Qalandri Dera

Qalandri Dera Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Qalandri Dera, Digital creator, Toba Road near Ali Ahmad Khan Hospital, Jhang.
(1)

قلندری ڈیرہ فش اینڈ باربی کیو – جہاں ذائقہ روایت سے ملتا ہے 🥰
تازہ دریائی اور فارمی مچھلی، کوئلوں پر تیار لائیو باربی کیو اور خالص دیسی مصالحے۔
فیملی کے لیے موزوں
جینٹس کیلئے ڈیرہ اسٹائل بیٹھک اور سکون بھرا ماحول۔
یہاں ہر نوالہ یاد بن جاتا ہے۔ 👍

(وہ صحابہ کرام رض جو رسول خدا کے بیٹے کی نصرت میں شہید ہوئے)غدیر کا سورج نیزوں کی انیوں پر پگھل رہا تھا۔  ایک لاکھ اونٹ ...
22/06/2026

(وہ صحابہ کرام رض جو رسول خدا کے بیٹے کی نصرت میں شہید ہوئے)

غدیر کا سورج نیزوں کی انیوں پر پگھل رہا تھا۔
ایک لاکھ اونٹ رکے ہوئے تھے اور ایک لاکھ سر جھکے ہوئے تھے۔

رسولِ خداؐ نے کجاووں کا منبر بنایا،
علیؑ کا داہنا ہاتھ پکڑا اور اتنا اونچا اٹھایا کہ دونوں کی بغلوں کی سفیدی دکھائی دی۔

من کنت مولاہ فھذا علی مولاہ کی صدا جب فضا میں گونجی
تو حبیب بن مظاہر کی مٹھیاں بھنچ گئیں۔
25 برس کا جوان، بدر کا زخمی، احد کا سپاہی۔

اس نے پلٹ کر دیکھا۔
مسلم بن عوسجہ کی آنکھیں نم تھیں۔ انس بن حارث کا چہرہ سرخ تھا۔

جندب، عمار، نعیم، جنادہ، الرحمن۔۔
یہ آٹھوں رسولؐ کے سائے میں بڑے ہوئے تھے۔
انہوں نے سنا تھا جب رسولؐ نے فرمایا تھا: قل لا اسئلکم علیہ اجرا الا المودۃ فی القربیٰ۔
میں تم سے رسالت کا کوئی اجر نہیں مانگتا سوائے اس کے کہ میرے قرابت داروں سے محبت کرو۔

وہ دن تھا اور آج کا دن،
یہ جملہ ان کے سینوں میں میخ کی طرح گڑا ہوا تھا۔

یہ قرض تھا۔ رسولؐ کا قرض۔
اور قرض اتارنے کی مہلت ساٹھ سال تھی۔
ساٹھ سال۔ داڑھیاں روئی جیسی سفید ہو گئیں۔ پشتیں جھک گئیں۔

تلواریں طاق پر پڑے پڑے زنگ سے سیاہ ہو گئیں۔
کوفہ کی گلیوں میں ابن زیاد کے نقیب چیخ رہے تھے: جس گھر سے حسین کا نام آیا، اس گھر کو آگ لگا دو۔

مسلم بن عقیلؑ کی لاش کوفہ کی مسجد کے دروازے پر لٹک رہی تھی۔
ہانی بن عروہ کا کٹا ہوا سر بازار میں نیزے پر تھا۔
اٹھارہ ہزار خط لکھنے والے، اٹھارہ ہزار بیعت کرنے والے، اب اپنی بیویوں کے پیچھے چھپے کانپ رہے تھے۔

کیونکہ باہر یزید کا کوڑا تھا،
اور اندر بچوں کی بھوک۔

مگر اسی رات کوفہ کے ایک بوسیدہ مکان میں حبیب بن مظاہر کے ہاتھ میں امام حسینؑ کا خط آیا۔
خط کھولا، پڑھا، آنکھوں سے لگایا، چوما اور دھاڑیں مار کر رو پڑے۔
داڑھی آنسوؤں سے تر ہو گئی۔ چیخ کر بولے: خاک میری۔

میرے رسول کا بیٹا کربلا میں تنہا ہے
اور حبیب گھر میں بیٹھا رہے؟ یہ کیسے ہو سکتا ہے؟

بیوی پاس آئی۔ وہ بھی غدیر کی عاشق تھی۔
اس نے حبیب کا ہاتھ تھاما اور کہا: آپ کو جانا چاہیے۔
یہ وہی دن ہے جس کا وعدہ تھا۔ محمدؐ کا قرض اتارنے کا وقت آ گیا۔

حبیب نے اپنی لاٹھی پھینکی اور کمر سیدھی کی۔
75 برس کی عمر، ہڈیوں میں درد، آنکھوں میں موتیا۔
مگر اب رکنا حرام تھا۔ بنی اسد کے جوانوں کو آواز دی۔

کہا: چلو، حسین نے بلایا ہے۔
پھر ابن زیاد کے پہروں سے چھپتے چھپاتے، سپاہیوں کو بہانے بناتے، راتوں رات کوفہ سے نکل پڑے۔
خالی پیٹ۔ مگر سینے میں غدیر کی آگ دہک رہی تھی۔

ادھر مسلم بن عوسجہ نے اپنا زنگ آلود خود سر پر رکھا۔
لوہا بالوں میں پھنس گیا، خون کی لکیر ماتھے پر آ گئی۔
اس نے آئینہ نہیں دیکھا۔ کیونکہ آج سر بچانا نہیں تھا، سر کٹانا تھا۔

شبِ عاشور امامؑ نے خیمے کا چراغ بجھایا:
یہ اندھیرا امان ہے۔ جو جانا چاہے، چلا جائے۔ یہ لوگ صرف میرا خون چاہتے ہیں۔

