20/06/2026
بچوں کا ختنہ
آپ اس موضوع کو اس انداز میں پیش کر سکتے ہی:
---
بچوں کا ختنہ: ایک تنقیدی و تحقیقی جائزہ
تعارف
بچوں کا ختنہ (Circumcision) دنیا کے قدیم ترین جسمانی اعمال میں سے ایک ہے۔ یہ مذہبی، ثقافتی، طبی اور سماجی وجوہات کی بنا پر کروایا جاتا ہے۔ آج بھی یہ موضوع عالمی سطح پر بحث کا مرکز ہے، جہاں کچھ ماہرین اسے فائدہ مند سمجھتے ہیں جبکہ دوسرے اسے بچے کی جسمانی خودمختاری کے خلاف قرار دیتے ہیں۔
دنیا میں کتنے لوگ ختنہ کرواتے ہیں؟
تحقیقی اندازوں کے مطابق دنیا کے تقریباً 37% سے 39% مرد ختنہ شدہ ہیں۔ اس کا بڑا حصہ مذہبی اور ثقافتی وجوہات کی وجہ سے ہے۔
کن مذاہب اور اقوام میں ختنہ عام ہے؟
اسلام: تقریباً تمام مسلمان ختنہ کرواتے ہیں، اگرچہ قرآن میں اس کا صریح حکم موجود نہیں، لیکن احادیث اور سنت کی بنیاد پر اسے عام طور پر اہم مذہبی عمل سمجھا جاتا ہے۔
یہودیت: تقریباً 100٪ یہودی بچوں کا پیدائش کے آٹھویں دن ختنہ کرتے ہیں۔
عیسائیت: زیادہ تر عیسائی فرقوں میں ختنہ مذہبی فریضہ نہیں، لیکن امریکہ، فلپائن اور بعض افریقی ممالک میں یہ طبی یا ثقافتی بنیادوں پر عام ہے۔
ہندو مت، بدھ مت، سکھ مت: ان مذاہب میں ختنہ مذہبی حکم نہیں ہے، البتہ بعض قبائل یا علاقوں میں ثقافتی طور پر کیا جاتا ہے۔
کن ممالک میں زیادہ عام ہے؟
زیادہ شرح:
سعودی عرب
پاکستان
ایران
افغانستان
مصر
انڈونیشیا
اسرائیل
درمیانی یا کم شرح:
امریکہ
جنوبی کوریا
فلپائن
انتہائی کم شرح:
برطانیہ
فرانس
جرمنی
سویڈن
ناروے
جاپان
چین
طبی دلائل
حمایت میں:
بعض پیشاب کی نالی کے انفیکشن میں کمی۔
بعض جنسی بیماریوں کے خطرے میں نسبتاً کمی۔
عضو تناسل کے بعض امراض سے تحفظ۔
تنقید میں:
نومولود کی رضامندی موجود نہیں ہوتی۔
جراحی خطرات (خون بہنا، انفیکشن، غلط آپریشن) موجود رہتے ہیں۔
بعض ناقدین کے مطابق حساس اعصابی بافت کا مستقل خاتمہ ہوتا ہے۔
اخلاقی اور انسانی حقوق کا نقطۂ نظر
بعض انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ غیر ضروری ختنہ بچے کے جسمانی خودمختاری (Bodily Autonomy) کے اصول سے متصادم ہو سکتا ہے، جبکہ مذہبی حلقے اسے مذہبی آزادی اور روایات کا حصہ قرار دیتے ہیں۔
مختلف قائدین اور اداروں کی آراء
World Health Organization: مخصوص علاقوں میں بالغ مردوں کے رضاکارانہ ختنے کو HIV کی روک تھام کے ایک مؤثر ذریعہ کے طور پر تسلیم کرتی ہے، مگر یہ عالمی سطح پر ہر نومولود کے لیے لازمی سفارش نہیں کرتی۔
American Academy of Pediatrics: اس کے مطابق طبی فوائد موجود ہیں، لیکن اتنے نہیں کہ تمام نومولود بچوں کے لیے لازمی ختنہ تجویز کیا جائے؛ فیصلہ والدین پر چھوڑا جاتا ہے۔
Royal Dutch Medical Association: غیر طبی وجوہات پر نابالغ بچوں کے ختنے کے بارے میں اخلاقی تحفظات کا اظہار کرتی ہے۔
مختلف اسلامی علماء اسے سنتِ ابراہیمی اور اسلامی روایت کا اہم حصہ قرار دیتے ہیں۔
یہودی مذہبی قیادت اسے مذہبی شناخت اور عہد (Covenant) کی بنیادی علامت سمجھتی ہے۔
اختتامی سوالات (قارئین کے لیے)
کیا والدین کو بچے کی طرف سے ایسا فیصلہ کرنے کا حق ہونا چاہیے؟
کیا مذہبی آزادی کو جسمانی خودمختاری پر ترجیح دی جانی چاہیے؟
اگر طبی ضرورت نہ ہو تو کیا ختنہ بالغ ہونے تک مؤخر کر دینا چاہیے؟
کیا موجودہ سائنسی شواہد اس عمل کو معمول کے طور پر کافی حد تک ثابت کرتے ہیں؟
آپ کی رائے میں بچوں کے ختنے کے بارے میں سب سے متوازن اور منصفانہ مؤقف کیا ہے؟
نتیجہ:
بچوں کا ختنہ ایک ایسا موضوع ہے جس میں مذہب، طب، اخلاقیات اور انسانی حقوق سب شامل ہیں۔ اس پر دنیا بھر میں مکمل اتفاقِ رائے موجود نہیں، اس لیے اس پر گفتگو کرتے وقت مختلف نقطۂ نظر کو
دیانت داری سے پیش کرنا ضروری ہے۔
اپنی رائے پیش کرے شکریہ