Mureed Express

Mureed Express آپ کوMureed Express دیتا ہے جنڈ شہر اور اس کے گردونواح کی خبریں

ہسپتال میں جب عبدالرازق سے پوچھا گیا کہ آپ نے ایسا کیوں کیا تو ان کا کہنا تھا 'مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا۔ اچانک پیچھے ...
08/06/2026

ہسپتال میں جب عبدالرازق سے پوچھا گیا کہ آپ نے ایسا کیوں کیا تو ان کا کہنا تھا 'مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا۔ اچانک پیچھے سے آوازیں آئیں۔ جب میں نے مڑ کر دیکھا تو ایک خاتون چیختے ہوئے میری طرف آرہی تھی۔ میں نے دیکھا تو وہ درد کے مارے خود کو نوچ رہی تھی اور کپڑے پھٹ چکے تھے۔ مجھے کسی چیز کا اندازہ نہیں ہوا اس لیے میں نے سب سے پہلے اپنا کوٹ اتار کر اس کے چہرے پر ڈالا کیونکہ وہ بے پردہ ہو رہی تھی لیکن اس دوران تیزاب کا اثر مجھ پر ہوگیا اور میں گر پڑا۔ اس کے بعد مجھے کوئی علم نہیں کیا ہوا'

وزیراعلیٰ بلوچستان نے ڈاکٹر ماہ نور ناصر کو بچانے کی کوشش کرنے والے عبدالرازق کے لیے سول ایوارڈ کا اعلان کیا ہے۔ ناصر قبیلے کے مشران نے انہیں ہسپتال جا کر داد دی اور کہا 'ان کی یہ بہادری ہم سو سالوں تک نہیں بھول پائیں گے'

حملہ کرنے والا مرد تھا۔ بچانے کی کوشش کرنے والا بھی مرد تھا۔ فرق فقط اتنا تھا کہ حملہ کرنے والا لعنتیں وصول کر رہا ہے جبکہ بچانے کی کوشش کرنے والا داد و تحسین سمیٹ رہا ہے۔

کوئٹہ کے سول ہسپتال میں 6 جون ڈاکٹر ماہ نور نامی ایک خاتون ڈاکٹر پر تیزاب پھینکا گیا۔ یہ تیزاب ایک مرد نے پھینکا اور بھاگ نکلا۔ پولیس نے ایک کارروائی میں مبینہ طور پر اسے پار کر دیا ہے۔

دوسری طرف بچانے کی کوشش کرنے والا عبدالرازق بہادری کا استعارہ بن گیا ہے۔ ہم اکثر 'مرد' کو ایک اکائی کی طرح بیان کرتے ہیں جیسے سب ایک ہی سانچے میں ڈھلے ہوں۔ جب کوئی عورت کسی مرد کے ہاتھوں تش۔دد کا شکار ہوتی ہے تو سوال اٹھتا ہے 'مرد ایسے کیوں ہوتے ہیں؟' یا 'سارے مرد ایک جیسے ہوتے ہیں ' اور جب کوئی مرد اپنی جان خطرے میں ڈال کر بچانے کو دوڑتا ہے تو اس کا ذکر عموماً حاشیے میں ہوتا ہے۔

ہمایون شاہ نامی اس ملزم نے ڈاکٹر ماہ نور پر تیزاب پھینکا۔۔ اس نے جو کیا وہ بظاہر ایک ایسی ذہنیت کا اظہار تھا جو عورت کو اپنے غصے، حسد یا تکبر کا نشانہ سمجھتی ہے۔ وہ ذہنیت جو طاقت کا مطلب دوسرے کو دھتکارنا سمجھتی ہے۔۔۔جبکہ عبدالرازق نے اسی لمحے، اسی جگہ کچھ اور ثابت کیا۔ اس نے ثابت کیا کہ مردانگی کا مطلب گرتے ہوئے کو تھامنا ہے۔

ہمارے ہاں مردانگی کا جو تصور رائج ہے وہ بڑی حد تک غلط ہے۔ ہم نے مرد کو طاقتور بنا کر پیش کیا ہے لیکن یہ نہیں سکھایا کہ طاقت کی ڈائریکشن کیا ہونی چاہیے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ ایک طبقہ وہ بنا جو کمزور پر اپنی طاقت آزماتا ہے اور دوسرا طبقہ وہ جو اسی طاقت کو ڈھال بناتا ہے۔

ہمایون نے پہلی قسم کی مردانگی کا مظاہرہ کیا جبکہ عبدالرازق نے دوسری۔۔ ایک نے ثابت کیا کہ وہ کتنا خوفزدہ ہے اندر سے۔۔۔ کیونکہ تیزاب وہی پھینکتے ہیں جو کسی کو برابر کا انسان نہیں سمجھتے۔۔دوسرے نے ثابت کیا کہ انسان ہونا کیا ہوتا ہے!

