصل ہے کہ اپنے شہریوں کی حفاظت کے لیے فیصلہ کن اور مضبوط قدم اٹھائے۔
--

پاکستان کا مؤقف — واضح، پُرعزم اور قانونی

1. افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیا جائے گا۔

2. اگر افغان حکومت وعدے پورے نہیں کرتی تو پاکستان خاموش تماشائی نہیں بنے گا۔

3. پاکستان کی خودمختاری، سیکیورٹی اور قومی وقار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

یہ وقت جذباتی تقاریر کا نہیں، عملی قدم اٹھانے کا ہے۔ پاکستان اپنی قومی سلامتی کے لیے ہر سطح پر مؤثر جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
---
سفارتی و قومی حکمتِ عملی

افغانستان کے ساتھ تمام امور حقائق، شواہد اور اصولوں کی بنیاد پر اٹھائے جائیں۔

دنیا کو دکھایا جائے کہ دہشتگردی کے خلاف پاکستان کی جنگ صرف اپنے لیے نہیں بلکہ پورے خطے کے امن کے لیے ہے۔

عوام کو یکجہتی کے پیغام کے ساتھ متحد رکھا جائے تاکہ دشمن کو یہ پیغام جائے:

> “پاکستان کسی پر چڑھائی نہیں کرتا، مگر اپنی زمین پر کوئی انگلی بھی نہیں اٹھا سکتا۔”
---
نتیجہ

پاکستان نے ہمیشہ بھائی چارے، قربانی اور ایثار کی سیاست کی ہے، کمزوری کی نہیں۔
اگر کابل پاکستان کا ہاتھ تھامنے کی بجائے زہر اگلنے کا راستہ اختیار کرے گا، تو یاد رکھے:

> پاکستان نے افغانستان کو بنایا تھا — مٹانے کی طاقت بھی رکھتا ہے۔

یہ وقت قومی اتحاد، مضبوط خارجہ پالیسی اور فخرِ پاکستان بننے کا ہے۔
ہم نے افغانستان کے لیے خون دیا — اب اپنے وطن کی حفاظت کے لیے ڈٹ کر کھڑے ہوں گے۔
---
والسلام
آصف جٹ

جنرل عاصم منیر کون ہے ؟؟؟وہ ملکی و غیر ملکی یونیورسٹیوں سے تعلیم حاصل کر چکا ہے وہ پاکستان کی سب سے بڑی تھرٹی کور کو کما...
08/10/2025

جنرل عاصم منیر کون ہے ؟؟؟
وہ ملکی و غیر ملکی یونیورسٹیوں سے تعلیم حاصل کر چکا ہے وہ پاکستان کی سب سے بڑی تھرٹی کور کو کمانڈ کر چکا ہے وہ سیکنڈ لیفٹیننٹ سے لیفٹیننٹ جنرل تک تیس سال گزار چکا ہے وہ برگیڈئیر کے ایک ستارے سے لیکر لیفٹیننٹ جنرل کے تین ستاروں تک آگیا ہے وہ اب کالر پر چار ستارے لگاۓ دنیا کی نویں بڑی فوج کا سربراہ ہے اسکو روزانہ کی بنیاد پر اسکا ایجوٹنٹ جنرل اور ڈی جی آئی ایس آئی درجنوں رپورٹس دیتے ہیں وہ روز اتنے فیصلے کرتا ہے۔ وہ کارگل کی افغانستان کی جنگ میں خدمات دے چکا ہے وہ پاکستان کی بڑی کور انفنٹری کا تگڑا جرنیل ہے وہ پاکستانی تھنک ٹینک کا حصہ ہے وہ پالیسیز میکرز ٹیم کا حصہ ہے وہ ایک لفظ بولنے سے قبل دس بار سوچتا ہوگا اسکی تقریر پہلے دس جگہوں پر دیکھی جاتی ہوگی اسکے سیکریٹری ایجوٹنٹ جنرل آئی ایس پی آر GHQ کے جرنیل سب اِسکے مشورے سے چلتے ہیں وہ ایسی پالیسیز بناتے ہیں دنیا کہتی ہے GHQ کے جرنیلوں کی ہمیں سمجھ نہیں آ سکی وہ اثاثے ایسے رکھتے ہیں کہ پوری دنیا کی انٹیلیجنس ایجنسیز اربوں ڈالر جھونک کر نہیں ڈھونڈ پائی انکی پالیسیز کی دنیا معترف ہے اور پھر ہم اُسکو بتائیں گے کہ آپ نے روسی فلاں کام کیوں کیا واہ سبحان اللّہ گلی محلوں میں چلتے پھرتے جنگ سے نا واقف جذباتی قسم کے دانشورو جنہوں نے ملکی دفاع کے لیے زندگیاں گزار دی ہیں وہ بہت بہتر سمجھتے ہیں کس وقت کیا کرنا ہے اور کیسا بیان دینا ہے۔ تمہارے مشورے کی ضرورت نہیں جو بھی ٹویٹر فیسبک پہ پاکستانی دفاعی اداروں کو برا بولتے تھکتے نہیں آپ پہلے اپنے گریبان کے اندر دیکھو تم نے اِس ملک کے لیے کیا ایسا کردیا ہے جو تمہارے اندر کا کیڑا تم کو سکون نہیں لینے دے رہا تم جیسے لوگ پاکستان پہ بوجھ ہیں اپنے دماغ اپنے دل اپنے ہاتھوں کو پاکستان کی بہتری کی طرف لگاٶ تاکہ تم پاکستان پہ بوجھ نہ بن سکو
پاکستان زندہ باد
پاک فوج زندہ باد