سناٹا قبر جیسا تھا۔
پھر مسلم اٹھے۔ آواز رندھی ہوئی تھی، مگر الفاظ میں بدر کی کڑک تھی:
یابن رسول اللہ، خدا گواہ ہے۔ اگر مجھے معلوم ہو کہ میں قتل کیا جاؤں گا، پھر زندہ کیا جاؤں گا، پھر جلایا جاؤں گا، پھر میری راکھ ہوا میں بکھیر دی جائے گی۔

اور یہ ستر بار ہوگا۔۔
تب بھی آپ کا دامن نہیں چھوڑوں گا۔ جب تک اس جسم میں ایک ہڈی سلامت ہے، وہ آپ کے دشمن کی ہڈی توڑے گی۔

امامؑ اٹھے اور مسلم کو سینے سے لگا لیا۔
مسلم کی داڑھی حسینؑ کے آنسوؤں سے تر ہو گئی۔ مسلم نے اسے پونچھا نہیں۔

یہی تو وضو تھا۔ یہی تو اجرِ رسالت تھا۔
انس بن حارث الکاہلی نے آدھی رات کو اپنے جوان بیٹے کا بازو جھنجھوڑا۔

اٹھ۔
بیٹا ہڑبڑا کر اٹھا: بابا، خیریت؟ انس کی آنکھوں میں ساٹھ سال پرانا غدیر جل رہا تھا:
بیٹا، تلوار اٹھا۔ کیوں بابا؟ کیونکہ آج وہ دن ہے جس کے لیے ہم ساٹھ سال زندہ رہے۔

حسین کوفہ کے باہر تنہا ہے۔
دنیا نے ہمیں روک لیا تھا، مگر آج موت بلاتی ہے۔
اور موت کا بلاوا ٹھکرانے والے مرد نہیں ہوتے۔ باپ بیٹا اندھیرے میں کوفہ کے پہروں کو کاٹتے ہوئے نکلے۔

پیچھے دنیا چھوٹ رہی تھی،
آگے جنت آ رہی تھی۔

عاشور کی صبح۔ 72 بھوکے پیاسے، 30 ہزار یا 90 لاکھ شکم سیر کے سامنے۔
حبیب نے صفوں کو دیکھا اور کھلکھلا کر ہنس پڑے۔ شمر نے نیزہ تان کر پوچھا:
اے بڈھے، موت سامنے ہے اور تو ہنستا ہے؟ حبیب نے اپنی ٹوٹی ہوئی تلوار سونت لی:

شمر، میں موت پر نہیں ہنستا۔
میں اپنی قسمت پر ہنستا ہوں۔ ساٹھ سال میں نے خدا سے ایک ہی دعا مانگی:
یا اللہ، محمد کا قرض میرے ذمے ہے، اسے اتارنے سے پہلے موت نہ دینا۔

آج وہ دن آ گیا۔
آج حساب برابر ہوگا۔ اور وہ بجلی بن کر ٹوٹے۔ میمنہ پر، میسرہ پر، قلب پر۔

بوڑھا جسم تھا مگر روح بدری تھی۔
62 وار کیے۔ 63ویں وار پر بدیل بن صریم کا نیزہ ان کی پیشانی سے آر پار ہو گیا۔

گھوڑے کی زین سے گرے تو زمین نے کراہ سنی۔
حسینؑ دوڑے۔ حبیب کا لہو میں لتھڑا سر گود میں لیا۔
حبیب کی پلکیں کانپیں۔ خون کے بلبلے تھوک کر بولے: مولا۔۔ میرے آقا کو۔۔ میرا سلام۔۔

کہنا حبیب نے۔۔ غدیر والا۔۔ وعدہ۔۔ پورا کر دیا۔۔
اور گردن ایک طرف لڑھک گئی۔

مسلم بن عوسجہ زخمی شیر کی طرح لڑ رہے تھے۔
پسلیوں میں دو نیزے ٹوٹ چکے تھے۔ گھٹنوں کے بل گرے تو نعرہ لگایا:
اصبر علی الحق یا مسلم! یعنی حق پر ڈٹ جا مسلم! حسینؑ سرہانے آئے: رحمک اللہ یا مسلم۔

مسلم نے ہاتھ اٹھانا چاہا،
سلام کرنا چاہا، مگر ہاتھ نہ اٹھا۔ حسینؑ نے ان کا ٹھنڈا ہاتھ اپنے گرم ہاتھوں میں لے لیا۔

مسلم کی آنکھوں نے پاس پڑے حبیب کے لاشے کو دیکھا۔
ہونٹوں پر مسکراہٹ آئی۔ سرگوشی کی: حبیب۔۔ آگے چل۔۔ میں۔۔ ابھی آیا۔۔

جنادہ بن حارث نے دیکھا کہ ان کا 18 سال کا بیٹا عمرو دشمن کی صفیں چیر رہا ہے۔
چیخ کر بولے: عمرو، رک جا بیٹے! عمرو نے پلٹ کر کہا: بابا، کیوں؟

جنادہ روتے ہوئے آگے بڑھے، بیٹے کو سینے سے لگایا:
بیٹا، جنت کے دروازے پر باپ بیٹے سے پہلے داخل ہوتا ہے۔
شہادت کی لائن میں پہلے میرا نمبر ہے۔ اور باپ نے بیٹے کو پیچھے دھکیل کر خود کو نیزوں کے سامنے کر دیا۔

شام کو دونوں کی لاشیں ایک ساتھ ملیں۔
باپ کا ہاتھ بیٹے کے زخمی سینے پر تھا۔ کہہ رہا تھا: ڈر مت لال، باپ ساتھ ہے۔