ہمارے معاشرے میں بہادری کے بڑے بڑے قصے لکھے جاتے ہیں۔۔ میدان جنگ، تلوار اور بندوق کی کتنی ہی کہانیاں ہم سن چکے ہیں لیکن میرے مطابق سب سے بڑی بہادری وہ ہوتی ہے جب آپ کسی کے حق میں بغیر کسی لالچ اور تعریف کے اس وقت سامنے آئیں جب سب پیچھے ہٹ چکے ہوں۔ عبدالرازق اس لمحے وہاں تھا اور اس نے وہ کیا جو بہت سے لوگ نہیں کرتے یا نہیں کر پاتے۔ وہ رکا نہیں، پیچھے نہیں ہٹا، یہ نہیں سوچا کہ 'میرا کیا کام'... بلکہ اس نے بچانے کی کوشش کی۔

پاکستان میں خواتین ڈاکٹرز، استانیوں، صحافیوں اور کارکنوں پر تشدد کی ایک بڑی تاریخ موجود ہے۔ ہر بار ہم سوگ مناتے ہیں۔۔ بیانات دیتے ہیں، ہیش ٹیگ چلاتے ہیں اور پھر اگلے واقعے تک کسی اور کام میں مصروف ہوجاتے ہیں لیکن شاید اصل سوال یہ نہیں کہ ہمایون شاہ جیسے لوگ کیوں ہیں؟ اصل سوال یہ ہے کہ عبدالرازق جیسے لوگ ہم کیوں نہیں بناتے؟ یہ تو واضح ہے کہ معاشرہ اپنے محافظوں سے بھی پہچانا جاتا ہے۔ ہمایون جیسے لوگ افسوس ناک حد تک ہر معاشرے میں ہوتے ہیں لیکن عبدالرزاق بھی تھا۔ اور عبدالرزاق کا ہونا اس امید کی کرن ہے کہ اب بھی بہت کچھ باقی ہے۔۔

ڈاکٹر ماہ نور ناصر ابھی کراچی کے ایک ہسپتال میں زیر علاج ہیں۔ حکومت نے انہیں ایئر ایمبولینس کے ذریعے کراچی بھیجا۔ واقعے کے بعد حکومت نے بہت کچھ کیا۔ یہ سب ضروری تھا۔ لیکن کافی نہیں۔ کافی تب ہو گا جب کوئٹہ کے ہر ہسپتال میں کوئی عورت۔۔۔ چاہے ڈاکٹر ہو، نرس ہو، یا مریض۔۔۔ محفوظ محسوس کرے۔

میں یہ تحریر عبدالرازق کے لیے لکھ رہا ہوں۔۔ اس لیے نہیں کہ وہ ہیرو ہے بلکہ اس لیے کہ ہم اکثر ایسے لوگوں کو بھول جاتے ہیں۔ ہم حملہ آور کو یاد رکھتے ہیں۔۔ اس کا نام، اس کی تصویر، اس کا انجام سب یاد رہتا ہے لیکن بچانے والا کہیں گم ہو جاتا ہے۔ یہ غلط ہے۔ جس دن ہم ہمایون شاہ کو بھول جائیں اور عبدالرازق کو یاد رکھیں اس دن یہ معاشرہ کچھ بہتر ہو گا۔

ڈاکٹر ماہ نور ناصر کے لیے دعا ہے کہ وہ صحت یاب ہوں اور ان جیسی ہر بیٹی کے لیے جو اس ملک کی خدمت کرنے نکلتی ہے اور اپنی جان خطرے میں پاتی ہے۔

ادیب یوسفزئی

بارش کی طرح بنو جہاں چاہتی ہے برستی ہے جس چیز کو چھوتی ہے اسے زندہ کر دیتی ہے پھر زمین سے یہ نہیں پوچھتی کیا تم نے مجھ س...
07/06/2026

