Dina Jhelum News Update

Dina Jhelum News Update حق سچ نیوز

15/08/2026

جناب وزیر مملکت برائے خزانہ و ریلوے ممبر قومی اسمبلی گکھڑ برادری کی شان بلال اظہر کیانی صاحب ،سوھن جوھدہ روڈ ،اور ڈھوک ساون روڈ کی حالت زار پر توجہ فرمائیں۔

چودھری غیاث الدین مرحوم  ایک بے مثال سیاسی و سماجی شخصیتچودھری غیاث الدین مرحوم اُن عظیم سیاسی شخصیات میں سے تھے جن کی خ...
15/08/2026

چودھری غیاث الدین مرحوم ایک بے مثال سیاسی و سماجی شخصیت
چودھری غیاث الدین مرحوم اُن عظیم سیاسی شخصیات میں سے تھے جن کی خدمات اور کردار کو جتنا بھی خراجِ تحسین پیش کیا جائے کم ہے وہ نہ صرف ایک شریف النفس اور بااخلاق انسان تھے بلکہ اُن کی سیاست خدمتِ خلق محبت اور رواداری کی بہترین مثال تھی
ان کی سب سے بڑی خوبی یہ تھی کہ اُن کی نظر میں غریب اور امیر اپنے اور پرائے میں کوئی فرق نہیں تھا جو شخص بھی اُن کے پاس کسی مسئلے یا کام کے لیے آیا انہوں نے ہمیشہ اُسے عزت محبت اور خلوص دیا سیاسی مخالفت کو انہوں نے کبھی ذاتی دشمنی نہیں بننے دیا اور نہ ہی اپنے مخالفین سے بدلہ لینے کی سیاست کی
سویں یونین کونسل سے اُن کا بار بار الیکشن جیتنا محض سیاسی کامیابی نہیں بلکہ اُن کے عوامی کردار لوگوں سے محبت اور اپنے علاقے کے لوگوں کا خیال رکھنے کا عملی ثبوت تھا عوام اپنے ووٹ کے ذریعے بار بار اُن پر اعتماد کرتے رہے کیونکہ وہ اقتدار کے لیے نہیں بلکہ لوگوں کی خدمت کے لیے سیاست کرتے تھے
آج چودھری غیاث الدین مرحوم ہمارے درمیان موجود نہیں مگر اُن کی شرافت اخلاق خدمت اور عوام سے محبت ہمیشہ اُنہیں زندہ رکھے گی ایسے لوگ معاشرے کا سرمایہ ہوتے ہیں اور اُن کی جدائی ہمیشہ محسوس کی جاتی ہے
اللہ تعالیٰ چودھری غیاث الدین مرحوم کے درجاتِ بلند فرمائے اُن کی مغفرت فرمائے اور اُنہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔ آمین 🤲

قبر کی پڑی مناسب ریٹ پر چاہیے رابط کریں 0300246954903335854135
12/08/2026

قبر کی پڑی مناسب ریٹ پر چاہیے رابط کریں 03002469549
03335854135

رات کے تین بجے ایک خاتون اپنے تین بچوں سمیت ہنڈا سِوک میں لاہور سے موٹروے کے ذریعے سیالکوٹ کی طرف جارہی تھی کہ اچانک گاڑ...
11/08/2026

رات کے تین بجے ایک خاتون اپنے تین بچوں سمیت ہنڈا سِوک میں لاہور سے موٹروے کے ذریعے سیالکوٹ کی طرف جارہی تھی کہ اچانک گاڑی کا پٹرول ختم ہوگیا اور وہ بند ہوگئی۔ خاتون نے گوجرانوالہ میں اپنے ایک عزیز کو فون پر صورتِ حال بتائی، جس نے اسے کہا کہ وہ 130 ہیلپ لائن پر کال کرے۔ خاتون ابھی پٹرول کے انتظار میں کھڑی تھی کہ دو نامعلوم مسلح افراد آئے، گاڑی کا شیشہ توڑ کر اسے بچوں سمیت باہر نکالا اور جنگل میں لے گئے، جہاں دونوں نے یکے بعد دیگرے اس کا ریپ کیا۔ جاتے ہوئے وہ خاتون کا ہینڈ بیگ بھی ساتھ لے گئے، جس میں نقدی، زیورات اور تین عدد اے ٹی ایم کارڈ تھے۔