انس بن حارث کے جسم میں تیر ہی تیر تھے۔
گھوڑا مر چکا تھا۔ وہ ریت پر گھٹنوں کے بل لڑ رہے تھے۔
رجز پڑھ رہے تھے: میں انس ہوں، موت کے وقت شیر ہوں۔ آخری تیر حلق میں لگا۔

خون کا فوارہ نکلا۔
گرتے ہوئے آسمان کی طرف دیکھا، چلائے: یا رسول اللہ! آپ کے انس کو دیکھ لیں۔

آپ کے حسین پر ٹکڑے ہو رہا ہے۔
شام ہوئی تو کربلا کا میدان 72 لاشوں سے اٹ گیا تھا۔
مگر یہ آٹھ لاشیں سب سے الگ تھیں۔ چہرے پر اجر رسالت کا نور۔
اور نبی کی بیٹی کی خوشنودی جو ان کو ہمیشہ کے لیے امر کر گئی۔

آج بھی لوگ پوچھتے ہیں:
جب سارے خاص و عام بک گئے، یہ آٹھ کیوں نہ بکے؟ جواب حبیب دے گئے تھے۔

ابن سعد نے کہا تھا: حبیب، تمہارے پاس نہ زرہ ہے نہ خود۔
حبیب نے قہقہہ لگایا تھا: واللہ لو کنت اقاتلکم علی دنیاکم لکنت من ازهد الناس فیها،
و لکنی اقاتلکم علی دین جدّ الحسین۔ خدا کی قسم اگر میں تم سے دنیا کے لیے لڑتا تو دنیا سے سب سے زیادہ بے رغبت میں ہوتا۔

مگر میں تم سے حسین کے نانا کے دین پر لڑ رہا ہوں۔(وہ صحابہ کرام رض جو رسول خدا کے بیٹے کی نصرت میں شہید ہوئے)

غدیر کا سورج نیزوں کی انیوں پر پگھل رہا تھا۔
ایک لاکھ اونٹ رکے ہوئے تھے اور ایک لاکھ سر جھکے ہوئے تھے۔

رسولِ خداؐ نے کجاووں کا منبر بنایا،
علیؑ کا داہنا ہاتھ پکڑا اور اتنا اونچا اٹھایا کہ دونوں کی بغلوں کی سفیدی دکھائی دی۔

من کنت مولاہ فھذا علی مولاہ کی صدا جب فضا میں گونجی
تو حبیب بن مظاہر کی مٹھیاں بھنچ گئیں۔
25 برس کا جوان، بدر کا زخمی، احد کا سپاہی۔

اس نے پلٹ کر دیکھا۔
مسلم بن عوسجہ کی آنکھیں نم تھیں۔ انس بن حارث کا چہرہ سرخ تھا۔

جندب، عمار، نعیم، جنادہ، الرحمن۔۔
یہ آٹھوں رسولؐ کے سائے میں بڑے ہوئے تھے۔
انہوں نے سنا تھا جب رسولؐ نے فرمایا تھا: قل لا اسئلکم علیہ اجرا الا المودۃ فی القربیٰ۔
میں تم سے رسالت کا کوئی اجر نہیں مانگتا سوائے اس کے کہ میرے قرابت داروں سے محبت کرو۔

وہ دن تھا اور آج کا دن،
یہ جملہ ان کے سینوں میں میخ کی طرح گڑا ہوا تھا۔

یہ قرض تھا۔ رسولؐ کا قرض۔
اور قرض اتارنے کی مہلت ساٹھ سال تھی۔
ساٹھ سال۔ داڑھیاں روئی جیسی سفید ہو گئیں۔ پشتیں جھک گئیں۔

تلواریں طاق پر پڑے پڑے زنگ سے سیاہ ہو گئیں۔
کوفہ کی گلیوں میں ابن زیاد کے نقیب چیخ رہے تھے: جس گھر سے حسین کا نام آیا، اس گھر کو آگ لگا دو۔

مسلم بن عقیلؑ کی لاش کوفہ کی مسجد کے دروازے پر لٹک رہی تھی۔
ہانی بن عروہ کا کٹا ہوا سر بازار میں نیزے پر تھا۔
اٹھارہ ہزار خط لکھنے والے، اٹھارہ ہزار بیعت کرنے والے، اب اپنی بیویوں کے پیچھے چھپے کانپ رہے تھے۔

کیونکہ باہر یزید کا کوڑا تھا،
اور اندر بچوں کی بھوک۔

مگر اسی رات کوفہ کے ایک بوسیدہ مکان میں حبیب بن مظاہر کے ہاتھ میں امام حسینؑ کا خط آیا۔
خط کھولا، پڑھا، آنکھوں سے لگایا، چوما اور دھاڑیں مار کر رو پڑے۔
داڑھی آنسوؤں سے تر ہو گئی۔ چیخ کر بولے: خاک میری۔

میرے رسول کا بیٹا کربلا میں تنہا ہے
اور حبیب گھر میں بیٹھا رہے؟ یہ کیسے ہو سکتا ہے؟

بیوی پاس آئی۔ وہ بھی غدیر کی عاشق تھی۔
اس نے حبیب کا ہاتھ تھاما اور کہا: آپ کو جانا چاہیے۔
یہ وہی دن ہے جس کا وعدہ تھا۔ محمدؐ کا قرض اتارنے کا وقت آ گیا۔

حبیب نے اپنی لاٹھی پھینکی اور کمر سیدھی کی۔
75 برس کی عمر، ہڈیوں میں درد، آنکھوں میں موتیا۔
مگر اب رکنا حرام تھا۔ بنی اسد کے جوانوں کو آواز دی۔

کہا: چلو، حسین نے بلایا ہے۔
پھر ابن زیاد کے پہروں سے چھپتے چھپاتے، سپاہیوں کو بہانے بناتے، راتوں رات کوفہ سے نکل پڑے۔
خالی پیٹ۔ مگر سینے میں غدیر کی آگ دہک رہی تھی۔

