17/01/2024
***********.... وَطُورِ سِينِينَ .........****************
*طور عربی میں پہاڑ کو کہتے ہیں۔ "الطور" سے مراد وہ خاص پہاڑ ہے جہاں حضرت موسی علیہ الصلوۃ والسلام پر تورات نازل ہوئی۔ عام روایت کے مطابق یہ پہاڑ سینا کے عین بیچ میں واقع ہے اور جبل موسی کہلاتا ہے۔
خلیج سویز کے مغربی جانب مصر کا مین لینڈ واقع ہے۔ شمال میں سینا، مشرق میں اسرائیل اور مغرب میں مصر کے مین لینڈ سے متصل ہے۔ اس کے شمال میں بحیرہ روم واقع ہے۔ سینا میں ہی کوہ طور واقع ہے جہاں حضرت موسی علیہ الصلوۃ والسلام کو اللہ تعالی سے ہم کلام ہونے کا شرف حاصل ہوا۔
اس پہاڑ کے دامن میں تیسری صدی میں ایک کلیسا بھی تعمیر کیا گیا جو "سینٹ کیتھرین کا کلیسا" کہلاتا ہے۔ اسی مناسبت سے یہاں موجود قصبے کا نام بھی "سینٹ کیتھرین" ہے۔ کوہ طور کی اصل لوکیشن کے بارے میں بعض عیسائی اہل علم کا خیال یہ ہے کہ یہ سعودی عرب کے شمالی علاقے میں واقع ہے اور "جبل لوز" کہلاتا ہے۔ ان کے نقطہ نظر کے مطابق بنی اسرائیل کے لئے سمندر "نویبع" کے مقام پر شق ہوا تھا۔ اہل کتاب اور مسلمانوں کے مذہبی علماء اور ماہرین آثار قدیمہ کی اکثریت اس بات پر متفق ہے سینا میں واقع پہاڑ "جبل موسی" ہی اصل کوہ طور ہے۔
*حضرت یوسف علیہ الصلوۃ والسلام کے چار سو سال کے بعد اللہ تعالی نے حضرت موسی علیہ الصلوۃ والسلام کو بنی اسرائیل میں مبعوث فرمایا۔ آپ کی پیدائش سے قبل بنی اسرائیل پر ایسا وقت بھی آیا کہ فرعون نے ان کی قوت ختم کرنے کے لئے ان کے نوزائیدہ بچوں کو قتل کرنے اور بچیوں کو اپنی خدمت کے لئے زندہ رکھنے کا حکم دیا۔ حضرت موسی علیہ الصلوۃ والسلام بھی شاید اسی حکم کی پاداش میں قتل کئے جاتے لیکن اللہ تعالی نے آپ کو بچا لیا اور ایسے حالات پیدا کئے کہ فرعون نے خود آپ کو گود لے کر آپ کی پرورش کی۔ اس زمانے میں مصر کا دارالحکومت میمفس سے تھیبس (Thebes) منتقل کر دیا گیا تھا۔ یہ وہی مقام ہے جہاں آج "الاقصر (Luxor)" کا تاریخی شہر ہے۔
جوانی میں حضرت موسی علیہ الصلوۃ والسلام سے نادانستہ طور پر ایک مصری قتل ہو گیا جو کہ ایک اسرائیلی پر ظلم کر رہا تھا۔ خطرہ محسوس کر کے آپ مصر سے مدین تشریف لے گئے۔ یہ علاقہ موجودہ عقبہ کے قریب ہی واقع تھا۔ یہاں آپ کی ملاقات حضرت شعیب علیہ الصلوۃ والسلام سے ہوئی۔ آپ نے ان کے ہاں ملازمت کر لی۔ کئی برس کے بعد حضرت شعیب علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنی بیٹی صفورا کا نکاح آپ سے کر دیا اور آپ مصر واپس آئے۔
راستے میں آپ کا گزر صحرائے سینا کے اس مقام سے ہوا جہاں ہم اس وقت موجود تھے، یہیں آپ کو جنگل میں ایک روشنی نظر آئی۔ آپ کی زوجہ اس وقت حمل سے تھیں جس کا وقت قریب ہی تھا۔ آپ سمجھے کہ شاید یہ آگ ہے۔ آپ اپنی زوجہ کے لئے آگ لینے جنگل میں گئے تو اللہ تعالی آپ سے ہم کلام ہوا اور آپ کو نبوت عطا ہوئی۔ آپ کو اللہ تعالی نے حکم دیا کہ آپ فرعون کے دربار میں جا کر اس کو اللہ کے دین کی دعوت دیں۔ آپ نے ایک مددگار طلب کیا جس پر آپ کا مددگار آپ کے بھائی حضرت ہارون علیہ الصلوۃ والسلام کو مقرر کیا گیا۔
دس احکام (Ten Commandments)
اللہ تعالی کا منصوبہ یہ تھا کہ دنیا میں حق کے علمبرداروں کا ایک ایسا گروہ تیار کر دیا جائے جو اخلاقی اور تمدنی اعتبار سے دنیا سے ممتاز ہو۔ اس گروہ کو دنیا میں جزا و سزا کا نمونہ بنا دیا جائے۔ ان کی انفرادی اور اجتماعی زندگیوں کو اللہ تعالی کے احکام کے مطابق گزارنے کے لئے اللہ تعالی نے قانون دینے کا فیصلہ کیا۔ اس کے لئے حضرت موسی علیہ الصلوۃ والسلام کو کوہ طور پر طلب کیا گیا۔ یہاں اللہ تعالی نے آپ کو تورات عطا فرمائی جو صدیوں سے بنی اسرائیل کے قانون کا ماخذ ہے۔ اس کے دس احکام (Ten Commandments) بہت مشہور ہیں:
1. میرے حضور تم غیر معبودوں کو نہ ماننا۔
2. تم کسی بھی چیز کی صورت کا خواہ وہ اوپر آسمانوں میں یا نیچے زمین پر یا پانیوں میں ہو، بت نہ بنانا۔
3. تم خداوند اپنے خدا کا نام بری نیت سے نہ لینا کیونکہ جو اس کا نام بری نیت سے لے گا، خدا اسے بے گناہ نہ ٹھہرائے گا۔
4. سبت (ہفتے) کے دن کو یاد سے پاک رکھنا۔ چھ دن تم محنت سے کام کرنا لیکن ساتواں دن خداوند تمہارے خدا کا سبت ہے۔ اس دن نہ تو تم کوئی کام کرنا اور نہ ہی تمہارا بیٹا یا بیٹی، نوکر یا نوکرانی، تمہارے چوپائے اور تمہارے پاس مقیم مسافر کوئی کام کریں۔
5. اپنے باپ اور ماں کی عزت کرنا تاکہ تمہاری عمر اس ملک میں جو خداوند تمہارا خدا تمہیں دیتا ہے، دراز ہو۔
6. تم (کسی کا) خون نہ کرنا۔
7. تم زنا نہ کرنا۔
8. تم چوری نہ کرنا۔
9. تم اپنے پڑوسی کے خلاف جھوٹی گواہی نہ دینا۔
10. تم اپنے پڑوسی کے گھر کا لالچ نہ کرنا۔ تم اپنے پڑوسی کی بیوی (کے حصول) کا لالچ نہ کرنا اور نہ ہی اس کے غلام یا کنیز کا، نہ اس کے بیل یا گدھے کا اور نہ ہی کسی اور چیز کا۔ (کتاب خروج 20:3-17)