یہ 9 ستمبر 2020 کی رات تھی۔ ڈکیتی، ریپ، اقدامِ قتل اور دہشت گردی جیسی سنگین دفعات کے تحت FIR درج ہوگئی۔ جائے وقوعہ سے خون، متاثرہ خاتون کے کپڑوں سمیت دیگر شواہد اکٹھے کیے گئے۔ خاتون کا طبی معائنہ کیا گیا اور DNA تجزیے کیلئے نمونے حاصل کیے گئے۔ فرانزک لیبارٹری میں جب DNA کا تجزیہ ہوا تو ایک نمونہ ریکارڈ میں پہلے سے موجود ایک نمونے سے میچ ہوگیا۔ یہ نمونہ عابد ملہی نامی شخص کا تھا، جس کا ڈی این اے 2013 میں ایک پرانے مقدمے کے سلسلے میں محفوظ کیا گیا تھا۔ بعد ازاں جیو فینسنگ اور عابد ملہی کے کال ڈیٹا ریکارڈ کی مدد سے دوسرے ملزم شفقت عرف بگا کا سراغ بھی لگالیا گیا۔ شفقت کا DNA بھی جائے وقوعہ اور متاثرہ خاتون سے حاصل ہونے والے نمونوں سے میچ کرگیا۔

شفقت کو 14 ستمبر، جبکہ عابد ملہی کو تقریباً ایک ماہ بعد فیصل آباد کے قریب سے گرفتار کیا گیا۔ ملہی عادی مجرم نکلا، جس کیخلاف اس سے قبل بھی چوری، ڈکیتی اور ریپ کے مقدمات درج تھے۔ گرفتاری کے بعد ملزمان کی جیل میں شناخت پریڈ کروائی گئی۔ خاتون نے ڈمی افراد کی قطار میں سے دونوں ملزمان کو پہچان لیا۔

انسدادِ دہشت گردی کی عدالت میں ٹرائل چلا۔ استغاثہ کی جانب سے متاثرہ خاتون سمیت تقریباً 37 گواہان پیش کیے گئے۔ ملزمان نے صحتِ جرم سے انکار کیا اور مؤقف اختیار کیا کہ انہیں جھوٹے مقدمے میں پھنسایا گیا ہے۔ ٹرائل کورٹ کے جج ارشد حسین بھٹہ نے 20 مارچ 2021 کو جرم ثابت ہونے پر دونوں ملزمان کو سزائے موت، عمر قید اور بھاری جرمانوں کی سزائیں سنائیں۔ ملزمان نے اس فیصلے کیخلاف لاہور ہائیکورٹ میں اپیلیں دائر کردیں۔

جہاں ملزمان کے وکلاء نے دلائل دیے کہ وقوعہ رات کے اندھیرے میں پیش آیا، لہٰذا شناخت مشکوک ہے۔ مزید یہ کہ شناخت پریڈ بھی کافی تاخیر سے ہوئی۔ اکیلی متاثرہ خاتون کی گواہی کی بنیاد پر سزائے موت نہیں دی جاسکتی، جبکہ بچوں کو بھی عدالت میں بطور گواہ پیش نہیں کیا گیا۔ مقدمہ مشکوک ہے، انہیں بری کیا جائے۔

ہائیکورٹ کے دو رکنی بنچ نے گزشتہ جون میں کیس کی حتمی سماعت کی اور جسٹس طارق محمود باجوہ نے فیصلہ تحریر کیا۔

عدالت نے قرار دیا کہ ملزمان کی شناخت درست طور پر ثابت ہوئی ہے۔ متاثرہ خاتون نے جیل میں مجسٹریٹ کے سامنے ملزمان کو بلا جھجک شناخت کیا۔ ملزمان کا یہ اعتراض کہ شناخت میں تاخیر ہوئی، درست نہیں، کیونکہ ملزمان مفرور تھے اور ان کی گرفتاری کے فوراً بعد بغیر کسی غیر ضروری تاخیر کے شناخت پریڈ کروائی گئی۔ نیز جب ملزمان نے حملہ کیا تو گاڑی کی لائٹس آن تھیں اور اسی دوران ایک اور گاڑی ہائی بیم لائٹس کے ساتھ وہاں سے گزری۔ اسکی روشنی میں اور وقوعے کے طویل دورانیے میں خاتون کو ملزمان کے چہرے واضح طور پر دیکھنے اور پہچاننے کا پورا موقع ملا۔