بارش کی طرح بنو جہاں چاہتی ہے برستی ہے جس چیز کو چھوتی ہے اسے زندہ کر دیتی ہے پھر زمین سے یہ نہیں پوچھتی کیا تم نے مجھ سے محبت کی
اپنے کندھوں پر وہ آسمان نہ اٹھاؤ جسے اٹھانے کا تم سے نہیں کہا گیا کیونکہ جس نے تمہیں پیدا کیا ہے وہ جانتا ہے کہ تم مٹی سے بنے ہو اور مٹی اگر نرم ہو جائے تو اس پر عتاب نہیں کیا جاتا اور اگر پیاس سے اس میں دراڑیں پڑ جائیں تو اسے ملامت نہیں کی جاتی
کسی کا انتظار نہ کرو اس لیے نہیں کہ لوگ اس کے مستحق نہیں ہیں بلکہ اس لیے کہ آپ کا دل اس بات کا مستحق ہے کہ اسے "شاید" کی کھونٹی پر نہ لٹکایا جائے اور نہ ہی اسے "شاید وہ لوٹ آئے" کے صندوق میں پھینکا جائے زندگی کا ذائقہ ویسے چکھو جیسے ایک بچہ اپنی زبان پر بارش کے پہلے قطرے کا ذائقہ چکھتا ہے کامل حیرت کے ساتھ اور بغیر کسی لالچ کے
ہر لمحے سے اس کی خوشبو سمیٹ لو پھر پھول کو اس کی جگہ پر چھوڑ دو ہر ملاقات سے اس کی تپش لے لو پھر جدائی کے دن نہ گنو خوشی سے اتنا حصہ لو جو ایک مسکراہٹ کے لیے کافی ہو اور غم سے اتنا جو ایک سبق کے لیے کافی ہو اور ان دونوں میں سے کسی سے بھی اتنا حصہ نہ لو جو مستقل قیام کے لیے کافی ہو
لیکن میرے دوست تم انسان ہو اور تم پر ایک ایسا دن بھی آئے گا جب تمہاری ڈھال تمہیں دھوکا دے جائے گی اور تم بیدار ہونے سے پہلے درد کو اپنے بستر کے کونے پر بیٹھا ہوا پاؤ گے جیسے وہ ازل سے وہیں رہ رہا ہو اور جیسے وہ تمہارا پتہ تم سے زیادہ جانتا ہو
تمہیں ایک ایسا دکھ پہنچے گا جو دوسرے دکھوں جیسا نہیں ہوگا ایک ایسا دکھ جس کے دانت ناخن اور کبھی نہ بھولنے والی یادداشت ہوگی وہ تمہارے سینے میں ایک کمرہ کھودے گااور اس میں وہ تصویریں لٹکا دے گا جنہیں تم دیکھنا نہیں چاہتے پھر دروازہ بند کر دے گا اور چابی نگل جائے گا
جب ایسا ہو اور ایسا ہو کر رہے گا تو اپنی طرف بڑھنے والے کسی ہاتھ کو تلاش نہ کرنا اس لیے نہیں کہ ہاتھوں کی کمی ہے بلکہ اس لیے کہ کچھ زخموں کو صرف ان کا صاحبِ زخم ہی سمجھ سکتا ہے جیسے کچھ آنسوں اندھیرے میں ہی اپنا راستہ پاتے ہیں اکیلے بغیر کسی گواہ کے
پس اپنا وہ دایاں ہاتھ بڑھاؤ جسے تم نے ہزار بار دعا کے لیے اٹھایا تھا اور اس سے اپنے دل کو سہارا دو نہ کہ صرف بائیں ہاتھ سے
اپنے آپ سے کہو میں اپنے لیے کافی ہوں یہ غرور نہیں ہے بلکہ اس لیے کہ اللہ نے جب تمہیں اکیلا پیدا کیا، اکیلا اتارا، اور وہ تمہارا اکیلے ہی حساب لے گا تو اس نے تمہیں اتنا کچھ دے رکھا ہے کہ تم اکیلے کھڑے ہو سکو
اور جب تم کھڑے ہو، تو ایسے کھڑے نہ ہو جیسے کوئی مدد کا منتظر ہو، بلکہ ایسے کھڑے ہو جیسے کوئی ایک پروقار خاموشی میں یہ اعلان کر رہا ہو کہ وہ اب بھی یہیں موجود ہے
کہ ہوا اسے اکھاڑ نہیں سکی اور جس چھری نے ذبح کرنا چاہا وہ کاٹ نہ سکی اور جو دل چٹخ گیا تھا، وہ وسعت پانے کے لیے چٹخا تھا، مرنے کے لیے نہیں
پس ایک مسافر بن کر جیو، لیکن زندہ جیو۔

