Hamara Chitral ہمارا چترال

Hamara Chitral ہمارا چترال This is a Platform where we Publish and Gather News and Views in the interest of ChiTral.

ریٹائرڈ جنرل فیض حمید کو سزا؛ فوجی تاریخ کا غیر معمولی فیصلہفوجی عدالت نے ریٹائرڈ فور اسٹار جنرل فیض حمید کو تاحیات قیدِ...
18/11/2025

ریٹائرڈ جنرل فیض حمید کو سزا؛ فوجی تاریخ کا غیر معمولی فیصلہ

فوجی عدالت نے ریٹائرڈ فور اسٹار جنرل فیض حمید کو تاحیات قیدِ بامشقت کی سزا سناتے ہوئے ان کے تمام منقولہ و غیر منقولہ اثاثے حکومت کے حق میں ضبط کرنے کا حکم دے دیا ہے۔ حکم نامے کے مطابق جنرل ریٹائرڈ فیض حمید کا کورٹ مارشل مکمل ہو چکا ہے اور تمام سرکاری مراعات اور پنشن فوری طور پر ختم کر دی گئی ہیں۔

عدالتی فیصلے میں ان کے پورے خاندان کا نام ECL میں شامل کرنے کا بھی حکم دیا گیا ہے، جبکہ ان کے بھائی نجف حمید (پٹواری) کی گرفتاری کا حکم جاری کر دیا گیا ہے۔ اسی فیصلے کے تحت جنرل ریٹائرڈ فیض حمید کے تمام بینک اکاؤنٹس تاحیات منجمد رہیں گے۔

فوجی حکام کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ ایک واضح پیغام ہے کہ
“اگر ایک جنرل احتساب اور سزا سے نہیں بچ سکتا، تو کوئی بھی نہیں بچ پائے گا۔”

16/11/2025

ہم نے گھریلو خواتین اور میٹرک پاس کارکنوں کو پارٹی ورکر کے نام پر اقتدار کی راہداریوں تک پہنچا دیا، کیونکہ ہمارے سیاسی رہنماؤں کو ہمیشہ اہل، پڑھے لکھے اور باشعور کارکنوں کی نہیں بلکہ ایسے تابع فرمان لوگوں کی ضرورت رہی جو بغیر سوال کیے حکم مانیں۔

چترال جیسے 90 فیصد تعلیم یافتہ ضلع کی سب سے بڑی بدقسمتی یہ ہے کہ یہاں حقیقی عوامی نمائندگی کے بجائے وہی گھریلو خواتین اور میٹرک پاس نوجوان اسمبلیوں میں پہنچ جاتے ہیں جنہیں ذمہ داری، گفتگو، پارلیمانی آداب اور حالات کا ادراک حاصل کرنے میں برسوں لگ جاتے ہیں۔ اس سارے عرصے میں ان کی توجہ عوامی مسائل پر نہیں بلکہ اس بات پر ہوتی ہے کہ اُن کے اکاؤنٹ میں کتنی رقم جمع ہوگئی، کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ عوام اب ان کی حقیقت پہچان چکی ہے اور انہیں اپنی نمائندگی کے قابل نہیں سمجھتی۔ انہیں یقین ہوتا ہے کہ اگلے الیکشن میں ووٹ نہیں ملے گا، اس لیے وہ اسی سوچ پر چلتے ہیں کہ جو کچھ مل رہا ہے، اسی بار اٹھا لو۔

بدقسمتی یہ ہے کہ ہم ہر الیکشن میں یہی غلطی دہراتے ہیں—اپنے پڑھے لکھے نوجوانوں اور باصلاحیت بیٹیوں کو آگے لانے کے بجائے دوبارہ انہی ناتجربہ کار افراد کو ٹکٹ دے دیتے ہیں جنہیں نہ بولنے کا سلیقہ معلوم ہوتا ہے، نہ خاموش رہنے کا، اور نہ یہ کہ کب کیا کہنا ہے اور کب نہیں۔