لیڈی ڈاکٹر کی رپورٹ کے مطابق خاتون کے جسم پر زخموں اور رگڑ کے نشانات موجود تھے، جن سے واضح ہوتا ہے کہ اس کے ساتھ زبردستی کی گئی اور اس نے مزاحمت کی۔ ڈاکٹر نے بھی ریپ کی تصدیق کی۔ عابد ملہی کے طبی معائنے میں اس کی بائیں کہنی پر شیشے سے لگنے کا زخم پایا گیا، جو ثبوت تھا کہ اس نے گاڑی کا شیشہ توڑا تھا اور اسی دوران اس کا خون گاڑی پر گرا تھا۔

قانونِ شہادت کے تحت گواہوں کی تعداد نہیں بلکہ انکی گواہی کا معیار دیکھا جاتا ہے۔ زیادتی کا شکار خاتون کی گواہی اگر سچی، مضبوط اور قابلِ اعتماد ہو، اور اسے فرانزک شواہد کی تائید بھی حاصل ہو، تو اس کی اکیلی گواہی بھی ملزم کو سزا دینے کے لیے قانوناً کافی ہوسکتی ہے۔ فرانزک رپورٹ نے ثابت کیا کہ ملزمان کے ڈی این اے پروفائلز جائے وقوعہ سے ملنے والے نمونوں اور متاثرہ خاتون کے لباس سے حاصل کیے گئے نمونوں سے میچ کرتے ہیں۔

کم سن بچے کم عمری کے باعث عدالت میں گواہی دینے کے اہل نہیں تھے، لہٰذا انہیں بطور گواہ پیش نہ کیے جانے سے استغاثہ کے مقدمے پر کوئی منفی اثر نہیں پڑتا۔ ملزمان کو جھوٹا نہیں پھنسایا گیا، متاثرہ خاتون کی ملزمان سے کوئی سابقہ دشمنی نہیں تھی۔ ایک عزت دار عورت بلاوجہ اپنی اور اپنے خاندان کی عزت کو داؤ پر لگا کر کسی نامعلوم شخص پر جنسی زیادتی کا جھوٹا الزام عائد نہیں کرتی۔

تین کم سن بچوں کو جان سے مارنے کی دھمکی دے کر اغوا کرنا اور انہیں جنگل میں لے جاکر انکی مرضی کیخلاف حبسِ بے جا میں رکھنا واضح طور پر ایسے سنگین افعال ہیں جو انسدادِ دہشت گردی عدالت کے دائرۂ اختیار میں آتے ہیں۔

ملزمان نے رات کی تاریکی میں سنسان موٹروے پر پھنسی ہوئی ایک مجبور عورت اور اسکے معصوم بچوں کو اغوا کیا، بچوں کو قتل کرنے کی دھمکیاں دیں اور پھر خاتون کو گینگ ریپ کا نشانہ بنایا۔ اس انسانیت سوز جرم نے پورے معاشرے، بالخصوص خواتین میں خوف اور عدم تحفظ پیدا کیا۔ ایسے جرائم، جن میں انسانی وقار کی اس حد تک پامالی کی جائے، کسی ہمدردی یا رعایت کے مستحق نہیں۔ لہٰذا ٹرائل کورٹ کی جانب سے دی گئی سزائے موت بالکل درست ہے۔

ہائیکورٹ نے ملزمان کی اپیلیں خارج کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ کی جانب سے دی گئی تمام سزائیں برقرار رکھیں۔

از: محمد رضوان ایڈووکیٹ ہائیکورٹ، لاہور

10/08/2026
اچھا تو یہ بات ہے : بھیرہ سے پولیس ملازم کو اغ۔وا کرنے والے انعامو وینس کی سٹوری سامنے آگئی ۔۔۔ انتہائی بے خوف ہو کر ناک...
07/08/2026

