FARAN NEWS

FARAN NEWS MEDIA

ایک قدیم حکایت ہے کہ کسی سرسبز بستی پر ایک خونخوار درندے نے رات کے اندھیرے میں دھاوا بول دیا۔ وہ درندہ بستی کے کمزوروں ک...
06/09/2026

ایک قدیم حکایت ہے کہ کسی سرسبز بستی پر ایک خونخوار درندے نے رات کے اندھیرے میں دھاوا بول دیا۔ وہ درندہ بستی کے کمزوروں کو نوچنے اور گھروں کو اجاڑنے لگا۔ اس وحشت کو دیکھ کر بستی کا ایک نڈر اور بے لوث پہرے دار اس ظالم درندے کے سامنے سینہ سپر ہو گیا۔ دونوں کے درمیان ایک خونی کشمکش شروع ہو گئی۔ پہرے دار کا جسم لہولہان تھا، مگر وہ پھر بھی بستی والوں کی جان بچانے کے لیے درندے کا ہر وار اپنے سینے پر روک رہا تھا۔ اس مزاحمت پر درندہ مزید غضب ناک ہو گیا، اس نے خوفناک دھاڑیں ماریں اور اردگرد کی دیواریں گرانا شروع کر دیں۔
یہ شور سن کر بستی کے لوگ اپنے گھروں سے باہر نکل آئے۔ مگر یہاں ایک عجیب و غریب اور افسوس ناک منظر دیکھنے کو ملا۔ بجائے اس کے کہ بستی والے اپنے محافظ کا ساتھ دیتے اور مل کر درندے پر ٹوٹ پڑتے، انہوں نے اپنی الجھن اور خوف کا ملبہ اسی پہرے دار پر ڈالنا شروع کر دیا۔ ایک شخص چلایا، "اس پہرے دار نے خوامخواہ درندے کو غصہ دلا دیا ہے، اسی کی مزاحمت کی وجہ سے درندہ ہماری دیواریں توڑ رہا ہے۔" دوسرے نے طعنہ دیا، "اگر یہ پہرے دار اسے نہ چھیڑتا، تو شاید درندہ اپنا پیٹ بھر کر خاموشی سے چلا جاتا۔" حد تو یہ ہوئی کہ ان بے شعوروں نے ظالم درندے کو روکنے کے بجائے اپنے ہی پہرے دار پر پتھر برسانا شروع کر دیے، تاکہ وہ راستے سے ہٹ جائے۔ درندہ ان کی یہ حماقت دیکھ کر مسکرایا، اس نے اکیلے پڑ جانے والے زخمی پہرے دار کو گرایا اور پھر انھی بستی والوں کو ایک ایک کر کے چبا گیا۔
آج ہمارا معاشرہ، ہماری سیاست اور ہمارا رویہ بھی ہو بہو اسی بے حس اور اندھی بستی جیسا ہو چکا ہے۔
ایک طرف وہ ظالم حکومتی نظام ہے جو پٹرولیم لیوی، مہنگی روٹی اور ظالمانہ ٹیکسوں کی صورت میں غریب عوام کی ہڈیاں چبا رہا ہے۔ اور دوسری طرف وہ جماعت اور وہ قیادت ہے جو اس ظلم کے خلاف دھرنا دیے بیٹھے ہیں، جو آپ کے بچوں کا نوالہ بچانے کے لیے دن رات سڑکوں پر رل رہے ہیں۔ مگر کتنی شرم اور دکھ کا مقام ہے کہ جو لوگ اندھی سیاسی عقیدتوں اور مصلحتوں کا شکار ہیں، وہ حکومتی ہٹ دھرمی کا ملبہ بھی انھی احتجاج کرنے والوں پر ڈال رہے ہیں۔
اگر حکومت اپنی ضد اور تکبر میں آ کر پٹرول مزید مہنگا کر رہی ہے، تو اس میں اس شخص کا کیا قصور ہے جو اس ظلم کا ہاتھ پکڑنے کے لیے سڑک پر کھڑا ہے؟ کیا ہمارا شعور اتنا بانجھ ہو چکا ہے کہ ہم ظالم کے ظلم کو تو جواز فراہم کر رہے ہیں، مگر اس کے خلاف اٹھنے والی واحد آواز کی ٹانگیں کھینچ رہے ہیں؟ ہم خاموشی سے ظالم حکمرانوں کی صف میں کھڑے ہو کر اسی شخص پر طعنوں کے پتھر برسا رہے ہیں جو ہمارے لیے ڈھال بنا ہوا ہے۔
یہ کیسی منافقت ہے کہ آپ شکاری کو تو کچھ نہیں کہتے، مگر جو آپ کو بچانے کے لیے تیر کھا رہا ہے، اسی کو موردِ الزام ٹھہراتے ہیں؟ آج ذرا تنہائی میں بیٹھ کر اپنے ضمیر سے پوچھیے، کیا اپنے ہی محافظوں پر پتھر برسا کر کبھی کسی قوم نے خود کو درندوں سے بچایا ہے؟
صدائے غازی

