02/06/2026
گاؤں کی موبائل لیٹرین ۔۔۔ پرانے زمانے کی ایک مزاحیہ سٹوری
✍️ تحریر: ( حاجی مشتاق علی زئی)
30 may 2026
آج کل کی " پیمپرز " والی نسل جو کہ اٹیچ باتھ روم میں نہ صرف پیٹ کی پریشانی حل کرتی ہے بلکہ اسکے اندر
" وائی فائی ، انٹرنیٹ " کے سگنل کم آنے پر ماتم بھی کرتی ہے 😭، ۔۔۔ اسے کیا معلوم کہ ہم نے پیٹ سے
" آزادی " کی اپنی جنگیں کن کٹھن حالات میں لڑی تھیں !
وہ بھی کیا دور تھا جب مکان کچے اور دل سچے ہوتے تھے ۔۔۔۔۔.
اس دور میں صبح سویرے رفع حاجت کے لیے گھر سے دور کھیتوں کا رخ کرنا کسی اہم "فریضے" سے کم نہیں ہوتا تھا ! 🫡
صبح کے وقت کھیتوں کا منظر کسی " بین الاقوامی اقوامِ متحدہ کی کانفرنس " جیسا معلوم ہوتا تھا ۔۔۔۔۔ 🌍
اندھیرے میں تو سب خاموشی سے اپنا اپنا فرض نبھاتے، لیکن جیسے ہی سورج کی پہلی کرن پڑتی، تو پتا چلتا کہ دائیں بائیں اور بھی کئی ملکوں کے "سفیر" تشریف فرما ہیں !
🗣️ جوان تو شرم کے مارے منہ چھپا لیتے، لیکن گاؤں کے بزرگ بڑے وضع دار تھے۔ وہ اس حالتِ زار میں بھی ایک دوسرے کا حال احوال ایسے پوچھتے جیسے کسی فائیو اسٹار ہوٹل کے ڈرائنگ روم میں بیٹھے ہوں۔ ☕
بلکہ ہمارے گاؤں کے ایک شریر بزرگ تو جان بوجھ کر پہلے سے پیٹ ہلکا "کانفرنس" میں پھنسے ہوئے لوگوں کے بالکل پیچھے جا کر بیٹھ جاتے، اور پھر نہایت ہی ڈھٹائی سے،الٹا انہی کو ڈانٹتے: "بے شرم نوجوانو! شرم نہیں آتی، میرے سامنے آ کر بیٹھ جاتے ہو ۔۔۔۔۔۔۔
اس پورے سفر کا سب سے بڑا ہتھیار یعنی "ٹشو پیپر"، بہت کم لوگوں کو میسر ہوتا تھا۔۔اسلئے اس کی جگہ مٹی کی 3 عدد ڈلیاں (ڈھیلے) استعمال ہوا کرتی تھیں۔ 🪵 کچھ دور اندیش لوگ ایک آدھ ڈلی فالتو بھی لے جاتے، یا پھر ایسی جگہ پر بیٹھتے تھے جہاں مٹی کے ڈھیلوں کی فراوانی ہو تاکہ وقتِ ضرورت "کمک" ملتی رہے ۔۔۔۔۔
🌧️🌧️🌧️ 🌧️🌧️🌧️
اصل قیامت تب آتی جب بارشوں کا سیزن شروع ہو جاتا! 🌧️ مٹی کے ڈھیلے تو پانی میں بہہ جاتے تھے، اس لیے لوگ ڈلیوں کے لیے پڑوسیوں کی کچی دیواروں کی اینٹوں پر "ڈاکہ" مارتے۔ بارش شروع ہوتے ہی دیواروں کے مالکان بھی الرٹ ہو جاتے، گلی میں ہلکی سی آہٹ بھی ہوتی تو فوراً باہر نکل آتے کہ کہیں کوئی "مٹی چور" تو نہیں گھس آیا ۔۔۔۔۔۔ 🥷
ہمارے محلے میں روئی دھننے والی ایک مشین ہوا کرتی تھی۔ بارش کے دنوں میں لوگ وہاں سے روئی کے پھاہے ایسے اڑاتے جیسے کوئی قارون کا خزانہ ہاتھ لگ گیا ہو ۔۔۔۔۔ 💎
👶 👶 👶 👶
چھوٹے بچوں کے لیے یہ کام قدرے آسان تھا کیونکہ انہیں ایک دیسی اور سستا طریقہ سکھایا جاتا تھا جس میں ہاتھوں کا استعمال نہی ہوتا تھا۔ اسے "گھسیٹی مارنا" کہتے تھے! 🏃♂️ یہ آپریشن اکثر نرم اور صاف گھاس پر کیا جاتا تھا، لیکن پھر بھی کبھی کبھار کوئی کانٹا یا کنکر "غلط جگہ" چبھ جانا ایک عام سی بات تھی ۔۔۔۔۔ 🌵
رات کے پچھلے پہر کی ایمرجنسی تو کسی نامی گرامی مشن امپاسبل فلم سے کم نہیں ہوتی تھی۔ اکیلے کھیت کی طرف بھاگتے ہوئے بندہ دو ہی دعائیں پڑھ رہا ہوتا تھا:
جاتے ہوئے: "یا اللہ! شلوار کی لاج رکھنا!" 🤲
واپسی پر: "یا اللہ! جنات سے بچا لینا !" 👻
اسی دوران ایک قصہ تو بہت مشہور ہوا تھا کہ۔۔۔ گاؤں کے ایک صاحب تربوز کے کھیت میں بیٹھے "بڑی ڈیوٹی" بھی سرانجام دے رہے تھے اور ساتھ ہی ساتھ نہایت اطمینان سے ایک بڑا سا تربوز ۔ 🍉 بھی کاٹ کر نوش فرما رہے تھے۔۔۔اسے کہتے ہیں "آمد اور خوراک" کا بیک وقت متوازی انتظام !