✒️ کَلَم — کشمیری صحافی کی وارننگ پر چند سطورآج ہمیں رک کر سوچنا ہوگا کہ ہم کہاں کھڑے ہیں اور کہاں جا رہے ہیں۔آزادکشمیر ...
01/10/2025

✒️ کَلَم — کشمیری صحافی کی وارننگ پر چند سطور

آج ہمیں رک کر سوچنا ہوگا کہ ہم کہاں کھڑے ہیں اور کہاں جا رہے ہیں۔
آزادکشمیر کی چھوٹی سی آبادی نے پاکستان کے ہر بڑے ادارے میں اپنی پہچان بنائی ہے۔ فوج کے اعلیٰ عہدے ہوں، پارلیمان کے ایوان ہوں، وزارتِ خارجہ ہو یا تعلیم کے شعبے — کشمیری ہمیشہ نمایاں رہے ہیں۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان نے ہمیں کبھی دوسرا نہیں سمجھا۔

ہمارے بازاروں کی رونق پاکستان سے ہے، ہمارا کاروبار پاکستان سے جڑا ہے، ہمارے روزگار کا سہارا پاکستان ہے۔ یہ رشتہ محض جذبات کا نہیں بلکہ حقیقت کا بھی ہے۔

لیکن افسوس اس بات پر ہے کہ آج کچھ عناصر عوامی حقوق کے نام پر ایسی فضا بنانے کی کوشش کر رہے ہیں جس میں پاکستان کے پرچم کو پسِ پشت رکھا جا رہا ہے۔ ہمیں سوچنا ہوگا کہ یہ راستہ ہمیں منزل تک لے جائے گا یا بند گلی میں دھکیل دے گا؟

علیحدگی کے نعرے سننے میں میٹھے لگتے ہیں مگر انجام ہمیشہ تلخ ہوتا ہے۔ پاکستان نے ہماری کمزوریوں پر بھی پردہ ڈالا، ہماری کامیابیوں کو بھی سراہا۔ دنیا کے کسی کونے میں جائیں، ہمارے ہاتھ میں پاکستانی شناختی کارڈ اور پاسپورٹ ہی ہمیں پہچان دیتا ہے۔

لہٰذا میرے کشمیری بھائیو!
اپنی آنکھیں کھلی رکھو۔
کسی سازش کا شکار نہ بنو۔
ہم کل بھی پاکستانی تھے، آج بھی پاکستانی ہیں اور ان شاءاللہ ہمیشہ پاکستانی رہیں گے۔

