22/06/2026
(وہ صحابہ کرام رض جو رسول خدا کے بیٹے کی نصرت میں شہید ہوئے)
غدیر کا سورج نیزوں کی انیوں پر پگھل رہا تھا۔
ایک لاکھ اونٹ رکے ہوئے تھے اور ایک لاکھ سر جھکے ہوئے تھے۔
رسولِ خداؐ نے کجاووں کا منبر بنایا،
علیؑ کا داہنا ہاتھ پکڑا اور اتنا اونچا اٹھایا کہ دونوں کی بغلوں کی سفیدی دکھائی دی۔
من کنت مولاہ فھذا علی مولاہ کی صدا جب فضا میں گونجی
تو حبیب بن مظاہر کی مٹھیاں بھنچ گئیں۔
25 برس کا جوان، بدر کا زخمی، احد کا سپاہی۔
اس نے پلٹ کر دیکھا۔
مسلم بن عوسجہ کی آنکھیں نم تھیں۔ انس بن حارث کا چہرہ سرخ تھا۔
جندب، عمار، نعیم، جنادہ، الرحمن۔۔
یہ آٹھوں رسولؐ کے سائے میں بڑے ہوئے تھے۔
انہوں نے سنا تھا جب رسولؐ نے فرمایا تھا: قل لا اسئلکم علیہ اجرا الا المودۃ فی القربیٰ۔
میں تم سے رسالت کا کوئی اجر نہیں مانگتا سوائے اس کے کہ میرے قرابت داروں سے محبت کرو۔
وہ دن تھا اور آج کا دن،
یہ جملہ ان کے سینوں میں میخ کی طرح گڑا ہوا تھا۔
یہ قرض تھا۔ رسولؐ کا قرض۔
اور قرض اتارنے کی مہلت ساٹھ سال تھی۔
ساٹھ سال۔ داڑھیاں روئی جیسی سفید ہو گئیں۔ پشتیں جھک گئیں۔
تلواریں طاق پر پڑے پڑے زنگ سے سیاہ ہو گئیں۔
کوفہ کی گلیوں میں ابن زیاد کے نقیب چیخ رہے تھے: جس گھر سے حسین کا نام آیا، اس گھر کو آگ لگا دو۔
مسلم بن عقیلؑ کی لاش کوفہ کی مسجد کے دروازے پر لٹک رہی تھی۔
ہانی بن عروہ کا کٹا ہوا سر بازار میں نیزے پر تھا۔
اٹھارہ ہزار خط لکھنے والے، اٹھارہ ہزار بیعت کرنے والے، اب اپنی بیویوں کے پیچھے چھپے کانپ رہے تھے۔
کیونکہ باہر یزید کا کوڑا تھا،
اور اندر بچوں کی بھوک۔
مگر اسی رات کوفہ کے ایک بوسیدہ مکان میں حبیب بن مظاہر کے ہاتھ میں امام حسینؑ کا خط آیا۔
خط کھولا، پڑھا، آنکھوں سے لگایا، چوما اور دھاڑیں مار کر رو پڑے۔
داڑھی آنسوؤں سے تر ہو گئی۔ چیخ کر بولے: خاک میری۔
میرے رسول کا بیٹا کربلا میں تنہا ہے
اور حبیب گھر میں بیٹھا رہے؟ یہ کیسے ہو سکتا ہے؟
بیوی پاس آئی۔ وہ بھی غدیر کی عاشق تھی۔
اس نے حبیب کا ہاتھ تھاما اور کہا: آپ کو جانا چاہیے۔
یہ وہی دن ہے جس کا وعدہ تھا۔ محمدؐ کا قرض اتارنے کا وقت آ گیا۔
حبیب نے اپنی لاٹھی پھینکی اور کمر سیدھی کی۔
75 برس کی عمر، ہڈیوں میں درد، آنکھوں میں موتیا۔
مگر اب رکنا حرام تھا۔ بنی اسد کے جوانوں کو آواز دی۔
کہا: چلو، حسین نے بلایا ہے۔
