Book Corner

Book Corner Book Corner | Standard House of Publishing All Kinds of Books in Urdu, Arabic & English !!
(1626)

bookcorner.shop/book/Saif-ul-Maluk
19/08/2026

bookcorner.shop/book/Saif-ul-Maluk

پاکستان کے معروف شاعر انور مسعود نے پنجاب کے معروف صوفی شاعر میاں محمد بخش کی شہرۂ آفاق تصنیف ’سیف الملوک‘ کے 10 ہزار اشعار کا اردو ترجمہ کیا ہے۔ میاں محمد بخش کی ’سی....

📑 بُک کارنر سے تازہ ترین!!!🍂 سال کے اہم ترین ناول پر گُفتگو💥 تقریب پذیرائی: بند دروازوں کا شہر✍ ناول نگار: شفقت نغمی✨ مہ...
19/08/2026

📑 بُک کارنر سے تازہ ترین!!!

🍂 سال کے اہم ترین ناول پر گُفتگو
💥 تقریب پذیرائی: بند دروازوں کا شہر
✍ ناول نگار: شفقت نغمی

✨ مہمانِ خصوصی: اصغر ندیم سیّد
✨ اظہارِ خیال: محمّد حمید شاہد
✨ میزبان: گگن شاہد

🗓 22 اگست بروز ہفتہ
⏰ دوپہر 01:00 بجے
📹 فیس بُک لائیو | ہمارے ساتھ جُڑے رہیے

📍 بُک کارنر شورُوم جہلم سے براہِ راست

To celebrate the legendary Gulzar SahibBook Corner brings you exclusive discounts on his books.
18/08/2026

To celebrate the legendary Gulzar Sahib
Book Corner brings you exclusive discounts on his books.

Book Categories | GULZAR | Book Corner Showroom Jhelum Online Books Pakistan | Today a Reader - Tomorrow a Leader

Celebrating 92 Years of Gulzar Sahib ✨Happy Birthday, Gulzar Sahib! 🌿📖92 years of a life woven with poetry, literature, ...
18/08/2026

Celebrating 92 Years of Gulzar Sahib ✨
Happy Birthday, Gulzar Sahib! 🌿📖

92 years of a life woven with poetry, literature, cinema, and timeless words.

To celebrate the legendary Gulzar Sahib,
Book Corner brings you exclusive discounts on his books.

Discover his poetry.
Revisit his words.
Bring a piece of his timeless world to your bookshelf.

Exclusive Birthday Offer — Only at Book Corner

Book Categories | GULZAR | Book Corner Showroom Jhelum Online Books Pakistan | Today a Reader - Tomorrow a Leader

George Eliot’s timeless masterpiece Middlemarch is coming soon in Urdu.Translated by Yaqoob YawarPublished by Book Corne...
17/08/2026

George Eliot’s timeless masterpiece Middlemarch is coming soon in Urdu.

Translated by Yaqoob Yawar
Published by Book Corner

پھر جانے کا دن آ گیا۔ ساحل پر اتنے لوگ تھے کہ ریت نظر نہیں آتی تھی۔ کسی نے پورے سندھ کے اندر سے خوف کو کھینچ کر ایک جگ...
17/08/2026