جماعت اسلامی پاکستان کے امیر حافظ نعیم الرحمان نے پیٹرولیم لیوی کے خلاف احتجاج کے حوالے سے حکومت کو خبردار کیا ہے کہ اگر...
06/09/2026

جماعت اسلامی پاکستان کے امیر حافظ نعیم الرحمان نے پیٹرولیم لیوی کے خلاف احتجاج کے حوالے سے حکومت کو خبردار کیا ہے کہ اگر حکومت نے مذاکرات میں مناسب بات نہ کی تو پہیہ جام کی کال دوں گا اور اگر لانگ مارچ کی کال دی تو اسلام آباد پہنچ کر ہماری تحریک لیوی تک محدود نہیں رہے گی بلکہ حکومت گراؤ انقلاب لاؤ میں بدل جائے گی۔
جماعت اسلامی پاکستان کے امیر حافظ نعیم الرحمان نے مال روڈ لاہور میں پیٹرولیم لیوی کے خلاف جاری دھرنے سے خطاب میں کہا کہ جماعت اسلامی کا دھرنے عوام تک سرائیت کر چکا ہے، آج ہمارے دھرنے میں خواتین کی تعداد مردوں سے بھی زیادہ ہے، کراچی، سکھر اور حیدرآباد میں بھی دھرنے جاری ہیں، حکومت سے مذاکرات کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ حکومتی کمیٹی سے ملاقات ہوئی اور پیر سے مذاکرات ہوں گے لیکن ہم مذاکرات کے چکروں میں نہیں آئیں گے، دھرنے جاری رہیں گے اور آئندہ پہیہ جام ہڑتال بھی کرنی ہے اور پورا ملک بند کر دیں گے۔
امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ اگر پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) 27 ستمبر کو مارچ کرتی ہے تو ہم اس کی تائید کرتے ہیں، جلسے جلوس، مارچ، احتجاج سب کا حق ہے، پی ٹی آئی کو پنجاب میں بھی احتجاج کی اجازت ملنی چاہیے۔
ان کا کہنا تھا کہ جب لانگ مارچ کی کال دوں گا تو پورے پاکستان سے لوگ نکلیں گے، اسلام آباد پہنچ کر ہماری تحریک لیوی تک محدود نہیں رہے گی، ہماری تحریک حکومت گراؤ انقلاب لاؤ میں بدل جائے گی۔

رہنما مسلم لیگ ق چوہدری شاھد نثار وڑائچ کا تین روزہ فری آئی کیمپ کا خصوصی دورہ ۔۔۔ جدید طبی سہولیات اور مستحق مریضوں کے ...
04/09/2026

رہنما مسلم لیگ ق چوہدری شاھد نثار وڑائچ کا تین روزہ فری آئی کیمپ کا خصوصی دورہ ۔۔۔ جدید طبی سہولیات اور مستحق مریضوں کے لیے مفت معائنہ قابلِ تحسین !!!

