MI Just Fun

MI Just Fun Makhdoom Imran (MI) just views or news,sports.cricket.

25/08/2026
16/07/2026

Celebrating my 3rd year on Facebook. Thank you for your continuing support. I could never have made it without you. 🙏🤗🎉

گاؤں کی موبائل لیٹرین ۔۔۔ پرانے زمانے کی ایک مزاحیہ سٹوری✍️ تحریر: ( حاجی مشتاق علی زئی)                             30 ...
02/06/2026

گاؤں کی موبائل لیٹرین ۔۔۔ پرانے زمانے کی ایک مزاحیہ سٹوری
✍️ تحریر: ( حاجی مشتاق علی زئی)
30 may 2026

​آج کل کی " پیمپرز " والی نسل جو کہ اٹیچ باتھ روم میں نہ صرف پیٹ کی پریشانی حل کرتی ہے بلکہ اسکے اندر
" وائی فائی ، انٹرنیٹ " کے سگنل کم آنے پر ماتم بھی کرتی ہے 😭، ۔۔۔ اسے کیا معلوم کہ ہم نے پیٹ سے
" آزادی " کی اپنی جنگیں کن کٹھن حالات میں لڑی تھیں !
وہ بھی کیا دور تھا جب مکان کچے اور دل سچے ہوتے تھے ۔۔۔۔۔.
اس دور میں صبح سویرے رفع حاجت کے لیے گھر سے دور کھیتوں کا رخ کرنا کسی اہم "فریضے" سے کم نہیں ہوتا تھا ! 🫡
​صبح کے وقت کھیتوں کا منظر کسی " بین الاقوامی اقوامِ متحدہ کی کانفرنس " جیسا معلوم ہوتا تھا ۔۔۔۔۔ 🌍

اندھیرے میں تو سب خاموشی سے اپنا اپنا فرض نبھاتے، لیکن جیسے ہی سورج کی پہلی کرن پڑتی، تو پتا چلتا کہ دائیں بائیں اور بھی کئی ملکوں کے "سفیر" تشریف فرما ہیں !
🗣️ جوان تو شرم کے مارے منہ چھپا لیتے، لیکن گاؤں کے بزرگ بڑے وضع دار تھے۔ وہ اس حالتِ زار میں بھی ایک دوسرے کا حال احوال ایسے پوچھتے جیسے کسی فائیو اسٹار ہوٹل کے ڈرائنگ روم میں بیٹھے ہوں۔ ☕
​بلکہ ہمارے گاؤں کے ایک شریر بزرگ تو جان بوجھ کر پہلے سے پیٹ ہلکا "کانفرنس" میں پھنسے ہوئے لوگوں کے بالکل پیچھے جا کر بیٹھ جاتے، اور پھر نہایت ہی ڈھٹائی سے،الٹا انہی کو ڈانٹتے: "بے شرم نوجوانو! شرم نہیں آتی، میرے سامنے آ کر بیٹھ جاتے ہو ۔۔۔۔۔۔۔

​اس پورے سفر کا سب سے بڑا ہتھیار یعنی "ٹشو پیپر"، بہت کم لوگوں کو میسر ہوتا تھا۔۔اسلئے اس کی جگہ مٹی کی 3 عدد ڈلیاں (ڈھیلے) استعمال ہوا کرتی تھیں۔ 🪵 کچھ دور اندیش لوگ ایک آدھ ڈلی فالتو بھی لے جاتے، یا پھر ایسی جگہ پر بیٹھتے تھے جہاں مٹی کے ڈھیلوں کی فراوانی ہو تاکہ وقتِ ضرورت "کمک" ملتی رہے ۔۔۔۔۔
🌧️🌧️🌧️ 🌧️🌧️🌧️

​اصل قیامت تب آتی جب بارشوں کا سیزن شروع ہو جاتا! 🌧️ مٹی کے ڈھیلے تو پانی میں بہہ جاتے تھے، اس لیے لوگ ڈلیوں کے لیے پڑوسیوں کی کچی دیواروں کی اینٹوں پر "ڈاکہ" مارتے۔ بارش شروع ہوتے ہی دیواروں کے مالکان بھی الرٹ ہو جاتے، گلی میں ہلکی سی آہٹ بھی ہوتی تو فوراً باہر نکل آتے کہ کہیں کوئی "مٹی چور" تو نہیں گھس آیا ۔۔۔۔۔۔ 🥷