اچھا تو یہ بات ہے : بھیرہ سے پولیس ملازم کو اغ۔وا کرنے والے انعامو وینس کی سٹوری سامنے آگئی ۔۔۔ انتہائی بے خوف ہو کر ناکے سے پولیس ملازم کو اغ۔وا کرنے کی ویڈیو بھی وائرل ۔۔۔ تازہ ترین تفصیلات سے پتہ چلا ہے کہ چوہدری انعام عرف انعامو وینس سرگودہا کے علاقہ سالم کا رہائشی ہے جو تھانہ پھلرواں کی حدود میں آتا ہے یہ شخص ڈ۔کیتی ، اغ۔وا ، ق۔ت۔ل اور پیسے لے کر بے گناہ لوگوں کو مارنے سمیت پولیس مقابلوں کے درجنوں مقدمات میں پولیس کو مطلوب ہے ۔ اسکا ایک بھائی بیرون ملک ہوتا ہے جو کہ اسکے ساتھ ملوث رہا اور پھر بیرون ملک بھاگ گیا لیکن اسکے ریڈوارنٹ جاری ہو چکے ہیں اور انٹرپول نے اسے پکڑ لیا ہے جلد اسے پاکستان لایا جانا متوقع ہے ،چند ماہ قبل انعامو وینس اپنے ایک ساتھی مولوی اویس کی ہلا۔کت پر بھی کافی دل گرفتہ تھا ۔ یہ کنفرم نہیں کہ مولوی اویس پولیس مقابلے میں مارا گیا یا اپنے ہی پیشہ کے لوگوں یعنی دشمنوں کا نشانہ بنا ۔ علاقہ پھلرواں سرگودہا اور بھیرہ میں خوف کی علامت بنا انعامو پولیس کی ان کارروائیوں کو دشمنی قرار دیکر ایسی حرکات پر اتر آیا ہے کیونکہ بچاؤ کا انکے پاس اب کوئی راستہ نہیں ۔۔اسکی آج پولیس کانسٹیبل اویس کو اغ۔وا کرنے کی واردات ایک مذموم کوشش ہے کہ پولیس کو بلیک ۔میل کرکے بھائی کی اور اپنی جان بچا لے ۔ انعامو وینس کی فیس بک آئی کا جائزہ لیں تو پتہ چلتا ہے کہ بدمعاشی غنڈہ گردی کے سوا اسے کوئی اور کام نہیں ، کہتے ہیں گیدڑ کی جب شامت آتی ہے تو وہ شہر کا رخ کر لیتا ہے ۔ یہی کچھ انعامو کے ساتھ ہوا ہے اس نے پولیس اوراداروں کی رٹ کو چیلنج تو کردیا ہے ، لیکن صاف نظر آرہا ہے پولیس اہلکار کا اغ۔وا اسے بہت مہنگا پڑے گا ۔۔۔ اسی کے الفاظ میں اگر پولیس کانسٹیبل کو ذرا بھی خراش آئی تو انعامو کا انجام بہت برا ہو گا ۔۔۔۔۔

میاں چنوں کی دھرتی کا پتر اکڑ گیاارشد ندیم صاحب اپنے میڈل کا دفاع نہ کرسکنے پر شرمندہ ہونے کے بجائے فرماتے ہیں"سردی بہت ...
07/08/2026

میاں چنوں کی دھرتی کا پتر اکڑ گیا
ارشد ندیم صاحب اپنے میڈل کا دفاع نہ کرسکنے پر شرمندہ ہونے کے بجائے فرماتے ہیں
"سردی بہت تھی باڈی اکڑ گئی اسلیے تھرو نہ پھینک سکا"
گولڈ سری لنکا کے رومیش بھائی لے گئے سلور پڑوسیوں کا لڑکا نیرج لے اڑا جبکا برونز بھی بھارت کے یش ویر سنگھ نے سینے پر سجایا
تینوں پوزیشنز پر ایشاء کے اتھلیٹ کھڑے دکھائی دئیے اب بندہ پوچھے سری لنکن اور بھارتی لڑکے انٹارکٹیکا رہتے ہیں کیا انکے جسم سردی میں کیوں نہ اکڑے؟؟
یہی اتھلیٹ جب کسمپرسی میں تھا تو وطن کے لیے گولڈ جیت لایا اور تو اور لمبی تھرو پھینک کر ورلڈ ریکارڈ تک بنا ڈالا تب نہ جسم اکڑا نہ گردن۔۔
جیت کر آیا تو پیسے کی ریل پیل ہوگئی گاڑیاں ملنے لگیں پریکٹس کے لیے سہولتوں کی فراوانی ہوگئی دھڑا دھڑ میڈیا پر انٹرویو دینے لگا مسئلہ یہ بھی ہے کہ ہمارے اکثر لوگ شہرت اور دولت سنبھال نہیں پاتے شودے پن پر اتر کر اپنی اصلیت اور اوقات بھول بیٹھتے ہیں پھر ایسے ہی پہلے سے نویں نمبر تک کا زوال مقدر بنتا ہے۔۔۔
کوئی ارشد ندیم تک میرا پیغام پہنچا دے کہ "دوسروں" کے زبردستی والے وژن کا بوجھ ناتواں کندھوں پر اٹھانا مشکل ہے وِیرے۔۔ جبکہ اکڑ کی اصل وجہ وہ سریا تھا جو شہرت کے بعد آپ کی گردن میں فِٹ ہوگیا تھا۔۔