رہنما مسلم لیگ ق چوہدری شاھد نثار وڑائچ آف کلاچور نے وڑائچ آئی سینٹر سرکلر روڈ پر جاری تین روزہ فری آئی کیمپ کا خصوصی دورہ کیا۔ اس موقع پر وڑائچ آئی سینٹر کے مینجنگ ڈائریکٹر چودھری فہد وڑائچ اور جلالپور جٹاں شہر کے پہلے ( آئی اسپیشلسٹ ) ڈاکٹر عمر فاروق ڈار نے انہیں آئی سینٹر کا تفصیلی دورہ کروایا اور جدید طبی سہولیات، تشخیصی نظام اور مریضوں کے لیے دستیاب خدمات کے بارے میں بریفنگ دی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
چوہدری شاھد نثار وڑائچ نے آئی سینٹر میں جدید ترین مشینری اور طبی سہولیات کا جائزہ لیتے ہوئے اس امر کو سراہا کہ علاقے کے عوام کو آنکھوں کے امراض کی تشخیص اور علاج کے لیے جدید سہولیات ان کے اپنے شہر میں میسر آ رہی ہیں۔ انہوں نے بالخصوص تین روزہ فری آئی کیمپ کے انعقاد کو ایک قابلِ قدر عوامی خدمت قرار دیا۔ جس کے دوران مریضوں کی آنکھوں کا مفت معائنہ، نظر کی جانچ اور دیگر ضروری طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

انہوں نے وڑائچ آئی سینٹر کی انتظامیہ اور ڈاکٹرز کی جانب سے عوامی خدمت کے اس اقدام کو سراہتے ہوئے کہا کہ صحت کے شعبے میں ایسے فلاحی اقدامات معاشرے کے ان طبقات کے لیے امید کی کرن ہیں جو مہنگے علاج اور طبی معائنے کے اخراجات برداشت کرنے کی استطاعت نہیں رکھتے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اس موقع پر شاھد عزیر ( ایکسپریس نیوز ) راجہ نذیر احمد ( سچ نیوز ) ممتاز سماجی شخصیت محمد آصف انصاری، وقاص ہمایوں اور دیگر معززین بھی موجود تھے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تین روزہ فری آئی کیمپ میں عوام کو آنکھوں کے معائنے اور ضروری طبی رہنمائی سمیت مختلف سہولیات کی فراہمی کا سلسلہ جاری ہے۔ جسے شہریوں کی جانب سے ایک قابلِ تحسین عوامی خدمت قرار دیا جا رہا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

رپورٹ: شہباز احمد
92 نیوز جلالپور جٹاں

گجرات پولیس میں تبادلوں کا عمل ۔۔۔  کیا اصلاحات کا دائرہ سب کے لیے یکساں ہوگا ۔۔۔ ؟؟؟گجرات پولیس میں نئے تعینات ہونے وال...
04/09/2026

گجرات پولیس میں تبادلوں کا عمل ۔۔۔ کیا اصلاحات کا دائرہ سب کے لیے یکساں ہوگا ۔۔۔ ؟؟؟

گجرات پولیس میں نئے تعینات ہونے والے ڈی پی او فیصل شہزاد نے محکمہ پولیس میں شفافیت، میرٹ، احتساب اور انتظامی بہتری کے حوالے سے جو واضح وژن اختیار کیا ہے وہ بلاشبہ قابلِ تحسین ہے۔ خاص طور پر ایک ہی تھانے میں پانچ سال سے زائد عرصہ تعینات رہنے والے پولیس ملازمین کے تبادلوں کا فیصلہ اس امر کی عکاسی کرتا ہے کہ پولیسنگ کے نظام میں جمود توڑنے اور انتظامی معاملات کو بہتر بنانے کے لیے عملی اقدامات کیے جا رہے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