​ہمارے محلے میں روئی دھننے والی ایک مشین ہوا کرتی تھی۔ بارش کے دنوں میں لوگ وہاں سے روئی کے پھاہے ایسے اڑاتے جیسے کوئی قارون کا خزانہ ہاتھ لگ گیا ہو ۔۔۔۔۔ 💎
​👶 👶 👶 👶
​چھوٹے بچوں کے لیے یہ کام قدرے آسان تھا کیونکہ انہیں ایک دیسی اور سستا طریقہ سکھایا جاتا تھا جس میں ہاتھوں کا استعمال نہی ہوتا تھا۔ اسے "گھسیٹی مارنا" کہتے تھے! 🏃‍♂️ یہ آپریشن اکثر نرم اور صاف گھاس پر کیا جاتا تھا، لیکن پھر بھی کبھی کبھار کوئی کانٹا یا کنکر "غلط جگہ" چبھ جانا ایک عام سی بات تھی ۔۔۔۔۔ 🌵

​رات کے پچھلے پہر کی ایمرجنسی تو کسی نامی گرامی مشن امپاسبل فلم سے کم نہیں ہوتی تھی۔ اکیلے کھیت کی طرف بھاگتے ہوئے بندہ دو ہی دعائیں پڑھ رہا ہوتا تھا:
​جاتے ہوئے: "یا اللہ! شلوار کی لاج رکھنا!" 🤲
​واپسی پر: "یا اللہ! جنات سے بچا لینا !" 👻

​اسی دوران ایک قصہ تو بہت مشہور ہوا تھا کہ۔۔۔ گاؤں کے ایک صاحب تربوز کے کھیت میں بیٹھے "بڑی ڈیوٹی" بھی سرانجام دے رہے تھے اور ساتھ ہی ساتھ نہایت اطمینان سے ایک بڑا سا تربوز ۔ 🍉 بھی کاٹ کر نوش فرما رہے تھے۔۔۔اسے کہتے ہیں "آمد اور خوراک" کا بیک وقت متوازی انتظام !
​🎤 📢
​لیکن اصل تباہی اور سنسنی خیز موڑ تب آیا جب گاؤں کی اکلوتی مسجد کے استنجاء خانوں (جہاں صرف 'چھوٹا کام' کرنے کی اجازت تھی) میں کسی منچلے نے "بڑی واردات" کر ڈالی! 💩 مسجد میں کل دو تین ہی خانے ہوا کرتے تھے ۔۔۔۔۔۔
​دوپہر کو جب مسجد کے بزرگ ظہر کی اذان کے لیے پہنچے اور خانوں کا "دیدہ زیب منظر" دیکھا تو ان کا تراہ نکل گیا! 😱 انہوں نے آؤ دیکھا نہ تاؤ، غصے میں لال پیلے ہو کر سیدھا مائیک آن کیا اور وہ تاریخی اعلان کیا جو آج بھی گاؤں والوں کو یاد آ تا ہے تو بے اختیار ہنسی نکل جاتی ہے ۔۔۔۔۔ اعلان یہ تھا ۔۔۔۔۔
​" اوئے حرامزادے ! کیا کھایا تھا تو نے ، جو تینوں کے تینوں خانے ہی بھر دیے ؟؟ اوئے گدھے ! پاس ہی تو مکئی کی اتنی بڑی فصل تھی ، اس میں چھپ کر کر لیتا ! اوئے بے غیرتا ! اگر تو مجھے مل گیا نا ، تو یہ سب تجھ سے ہی صاف کرواؤں گا ، کُتیا بیغیرتا "۔۔۔۔۔۔۔

🤬📢​یہ غصے سے بھرا اعلان اگلے کئی مہینوں تک گاؤں کی محفلوں اور چوپالوں میں قہقہوں کے ساتھ سنایا جاتا رہا تھا ۔۔۔۔۔
​پرانے زمانے میں کچے گھروں کی چھتوں میں ایک سوراخ رکھا جاتا تھا، تاکہ بارش کی صورت میں چھت پر سکھایا جانے والا اناج فوراً نیچے کمرے میں گرا دیا جائے۔ 🌾
​شہر سے آیا ہوا ایک نازک مزاج مہمان لڑکا (شہری بابو) اس "موبائل لیٹرین" کے نظام سے شدید تنگ تھا۔ قریب تھا کہ وہ تنگ آ کر پینڈو لائف کو خیرباد کہہ کر شہر بھاگ جائے، کہ ایک دن اس کا چھت پر جانا ہوا۔ وہاں پڑوس میں "مائی مسکیناں" کے پرانے خالی گھر کی چھت پر ایک الٹا مٹی کا برتن نظر آیا ۔۔۔۔۔۔۔۔