پھر ابن زیاد کے پہروں سے چھپتے چھپاتے، سپاہیوں کو بہانے بناتے، راتوں رات کوفہ سے نکل پڑے۔
خالی پیٹ۔ مگر سینے میں غدیر کی آگ دہک رہی تھی۔
ادھر مسلم بن عوسجہ نے اپنا زنگ آلود خود سر پر رکھا۔
لوہا بالوں میں پھنس گیا، خون کی لکیر ماتھے پر آ گئی۔
اس نے آئینہ نہیں دیکھا۔ کیونکہ آج سر بچانا نہیں تھا، سر کٹانا تھا۔
شبِ عاشور امامؑ نے خیمے کا چراغ بجھایا:
یہ اندھیرا امان ہے۔ جو جانا چاہے، چلا جائے۔ یہ لوگ صرف میرا خون چاہتے ہیں۔
سناٹا قبر جیسا تھا۔
پھر مسلم اٹھے۔ آواز رندھی ہوئی تھی، مگر الفاظ میں بدر کی کڑک تھی:
یابن رسول اللہ، خدا گواہ ہے۔ اگر مجھے معلوم ہو کہ میں قتل کیا جاؤں گا، پھر زندہ کیا جاؤں گا، پھر جلایا جاؤں گا، پھر میری راکھ ہوا میں بکھیر دی جائے گی۔
اور یہ ستر بار ہوگا۔۔
تب بھی آپ کا دامن نہیں چھوڑوں گا۔ جب تک اس جسم میں ایک ہڈی سلامت ہے، وہ آپ کے دشمن کی ہڈی توڑے گی۔
امامؑ اٹھے اور مسلم کو سینے سے لگا لیا۔
مسلم کی داڑھی حسینؑ کے آنسوؤں سے تر ہو گئی۔ مسلم نے اسے پونچھا نہیں۔
یہی تو وضو تھا۔ یہی تو اجرِ رسالت تھا۔
انس بن حارث الکاہلی نے آدھی رات کو اپنے جوان بیٹے کا بازو جھنجھوڑا۔
اٹھ۔
بیٹا ہڑبڑا کر اٹھا: بابا، خیریت؟ انس کی آنکھوں میں ساٹھ سال پرانا غدیر جل رہا تھا:
بیٹا، تلوار اٹھا۔ کیوں بابا؟ کیونکہ آج وہ دن ہے جس کے لیے ہم ساٹھ سال زندہ رہے۔
حسین کوفہ کے باہر تنہا ہے۔
دنیا نے ہمیں روک لیا تھا، مگر آج موت بلاتی ہے۔
اور موت کا بلاوا ٹھکرانے والے مرد نہیں ہوتے۔ باپ بیٹا اندھیرے میں کوفہ کے پہروں کو کاٹتے ہوئے نکلے۔
پیچھے دنیا چھوٹ رہی تھی،
آگے جنت آ رہی تھی۔
عاشور کی صبح۔ 72 بھوکے پیاسے، 30 ہزار یا 90 لاکھ شکم سیر کے سامنے۔
حبیب نے صفوں کو دیکھا اور کھلکھلا کر ہنس پڑے۔ شمر نے نیزہ تان کر پوچھا:
اے بڈھے، موت سامنے ہے اور تو ہنستا ہے؟ حبیب نے اپنی ٹوٹی ہوئی تلوار سونت لی:
شمر، میں موت پر نہیں ہنستا۔
میں اپنی قسمت پر ہنستا ہوں۔ ساٹھ سال میں نے خدا سے ایک ہی دعا مانگی:
یا اللہ، محمد کا قرض میرے ذمے ہے، اسے اتارنے سے پہلے موت نہ دینا۔
آج وہ دن آ گیا۔
آج حساب برابر ہوگا۔ اور وہ بجلی بن کر ٹوٹے۔ میمنہ پر، میسرہ پر، قلب پر۔
بوڑھا جسم تھا مگر روح بدری تھی۔
62 وار کیے۔ 63ویں وار پر بدیل بن صریم کا نیزہ ان کی پیشانی سے آر پار ہو گیا۔