🎤 📢
لیکن اصل تباہی اور سنسنی خیز موڑ تب آیا جب گاؤں کی اکلوتی مسجد کے استنجاء خانوں (جہاں صرف 'چھوٹا کام' کرنے کی اجازت تھی) میں کسی منچلے نے "بڑی واردات" کر ڈالی! 💩 مسجد میں کل دو تین ہی خانے ہوا کرتے تھے ۔۔۔۔۔۔
دوپہر کو جب مسجد کے بزرگ ظہر کی اذان کے لیے پہنچے اور خانوں کا "دیدہ زیب منظر" دیکھا تو ان کا تراہ نکل گیا! 😱 انہوں نے آؤ دیکھا نہ تاؤ، غصے میں لال پیلے ہو کر سیدھا مائیک آن کیا اور وہ تاریخی اعلان کیا جو آج بھی گاؤں والوں کو یاد آ تا ہے تو بے اختیار ہنسی نکل جاتی ہے ۔۔۔۔۔ اعلان یہ تھا ۔۔۔۔۔
" اوئے حرامزادے ! کیا کھایا تھا تو نے ، جو تینوں کے تینوں خانے ہی بھر دیے ؟؟ اوئے گدھے ! پاس ہی تو مکئی کی اتنی بڑی فصل تھی ، اس میں چھپ کر کر لیتا ! اوئے بے غیرتا ! اگر تو مجھے مل گیا نا ، تو یہ سب تجھ سے ہی صاف کرواؤں گا ، کُتیا بیغیرتا "۔۔۔۔۔۔۔
🤬📢یہ غصے سے بھرا اعلان اگلے کئی مہینوں تک گاؤں کی محفلوں اور چوپالوں میں قہقہوں کے ساتھ سنایا جاتا رہا تھا ۔۔۔۔۔
پرانے زمانے میں کچے گھروں کی چھتوں میں ایک سوراخ رکھا جاتا تھا، تاکہ بارش کی صورت میں چھت پر سکھایا جانے والا اناج فوراً نیچے کمرے میں گرا دیا جائے۔ 🌾
شہر سے آیا ہوا ایک نازک مزاج مہمان لڑکا (شہری بابو) اس "موبائل لیٹرین" کے نظام سے شدید تنگ تھا۔ قریب تھا کہ وہ تنگ آ کر پینڈو لائف کو خیرباد کہہ کر شہر بھاگ جائے، کہ ایک دن اس کا چھت پر جانا ہوا۔ وہاں پڑوس میں "مائی مسکیناں" کے پرانے خالی گھر کی چھت پر ایک الٹا مٹی کا برتن نظر آیا ۔۔۔۔۔۔۔۔
🧐 تجسس کے مارے اس نے برتن اٹھایا تو نیچے ایک سوراخ نظر آیا۔ جھانک کر دیکھا تو نیچے کمرے کا کاٹھ کباڑ دکھائی دیا۔ وہ بیچارہ اس سوراخ کا اصل مقصد نہ سمجھ سکا ۔۔۔۔۔۔۔ 🤔
اگلی صبح شہری بابو کو یکدم "بڑے والا" پریشر آیا! 🚨 رفتار اور الارم اتنا شدید تھا کہ وہ گھبرا گیا کہ آج تو کھیتوں تک پہنچنے سے پہلے ہی راستے میں "حادثہ" ہو جائے گا۔ اچانک اسے چھت والے سوراخ کا خیال آیا تو اس کی جان میں جان آئی ۔۔۔۔۔۔ 😇
وہ چپکے سے چھت پر گیا، سوراخ پر پوزیشن سنبھالی اور اپنی "کارروائی" مکمل کر لی۔ اب تو اسے لائف ہیک مل گیا تھا! جب بھی حاجت ہوتی، وہ آرام سے چھت پر جا کر کام تمام کر آتا ۔۔۔۔۔۔ 🚽✨
ادھر مائی مسکیناں نے جب اپنے اس ویران گھر کا چکر لگایا تو اسے شدید اور تازہ بدبو آئی۔ 👃 اس نے کمرے کا دروازہ کھولا تو نیچے نظر پڑتے ہی اسے "اسمارٹ ہیکر" کی واردات کا علم ہو گیا۔۔۔مال کی تازگی سے مائی نے واردات کے ٹائم کا بھی اندازہ کر لیا اور اسے سبق سکھانے کا بھی تہیہ کر لیا ۔۔۔۔۔۔