🧐 تجسس کے مارے اس نے برتن اٹھایا تو نیچے ایک سوراخ نظر آیا۔ جھانک کر دیکھا تو نیچے کمرے کا کاٹھ کباڑ دکھائی دیا۔ وہ بیچارہ اس سوراخ کا اصل مقصد نہ سمجھ سکا ۔۔۔۔۔۔۔ 🤔
​اگلی صبح شہری بابو کو یکدم "بڑے والا" پریشر آیا! 🚨 رفتار اور الارم اتنا شدید تھا کہ وہ گھبرا گیا کہ آج تو کھیتوں تک پہنچنے سے پہلے ہی راستے میں "حادثہ" ہو جائے گا۔ اچانک اسے چھت والے سوراخ کا خیال آیا تو اس کی جان میں جان آئی ۔۔۔۔۔۔ 😇
​وہ چپکے سے چھت پر گیا، سوراخ پر پوزیشن سنبھالی اور اپنی "کارروائی" مکمل کر لی۔ اب تو اسے لائف ہیک مل گیا تھا! جب بھی حاجت ہوتی، وہ آرام سے چھت پر جا کر کام تمام کر آتا ۔۔۔۔۔۔ 🚽✨​

​ادھر مائی مسکیناں نے جب اپنے اس ویران گھر کا چکر لگایا تو اسے شدید اور تازہ بدبو آئی۔ 👃 اس نے کمرے کا دروازہ کھولا تو نیچے نظر پڑتے ہی اسے "اسمارٹ ہیکر" کی واردات کا علم ہو گیا۔۔۔مال کی تازگی سے مائی نے واردات کے ٹائم کا بھی اندازہ کر لیا اور اسے سبق سکھانے کا بھی تہیہ کر لیا ۔۔۔۔۔۔
بکھرے ہوئے سامان کے اوپر جگہ جگہ گندگی کے ڈھیر لگے ہوئے تھے اور ٹھیک چھت کے سوراخ کے عین نیچے ایک سائڈ پر تربوڑیوں (زرد بھڑوں/کنگھوں) نے ایک بہت بڑا چھتا بنا رکھا تھا ۔۔۔۔۔۔
🐝🐝🐝🐝

​اگلے دن مائی چور کو موقع واردات سے رنگے ہاتھوں پکڑنے کے لیے ڈنڈا لے کر نیچے کمرے میں چھپ گئی۔ جونہی شہری بابو نے چھت پر آ کر سوراخ پر اپنی "تشریف" رکھی، مائی نے نیچے سے ڈنڈا مار کر بھڑوں کا چھتا گرا دیا ۔۔۔۔۔۔ 💥
​بھڑیں بپھر گئیں! 🐝🐝 جب درجنوں زرد بھڑوں نے بیک وقت شہری بابو کی نازک تشریف پر اندھا دھند "ڈنک" مارے، تو وہ پاگل ہاتھی 🐘 کی طرح "ہائے ہائے، مائی مائی" کرتا ہوا شلوار سنبھالے بغیر ہی بھاگ گیا! 🏃‍♂️💨
​بھڑوں کے اس شدید حملے کی وجہ سے شہری بابو کی تشریف کے آس پاس اتنی سوجن (سوجی) ہوئی کہ اگلے 3 دن تک وہ نہ تو پینٹ پہن سکا اور نہ ہی سیدھا بیٹھ سکا ۔۔۔۔۔۔ 🛋️❌

​ہمارے گاؤں کے ایک اور بزرگ تھے جن کا پیٹ اکثر خراب رہتا تھا اور انہیں "موشن" لگے رہتے تھے ۔۔۔۔۔۔۔ 🏃‍♂️

جب وہ ایمرجنسی کی حالت میں گھر سے راکٹ کی رفتار سے نکلتے، تو راستے میں کچھ منچلے لڑکے شرارت کے طور پر انہیں باتوں میں الجھانے کی کوشش کرتے۔
لیکن جب پانی سر سے گزرنے لگتا، تو بزرگ غصے سے چہکتے: "اوئے آگے سے ہٹ جاؤ، ورنہ تمہارے اوپر ہی کر دوں گا!" 🌊 یہ سنتے ہی منچلے ڈر کے مارے ایسے بھاگتے جیسے کوئی کیمیاوی حملہ ہونے والا ہے ۔۔۔۔