دنیا سب دیکھ رہی ہے کہ جن گھریلو خواتین اور ناتجربہ کار نوجوانوں کو ہم نمائندگی کے نام پر اسمبلیوں میں بھیجتے ہیں، وہ ہمارے لیے مسلسل شرمندگی کا باعث بنتے ہیں۔ سینٹ ہو، قومی اسمبلی ہو یا صوبائی—ایک رکن کو مہینوں میں بمشکل ایک بار بولنے کا موقع ملتا ہے۔ اگر اُس واحد تقریر کے لیے بھی وہ تیاری، وزن اور دلیل کے ساتھ بات نہ کر سکے، تو اندازہ لگانا مشکل نہیں رہتا کہ وہ اس ذمہ داری کے کتنے نااہل ہیں۔

“The five best pharmaceutical manufacturing companies in Pakistan including Bayer ICI, Sanofi, Pfizer, and Novartis — ar...
16/11/2025

“The five best pharmaceutical manufacturing companies in Pakistan including Bayer ICI, Sanofi, Pfizer, and Novartis — are ending their operations in Pakistan.”

میں واپس اونگاجا رہا ہوں میں یہاںخالی کرسی چھوڑکے۔
16/11/2025

میں واپس اونگاجا رہا ہوں میں یہاں
خالی کرسی چھوڑکے۔

14/11/2025

وزیر اعظم کی برطرفی کا امکان؟ اتحادی جماعتیں مخالفت پر اتر آئیں

اسلام آباد ـــ حکومتی ایوانوں میں سیاسی ہلچل تیز ہوگئی ہے، جہاں اتحادی جماعتوں کی ناراضی کے بعد وزیر اعظم کو ہٹانے کا امکان زیرِ گردش ہے۔ باخبر ذرائع کے مطابق حکومت کے اہم اتحادی وزیر اعظم کی پالیسیوں سے نالاں ہیں اور آئندہ چند روز میں بڑے فیصلوں کی توقع کی جارہی ہے۔

سیاسی حلقے اس صورتحال میں ایک اور بڑی پیش رفت کی نشاندہی کر رہے ہیں، جس کے مطابق وزیر داخلہ کو ممکنہ طور پر نیا وزیر اعظم نامزد کیا جا سکتا ہے۔ حکومت کے اندر جاری مشاورتی عمل اور اتحادیوں کے مسلسل دباؤ نے وزیراعظم کے مستقبل پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

پارلیمانی ذرائع کا کہنا ہے کہ اگلے چند دن ملکی سیاست کے لیے نہایت اہم ثابت ہوں گے۔

"بگڑی قوموں کا خالق امریکہ ہے""آپ کو کوئی ایسا تباہ شدہ گھر ، ملبے کا ڈھیر ، کٹے ہوئے جسمانی اعضا ، غمزدہ ماں اور بگڑی ہ...
14/11/2025

"بگڑی قوموں کا خالق امریکہ ہے"

"آپ کو کوئی ایسا تباہ شدہ گھر ، ملبے کا ڈھیر ، کٹے ہوئے جسمانی اعضا ، غمزدہ ماں اور بگڑی ہوئی قوم نہیں ملے گی؛ جن کی تباہی و بربادی میں امریکہ شامل نہ ہو!"

پرائم منسٹر ویتنام
ہو چی من
مترجم: Musa Pasha

13/11/2025

*_`سینیٹر فیصل واوڈا نے دعویٰ کیا ہے کہ جن لوگوں کے استعفے آتے رہیں گے وہ فوری منظور بھی کرلیے جائیں گے۔`_*

سینیٹر فیصل واوڈا کا کہنا ہے کہ ہلچل کا ذکر تین سے چار دن سے کررہا تھا وہ چائے کی پیالی میں طوفان کی کوشش ناکام ہوگئی۔

انہوں نے کہا کہ ابھی تو شروعات ہے مزید استعفے بھی آئیں گے انہیں بھی فوری منظور کیا جائے گا، کسی نے کوئی تیر نہیں چلایا ویسے بھی سروس میں وقت کم ہی بچا تھا۔