پھر جانے کا دن آ گیا۔ ساحل پر اتنے لوگ تھے کہ ریت نظر نہیں آتی تھی۔ کسی نے پورے سندھ کے اندر سے خوف کو کھینچ کر ایک جگہ ڈھیر کر دیا تھا۔ ان میں ساری ذاتیں تھیں — موہانا، کھارا، ڈانگرا، کولہی، بھیل، باگڑی، چانڈیو، بھرگڑی، پلیجو۔ اور بہت ساری دوسری۔ مردوں کے ساتھ عورتیں بھی تھیں، بچّے بھی اور بزرگ بھی۔ بچّے جن میں سے بہتیرے پہلی بار سمندر دیکھ رہے تھے۔ بوڑھے جنھوں نے کبھی اپنا گوٹھ نہیں چھوڑا تھا۔ عورتوں کے سروں پر گٹھڑیاں تھیں — وہ گٹھڑیاں جو تب باندھی جاتی ہیں جب گھر میں رہنا گھر چھوڑنے سے زیادہ خوفناک ہو جائے۔ کوئی اپنے ساتھ چارپائی کی رسی لے آیا تھا، کوئی ماں کی بچھائی ہوئی چادر کا ٹکڑا، کوئی قرآن کا چھوٹا سا نسخہ، کوئی مندر کی پُرانی گھنٹی۔ ایک بڑھیا نے مٹّی کی ہانڈی اپنے سینے سے لگا رکھی تھی۔

(شفقت نغمی کے ناول "بند دروازوں کا شہر" سے اقتباس)

ڈرائیور نے مُڑ کر کہا، ’’میرے ابّا 1947ء میں کراچی آئے تھے۔ ٹرین سے۔ کہتے تھے کہ ٹرین میں سو لوگ تھے۔ سب کے سب خواب لے ...
16/08/2026

ڈرائیور نے مُڑ کر کہا، ’’میرے ابّا 1947ء میں کراچی آئے تھے۔ ٹرین سے۔ کہتے تھے کہ ٹرین میں سو لوگ تھے۔ سب کے سب خواب لے کر آئے تھے۔ ابّا کہتے تھے کہ خواب ٹرین میں رہ گئے۔ اُترتے وقت کوئی ساتھ نہیں لا سکا۔‘‘

📓 بند دروازوں کا شہر (ناول)
✍️🏻 مصنّف: شفقت نغمی

شفقت نغمی کے ناول کی زمین اندرونِ سندھ کے اُس گوٹھ کی کہانی ہے جہاں ظلم اتنا پُرانا ہو چکا ہے کہ لوگ اسے قسمت سمجھتے ہیں...
16/08/2026

شفقت نغمی کے ناول کی زمین اندرونِ سندھ کے اُس گوٹھ کی کہانی ہے جہاں ظلم اتنا پُرانا ہو چکا ہے کہ لوگ اسے قسمت سمجھتے ہیں۔ اس خاموشی میں سائیں چریا آتا ہے اور ایک نوجوان رحیم کے ذہن میں وہ سوال ڈال دیتا ہے جو ہر زمانے میں پوچھا گیا: جب ایک آدمی سچ کے لیے اُٹھے تو دنیا اس کے ساتھ کیا کرتی ہے؟ ناول کا دوسرا مرکزی کردار ماروی ہے جو ایک جانب شاہ عبداللطیف بھٹائی کی تخلیق ہے تو دوسری جانب مریم مجدلیہ، جو مسیحی روایات کے مطابق صلیب کے نیچے کھڑی رہی اور جس نے سب سے پہلے گواہی دی کہ کہانی ختم نہیں ہوئی۔

شفقت نغمی کے اس ناول میں محبتیں اپنی نرمی کے ساتھ موجود ہیں تو منافرتیں اپنی غیر مرئی شدّت کے ساتھ، عقیدے اور عقیدت ایک دوسرے میں الجھ کر نئی معنویت پیدا کرتے ہیں، اور طبقاتی الجھنیں انسان کے فیصلوں کو غیر محسوس طور پر بدل دیتی ہیں۔ اس کے کرداروں کی زندگیاں سیدھی راہوں پر نہیں چلتیں، بلکہ انسانی نفسیات کی پُرپیچ راہداریوں میں بھٹکتی ہیں، جہاں ہر انتخاب ایک نئی الجھن کو جنم دیتا ہے۔ قاری کو آہستہ آہستہ احساس ہوتا ہے کہ یہ کہانی صرف چند افراد کی نہیں، بلکہ خواہش اور حقیقت کے درمیان پھیلے اس وسیع انسانی تجربے کی ہے جو حیرت بھی پیدا کرتا ہے اور تجسّس بھی اور آخری سطر تک اپنے اسرار کو پوری طرح آشکار نہیں ہونے دیتا۔

