12/09/2026
میرا دل نہیں لگتا، سب کچھ چھوڑ جانے کو دل کرتا ہے
پہاڑوں کی تنہائی میں، خود کو بھلانے کو دل کرتا ہے
یہ شہر، یہ ہنگامے، سب بوجھ بن گئے ہیں اب
خاموش کسی وادی میں، گم ہو جانے کو دل کرتا ہے
نہ خواب ہیں، نہ امیدیں، نہ کوئی سہارا باقی ہے
بس سانس ہے، جو چلتی ہے، مر جانے کو دل کرتا ہے
چہرے سب اجنبی لگتے ہیں، اپنوں میں بھی ویرانی ہے
کسی درخت کے سائے تلے، سُو جانے کو دل کرتا ہے
یہ دل جو کبھی روشنیوں کا مسافر تھا
اب اندھیروں میں خود کو جلانے کو دل کرتا ہے
ہر خوشی، ہر ہنسی، اب بوجھ لگتی ہے دل پر
کسی ندی کے شور میں، ڈوب جانے کو دل کرتا ہے
زندگی کا سفر اب تھک گیا ہے بہت
بس ایک خاموش اختتام پانے کو دل کرتا ہے
فرمان ساحل
#منقول