ادھر مسلم بن عوسجہ نے اپنا زنگ آلود خود سر پر رکھا۔
لوہا بالوں میں پھنس گیا، خون کی لکیر ماتھے پر آ گئی۔
اس نے آئینہ نہیں دیکھا۔ کیونکہ آج سر بچانا نہیں تھا، سر کٹانا تھا۔

شبِ عاشور امامؑ نے خیمے کا چراغ بجھایا:
یہ اندھیرا امان ہے۔ جو جانا چاہے، چلا جائے۔ یہ لوگ صرف میرا خون چاہتے ہیں۔

سناٹا قبر جیسا تھا۔
پھر مسلم اٹھے۔ آواز رندھی ہوئی تھی، مگر الفاظ میں بدر کی کڑک تھی:
یابن رسول اللہ، خدا گواہ ہے۔ اگر مجھے معلوم ہو کہ میں قتل کیا جاؤں گا، پھر زندہ کیا جاؤں گا، پھر جلایا جاؤں گا، پھر میری راکھ ہوا میں بکھیر دی جائے گی۔

اور یہ ستر بار ہوگا۔۔
تب بھی آپ کا دامن نہیں چھوڑوں گا۔ جب تک اس جسم میں ایک ہڈی سلامت ہے، وہ آپ کے دشمن کی ہڈی توڑے گی۔

امامؑ اٹھے اور مسلم کو سینے سے لگا لیا۔
مسلم کی داڑھی حسینؑ کے آنسوؤں سے تر ہو گئی۔ مسلم نے اسے پونچھا نہیں۔

یہی تو وضو تھا۔ یہی تو اجرِ رسالت تھا۔
انس بن حارث الکاہلی نے آدھی رات کو اپنے جوان بیٹے کا بازو جھنجھوڑا۔

اٹھ۔
بیٹا ہڑبڑا کر اٹھا: بابا، خیریت؟ انس کی آنکھوں میں ساٹھ سال پرانا غدیر جل رہا تھا:
بیٹا، تلوار اٹھا۔ کیوں بابا؟ کیونکہ آج وہ دن ہے جس کے لیے ہم ساٹھ سال زندہ رہے۔

حسین کوفہ کے باہر تنہا ہے۔
دنیا نے ہمیں روک لیا تھا، مگر آج موت بلاتی ہے۔
اور موت کا بلاوا ٹھکرانے والے مرد نہیں ہوتے۔ باپ بیٹا اندھیرے میں کوفہ کے پہروں کو کاٹتے ہوئے نکلے۔

پیچھے دنیا چھوٹ رہی تھی،
آگے جنت آ رہی تھی۔

عاشور کی صبح۔ 72 بھوکے پیاسے، 30 ہزار یا 90 لاکھ شکم سیر کے سامنے۔
حبیب نے صفوں کو دیکھا اور کھلکھلا کر ہنس پڑے۔ شمر نے نیزہ تان کر پوچھا:
اے بڈھے، موت سامنے ہے اور تو ہنستا ہے؟ حبیب نے اپنی ٹوٹی ہوئی تلوار سونت لی:

شمر، میں موت پر نہیں ہنستا۔
میں اپنی قسمت پر ہنستا ہوں۔ ساٹھ سال میں نے خدا سے ایک ہی دعا مانگی:
یا اللہ، محمد کا قرض میرے ذمے ہے، اسے اتارنے سے پہلے موت نہ دینا۔

آج وہ دن آ گیا۔
آج حساب برابر ہوگا۔ اور وہ بجلی بن کر ٹوٹے۔ میمنہ پر، میسرہ پر، قلب پر۔

بوڑھا جسم تھا مگر روح بدری تھی۔
62 وار کیے۔ 63ویں وار پر بدیل بن صریم کا نیزہ ان کی پیشانی سے آر پار ہو گیا۔

گھوڑے کی زین سے گرے تو زمین نے کراہ سنی۔
حسینؑ دوڑے۔ حبیب کا لہو میں لتھڑا سر گود میں لیا۔
حبیب کی پلکیں کانپیں۔ خون کے بلبلے تھوک کر بولے: مولا۔۔ میرے آقا کو۔۔ میرا سلام۔۔

کہنا حبیب نے۔۔ غدیر والا۔۔ وعدہ۔۔ پورا کر دیا۔۔
اور گردن ایک طرف لڑھک گئی۔

مسلم بن عوسجہ زخمی شیر کی طرح لڑ رہے تھے۔
پسلیوں میں دو نیزے ٹوٹ چکے تھے۔ گھٹنوں کے بل گرے تو نعرہ لگایا:
اصبر علی الحق یا مسلم! یعنی حق پر ڈٹ جا مسلم! حسینؑ سرہانے آئے: رحمک اللہ یا مسلم۔

مسلم نے ہاتھ اٹھانا چاہا،
سلام کرنا چاہا، مگر ہاتھ نہ اٹھا۔ حسینؑ نے ان کا ٹھنڈا ہاتھ اپنے گرم ہاتھوں میں لے لیا۔

مسلم کی آنکھوں نے پاس پڑے حبیب کے لاشے کو دیکھا۔
ہونٹوں پر مسکراہٹ آئی۔ سرگوشی کی: حبیب۔۔ آگے چل۔۔ میں۔۔ ابھی آیا۔۔

جنادہ بن حارث نے دیکھا کہ ان کا 18 سال کا بیٹا عمرو دشمن کی صفیں چیر رہا ہے۔
چیخ کر بولے: عمرو، رک جا بیٹے! عمرو نے پلٹ کر کہا: بابا، کیوں؟