🇵🇰 پاکستان زندہ باد — کشمیر پاکستان کا تھا، ہے اور رہے گا 🇵🇰

✍️ MLC Urdu(Asif Jutt)

https://youtu.be/tOVUj2aPHU0?si=6n5LFbtYo5iiPXt3Park View City Islamabad 2025 | Latest Rates, Development & Full Details
11/09/2025

https://youtu.be/tOVUj2aPHU0?si=6n5LFbtYo5iiPXt3
Park View City Islamabad 2025 | Latest Rates, Development & Full Details

اسلام آباد کی مشہور ہاؤسنگ سوسائٹی **Park View City** کے بارے میں مکمل تفصیل اس ویڈیو میں جانیں۔اس ویڈیو میں آپ کو ملے گا:* پارک ویو سٹی کا تعارف اور لوکیشن*...

26/08/2025

پولیس کا نرم چہرہ

کالم نگار: آصف جٹ

کہا جاتا ہے کہ تھانے کے دروازے عام آدمی کے لیے خوف کی علامت ہوتے ہیں۔ لوگ وہاں قدم رکھنے سے پہلے ہی دل میں لرزہ محسوس کرتے ہیں۔ پولیس کی سختی، کرخت لہجے اور رعب دار انداز کی کہانیاں ہمارے معاشرے میں عام ہیں۔ لیکن ہر کہانی کے کئی پہلو ہوتے ہیں، اور ہر ادارے کے کچھ چہرے ایسے بھی ہوتے ہیں جو اس اندھیرے میں روشنی کی کرن بن کر سامنے آتے ہیں۔

مجھے حال ہی میں ایسا ہی ایک تجربہ ہوا۔ میرے عزیز دوست چوہدری وارث بصرہ نے نیا ہوٹلنگ بزنس شروع کیا۔ قانونی معاملات اور ہوٹل آئی ڈی کے لیے ہم دونوں تھانہ نصیر آباد گئے۔ دل میں وہی پرانی جھجک اور خوف بھی موجود تھا کہ نہ جانے کس طرح کا سامنا ہوگا۔

ڈیوٹی آفیسر سے بات کرنے کے بعد ہمیں محرر یاسر صاحب کے پاس بھیج دیا گیا۔ لمحہ بھر کو دل نے سوچا کہ اب شاید وہی تلخ رویہ دیکھنے کو ملے گا جس کی شہرت عام ہے۔ لیکن جیسے ہی ہم یاسر صاحب سے ملے، معاملہ ہی بدل گیا۔ ان کی خوش اخلاقی، نرم لہجہ اور رہنمائی نے حیران کر دیا۔ یوں محسوس ہوا جیسے ہم کسی سرکاری دفتر میں نہیں بلکہ ایک دوست کے پاس بیٹھے ہیں جو ہماری مشکلات کو آسان بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔

اسی لمحے مجھے یہ احساس ہوا کہ پولیس کا یہ محکمہ صرف ڈر کا نام نہیں، بلکہ اس میں ایسے کردار بھی ہیں جو اپنے اخلاق اور خدمت سے اس ادارے کا وقار بڑھاتے ہیں۔ یاسر صاحب جیسے افسران ہی وہ لوگ ہیں جن کی وجہ سے عوام کے دلوں میں پولیس کے لیے اعتماد اور احترام جنم لیتا ہے۔

معاشروں میں تبدیلی صرف قانون کے زور سے نہیں آتی، بلکہ کردار اور اخلاق سے بھی آتی ہے۔ اگر ہر پولیس اسٹیشن میں یاسر صاحب جیسے لوگ موجود ہوں تو یقین مانیں عوام اور پولیس کے درمیان فاصلے مٹ جائیں۔

---
📜 اقتباس:
"اداروں کی طاقت قوانین سے نہیں، کردار سے بڑھتی ہے۔ اور کردار وہ آئینہ ہے جس میں عوام اپنی عزت دیکھتے ہیں۔"

Address

Pakistan Capital Islamabad
Islamabad
46000

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when MLC URDU posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to MLC URDU:

Share

Category