​کچھ سیانے لوگ مٹی کے ڈھیلے ایڈوانس میں اسٹور کر کے رکھتے تھے تاکہ بارش میں مسئلہ نہ ہو۔ ایک بزرگ تو باقاعدہ اپنی جیب میں مٹی کے ڈھیلے رکھتے تھے۔ اتفاق سے وہ دوپہر کے کھانے کے بعد گُڑ کی ڈلی کھانے کے بھی شدید شوقین تھے ۔۔۔۔۔۔ 🍬
​لہذا، اکثر ایسا ہوتا کہ وہ گڑ سمجھ کر جوشِ جذبات میں مٹی کا ڈھیلا ہی منہ میں ڈال لیتے اور پھر کڑوا سا منہ بنا کر سارا دن تھو تھو کرتے ! 😝

🔄 ​پھر آہستہ آہستہ زمانہ بدلا، اور ہم جدید دور اور ٹیکنالوجی کی دنیا میں آ گئے۔ گھر پکے ہوتے گئے،سہولتوں کا جال بچھنے لگا،
پہلے ایک، پھر دو اور پھر ہر کمرے کے ساتھ اٹیچ باتھ روم بن گئے۔ 🚽
" ​صبح صبح کھیتوں میں رونق لگانے والا وہ خوبصورت ہجوم ایک ویرانے میں بدل گیا ، اور ہمارے گھر کے پکے کمرے بدبو دار ہوگئے اور شیاطین کے مسکن بن گئے ۔۔
سچ تو یہ ہے کہ ہم ترقی کرتے کرتے...اتنے مہذب ہوگئے کہ ۔۔ گندگی اور شیطان 😈 کو اپنے بستر کے بالکل پاس ہی لے آئے " ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

13/05/2026

ایک بڑی کمپنی کو منیجر کی پوسٹ کےلئے کسی انتہائی قابل شخص کی تلاش تھی تاہم پینٹ کوٹ پہنے ہوئے اعلیٰ تعلیم یافتہ امیدواروں کے درجنوں انٹرویوز کے باوجود کوئی بھی امیدوار یہ نوکری حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہو پا رہا تھا ، اس کی خاص وجہ یہ تھی کہ کمپنی کا مالک انٹرویورز کے پینل میں خود بھی بیٹھتا تھا اور جب پینل کے دیگر ممبران اپنے سوالات مکمل کر لیتے تو مالک آخر میں ہر امیدوار سے یہ سوال ضرور پوچھتا کہ ایک اچھے منیجر کی سب سے خاص بات کیا ہوتی ہے. اس سوال کے جواب میں میں کوئی امیدوار کہتا کہ ایک اچھے منیجر کو وقت کا پابند ہونا چاہیے، کسی کا جواب ہوتا اسے پروفیشنل ہونا چاہیے، کوئی کہتا اسے سکلڈ ہونا چاہیے اسی طرح کوئی تجربہ کاری، کوئی ذمہ داری تو کوئی ایمانداری کو اچھے منیجر کی پہچان بتاتا، تاہم کمپنی مالک ان میں سے ہر جواب پر غیر تسلی بخش انداز میں خاموش ہو جاتا اور امیدوار کو جانے کا کہہ دیتا، پینل کے دیگر ممبران ایک تو انٹرویو کرکر کے تنگ آچکے تھے دوسرا وہ اس تجسس میں تھے کہ آخر کمپنی مالک کے نزدیک ایک اچھے منیجر کی سب سے خاص بات کیا ہو سکتی ہے، انھوں نے خود بھی اس سوال کا جواب کمپنی مالک سے جاننے کی کوشش کی تاہم مالک نے اپنا مطلوبہ جواب کسی پر ظاہر نہیں کیا. اور پینل کو انٹرویوز جاری رکھنے کو کہا.
ایک روز ایک سادہ سے کپڑوں میں ملبوس اور عام سے حلیے والا نوجوان انٹرویو دینے آ گیا، اسے دیکھ کر پینل کے ممبران طنزیہ انداز میں ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگے جیسے کہہ رہے ہوں کہ اتنے ماڈسکاڈ اور اپ ٹو ڈیٹ قسم کے لوگ یہ انٹرویو پاس نہیں کر پاے تو یہ دیسی سا انسان کہاں سلیکٹ ہو پائے گا اور اس بات کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ اسے اس سوال کا جواب معلوم ہو جو باقی امیدواروں کی ناکامی کی وجہ بنا.