یہ ایک حقیقت ہے کہ کسی بھی سرکاری محکمے میں طویل عرصے تک ایک ہی جگہ پر تعیناتی بعض اوقات انتظامی مسائل، غیر ضروری اثر و رسوخ اور فرائض کی انجام دہی میں یکسانیت کا باعث بن سکتی ہے۔ اس لیے فیلڈ میں تعینات ایسے اہلکاروں کے تبادلے ایک مثبت انتظامی قدم قرار دیے جا سکتے ہیں۔ بشرطیکہ یہ عمل میرٹ، ضرورت اور واضح پالیسی کے تحت جاری رہے۔ تاہم اسی تناظر میں بعض پولیس اہلکاروں اور افسران کی جانب سے ایک اہم سوال بھی سامنے آیا ہے۔ نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بعض اہلکاروں کا کہنا ہے کہ اگر پانچ سال سے زائد عرصہ ایک ہی تھانے میں تعینات رہنے والے ملازمین کے تبادلے کیے جا رہے ہیں تو پھر پولیس لائنز، ڈی ایس پی دفاتر اور دیگر دفتری شعبوں میں طویل عرصے سے تعینات اہلکاروں کے حوالے سے بھی یہی اصول کب لاگو ہوگا ۔۔۔ ؟؟؟

یہ سوال اپنی جگہ اہم ہے کہ اگر کوئی ملازم ایک ہی دفتری نشست یا مقام پر دس، پندرہ یا اس سے بھی زائد عرصے سے خدمات انجام دے رہا ہو تو کیا انتظامی اصلاحات کے اس عمل میں اس کی باری بھی نہیں آنی چاہیے ۔۔۔ ؟؟؟

آخر پولیس کا بنیادی ڈھانچہ صرف تھانوں اور فیلڈ تک محدود نہیں، پولیس لائنز، دفاتر اور دیگر انتظامی شعبے بھی اسی نظام کا حصہ ہیں۔ اگر مقصد واقعی محکمہ پولیس میں نئی توانائی، میرٹ، شفافیت اور بہتر کارکردگی کو فروغ دینا ہے تو پھر اصلاحات کا دائرہ بھی یکساں ہونا چاہیے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

یہاں کسی فرد، افسر یا اہلکار کو ہدف بنانا مقصود نہیں۔ بلکہ اصول کی بات ہے۔ اگر تبدیلی ضروری ہے تو اس کا معیار بھی سب کے لیے یکساں ہونا چاہیے۔ فیلڈ میں برسوں سے تعینات اہلکاروں کو نئے مقامات پر بھیجنے کے ساتھ ساتھ ایسے اہلکاروں کے بارے میں بھی جائزہ لیا جانا چاہیے جو طویل عرصے سے دفتری ذمہ داریوں پر موجود ہیں۔ تاکہ ضرورت اور اہلیت کے مطابق انہیں بھی فیلڈ میں اپنی صلاحیتیں آزمانے کا موقع مل سکے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ڈی پی او فیصل شہزاد کی جانب سے اصلاحات کا آغاز ایک مثبت پیش رفت ہے اور اہلِ گجرات یقیناً یہ توقع رکھتے ہیں کہ میرٹ، شفافیت اور یکساں پالیسی کا یہ عمل محکمہ پولیس کے ہر شعبے تک پہنچے گا۔ یہی وہ طرزِ عمل ہے جو ایک مضبوط، غیر جانب دار اور عوام دوست پولیسنگ کے تصور کو حقیقت میں بدل سکتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اصلاحات تب ہی مؤثر اور قابلِ اعتماد بنتی ہیں جب ان کا پیمانہ سب کے لیے ایک ہو۔ گجرات پولیس میں اگر واقعی ایک نئے انتظامی کلچر کی بنیاد رکھی جا رہی ہے تو یہ قدم نہ صرف فیلڈ بلکہ دفاتر اور پولیس لائنز تک بھی یکساں انداز میں نظر آنا چاہیے۔ یہی انصاف کا تقاضا، میرٹ کا حسن اور ایک بہتر پولیس نظام کی اصل روح ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

شاھد عزیر
ایکسپریس نیوز
صدر پاکستان فیڈرل یونین آف کالمسٹ اینڈ کری ایٹرز پنجاب شمالی

A public service msg
04/09/2026

A public service msg

Address

Jalalpur Jattan
50780

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when FARAN NEWS posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share

l="false"> Add listing
  • Login
  • Subscribe

    We will notify you when anything happens in Jalalpur Jattan.