بکھرے ہوئے سامان کے اوپر جگہ جگہ گندگی کے ڈھیر لگے ہوئے تھے اور ٹھیک چھت کے سوراخ کے عین نیچے ایک سائڈ پر تربوڑیوں (زرد بھڑوں/کنگھوں) نے ایک بہت بڑا چھتا بنا رکھا تھا ۔۔۔۔۔۔
🐝🐝🐝🐝
اگلے دن مائی چور کو موقع واردات سے رنگے ہاتھوں پکڑنے کے لیے ڈنڈا لے کر نیچے کمرے میں چھپ گئی۔ جونہی شہری بابو نے چھت پر آ کر سوراخ پر اپنی "تشریف" رکھی، مائی نے نیچے سے ڈنڈا مار کر بھڑوں کا چھتا گرا دیا ۔۔۔۔۔۔ 💥
بھڑیں بپھر گئیں! 🐝🐝 جب درجنوں زرد بھڑوں نے بیک وقت شہری بابو کی نازک تشریف پر اندھا دھند "ڈنک" مارے، تو وہ پاگل ہاتھی 🐘 کی طرح "ہائے ہائے، مائی مائی" کرتا ہوا شلوار سنبھالے بغیر ہی بھاگ گیا! 🏃♂️💨
بھڑوں کے اس شدید حملے کی وجہ سے شہری بابو کی تشریف کے آس پاس اتنی سوجن (سوجی) ہوئی کہ اگلے 3 دن تک وہ نہ تو پینٹ پہن سکا اور نہ ہی سیدھا بیٹھ سکا ۔۔۔۔۔۔ 🛋️❌
ہمارے گاؤں کے ایک اور بزرگ تھے جن کا پیٹ اکثر خراب رہتا تھا اور انہیں "موشن" لگے رہتے تھے ۔۔۔۔۔۔۔ 🏃♂️
جب وہ ایمرجنسی کی حالت میں گھر سے راکٹ کی رفتار سے نکلتے، تو راستے میں کچھ منچلے لڑکے شرارت کے طور پر انہیں باتوں میں الجھانے کی کوشش کرتے۔
لیکن جب پانی سر سے گزرنے لگتا، تو بزرگ غصے سے چہکتے: "اوئے آگے سے ہٹ جاؤ، ورنہ تمہارے اوپر ہی کر دوں گا!" 🌊 یہ سنتے ہی منچلے ڈر کے مارے ایسے بھاگتے جیسے کوئی کیمیاوی حملہ ہونے والا ہے ۔۔۔۔
کچھ سیانے لوگ مٹی کے ڈھیلے ایڈوانس میں اسٹور کر کے رکھتے تھے تاکہ بارش میں مسئلہ نہ ہو۔ ایک بزرگ تو باقاعدہ اپنی جیب میں مٹی کے ڈھیلے رکھتے تھے۔ اتفاق سے وہ دوپہر کے کھانے کے بعد گُڑ کی ڈلی کھانے کے بھی شدید شوقین تھے ۔۔۔۔۔۔ 🍬
لہذا، اکثر ایسا ہوتا کہ وہ گڑ سمجھ کر جوشِ جذبات میں مٹی کا ڈھیلا ہی منہ میں ڈال لیتے اور پھر کڑوا سا منہ بنا کر سارا دن تھو تھو کرتے ! 😝
🔄 پھر آہستہ آہستہ زمانہ بدلا، اور ہم جدید دور اور ٹیکنالوجی کی دنیا میں آ گئے۔ گھر پکے ہوتے گئے،سہولتوں کا جال بچھنے لگا،
پہلے ایک، پھر دو اور پھر ہر کمرے کے ساتھ اٹیچ باتھ روم بن گئے۔ 🚽
" صبح صبح کھیتوں میں رونق لگانے والا وہ خوبصورت ہجوم ایک ویرانے میں بدل گیا ، اور ہمارے گھر کے پکے کمرے بدبو دار ہوگئے اور شیاطین کے مسکن بن گئے ۔۔
سچ تو یہ ہے کہ ہم ترقی کرتے کرتے...اتنے مہذب ہوگئے کہ ۔۔ گندگی اور شیطان 😈 کو اپنے بستر کے بالکل پاس ہی لے آئے " ۔۔۔۔۔۔۔۔۔