گھوڑے کی زین سے گرے تو زمین نے کراہ سنی۔
حسینؑ دوڑے۔ حبیب کا لہو میں لتھڑا سر گود میں لیا۔
حبیب کی پلکیں کانپیں۔ خون کے بلبلے تھوک کر بولے: مولا۔۔ میرے آقا کو۔۔ میرا سلام۔۔
کہنا حبیب نے۔۔ غدیر والا۔۔ وعدہ۔۔ پورا کر دیا۔۔
اور گردن ایک طرف لڑھک گئی۔
مسلم بن عوسجہ زخمی شیر کی طرح لڑ رہے تھے۔
پسلیوں میں دو نیزے ٹوٹ چکے تھے۔ گھٹنوں کے بل گرے تو نعرہ لگایا:
اصبر علی الحق یا مسلم! یعنی حق پر ڈٹ جا مسلم! حسینؑ سرہانے آئے: رحمک اللہ یا مسلم۔
مسلم نے ہاتھ اٹھانا چاہا،
سلام کرنا چاہا، مگر ہاتھ نہ اٹھا۔ حسینؑ نے ان کا ٹھنڈا ہاتھ اپنے گرم ہاتھوں میں لے لیا۔
مسلم کی آنکھوں نے پاس پڑے حبیب کے لاشے کو دیکھا۔
ہونٹوں پر مسکراہٹ آئی۔ سرگوشی کی: حبیب۔۔ آگے چل۔۔ میں۔۔ ابھی آیا۔۔
جنادہ بن حارث نے دیکھا کہ ان کا 18 سال کا بیٹا عمرو دشمن کی صفیں چیر رہا ہے۔
چیخ کر بولے: عمرو، رک جا بیٹے! عمرو نے پلٹ کر کہا: بابا، کیوں؟
جنادہ روتے ہوئے آگے بڑھے، بیٹے کو سینے سے لگایا:
بیٹا، جنت کے دروازے پر باپ بیٹے سے پہلے داخل ہوتا ہے۔
شہادت کی لائن میں پہلے میرا نمبر ہے۔ اور باپ نے بیٹے کو پیچھے دھکیل کر خود کو نیزوں کے سامنے کر دیا۔
شام کو دونوں کی لاشیں ایک ساتھ ملیں۔
باپ کا ہاتھ بیٹے کے زخمی سینے پر تھا۔ کہہ رہا تھا: ڈر مت لال، باپ ساتھ ہے۔
انس بن حارث کے جسم میں تیر ہی تیر تھے۔
گھوڑا مر چکا تھا۔ وہ ریت پر گھٹنوں کے بل لڑ رہے تھے۔
رجز پڑھ رہے تھے: میں انس ہوں، موت کے وقت شیر ہوں۔ آخری تیر حلق میں لگا۔
خون کا فوارہ نکلا۔
گرتے ہوئے آسمان کی طرف دیکھا، چلائے: یا رسول اللہ! آپ کے انس کو دیکھ لیں۔
آپ کے حسین پر ٹکڑے ہو رہا ہے۔
شام ہوئی تو کربلا کا میدان 72 لاشوں سے اٹ گیا تھا۔
مگر یہ آٹھ لاشیں سب سے الگ تھیں۔ چہرے پر اجر رسالت کا نور۔
اور نبی کی بیٹی کی خوشنودی جو ان کو ہمیشہ کے لیے امر کر گئی۔
آج بھی لوگ پوچھتے ہیں:
جب سارے خاص و عام بک گئے، یہ آٹھ کیوں نہ بکے؟ جواب حبیب دے گئے تھے۔
ابن سعد نے کہا تھا: حبیب، تمہارے پاس نہ زرہ ہے نہ خود۔
حبیب نے قہقہہ لگایا تھا: واللہ لو کنت اقاتلکم علی دنیاکم لکنت من ازهد الناس فیها،
و لکنی اقاتلکم علی دین جدّ الحسین۔ خدا کی قسم اگر میں تم سے دنیا کے لیے لڑتا تو دنیا سے سب سے زیادہ بے رغبت میں ہوتا۔