شفقت نغمی رحیم اور ماروی کی جدّوجہد کو اس طرح بیان کرتے ہیں کہ حقیقت اور خواب کے درمیان کی سرحد دھندلی ہونے لگتی ہے۔ کردار اپنے اندر ایسے سوال اٹھاتے ہیں جو صرف ان کے نہیں بلکہ ہر اس انسان کے ہیں جو اپنے دل کی پُکار اور زندگی کی ناگزیر شرطوں کے درمیان معلّق رہتا ہے۔ ’’سات جنم‘‘ کے خالق کا یہ ناول بھی اسی طرح قاری کو اپنی گرفت میں لے لیتا ہے جیسے کسی پُرانے قصّے کی بازگشت، جو دیر تک دل میں سنائی دیتی رہتی ہے۔

✍ محمّد حفیظ خان

تجربہ، شدّت اور تفہیم شفقت نغمی کی تحریر کا خاصّہ ہے۔ حال اور ماضی کی جڑت، تاریخ اور سماج کے نازک موضوعات کا بیان، بلکہ ...
16/08/2026

تجربہ، شدّت اور تفہیم شفقت نغمی کی تحریر کا خاصّہ ہے۔ حال اور ماضی کی جڑت، تاریخ اور سماج کے نازک موضوعات کا بیان، بلکہ نازک بیانی، کرافٹ کا کساؤ، واقعات کی بُنت کا کمال، ایک طویل دورانیے کے سیاہ و سفید دھاگوں کا تانا بانا کہ سیاہ رنگ بھی روشنائی کی تاب دینے لگے — کسی حرف جولاہے کی یہی ہنرمندی ہوتی ہے۔

ادب میں مقابلہ یا موازنہ انتہائی بےکار عمل ہے، کیونکہ ہر لکھنے والا اپنے ماحول کی مجبوری میں اپنی اور اپنے سماج کی اخلاقیات کو رقم کر رہا ہوتا ہے۔ مجھے الکیمسٹ میں ہر ہر جملہ اور لفظ جکڑ لیتا تھا۔ گہرائیاں اور سوچ کی پرتیں ٹھہر ٹھہر، سہج سہج، رُک رُک کر کھلیں کہ ہر لفظ ہر جملے کے روشن دان پوری طرح وا ہو سکیں، اور اس کو پڑھنے والا وہ نہ رہے جو وہ پڑھنے سے پہلے تھا۔ میرے خیال میں اس ناول کو بھی ایسی ہی قراَت کی ضرورت ہے۔ ہر جملہ ایک روشن دلیل، ایک قولِ زریں، گہری فکر کی بالیدگی ہے کہ کوئی جملہ بھی حذف کر کے پڑھنا ممکن نہ رہے۔

کہانیاں یا موضوعات نئے نہیں ہوتے۔ نیا وہ اندازِ بیاں ہوتا ہے جو پُرانی کتھا کو اپنا بنا لیتا ہے۔ شفقت نغمی کی تحریر بھی کہانی کو اپنا بنا لینے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ مصنف کی تحریر مٹھی میں بند جگنوؤں کی مانند ہے جو اندھیرے اجالے کے ہر روپ میں اپنی الگ چمک دیتا ہے۔

✍ طاہرہ اقبال

Address

Opposite Iqbal Library, Iqbal Library Road, Book Street
Jhelum
49600

Opening Hours

Monday 10:00 - 20:00
Tuesday 10:00 - 20:00
Wednesday 10:00 - 20:00
Thursday 10:00 - 20:00
Friday 10:00 - 13:00
Saturday 10:00 - 20:00
Sunday 10:00 - 20:00

Telephone

+923144440882

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Book Corner posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Book Corner:

Shortcuts

Share

Category