world wide everything

world wide everything strongly supporter off Islam Pakistan

08/03/2026

اصل میں لوگوں کے ذہن میں بیوہ اور یتیم بچوں کا تصور روتے دھوتے گلیوں سے کوڑا چنتے ہوٹل کے برتن دھوتے صدقہ خیرات فطرانہ زکواۃ لیتے ہوئے آتے ہیں۔

شوہر کےمرنے کے بعد سسرال کی مار کھاتے بلکہ تیزاب پیتے جلتے ہوئے،

بے نظیر انکم سپورٹ اور سستا آٹا سستی چینی کی لائن میں لگے ہوئے ۔۔۔لوگ یہی سوچتے ہیں بیوہ یتیم ایسے ہوتے ہیں ۔
پھٹے کپڑے برے حال گندے گھر

میرے بہنوئی آرمی میں تھے اور میرا رشتہ بھی زبردستی انھوں نے ہی کروایا تھا۔۔
جب میرے شوہر فوت ہوئے ان کو کہا گیا کہ میرے شوہر کے بھائی سے زمین و جائیداد کا حساب وہ لیکر دے۔۔۔

کیونکہ وہ تو دے نہیں رہا تھا ۔۔

تب میرے بہنوئی نے مجھے کہا تھا کہ تم چپ چاپ ان کے برتن دھو کر بچے پال لو ۔

بیوہ عورتیں ایسے ہی کرتی ہیں ۔۔

ابا جی میرے فوت ہوچکے تھے۔۔بھائی اپنے گھر بار کے تھے ۔

تب میں نے بیڑہ اٹھایا پہلے پہل کچھ سمجھ نہیں آیا اجنبی دیس چھوٹے بچے جوان عورت ۔

چک میں رہتے تھے۔۔۔شہر میں عدالتیں تھیں ۔

پہلے پہل گاؤں کے نمبردار کو کہا سال تک رلتے رہے ۔

کچھ نہ ہوا ۔۔
نہ کسی رشتے دار نے کچھ کیا نہ نمبر دار نے۔

تب میں نے وہی سوچا۔

کہ ڈنڈا پیر۔۔

سو سر پہ باندھا کفن
اور بسم اللہ کرکے عدالت جا پہنچی ۔۔

اور پھر جو سہا جو بھگتا جو ہواوہ میں میرے بچے جانتے ہیں ۔۔سحری کے وقت جاگ کر صبح آٹھ بجے پیشی پہ پیش ہونا۔۔
ایک چیز کا کیس نہیں تھا۔۔پلاٹ پہ قبضہ،ڈیرے میں حصہ، پولٹری فارم پہ قبضہ ، مکان کا کیس زمین کا۔۔

افففففففففففف

بھگتے میں نے ۔۔
سڑکوں پہ رلے ہم۔۔۔تن تنہا۔۔۔

اور پھر تھوڑا سہی لیکر ہی آئی۔۔
زمین بھی اس نے اور جگہ بکنے نہ دی ۔۔خود ہی لی اونے پونے ۔۔

مجھے بس میرے بچے سلامت چاہیے تھے اور بچوں کی چھت بنانی تھی۔

الحمدللہ رب العالمین

۔۔۔۔۔۔۔
میرے دیور نے میری زمین پہ پانی لگالیا تب تھانے گئے تو دیور صاحب نے تھانے دار کو کہا

"اس نے عدالتوں میں جاکر مجھ سے زمین لی ہے"

ایس ایچ او جناب آصف صاحب آج بھی یاد ہیں خدا ان کو جزا دے کہنے لگے۔۔

" تم نے اسے پہنچایا تو یہ گئی عدالتوں میں ، ورنہ کیوں جاتی۔۔یہ پڑھی لکھی بچی تم نے رول دی ہے ۔شرم کرو تمہاری بیٹی جیسی ہے۔"

میرا شیث تین سال کا تھا تب میرے پاس بیٹھا تھا ۔۔
تھانے دار کہتا یہ تمہارا مرے ہوئے بھائی کا اکلوتا بیٹا ہے ۔اس کا حق کھارہے ہو۔۔

اور جب تھانے دار نے کہا کہ اسے حوالات میں ڈالو ۔۔۔میں نے کہا ۔۔۔نہیں ۔۔۔میرے بچوں کا چچا ہے ۔حوالاتیں مت ڈالو ۔۔

آصف صاحب کہتے ۔
"چڑیا جیسا دل ہے آپکا۔۔۔مت کرو کیس پھر۔۔جاؤ گھر"

میں نے کہا میں صرف اپنے بچوں کا حق چاہتی ہوں۔۔۔کسی کو سزا نہیں دینا چاہتی۔۔

تب ایس ایچ او نے کہا کہ اس کی جگہ کوئی اور ہوتی تم جیل میں ہوتے۔۔۔اور مجھے بھی کہا کہ ہہ تمہیں جیل میں ڈال دیتا اگر تم ایسا کرتی۔۔