فیصل واوڈا نے کہا کہ یاد رکھیں یہ لفظ اب پراکسیز کا حساب ہوگا، قوم کو اب سمجھ آگئی ہوگی کہ کون کس کس مخصوص پارٹی کا سہولت کار تھا۔

دونوں ججز کا ذاتی اور سیاسی ایجنڈا تھا، رانا ثنا اللہ
مشیر وزیراعظم رانا ثنا اللہ کا کہنا ہے کہ استعفیٰ دینے والے ججز لائق احترام ہیں، ہمارا مؤقف درست ثابت ہوگیا ہے کہ دونوں ججز کا ذاتی اور سیاسی ایجنڈا تھا اور ان کے خط سیاسی تقریر ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ججز نے کس طرح کہا کہ 27ویں ترمیم آئین پر حملہ ہے، ان ججز نے اپنے چیمبرز کے جونیئر سے ہائیکورٹ کو بھر دیا، سپریم کورٹ جج بن کر سیاسی تقریریں کی جائیں اس سے بڑی بدقسمتی نہیں ہوسکتی۔

رانا ثنا اللہ نے کہا کہ صرف گفتگو اور تقریر کرنی ہے تو پھر کسی وجہ کی ضرورت نہیں ہے۔

عظمیٰ بخاری کا ججز کے استعفوں پر ردعمل
وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری نے ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ کمال ہے ابھی تک ان کی غلط فہمی برقرار رہے، جو خود پڑھے لکھے ہونے کے زعم میں مبتلا ہیں ان کا قلم منصف کا تھا حکمران کا نہیں۔

انہوں نے کہا کہ منصف کا قلم قانون اور آئین کی امانت ہوتا ہے لوگوں کا نہیں، سیاسی جج اسی لیے ان کو کہا جاتا تھا۔

13/11/2025

سپریم کورٹ کے جج جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس اطہر من اللہ نے استعفیٰ دے دیا۔

جب مجھےگرفتارکیا گیا تو عرفان صدیقی میرے بچوں کیلئے ناشتہ اور کھانا لیکر آتے تھے، سینیٹر فلک ناز
12/11/2025

جب مجھےگرفتارکیا گیا تو عرفان صدیقی میرے بچوں کیلئے ناشتہ اور کھانا لیکر آتے تھے، سینیٹر فلک ناز

کیا میری غلطی ہے ؟ یا فقط ایک حادثہ
12/11/2025

کیا میری غلطی ہے ؟ یا فقط ایک حادثہ

10/11/2025
لیاقت علی خان کی شہادت۔۔۔۔۔۔۔ پاکستان کی بنیاد میں تباہی کی پہلی اینٹ رکھنے میں عالمی طاقتور قووتوں/سٹیبلشمنٹ کا کردار۔۔...
09/11/2025