بریکنگ نیوز: سرگودہا اور گردنواح میں پولیس اور ایجنسیوں کی دوڑیں ، ایک پولیس کانسٹیبل اسل۔حہ سمیت اغ۔وا ۔۔۔ اشتہاری انعا...
07/08/2026

بریکنگ نیوز: سرگودہا اور گردنواح میں پولیس اور ایجنسیوں کی دوڑیں ، ایک پولیس کانسٹیبل اسل۔حہ سمیت اغ۔وا ۔۔۔ اشتہاری انعام سالم آلہ نے خوفناک وارننگ جاری کردی ۔۔۔۔ آج وائرل ہونے والی ویڈیو میں انعام سالم والا اور اسکے ساتھیوں کے قبضے میں ایک پولیس کانسٹیبل کو دیکھا جا سکتا ہے جسکے ہاتھ پیچھے بندھے ہیں ،چوہدری انعام سالم والا نے حکام بالا پولیس کو وارننگ دی ہے کہ اسے تنگ کرنے کا سلسلہ ختم کیا جائے ، اسکے رشتہ داروں اور گھر والوں کو کچھ نہ کہا جائے اس کی دشمنداری ہے مگر دشمنوں کے ساتھ اس کا کوئی رولا نہیں ۔ اصل تنازعہ پولیس کے ساتھ ہے جو خواہ مخواہ اس سے دشمنی نکال رہی ہے ، بہت برداشت کیا مگر اب کام برداشت سے باہر ہو گیا ہے ، بقول انعام سالم والا ۔۔ میرے ایک بھائی کو پولیس انٹرپول کے ذریعے پاکستان لانے والی ہے ۔۔ اگر میں میرے رشتہ دار اور گھر والے محفوظ نہ رہے تو ایک کانسٹیبل سے لے کر آئی جی تک میں کسی کے گھر والوں بیوی بچوں کو نہیں چھوڑونگا ، میں ہر چوکی ناکے اور پولیس سٹیشن کو برباد کردونگا ہر جگہ اپنا نشان چھوڑونگا ۔۔۔ تمہارا جوان اپنے ویپن سمیت میرے پاس ہے اگر اسکی اور دوسرے اہلکارون و اعلیٰ افسران کی خیر چاہتے ہو تو مجھے اور میرے عزیزوں کا پیچھا چھوڑ دو ورنہ پھر میں تمہارے پیچھے پڑ گیا تو بڑی ٹینشن ہوگی تمہیں ۔۔۔ یاد رکھنا ابھی پارٹی شروع ہوئی ہے یہ شروع بھی میں نے کی ہے اور ختم بھی میں کرونگا تمہارے پاس ایک ہی آپشن ہے میرے ساتھ دشمنی چھوڑ دو اور مجھے یا میرے گھر والوں کو تنگ نہ کرو ورنہ موت آجائے کوئی پروا نہیں تمہیں اور تمہاری فیملیز کو سکون سے نہیں جینے دونگا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اطلاعات کے مطابق اس ویڈیو کے منظر عام پر آنے کے بعد پولیس اور متعلقہ خفیہ ادارے و سی سی ڈی حرکت میں آگئے ہیں ، اگلے 48 گھنٹے بہت اہم ہیں دعا ہے اللہ کریم مغوی پولیس اہلکار کو اپنی حفظ وامان میں رکھے sargodha ۔۔۔۔