مگر میں تم سے حسین کے نانا کے دین پر لڑ رہا ہوں۔(وہ صحابہ کرام رض جو رسول خدا کے بیٹے کی نصرت میں شہید ہوئے)
غدیر کا سورج نیزوں کی انیوں پر پگھل رہا تھا۔
ایک لاکھ اونٹ رکے ہوئے تھے اور ایک لاکھ سر جھکے ہوئے تھے۔
رسولِ خداؐ نے کجاووں کا منبر بنایا،
علیؑ کا داہنا ہاتھ پکڑا اور اتنا اونچا اٹھایا کہ دونوں کی بغلوں کی سفیدی دکھائی دی۔
من کنت مولاہ فھذا علی مولاہ کی صدا جب فضا میں گونجی
تو حبیب بن مظاہر کی مٹھیاں بھنچ گئیں۔
25 برس کا جوان، بدر کا زخمی، احد کا سپاہی۔
اس نے پلٹ کر دیکھا۔
مسلم بن عوسجہ کی آنکھیں نم تھیں۔ انس بن حارث کا چہرہ سرخ تھا۔
جندب، عمار، نعیم، جنادہ، الرحمن۔۔
یہ آٹھوں رسولؐ کے سائے میں بڑے ہوئے تھے۔
انہوں نے سنا تھا جب رسولؐ نے فرمایا تھا: قل لا اسئلکم علیہ اجرا الا المودۃ فی القربیٰ۔
میں تم سے رسالت کا کوئی اجر نہیں مانگتا سوائے اس کے کہ میرے قرابت داروں سے محبت کرو۔
وہ دن تھا اور آج کا دن،
یہ جملہ ان کے سینوں میں میخ کی طرح گڑا ہوا تھا۔
یہ قرض تھا۔ رسولؐ کا قرض۔
اور قرض اتارنے کی مہلت ساٹھ سال تھی۔
ساٹھ سال۔ داڑھیاں روئی جیسی سفید ہو گئیں۔ پشتیں جھک گئیں۔
تلواریں طاق پر پڑے پڑے زنگ سے سیاہ ہو گئیں۔
کوفہ کی گلیوں میں ابن زیاد کے نقیب چیخ رہے تھے: جس گھر سے حسین کا نام آیا، اس گھر کو آگ لگا دو۔
مسلم بن عقیلؑ کی لاش کوفہ کی مسجد کے دروازے پر لٹک رہی تھی۔
ہانی بن عروہ کا کٹا ہوا سر بازار میں نیزے پر تھا۔
اٹھارہ ہزار خط لکھنے والے، اٹھارہ ہزار بیعت کرنے والے، اب اپنی بیویوں کے پیچھے چھپے کانپ رہے تھے۔
کیونکہ باہر یزید کا کوڑا تھا،
اور اندر بچوں کی بھوک۔
مگر اسی رات کوفہ کے ایک بوسیدہ مکان میں حبیب بن مظاہر کے ہاتھ میں امام حسینؑ کا خط آیا۔
خط کھولا، پڑھا، آنکھوں سے لگایا، چوما اور دھاڑیں مار کر رو پڑے۔
داڑھی آنسوؤں سے تر ہو گئی۔ چیخ کر بولے: خاک میری۔
میرے رسول کا بیٹا کربلا میں تنہا ہے
اور حبیب گھر میں بیٹھا رہے؟ یہ کیسے ہو سکتا ہے؟
بیوی پاس آئی۔ وہ بھی غدیر کی عاشق تھی۔
اس نے حبیب کا ہاتھ تھاما اور کہا: آپ کو جانا چاہیے۔
یہ وہی دن ہے جس کا وعدہ تھا۔ محمدؐ کا قرض اتارنے کا وقت آ گیا۔
حبیب نے اپنی لاٹھی پھینکی اور کمر سیدھی کی۔
75 برس کی عمر، ہڈیوں میں درد، آنکھوں میں موتیا۔
مگر اب رکنا حرام تھا۔ بنی اسد کے جوانوں کو آواز دی۔
کہا: چلو، حسین نے بلایا ہے۔