خیر نوجوان نے پینل کے سوالات کے انتہائی اعتماد سے جواب دیے. جس کے بعد کمپنی کے مالک نے اپنا سوال پوچھا ' جینٹل مین، یہ بتائیں کہ ایک اچھے منیجر کی سب سے بہترین کوالٹی کیا ہوتی ہے؟'
نوجوان نے سوال سن کر کچھ دیر کے لیے سر جھکایا اور پھر کمپنی مالک کی طرف دیکھ کر پورے اعتماد سے مسکرا کرکہا 'سر، اچھا منیجر وہی ہے جو کمپنی کے معاملات کو کمپنی کے مالک سے بھی زیادہ بہتر جانتا اور سمجھتا ہو اور جس کے ہوتے ہوئے مالک برائے نام مالک ہی کہلائے'
یہ عجیب و غریب سن کر پینل ممبران چونک گئے، وہ نوجوان کی اس بدتمیزی اور گستاخانہ لہجے پر تلملا اٹھے اور اس پر 'شٹ اپ' اور' ماینڈ یور لینگویج' جیسے کلمات کی بوچھاڑ کر دی. تاہم کمپنی مالک نے ممبران کو خاموش رہنے اور انتظار کرنے کو کہا. پھرمسکرا کر نوجوان سے مخاطب ہو کر کہا، ' بالکل ٹھیک جواب دیا آپ نے، لیکن یہ بات آپ نے کس سے سیکھی ؟' پینل ممبران حیرت سے ایک دوسرے کے منہ دیکھنے لگے.
نوجوان نے بد دستور خود اعتمادی کے ساتھ مسکراتے ہوئے جواب دیا. 'سر اپنے گھر سے اور اپنے والدین سے'
پینل ممبران نوجوان کی بات غور سے سننے لگے. نوجوان نے باری باری ان ممبران کی جانب دیکھتے ہوئے ان سے مخاطب ہوتے ہوئے اپنی بات جاری رکھی. ' ہم بہن بھائیوں نے اپنے والد کو اپنے گھر کے سربراہ کا درجہ دیا. ایک منٹ کے لئے مان لیجیے کہ وہ کمپنی مالک تھے. گھر بھر کی کفالت ان کی ذمہ داری تھی. لیکن گھر کو چلانا کس منیجر کا کام تھا. کس کے کپڑے کہاں ٹانگے ہیں، کس کے جوتے کہاں رکھے ہیں، کس کی کتابیں کہاں دھری ہیں، کس کے کھلونے کہاں پڑے ہیں، کپڑے گندے ہو گئے تو کون دھوے گا، استری کر کے کون دے گا، سب کی من پسند کھانا بنانا، بنا کے سامنے رکھنا، پھر برتن دھونا کس کی ذمہ داری ہے، پھر گھر بھر کی صفائی، جھاڑوپونچھ، فرش کی دھلائی، رات سب کو سلاکر پھر سونا، صبح سب سے پہلے جاگ کر سب کو جگانا، ایک ایک کو کھلا پلاکر تیار کر کے سکول بھیجنا، کپڑے پھٹ جاتے تو پیوند لگانا، بٹن ٹوٹ جاتا تو ٹانکا لگانا، بیمار پڑ جاتے تو پرہیز والا کھانا اور دوائی دینا،عید شادیوں، سیر سپاٹے، رشتہ داروں سے ملنے جانے کے لئے سب کی تیاری،گھر میں دعوت پر درجن بھر مہمانوں کا کھانا بنانا، سر میں تیل ڈالنا، جوییں نکالنا، بخار میں ماتھے پر ٹھنڈی پٹیاں رکھنا، مالش کرنا، کبھی کھیر، کبھی حلوہ، کبھی گجریلا کبھی کھچڑی، کبھی زردہ، کبھی شربت، کبھی ابلے ہوئے انڈے، اور نہ جانے کیا کیا کچھ. یہ سب مینج کرنے والی میری امی تھیں ، وہ شاندار منیجر تھیں، کبھی بھول کر ہم ابو سے پوچھ لیتے کہ ہماری فلاں چیز کہاں پڑی ہے تو ڈانٹ کر کہتے 'ارے بھئی مجھے کیا معلوم، اپنی امی سے پوچھو' اور اس سے بھی مزیدار بات یہ کہ خود ابو کا موبائل، پرس، کپڑے، جوتے، موٹر سائیکل کی چابی حتیٰ کہ دفتر کی فائلیں تک امی کے پتے پر ہوتی تھیں. تبھی ہم اکثر ابو کو چھیڑتے ہوئے کہا کرتے تھے، آپ تو بس برائے نام ہی گھر کے مالک ہیں، آپ سے کہیں زیادہ تو امی گھر کو جانتی اور سمجھتی ہیں اور ابو بھی ہنس کر اعتراف کیا کرتے کہ امی کے ہوتے ہوئے انھیں کبھی کسی بھی بات کی فکر نہیں ہوتی اس لیے وہ گھر کے برائے نام مالک ہی ٹھیک ہیں .... بس سر اس لیے میرے نزدیک ایک اچھے منیجر کی یہی تعریف ہے'
کمپنی مالک نے تحسین آمیز نگاہوں سے نوجوان کو دیکھا اور پھر پینل سے مخاطب ہوکرکہا' آپ سب نے اس نوجوان کا جواب سن کر اسے ڈانٹ دیا تھا. لیکن اب جبکہ اس نے اپنے جواب کی تشریح کی ہے تو مجھے امید ہے آپ سمجھ گئے ہوں گے کہ اس کے جواب کے پیچھے اس کا مشاہدہ بھی ہے اور عمر بھر کا تجربہ بھی اور ایک ٹھوس نظریہ بھی. مجھے بھی ایسے ہی منیجر چاہیے جس کے ہوتے ہوئے میں برائے نام مالک اور بے فکر شخص بن جاؤں' یہ کہہ کر کمپنی مالک نے نوجوان کو منیجر کی پوسٹ کےلئے منتخب ہونے کی مبارک باد دیتے ہوئے مصافحہ کے لیے ہاتھ بڑھایا اور پینل کے ممبران کھڑے ہو کر تالیاں بجانے لگ گئے