جنادہ روتے ہوئے آگے بڑھے، بیٹے کو سینے سے لگایا:
بیٹا، جنت کے دروازے پر باپ بیٹے سے پہلے داخل ہوتا ہے۔
شہادت کی لائن میں پہلے میرا نمبر ہے۔ اور باپ نے بیٹے کو پیچھے دھکیل کر خود کو نیزوں کے سامنے کر دیا۔

شام کو دونوں کی لاشیں ایک ساتھ ملیں۔
باپ کا ہاتھ بیٹے کے زخمی سینے پر تھا۔ کہہ رہا تھا: ڈر مت لال، باپ ساتھ ہے۔

انس بن حارث کے جسم میں تیر ہی تیر تھے۔
گھوڑا مر چکا تھا۔ وہ ریت پر گھٹنوں کے بل لڑ رہے تھے۔
رجز پڑھ رہے تھے: میں انس ہوں، موت کے وقت شیر ہوں۔ آخری تیر حلق میں لگا۔

خون کا فوارہ نکلا۔
گرتے ہوئے آسمان کی طرف دیکھا، چلائے: یا رسول اللہ! آپ کے انس کو دیکھ لیں۔

آپ کے حسین پر ٹکڑے ہو رہا ہے۔
شام ہوئی تو کربلا کا میدان 72 لاشوں سے اٹ گیا تھا۔
مگر یہ آٹھ لاشیں سب سے الگ تھیں۔ چہرے پر اجر رسالت کا نور۔
اور نبی کی بیٹی کی خوشنودی جو ان کو ہمیشہ کے لیے امر کر گئی۔

آج بھی لوگ پوچھتے ہیں:
جب سارے خاص و عام بک گئے، یہ آٹھ کیوں نہ بکے؟ جواب حبیب دے گئے تھے۔

ابن سعد نے کہا تھا: حبیب، تمہارے پاس نہ زرہ ہے نہ خود۔
حبیب نے قہقہہ لگایا تھا: واللہ لو کنت اقاتلکم علی دنیاکم لکنت من ازهد الناس فیها،
و لکنی اقاتلکم علی دین جدّ الحسین۔ خدا کی قسم اگر میں تم سے دنیا کے لیے لڑتا تو دنیا سے سب سے زیادہ بے رغبت میں ہوتا۔

مگر میں تم سے حسین کے نانا کے دین پر لڑ رہا ہوں۔

جو بے صبرے لوگ تنخواہوں میں اضافے کو لیکر پریشان ہیں وہ جان لیں کہ :دنیا میں سات عجوبے، سات سمندر، سات آسمان، سات زمینیں...
19/06/2026

جو بے صبرے لوگ تنخواہوں میں اضافے کو لیکر پریشان ہیں وہ جان لیں کہ :
دنیا میں
سات عجوبے،
سات سمندر،
سات آسمان،
سات زمینیں،
سات براعظم،
ہفتے کے دن سات،
قوسِ قزح (دھنک) کے رنگ سات،
اور تنخواہ میں اضافہ بھی صرف 7%

نا سمجھو !!!
اور تم کیا چاہتے ہو 🤔

قاتل ڈمپر مافیا پھر خون پی گیا!آج صبح سویرے چناب نگر۔سرگودھا۔چنیوٹ روڈ پر بے رحم ڈمپر نے موٹر سائیکل سوار باپ بیٹے کو کچ...
18/06/2026

قاتل ڈمپر مافیا پھر خون پی گیا!
آج صبح سویرے چناب نگر۔سرگودھا۔چنیوٹ روڈ پر بے رحم ڈمپر نے موٹر سائیکل سوار باپ بیٹے کو کچل دیا۔

بیٹے کی لاش اس قدر بری طرح مسخ ہوئی کہ نہ دیکھی جا سکتی ہے اور نہ بیان کی جا سکتی ہے، جبکہ باپ زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا ہے۔

لعنت ہے اس ڈمپر مافیا پر جو سڑکوں کو قتل گاہ بنا چکا ہے۔

روز لاشیں گرتی ہیں، روز گھر اجڑتے ہیں، مگر یہ خونخوار پہیے رکنے کا نام نہیں لیتے۔

چنیوٹ پولیس سے گزارش نہیں، مطالبہ ہے کہ اب ڈمپر مافیا کا سر کچلا جائے۔

قانون کی گرفت مضبوط کی جائے، اوورلوڈنگ، تیز رفتاری اور بے لگام ڈرائیوروں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کی جائے۔

ورنہ ہر نئی لاش کے ساتھ سوال یہی اٹھے گا کہ قاتل صرف ڈرائیور تھا یا وہ نظام بھی جو انہیں کھلی چھوٹ دیتا رہا؟

یہ حادثہ نہیں، مسلسل مجرمانہ غفلت کا نتیجہ ہے۔

اب بھی اگر کارروائی نہ ہوئی تو سڑکوں پر بہنے والے خون کے دھبے صرف ڈمپروں پر نہیں، ذمہ دار اداروں کے دامن پر بھی ہوں گے۔

—❗️🇺🇸/🇮🇷 تازہ خبر: وائٹ ہاؤس نے 14 نکاتی مفاہمت نامے کا مکمل متن جاری کر دیا ہے:1. امریکہ اور ایران اور موجودہ جنگ میں ا...
18/06/2026

—❗️🇺🇸/🇮🇷 تازہ خبر: وائٹ ہاؤس نے 14 نکاتی مفاہمت نامے کا مکمل متن جاری کر دیا ہے:

1. امریکہ اور ایران اور موجودہ جنگ میں ان کے اتحادی تمام محاذوں پر فوری اور مستقل فوجی کارروائیاں ختم کرنے کا اعلان کرتے ہیں، بشمول لبنان، اور اب سے ایک دوسرے کے خلاف کسی بھی جنگ یا فوجی کارروائی کا آغاز نہ کرنے، اور ایک دوسرے کے خلاف طاقت کے استعمال یا دھمکی سے گریز کرنے کا عہد کرتے ہیں، اور لبنان کی علاقائی سالمیت اور خودمختاری کو یقینی بناتے ہیں۔

2. امریکہ اور ایران ایک دوسرے کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا احترام کرنے اور ایک دوسرے کے داخلی معاملات میں مداخلت سے پرہیز کرنے کا عہد کرتے ہیں۔

3. امریکہ اور ایران اس بات کا عہد کرتے ہیں کہ زیادہ سے زیادہ 60 دنوں میں حتمی معاہدے پر مذاکرات اور اس کی تکمیل کریں گے، جسے باہمی رضا مندی سے بڑھایا جا سکتا ہے۔

4. معاہدے پر دستخط ہوتے ہی، امریکہ اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف اپنے بحری محاصرہ اور کسی بھی قسم کی رکاوٹیں یا خلل ہٹانا شروع کر دے گا، اور 30 دن کے اندر بحری محاصرہ مکمل طور پر ختم کر دے گا۔ اس دوران، بحری جہازوں کی آمدورفت ایران کی بحالی شدہ قبل جنگ آمدورفت کے تناسب میں ہوگی۔ امریکہ مزید یہ وعدہ کرتا ہے کہ آخری معاہدے کے بعد 30 دنوں کے اندر ایران کے قریب اپنی فوجی موجودگی ختم کرے گا۔

5. اس مفاہمت نامے پر دستخط ہونے کے بعد، ایران اپنی بہترین کوششوں کے ذریعے بندرگاہی جہازوں کی محفوظ گزرگاہ کے انتظامات کرے گا، اور کوئی چارج نہیں لے گا، 60 دن تک خلیج فارس سے بحر عمان تک اور واپس۔ تجارتی جہازوں کی آمدورفت فوری طور پر شروع ہو جائے گی، اس بات کو مدنظر رکھتے ہوئے کہ اسلامی جمہوریہ ایران کی جانب سے تکنیکی اور عسکری رکاوٹوں کو دور کرنے اور بارودی سرنگیں ہٹانے کی ضرورت ہے، 30 دن کے اندر۔ ایران عمان کے ساتھ مذاکرات کرے گا تاکہ ہرمز کے تنگ گزرگاہ میں مستقبل کی انتظامیہ اور بحری خدمات کا تعین کیا جا سکے۔ 6. امریکہ اپنے علاقائی شرکاء کے ساتھ یہ عزم کرتا ہے کہ وہ اسلامی جمہوریہ ایران کی تعمیر نو اور اقتصادی ترقی کے لیے کم از کم 300 ارب امریکی ڈالر کے ساتھ ایک حتمی، باہمی متفقہ منصوبہ تیار کریں، جو ایک آخری معاہدے کا حصہ ہو۔
7. امریکہ اس بات کا عہد کرتا ہے کہ وہ اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف تمام قسم کے پابندیاں ختم کرے گا، جن میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادیں، آئی اے ای اے کے گورنرز کے بورڈ کی قراردادیں، اور تمام یک طرفہ امریکی پابندیاں، بنیادی اور ثانوی، شامل ہیں، ایک متفقہ شیڈول کے مطابق جو حتمی معاہدے کا حصہ ہوگی۔
8. اسلامی جمہوریہ ایران اس بات کو دوبارہ یقینی بناتا ہے کہ وہ جوہری ہتھیار حاصل یا تیار نہیں کرے گا۔ امریکہ اور ایران نے جمع شدہ افزودہ مواد کے فیصلے کو حل کرنے پر اتفاق کیا ہے، ایک ایسے میکانزم کے تحت جو مفاہمت کے مطابق طے شدہ شیڈول کے مطابق باہمی طور پر طے کیا جائے گا اور اس کی کم از کم طریقہ کار سائٹ پر ڈاؤن بلیندنگ کے ذریعے آئی اے ای اے کی نگرانی میں ہوگی۔ دونوں فریقین نے یہ بھی اتفاق کیا کہ وہ ایران کی جوہری ضروریات سے متعلق افزودگی اور دیگر باہمی طور پر طے شدہ معاملات پر بات کریں گے۔
9. حتمی معاہدے کے منتظر، امریکہ اور ایران اس بات پر متفق ہیں کہ موجودہ حالت کو برقرار رکھا جائے گا۔ ایران اپنے جوہری پروگرام کی موجودہ حالت برقرار رکھے گا، اور امریکہ کوئی نئی پابندیاں عائد نہیں کرے گا اور خطے میں اضافی فوجی تعینات نہیں کرے گا۔
10. امریکہ اس بات کا عہد کرتا ہے کہ اس مفاہمتی یادداشت پر دستخط کرتے ہی ایرانی خام تیل، پٹرولیم مصنوعات، اور ان سے متعلق مشتقات کی برآمد کے لیے پابندیوں کی چھوٹ فراہم کی جائے گی، اور تمام متعلقہ خدمات جیسے بینکنگ لین دین، بیمہ، نقل و حمل وغیرہ شامل ہوں گی۔
11. امریکہ اس بات کا عہد کرتا ہے کہ اس مفاہمتی یادداشت کے نفاذ پر ایران کے منجمد یا محدود فنڈز کو مکمل طور پر دستیاب کر دیا جائے گا۔ امریکہ اور ایران ان فنڈز کے اجرا سے متعلق طریقہ کار پر مذاکرات کے دوران باہمی اتفاق کریں گے۔
12. اس مفاہمت نامے (MoU) اور بعد کے حتمی معاہدے کے نفاذ کی نگرانی کے لیے ایک مانیٹرنگ میکانزم قائم کیا جائے گا۔
13. اس MoU پر دستخط کرنے کے بعد اور پیراگراف 1، 4، 5، 10، اور 11 کے نفاذ کے آغاز کے تابع، امریکہ اور ایران حتمی معاہدے کے بارے میں بات چیت شروع کریں گے۔
14. حتمی معاہدے کی منظوری ایک اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد کے ذریعے دی جائے گی۔