بس وہ ایس ایچ او یاد ہیں ۔۔

اللہ تعالیٰ ہمیشہ ان کو خوش رکھے۔۔

دو گھنٹے سفر کرکے وہاں جاتی تھی۔۔سارا دن بچوں کے ساتھ بیٹھی رہتی ۔جناب دیور جی آتے ہی نا ۔

خیر اب تو تعریف کرتا ہے کہ بچوں کی تربیت تم نے بہترین کردی ہے۔۔اور ہماری عزت بھی سنبھال لی ہے۔۔

سب کہتے تھے یہ گاؤں سے نکل نہیں سکے گی۔۔۔
الحمدللہ میں نے بچوں کو دوسرے درجے کا شہری بناکر کسی کے گھر نا رکھا۔۔
سگے بھائیوں کے گھر نہ رکھا۔۔۔
اللہ تعالیٰ نے اتنا ساتھ دیا کہ اپنے بچوں کی خودداری مجروح نہ ہونے دی ۔

۔۔۔۔۔

اصل میں لوگوں کے ذہن میں بیوہ اور یتیم بچوں کا تصور روتے دھوتے گلیوں سے کوڑا چنتے ہوٹل کے برتن دھوتے صدقہ خیرات فطرانہ زکواۃ لیتے ہوئے آتے ہیں۔

شوہر کےمرنے کے بعد سسرال کی مار کھاتے بلکہ تیزاب پیتے جلتے ہوئے،

بے نظیر انکم سپورٹ اور سستا آٹا سستی چینی کی لائن میں لگے ہوئے لوگ یہی سوچتے ہیں بیوہ یتیم ایسے ہوتے ہیں ۔

غیور ،ایجوکیٹڈ اپنا حق لیتی ہوئی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اعتماد سے بات کرتی ہوئی عورت ان کے حلق میں پھنس جاتی ہے ۔
آنکھوں میں چبھتی ہے

یہ ہے میرے پیارے وطن کا ہال.......😥😥😥😥😥😥😥

07/03/2026

جو 150 روپے والے پٹرول کو سستا کرنے آئے تھے آج اس حکومت نے پٹرول کو 321 روپے کر دیا۔۔ اور کیا الفاظ استعمال کریں بس اتنا ہی کافی ہے اگر عوام کی یادداشت ٹھیک ہو تو.......

05/03/2026

پاکستان میں انٹرنیٹ سروس کی موجودہ صورتحال انتہائی تشویشناک ہے۔ عوام مہنگے ترین پیکجز خریدنے پر مجبور ہیں مگر اس کے بدلے میں معیاری سروس فراہم نہیں کی جا رہی۔ بار بار سروس ڈاؤن ہونا، رفتار کا کم ہونا اور بغیر اطلاع نیٹ ورک کا متاثر ہونا معمول بن چکا ہے۔
سوال یہ ہے کہ عوام سے وصول کیے گئے اربوں روپے کا احتساب کون کرے گا؟ کیا صارفین کو معیاری سروس مانگنے کا حق نہیں؟ اگر روزانہ کی بنیاد پر پیکجز مہنگے کیے جا سکتے ہیں تو سروس کو بہتر کیوں نہیں بنایا جا سکتا؟
متعلقہ اداروں خصوصاً PTA اور سروس فراہم کرنے والی کمپنیوں کو سنجیدگی سے اس مسئلے کا نوٹس لینا چاہیے۔ عوام کو بہتر اور مستحکم انٹرنیٹ سروس فراہم کرنا ان کی ذمہ داری ہے۔
ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ شفاف احتساب کیا جائے اور سروس کے معیار کو فوری طور پر بہتر بنایا جائے۔
خلیل کشش

03/03/2026

world wide everything Yasir Star Yasir Ali.1919 Everyone Products Yasir Ali Sargodha

09/02/2026

world wide everything

پتہ نہیں اب یہ کیا کیا بیچیں گے اور اب ہماری عوام کے لیے کچھ بچے گا بھی یا نہیں؟؟؟ ゚viralシ                              ...
29/12/2025

پتہ نہیں اب یہ کیا کیا بیچیں گے اور اب ہماری عوام کے لیے کچھ بچے گا بھی یا نہیں؟؟؟

゚viralシ world wide everything Yasir Ali Sargodha

25/12/2025

گھڑی بیچ کر جو ملک ڈوب رہا تھا اب جہاز بیچ کر اس ملک کے اڑان بھرنے کا وقت آ گیا ہے۔

????????. اپ کی رائے
21/12/2025

????????. اپ کی رائے

21/12/2025

اس بارے میں اپ کی کیا رائے ہے ؟؟؟

゚viralシ world wide everything

20/12/2025

Please like share support and follow my page

゚viralシ world wide everything

Address

Kamalia
36350

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when world wide everything posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share