۔۔ ضلع جہلم کے علاقے سنگھوئی میں ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا ہے جہاں گھر سے فرید نامی سپین پلٹ شخص کی لاش برآمد ہوئی۔ ذرا...
07/08/2026

۔۔ ضلع جہلم کے علاقے سنگھوئی میں ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا ہے جہاں گھر سے فرید نامی سپین پلٹ شخص کی لاش برآمد ہوئی۔ ذرائع کے مطابق کافی دیر تک گھر سے کوئی نقل و حرکت نہ ہونے پر اہل علاقہ کو تشویش ہوئی، جس پر اطلاع ملنے کے بعد متعلقہ ادارے موقع پر پہنچے اور دروازہ توڑ کر اندر داخل ہوئے تو فرید کی لاش گھر سے برآمد ہوئی۔ بتایا جاتا ہے کہ مرحوم کے دیگر اہل خانہ اس وقت سپین میں مقیم ہیں۔ پولیس نے لاش کو اپنی تحویل میں لے کر ضروری قانونی کارروائی کے بعد پوسٹ مارٹم کے لیے منتقل کر دیا ہے، جبکہ موت کی اصل وجہ جاننے کے لیے مختلف پہلوؤں سے تحقیقات جاری ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ابتدائی شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں اور پوسٹ مارٹم رپورٹ سمیت تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی واقعے کی اصل حقیقت سامنے آئے گی۔

06/08/2026

پنجاب حکومت کا اہم اقدام
اشٹام فروشوں کی اجارہ داری ختم
؛
اب آپ وکلاء سمیت ہر شخص آن لائن اشامپ پیپر ڈاؤں لوڈ کرسکتا ہیں
📌 پنجاب ای اسٹمپ پیپر آن لائن حاصل کرنے کا مکمل طریقہ کار (Step by Step Guide)

اگر آپ گھر بیٹھے ای اسٹمپ پیپر حاصل کرنا چاہتے ہیں تو درج ذیل مراحل پر عمل کریں:

✅ مرحلہ 1:
Punjab e-Stamping System کی ویب سائٹ پر جائیں۔

✅ مرحلہ 2:
اپنا موبائل نمبر درج کر کے OTP کے ذریعے تصدیق (Verification) مکمل کریں۔

✅ مرحلہ 3:
اسٹمپ پیپر کی نوعیت (مثلاً اقرار نامہ، کرایہ نامہ، حلف نامہ، شراکت نامہ، پاور آف اٹارنی وغیرہ) منتخب کریں۔

✅ مرحلہ 4:
خریدار اور متعلقہ فریقین کی معلومات درج کریں، جیسے نام، شناختی کارڈ نمبر اور پتہ۔

✅ مرحلہ 5:
اسٹمپ ڈیوٹی کی رقم درج کریں اور سسٹم سے Payment Slip Identification (P*S) حاصل کریں۔

✅ مرحلہ 6:
P*S کے ذریعے مقررہ رقم بینک، ATM، موبائل بینکنگ، ایزی پیسہ یا جاز کیش کے ذریعے جمع کروائیں۔

✅ مرحلہ 7:
ادائیگی کی تصدیق کے بعد سسٹم سے ای اسٹمپ پیپر ڈاؤن لوڈ کریں۔

✅ مرحلہ 8:
ڈاؤن لوڈ شدہ ای اسٹمپ پیپر کا پرنٹ نکالیں اور مطلوبہ قانونی دستاویز کے ساتھ استعمال کریں۔

⚖️ اہم نوٹ:
✔️ ای اسٹمپ پیپر پر موجود یونیک نمبر اور QR کوڈ کے ذریعے اس کی تصدیق کی جا سکتی ہے۔
✔️ معلومات درج کرتے وقت شناختی کارڈ نمبر، نام اور اسٹمپ کی نوعیت احتیاط سے درج کریں۔
✔️ غلط اندراج کی صورت میں بعد میں مسائل پیدا ہو سکتے ہیں

Address

Jhelum
0544

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Dina Jhelum News Update posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Dina Jhelum News Update:

Shortcuts

Share