لیاقت علی خان کی شہادت۔۔۔۔۔۔۔
پاکستان کی بنیاد میں تباہی کی پہلی اینٹ رکھنے میں عالمی طاقتور قووتوں/سٹیبلشمنٹ کا کردار۔۔۔۔۔۔۔۔
26 اکتوبر 1951ء ریڈیو پاکستان:
"آج وزیر اعظم قوم سے زبردست خطاب کرنے جا رہے ہیں جس سے قوم حیرت میں مبتلا ہو جاے گی"
11۰30 دوپہر، گورنر جنرل کا ہوائی جہاز چکلالہ ایئر بیس پر اترا۔ انہوں نے گیسٹ ہاؤس میں سرکاری امور نپٹاے۔ قریب 4۰00 بجے دوپہر، ایسٹ انڈیا کمپنی، باغ راولپنڈی پہنچے۔ عوام الناس کی ایک بڑی تعداد جوش و خروش سے ان کا استقبال کرنے بے تابی سے منتظر تھی۔ سٹیج پر صرف ایک کرسی رکھی گئی تھی۔ جلسہء عام کی کارروائی تلاوت کلام پاک سے شروع ہوئی۔ فوراً بعد صدر میونسپل کمیٹی راولپنڈی مسعود صادق نے استقبالیہ سے اغاز کیا-
صدر پاکستان مسلم لیگ راولپنڈی شیخ محمد عمر نے وزیراعظم کے اعزاز میں چند الفاظ کہے۔ لیاقت علی خان کو عظیم الشان جلسہ عام سے خطاب کرنے کی دعوت دی۔ وہ کرسی سے اٹھے، ڈائس پہ پہنچے،
مائیک کو معمولی ہلا جلا کر درست کیا۔ بمشکل "برادران ملت" ہی سے کہا تھا کہ دو گولیاں فائر ہونے کی آواز گونجی۔ قائد ملت لیاقت علی خان پشت کے بل سٹیج پر گر گئے۔
وی وی آئی پی کی مخصوص نشستوں پر ڈائس کے عین سامنے بیٹھے ایک افغان پختون کو قریب موجود پولیس نے قابو کر کے اس کے ہاتھ سے پستول اپنی تحویل میں لے لیا۔ فوراً ہی پولیس سپرنٹنڈنٹ خان نجف خان پشتو میں چیخا:
"دہ چا ڈزا۔ اوکا اولا"
(فائرنگ کس نے کی؟
اسے گولی مار دو")
سب انسپکٹر محمد شاہ نے وزیر اعظم پر فائر کرنے والے کو گولی مار کر سازشیوں کی ترتیب کردہ سازش کے عین مطابق اپنا کردار ادا کیا۔
قاتل بارے علم ہوا کہ اس کا نام سید اکبر ببرک، ضلع ہزارہ کا رہائشی ہے۔ قاتل نے جس پستول سے قتل کیا اس کا لائسنس ایک ماہ قبل ڈپٹی کمشنر ہری پور نے جاری کیا تھا۔
یکم نومبر 1951ء کے ایک حکمنامہ میں لیاقت علی خان کی شہادت کی عدالتی تحقیقات کے لئے 3 رکنی کیمشن جسٹس محمد منیر کی سربراہی میں قائم ہوا۔
تحقیقاتی کیمشن کی 38 سماعت ہویں 23 لاھور میں 15 راولپنڈی میں 89 گواہانات کے بیانات قلمبند ہوے جس کے مطابق:
" قاتل سید اکبر 1921ء خوست افغانستان میں پیدا ہوا۔ زدران قبیلے کے سردار ببرک خان کا بیٹا۔ اس کا والد فوت ہوا، اس کا بڑے بھائی مزرک کو قبیلے کا نیا سردار چنا گیا۔ بادشاہ امان اللہ خان کی بحالی کی حمایت کے لئے 1944–1947 میں قبائلی بغاوتوں کے دوران مزرک اور سید اکبر نے افغان حکومت کے خلاف مسلح بغاوت کرتے جنگ لڑی جو 10 فروری 1944 سے 11 جنوری 1947 تک لڑی گئی۔ جنگ کا خاتمہ حکومت افغانستان کی فتح پر ہوا۔ سید اکبر اپنے خاندان کے ساتھ ہری پور ہجرت کر گیا، وہیں مستقل سکونت اختیار کر لی"
حکومت افغانستان نے سید اکبر کی زندہ یا مردہ گرفتاری کے احکامات جاری کئے۔ برطانوی عہد 14اگست 1947 سے قبل سید اکبر کو بستہ "ب" کا بدمعاش، کراے کا قاتل قرار دیا گیا تھا۔ سید اکبر پر پابندی عائد تھی کہ وہ اپنی نقل و حرکت بابت متعلقہ پولیس سٹیشن کو مطلعہ کرے گا۔ سید اکبر کے دلاور خان سمیت دو بیٹے تھے۔