پھر ابن زیاد کے پہروں سے چھپتے چھپاتے، سپاہیوں کو بہانے بناتے، راتوں رات کوفہ سے نکل پڑے۔
خالی پیٹ۔ مگر سینے میں غدیر کی آگ دہک رہی تھی۔
ادھر مسلم بن عوسجہ نے اپنا زنگ آلود خود سر پر رکھا۔
لوہا بالوں میں پھنس گیا، خون کی لکیر ماتھے پر آ گئی۔
اس نے آئینہ نہیں دیکھا۔ کیونکہ آج سر بچانا نہیں تھا، سر کٹانا تھا۔
شبِ عاشور امامؑ نے خیمے کا چراغ بجھایا:
یہ اندھیرا امان ہے۔ جو جانا چاہے، چلا جائے۔ یہ لوگ صرف میرا خون چاہتے ہیں۔
سناٹا قبر جیسا تھا۔
پھر مسلم اٹھے۔ آواز رندھی ہوئی تھی، مگر الفاظ میں بدر کی کڑک تھی:
یابن رسول اللہ، خدا گواہ ہے۔ اگر مجھے معلوم ہو کہ میں قتل کیا جاؤں گا، پھر زندہ کیا جاؤں گا، پھر جلایا جاؤں گا، پھر میری راکھ ہوا میں بکھیر دی جائے گی۔
اور یہ ستر بار ہوگا۔۔
تب بھی آپ کا دامن نہیں چھوڑوں گا۔ جب تک اس جسم میں ایک ہڈی سلامت ہے، وہ آپ کے دشمن کی ہڈی توڑے گی۔
امامؑ اٹھے اور مسلم کو سینے سے لگا لیا۔
مسلم کی داڑھی حسینؑ کے آنسوؤں سے تر ہو گئی۔ مسلم نے اسے پونچھا نہیں۔
یہی تو وضو تھا۔ یہی تو اجرِ رسالت تھا۔
انس بن حارث الکاہلی نے آدھی رات کو اپنے جوان بیٹے کا بازو جھنجھوڑا۔
اٹھ۔
بیٹا ہڑبڑا کر اٹھا: بابا، خیریت؟ انس کی آنکھوں میں ساٹھ سال پرانا غدیر جل رہا تھا:
بیٹا، تلوار اٹھا۔ کیوں بابا؟ کیونکہ آج وہ دن ہے جس کے لیے ہم ساٹھ سال زندہ رہے۔
حسین کوفہ کے باہر تنہا ہے۔
دنیا نے ہمیں روک لیا تھا، مگر آج موت بلاتی ہے۔
اور موت کا بلاوا ٹھکرانے والے مرد نہیں ہوتے۔ باپ بیٹا اندھیرے میں کوفہ کے پہروں کو کاٹتے ہوئے نکلے۔
پیچھے دنیا چھوٹ رہی تھی،
آگے جنت آ رہی تھی۔
عاشور کی صبح۔ 72 بھوکے پیاسے، 30 ہزار یا 90 لاکھ شکم سیر کے سامنے۔
حبیب نے صفوں کو دیکھا اور کھلکھلا کر ہنس پڑے۔ شمر نے نیزہ تان کر پوچھا:
اے بڈھے، موت سامنے ہے اور تو ہنستا ہے؟ حبیب نے اپنی ٹوٹی ہوئی تلوار سونت لی:
شمر، میں موت پر نہیں ہنستا۔
میں اپنی قسمت پر ہنستا ہوں۔ ساٹھ سال میں نے خدا سے ایک ہی دعا مانگی:
یا اللہ، محمد کا قرض میرے ذمے ہے، اسے اتارنے سے پہلے موت نہ دینا۔
آج وہ دن آ گیا۔
آج حساب برابر ہوگا۔ اور وہ بجلی بن کر ٹوٹے۔ میمنہ پر، میسرہ پر، قلب پر۔
بوڑھا جسم تھا مگر روح بدری تھی۔
62 وار کیے۔ 63ویں وار پر بدیل بن صریم کا نیزہ ان کی پیشانی سے آر پار ہو گیا۔