بچپن سے سنا اور یہ دیکھا ہے کہ جس روز کو عیدالفطر ہو یومِ عاشورہ محرم بھی ٹھیک اسی دن کو ہوتا تھا مگر اس بار ایسا نہیں ہ...
16/06/2026

بچپن سے سنا اور یہ دیکھا ہے کہ جس روز کو عیدالفطر ہو یومِ عاشورہ محرم بھی ٹھیک اسی دن کو ہوتا تھا مگر اس بار ایسا نہیں ہو رہا ہے 🤔 عیدالفطر ہفتے کے دن تھی اور یومِ عاشورہ محرم الحرام جمعہ کو بن رہا ہے ۔
کہاں پر غلطی ہوئی ہے؟
اس کی زمہ داری رویت ہلال کمیٹی پر ہے؟
یا اس بار کچھ الگ ہوگیا ہے کہ خدائی تقویم میں تبدیلی ہوگئی ہے؟

حق آگیا اور باطل زائل ہوگیا 🚩*نیم سرکاری ایرانی خبر رساں ادارے ’مہر نیوز‘ ایجنسی کے مطابق مجوزہ نکات کچھ یوں ہیں*لبنان س...
15/06/2026

حق آگیا اور باطل زائل ہوگیا 🚩

*نیم سرکاری ایرانی خبر رساں ادارے ’مہر نیوز‘ ایجنسی کے مطابق مجوزہ نکات کچھ یوں ہیں*

لبنان سمیت تمام محاذوں پر مستقل جنگ بندی
امریکہ کی جانب سے ایران کے داخلی معاملات میں مداخلت نہ کرنے کا عہد
امریکہ کی بحری ناکہ بندی کا خاتمہ
30 دن کے اندر ’ایرانی انتظام‘ کے تحت آبنائے ہرمز کا دوبارہ کھولا جانا
امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی جانب سے ایران کی بحالی کے لیے کم از کم 300 ارب ڈالر کے منصوبے فراہم کرنا
ایرانی تیل اور توانائی کی مصنوعات پر عائد پابندیوں کا خاتمہ
ایران کی جانب سے جوہری ہتھیار تیار نہ کرنے کے عزم کی توثیق
امریکہ کا خطے میں اپنی فوجی موجودگی میں اضافہ نہ کرنے اور ایران پر نئی پابندیاں عائد نہ کرنے کا وعدہ

*🚨بیوی، بچے بضد تھے کہ مری دیکھنا ہے‘:**🔥وین حادثے میں پانچ بچوں، اہلیہ اور والدہ کو کھونے والے ملتان کے کاشف علی کی کہا...
14/06/2026

*🚨بیوی، بچے بضد تھے کہ مری دیکھنا ہے‘:*

*🔥وین حادثے میں پانچ بچوں، اہلیہ اور والدہ کو کھونے والے ملتان کے کاشف علی کی کہانی*

بیوی اور بچوں کی ضد تھی کہ ہم نے مری دیکھنا ہے۔ میں نے اپنی بیوی کو منع بھی کیا کہ مہنگائی بہت زیادہ ہے، اتنا خرچہ کرنے کی ضرورت کیا ہے؟ لیکن بچوں کی خواہشں کے ہاتھوں مجبور ہو کر وہ بھی بضد تھی۔ اُس نے مجھ سے کہا کہ ہم نے آپ کو کبھی باہر لے جانے کا نہیں کہا مگر اب رشتہ دار بھی جا رہے ہیں، تو بچوں کی بھی خواہش ہے کہ وہ مری کی سیر کر لیں۔‘

یہ کہنا ہے جنوبی پنجاب کے شہر ملتان کے رہائشی سید کاشف علی کا، جن کی والدہ، اہلیہ اور پانچ بچے پنجاب کے معروف سیاحتی مقام مری کے قریب وین میں ہونے والی آتشزدگی کے واقعے میں جل کر جاں بحق ہوئے ہیں۔

کاشف علی کے جاں بحق ہونے والے پانچ بچوں میں تین سے 15 سال تک کی عمر کے چار بیٹے اور ایک بیٹی شامل ہیں۔

ملتان کے محلہ ’سوتری وٹ‘ کا رہائشی یہ خاندان سیر و تفریح کے لیے ملتان سے تین گاڑیوں میں روانہ ہوا تھا۔ اِن تین گاڑیوں میں سید کاشف علی کے اہلخانہ اور دیگر قریبی رشتہ دار سوار تھے۔

اُن کے مطابق اس قافلے میں شامل دو گاڑیاں اُن کے خاندان کے لوگوں کی تھیں جبکہ ایک ہائی روف گاڑی (جو حادثے کا شکار ہوئی) کرایہ پر حاصل کی گئی تھی۔ اس ہائی روف میں صرف خواتین اور بچوں کو سوار کیا گیا تھا۔