اس کہانی کے دو پہلو ہیں ایک تو یہ کہ گھر کا ماحول بہترین درسگاہ ہے اور دوسرا یہ کہ دوسروں کو قائل کرنے کے لیے رٹی رٹائی اور گھسی پٹی کتابی باتوں کا سہارا لینے کی بجائے سادہ الفاظ عملیت پسندی اور فطری مشاہدات پر مبنی سوچ سے کام لیں، آپ زیادہ معتبر ٹھہریں گے.
مجیدمیمن کراچی

08/05/2026

*خوش رہنے کے 5 آسان طریقے* 😊

1. *شکر گزاری کی عادت*
ہر دن 3 چھوٹی چیزوں کو لکھو جن کے لیے تم شکر گزار ہو۔ یہ دماغ کو مثبت چیزوں پر فوکس کرنا سکھاتا ہے۔

2. *اپنوں سے جُڑے رہو*
دوستوں یا فیملی کو روز ایک میسج کر دو۔ چھوٹی بات چیت بھی موڈ بہتر کر دیتی ہے۔ انسان تعلق سے خوش رہتا ہے۔

3. *جسم کو حرکت دو*
15 منٹ کی واک، نماز کے بعد ہلکی اسٹریچنگ، یا پسندیدہ گانے پر ڈانس۔ حرکت سے "ہیپی ہارمونز" نکلتے ہیں۔

4. *سوشل میڈیا کی حد مقرر کرو*
دن میں 1-2 بار سے زیادہ اسکرول نہ کرو۔ دوسروں کی زندگی سے اپنا موازنہ خوشی چھین لیتا ہے۔

5. *کسی کی مدد کرو*
کسی کو چھوٹا سا میسج کر کے حوصلہ دو، یا گھر کے کام میں ہاتھ بٹاؤ۔ دوسروں کے لیے اچھا کرنا سب سے تیز خوشی دیتا ہے۔

*سب سے اہم بات*: خوشی بڑے بڑے کاموں میں نہیں، چھوٹے روز کے لمحوں میں ہے۔ آج کون سا ایک طریقہ ٹرائی کرو گے؟

Address

Jhang

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when MI Just Fun posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share