گھوڑے کی زین سے گرے تو زمین نے کراہ سنی۔
حسینؑ دوڑے۔ حبیب کا لہو میں لتھڑا سر گود میں لیا۔
حبیب کی پلکیں کانپیں۔ خون کے بلبلے تھوک کر بولے: مولا۔۔ میرے آقا کو۔۔ میرا سلام۔۔
کہنا حبیب نے۔۔ غدیر والا۔۔ وعدہ۔۔ پورا کر دیا۔۔
اور گردن ایک طرف لڑھک گئی۔
مسلم بن عوسجہ زخمی شیر کی طرح لڑ رہے تھے۔
پسلیوں میں دو نیزے ٹوٹ چکے تھے۔ گھٹنوں کے بل گرے تو نعرہ لگایا:
اصبر علی الحق یا مسلم! یعنی حق پر ڈٹ جا مسلم! حسینؑ سرہانے آئے: رحمک اللہ یا مسلم۔
مسلم نے ہاتھ اٹھانا چاہا،
سلام کرنا چاہا، مگر ہاتھ نہ اٹھا۔ حسینؑ نے ان کا ٹھنڈا ہاتھ اپنے گرم ہاتھوں میں لے لیا۔
مسلم کی آنکھوں نے پاس پڑے حبیب کے لاشے کو دیکھا۔
ہونٹوں پر مسکراہٹ آئی۔ سرگوشی کی: حبیب۔۔ آگے چل۔۔ میں۔۔ ابھی آیا۔۔
جنادہ بن حارث نے دیکھا کہ ان کا 18 سال کا بیٹا عمرو دشمن کی صفیں چیر رہا ہے۔
چیخ کر بولے: عمرو، رک جا بیٹے! عمرو نے پلٹ کر کہا: بابا، کیوں؟
جنادہ روتے ہوئے آگے بڑھے، بیٹے کو سینے سے لگایا:
بیٹا، جنت کے دروازے پر باپ بیٹے سے پہلے داخل ہوتا ہے۔
شہادت کی لائن میں پہلے میرا نمبر ہے۔ اور باپ نے بیٹے کو پیچھے دھکیل کر خود کو نیزوں کے سامنے کر دیا۔
شام کو دونوں کی لاشیں ایک ساتھ ملیں۔
باپ کا ہاتھ بیٹے کے زخمی سینے پر تھا۔ کہہ رہا تھا: ڈر مت لال، باپ ساتھ ہے۔
انس بن حارث کے جسم میں تیر ہی تیر تھے۔
گھوڑا مر چکا تھا۔ وہ ریت پر گھٹنوں کے بل لڑ رہے تھے۔
رجز پڑھ رہے تھے: میں انس ہوں، موت کے وقت شیر ہوں۔ آخری تیر حلق میں لگا۔
خون کا فوارہ نکلا۔
گرتے ہوئے آسمان کی طرف دیکھا، چلائے: یا رسول اللہ! آپ کے انس کو دیکھ لیں۔
آپ کے حسین پر ٹکڑے ہو رہا ہے۔
شام ہوئی تو کربلا کا میدان 72 لاشوں سے اٹ گیا تھا۔
مگر یہ آٹھ لاشیں سب سے الگ تھیں۔ چہرے پر اجر رسالت کا نور۔
اور نبی کی بیٹی کی خوشنودی جو ان کو ہمیشہ کے لیے امر کر گئی۔
آج بھی لوگ پوچھتے ہیں:
جب سارے خاص و عام بک گئے، یہ آٹھ کیوں نہ بکے؟ جواب حبیب دے گئے تھے۔
ابن سعد نے کہا تھا: حبیب، تمہارے پاس نہ زرہ ہے نہ خود۔
حبیب نے قہقہہ لگایا تھا: واللہ لو کنت اقاتلکم علی دنیاکم لکنت من ازهد الناس فیها،
و لکنی اقاتلکم علی دین جدّ الحسین۔ خدا کی قسم اگر میں تم سے دنیا کے لیے لڑتا تو دنیا سے سب سے زیادہ بے رغبت میں ہوتا۔
مگر میں تم سے حسین کے نانا کے دین پر لڑ رہا ہوں۔