میت پر کھڑے لوگ صرف چہرہ دیکھتے ہیں کفن کے اندر دفن چیخیں نہیں سن سکتے آخری لمحے میں مرحوم نے کتنے نام لیے ہوں گے آخری ب...
07/06/2026

میت پر کھڑے لوگ صرف چہرہ دیکھتے ہیں کفن کے اندر دفن چیخیں نہیں سن سکتے آخری لمحے میں مرحوم نے کتنے نام لیے ہوں گے آخری بار کس کا ہاتھ تھامنا چاہا ہوگا کس کو دیکھنا چاہا ہو گا کتنی آوازیں حلق میں ہی دم توڑ گئی ہوں گی لیکن ہم تو صرف انکو دفنا کر واپس آ جاتے ہیں مگر جو پکار قبر تک ساتھ گئی اس کا وزن کون اٹھائے گا اس لیے ہی کسی نے کہا تھا کہ لوگوں کو سن لیا کریں لوگ مر جاتے ہیں۔۔!✨

06/06/2026
اٹک۔۔ چونترہ ریلوے اسٹیشن کے پاس کار 🚗 کو حادثہ تین مسافر زخمی۔۔۔
06/06/2026

اٹک۔۔ چونترہ ریلوے اسٹیشن کے پاس کار 🚗 کو حادثہ تین مسافر زخمی۔۔۔

06/06/2026
06/06/2026

وفاقی حکومت کا تقریباً 35 لاکھ چھوٹے تاجروں کیلئے ٹیکس نظام میں آسانی اور سہولت کا اعلان

چھوٹے تاجروں پر ٹیکس کا بوجھ کم کرنے کے لیے "فکسڈ ٹیکس اسکیم" متعارف کرا دی

اس اسکیم سے مستفید ہونے کے لیے دوکان دار کو نقد 25 ہزار روپے جمع کرانا ہوگا

اسکیم حاصل کرکے دوکان دار مال فروخت پر صرف 1 فیصد فکسڈ ٹیکس ادا کرے گا

اس سہولت سے فائدہ اٹھانے والے چھوٹے تاجروں کا آڈٹ نہیں کیا جائے گا

06/06/2026

لاہور
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نوازشریف کا کسان دوست ویژن

پنجاب میں پہلی مرتبہ کاشتکار کو تمام تر سہولتیں گاؤں کے قریب ایک ہی چھت تلے میسر

پنجاب کا کاشتکار کے لئے "ون سٹاپ ایگریکلچر ان پٹ مارکیٹ" کے دور میں داخل

پنجاب کے چار اضلاع میں ماڈل ایگریکلچر مال قائم

وزیراعلیٰ مریم نوازشریف نے مزید 10اضلاع میں ماڈل ایگریکلچر مال کیلئے فوری اقدامات کا حکم دے دیا

ملتان،بہاولپور،ساہیوال اور سرگودھا میں ماڈل ایگریکلچر مال پوری طرح فنکشنل

ماڈل ایگریکلچر مال میں زرعی مداخل،زرعی ماہرین سے مشاورت،ماڈل مال اوردیگر سہولتیں میسر

کاشتکاروں کو ماڈل ایگریکلچر مال پرجدید ترین زرعی آلات رینٹ پر بھی مل سکیں گے

ایگریکلچر مال کا انتظام و انصرام جی سی سی آئی نجی شعبے کے اشتراک سے کررہی ہے

فیصل آباد،جھنگ،اوکاڑہ اورخانیوال میں بھی ماڈل ایگریکلچر مال بنیں گے

راجن پور،وہاڑی،رحیم یارخان،اٹک اورمیانوالی میں بھی ماڈل ایگریکلچر مال بنائے جائیں گے

پنجاب کے کاشتکار کی سہولت کیلئے ہر اقدام کریں گے۔مریم نوازشریف

پنجاب کے کاشتکار کی تقدیربدل چکی ہے،اچھے دن آچکے ہیں۔مریم نوازشریف

پنجاب کے تمام اضلاع میں مرحلہ وار ماڈل ایگریکلچر مال بنائیں گے۔ مریم نوازشریف

وفاقی دارالحکومت اسلام آبادکےانتظامی ڈھانچےمیں تبدیلی کی تجویز پیش
06/06/2026

وفاقی دارالحکومت اسلام آبادکےانتظامی ڈھانچےمیں تبدیلی کی تجویز پیش

06/06/2026

Address

Jand

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Mureed Express posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Category