نیشنل ہائی ویز اینڈ موٹر وے پولیس کے ترجمان کے مطابق مری ایکسپریس وے پر کھجوٹ کے مقام پر یہ حادثہ اُس وقت پیش آیا تھا جب ہائی ایس وین ایک موڑ کاٹتے ہوئے سڑک کے ساتھ نالے میں اُتر گئی اور اُلٹی ہو گئی۔
ترجمان کے مطابق اس کے فوراً بعد وین میں آگ بھڑک اٹھی۔
اُن کے مطابق گاڑی اس انداز میں الٹی کہ دروازے کھولنا ممکن نہ رہا۔ گاڑی میں لگنے والی آگ پر کافی دیر بعد قابو پایا جا سکا اور حکام کے مطابق دس افراد، جن میں زیادہ تعداد بچوں کی ہے، جاں بحق ہو گئے۔ اس واقعے میں 13 افراد زخمی بھی ہوئے جن میں شامل آٹھ بچوں کی عمریں ڈیڑھ سے 13 سال کے درمیان ہے۔
ملتان میں چوک علمدار کے قریب مارکیٹ میں فروٹ کی دکان چلانے والے سید کاشف علی پانچ بچوں، بیوی اور والدہ کو کھونے کے بعد غم کی تصویر بنے ہوئے ہیں۔

بات کرتے ہوئے اُن کا کہنا تھا کہ ’مجھے پیسوں کا مسئلہ نہیں تھا، اصل میں مجھے بچے اتنی دور بھیجنے سے ڈر لگ رہا تھا۔ میں سوچ رہا تھا کہ بچے ناسمجھ ہوتے ہیں اور مری پہاڑی علاقہ ہے، کہیں کوئی چوٹ ہی نہ لگوا بیٹھیں لیکن میری بیوی نے تسلی دیتے ہوئے کہا کہ آپ کیوں دل چھوٹا کرتے ہیں، ہمارے بچے اب اتنے چھوٹے بھی نہیں۔‘
’میں نے ابتدا میں بچوں اور بیوی کی مسلسل ضد کے باوجود انھیں جانے کی اجازت نہیں دی، جس پر بچوں نے اپنی دادی کو کہا کہ ’آپ ہمارے ساتھ چلیں گی تو ابو ہمیں جانے سے نہیں روکیں گے۔‘ پھر میری والدہ نے مجھے کہا کہ ’تم پریشان نہ ہو، میں بچوں کے ساتھ چلی جاتی ہوں۔‘ میری والدہ نے کہا کہ بچے زندگی میں پہلی بار سیر کرنے مری جانا چاہتے ہیں تو انھیں مت روکو۔

کاشف علی بتاتے ہیں کہ ’جب میری والدہ کا بھی جانے کا پروگرام بن گیا، تو بچوں کی خالہ نے کہا کہ میں بھی ساتھ چلتی ہوں، یوں خالہ بھی اُن کے ساتھ مری جانے کےلئے تیار ہو گئیں۔‘

کاشف کہتے ہیں کہ ’میں نے ساری زندگی اپنی ماں کا حکم نہیں ٹالا، اب جب انھوں نے کہا کہ تم بچوں کی فکر نہ کرو، تو میں نہ چاہتے ہوئے بھی خاموش ہو گیا۔‘

اس سب کے باوجود ’میرے دل میں انجانا سا خوف موجود رہا۔ گھر سے روانہ ہونے سے پہلے میں نے بچوں کو تاکید کی کہ پہاڑی علاقے میں چڑھنے سے احتیاط کریں، کوئی اکیلا نہ گھومے بلکہ سب مل کر اکٹھے ہی سیر کرنا۔ اپنی بیوی کو بھی کہا کہ بچوں کو اپنی نظروں کے سامنے رکھے اور موبائل فون پر مجھے آگاہ کرتی رہے تاکہ تسلی رہے۔‘

کاشف کہتے ہیں کہ ’ہم نے ڈرائیور کو کہا تھا کہ مری جانے کے لیے دن کے وقت ملتان سے نکلے لیکن ڈرائیور کا کہنا تھا کہ لمبا سفر ہے، اس لیے رات کو نکلنا ہی بہتر ہے کیونکہ دن کے وقت شدید گرمی ہوتی ہے تو لمبا سفر بہتر نہیں۔ ڈرائیو نے کہا کہ صبح جب دن نکلے گا اور سورج کی تپش بڑھے گی تو ہم پہاڑی علاقے میں پہنچ چکے ہوں گے۔‘
بدھ کے روز اُن کے ایک رشتہ دار نے انھیں بتایا کہ ’کاشی بھائی ایک بُری خبر ہے، جو گاڑی مری جا رہی تھی، اس کو حادثہ پیش آ گیا۔‘
اگرچہ تین گاڑیاں گئی تھیں مگر یہ سنتے ہی ’مجھے یوں لگا جیسے میرا دل بند ہو گیا ہو، میرے دل میں پہلے ہی وسوسے چل رہے تھے۔‘
’میں نے اپنے رشتہ دار سے پوچھا کہ ’تمھیں کس نے بتایا؟‘ تو اس نے جواب دیا غلام عباس بھائی نے۔‘
غلام عباس اس قافلے کے ساتھ تھے اور اُس گاڑی میں موجود تھے جس میں مرد تھے۔
’میرے تو الفاظ ہی ختم ہو گئے ہیں۔ میری کُل کائنات میری ماں، میری بیوی اور پھول جیسے بچے سب ختم ہو گئے ہیں۔ میرے لیے یہ کسی قیامت سے کم نہیں۔

13/06/2026

نِکا ولاگر موسم کا احوال بتاتے ہوئے ۔

12/06/2026

ہنیری از آن دی وے 🤣

Address

Toba Road Near Ali Ahmad Khan Hospital
Jhang
35200

Opening Hours

Monday 00:00 - 22:59
Tuesday 11:59 - 23:59
Wednesday 11:59 - 23:59
Thursday 11:59 - 23:59
Friday 11:59 - 23:59
Saturday 11:59 - 23:59
Sunday 11:59 - 23:59

Telephone

+923312151472

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Qalandri Dera posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Qalandri Dera:

Share