اس کی اہلیہ مسمات ململ بی بی تھی۔ سید اکبر نے اپنی رہائشی تھانہ ہری پورہ میں 14 اکتوبر 1951ء راولپنڈی روانگی کی اطلاع درج کروائی اسی روز راولپنڈی سراے میں اپنی آمد درج کروانے کے بعد راولپنڈی تھانے میں اپنی آمد بھی درج کروائی۔
جلسے سے ایک روز قبل لیاقت باغ میں پاکستان مسلم لیگ کے رہنماؤں اور کارکنان کے ساتھ مل کر جلسہ گاہ میں ہونے والی تیاریوں میں ان کا ساتھ دیا، جلسہ گاہ کے منتظمین کو انناس کا جوس پلایا۔ پروٹوکول کے قوانین کے مطابق کسی وی وی آئی پی جلسے میں سیکیورٹی کو مدنظر رکھتے سٹیج کے سامنے سرکاری اہم ملازمین اور سیکیورٹی ایجینسیز کے ملازمین کو بٹھایا جاتا ہے۔ مگر اس جلسہء عام میں سید اکبر کو وزیر اعظم کے ڈائس کے عین سامنے پہلی صف بٹھایا گیا تھا۔ اب لیاقت علی خان کو شہید کرنا آسان ہو گیا تھا۔
سید اکبر کو امریکی حکومت بذریعہ حکومت پاکستان بطور مہاجر 450 روپئے ماہانہ وظیفہ دیتی تھی جو 1951ء میں کوئی معمولی رقم نہ تھی۔
لیاقت علی خان کے جسم اور قتل میں استعمال ہونے والی گولیوں کو دیکھا گیا تو علم ہوا کہ گولیاں امریکی ساختہ تھیں، مارکیٹ میں دستیاب نہیں تھیں۔ یہ گولیاں صرف امریکی فوج کے افسران کو دی جاتی تھیں۔ قتل سے ایک روز قبل 17 اکتوبر کو کراچی میں امریکی سفیر کے سکریٹری نے چھٹی کی درخواست لکھی تھی۔ قتل کے بعد اس کو مٹانے کی کوشش کی گئی۔ سکریٹری کی رخصت کے بعد کراچی امریکی سفارتخانے کے ملازم محمد حسین نے سیکریٹری کے برطانوی کلرک سے چھٹی کے بارے میں پوچھا تو اس نے اسے اپنی ایک ممکنہ غلطی بتایا۔ سکریٹری جانتا تھا کہ سفارت خانہ اس روز بند رہے گا جبکہ اس دن کسی امریکی یا پاکستانی کیلنڈر میں تعطیل نہیں تھی۔
ہم اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ لیاقت علی خان کا قتل پاکستان میں حکومت کی تبدیلی کے لئے کیا گیا تھا"
حکومت وقت نے عدالتی تحقیقات پوشیدہ رکھیں:
"ملک و قوم کے وسیع تر مفاد میں تحقیقاتی رپورٹ شائع نہیں کی جا سکتی"
--------------------
پرنٹ میڈیا میں قتل کا الزام اصل قاتلوں کی بجاے افغانستان، بھارت اورطکبھی سوویت یونین کی جانب رہا۔
لیاقت علی خان کو شہید کرنے، ان کا تختہ الٹنے کی سازش کرنے والے تمام ملزمان جنرل اکبر۔ بیگم نسیم اکبر اور بائیں بازو کے عوامی شاعر فیض احمد فیض سمیت سب سلاخوں کے پیچھے تھے، اصل قاتل سیکیورٹی ایجنسیز میں بلا روک ٹوک دھندناتے پھرتے رہے۔
کیمشن کے سربراہ جسٹس محمد منیر کو 150 ایکڑ اٹھارہ ہزاری بیراج پر زمین الاٹ کی گئ۔ قاتل سید اکبر کو نہتا کرکے گرفتار کرنے کے فوری بعد سب انسپکٹر محمد شاہ کے ہاتھوں گولی مروار کر شہید کروانے والے ایس پی خان نجف خان کو فوری ترقی دے دی گئی، اسے آئی جی بنا دیا گیا 240 ایکڑ زرعی زمین اسے الاٹ کی گئی۔

Address

Islamabad
44000

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Hamara Chitral ہمارا چترال posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Hamara Chitral ہمارا چترال:

Share