06/09/2026
ایک قدیم حکایت ہے کہ کسی سرسبز بستی پر ایک خونخوار درندے نے رات کے اندھیرے میں دھاوا بول دیا۔ وہ درندہ بستی کے کمزوروں کو نوچنے اور گھروں کو اجاڑنے لگا۔ اس وحشت کو دیکھ کر بستی کا ایک نڈر اور بے لوث پہرے دار اس ظالم درندے کے سامنے سینہ سپر ہو گیا۔ دونوں کے درمیان ایک خونی کشمکش شروع ہو گئی۔ پہرے دار کا جسم لہولہان تھا، مگر وہ پھر بھی بستی والوں کی جان بچانے کے لیے درندے کا ہر وار اپنے سینے پر روک رہا تھا۔ اس مزاحمت پر درندہ مزید غضب ناک ہو گیا، اس نے خوفناک دھاڑیں ماریں اور اردگرد کی دیواریں گرانا شروع کر دیں۔
یہ شور سن کر بستی کے لوگ اپنے گھروں سے باہر نکل آئے۔ مگر یہاں ایک عجیب و غریب اور افسوس ناک منظر دیکھنے کو ملا۔ بجائے اس کے کہ بستی والے اپنے محافظ کا ساتھ دیتے اور مل کر درندے پر ٹوٹ پڑتے، انہوں نے اپنی الجھن اور خوف کا ملبہ اسی پہرے دار پر ڈالنا شروع کر دیا۔ ایک شخص چلایا، "اس پہرے دار نے خوامخواہ درندے کو غصہ دلا دیا ہے، اسی کی مزاحمت کی وجہ سے درندہ ہماری دیواریں توڑ رہا ہے۔" دوسرے نے طعنہ دیا، "اگر یہ پہرے دار اسے نہ چھیڑتا، تو شاید درندہ اپنا پیٹ بھر کر خاموشی سے چلا جاتا۔" حد تو یہ ہوئی کہ ان بے شعوروں نے ظالم درندے کو روکنے کے بجائے اپنے ہی پہرے دار پر پتھر برسانا شروع کر دیے، تاکہ وہ راستے سے ہٹ جائے۔ درندہ ان کی یہ حماقت دیکھ کر مسکرایا، اس نے اکیلے پڑ جانے والے زخمی پہرے دار کو گرایا اور پھر انھی بستی والوں کو ایک ایک کر کے چبا گیا۔
آج ہمارا معاشرہ، ہماری سیاست اور ہمارا رویہ بھی ہو بہو اسی بے حس اور اندھی بستی جیسا ہو چکا ہے۔
ایک طرف وہ ظالم حکومتی نظام ہے جو پٹرولیم لیوی، مہنگی روٹی اور ظالمانہ ٹیکسوں کی صورت میں غریب عوام کی ہڈیاں چبا رہا ہے۔ اور دوسری طرف وہ جماعت اور وہ قیادت ہے جو اس ظلم کے خلاف دھرنا دیے بیٹھے ہیں، جو آپ کے بچوں کا نوالہ بچانے کے لیے دن رات سڑکوں پر رل رہے ہیں۔ مگر کتنی شرم اور دکھ کا مقام ہے کہ جو لوگ اندھی سیاسی عقیدتوں اور مصلحتوں کا شکار ہیں، وہ حکومتی ہٹ دھرمی کا ملبہ بھی انھی احتجاج کرنے والوں پر ڈال رہے ہیں۔
اگر حکومت اپنی ضد اور تکبر میں آ کر پٹرول مزید مہنگا کر رہی ہے، تو اس میں اس شخص کا کیا قصور ہے جو اس ظلم کا ہاتھ پکڑنے کے لیے سڑک پر کھڑا ہے؟ کیا ہمارا شعور اتنا بانجھ ہو چکا ہے کہ ہم ظالم کے ظلم کو تو جواز فراہم کر رہے ہیں، مگر اس کے خلاف اٹھنے والی واحد آواز کی ٹانگیں کھینچ رہے ہیں؟ ہم خاموشی سے ظالم حکمرانوں کی صف میں کھڑے ہو کر اسی شخص پر طعنوں کے پتھر برسا رہے ہیں جو ہمارے لیے ڈھال بنا ہوا ہے۔
یہ کیسی منافقت ہے کہ آپ شکاری کو تو کچھ نہیں کہتے، مگر جو آپ کو بچانے کے لیے تیر کھا رہا ہے، اسی کو موردِ الزام ٹھہراتے ہیں؟ آج ذرا تنہائی میں بیٹھ کر اپنے ضمیر سے پوچھیے، کیا اپنے ہی محافظوں پر پتھر برسا کر کبھی کسی قوم نے خود کو درندوں سے بچایا ہے؟
صدائے غازی