Muhammad Saeed

Muhammad Saeed Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Muhammad Saeed, Digital creator, Nawabshah, Karachi Lines.
(1)

فرخ کھوکھر کے مظالم کی خوفناک داستان : کھوکھر ہاؤس میں فرخ کھوکھر کی اہلیہ رمشا کی پراسرار موت کی کہانی کیا تھی؟اکتوبر 2...
15/07/2026

فرخ کھوکھر کے مظالم کی خوفناک داستان : کھوکھر ہاؤس میں فرخ کھوکھر کی اہلیہ رمشا کی پراسرار موت کی کہانی کیا تھی؟اکتوبر 2023 میں رمشا کھوکھر اپنے گھر میں مردہ پائی گئیں انکے گلے میں دوپٹہ تھا اوروہ پنکھے سے لٹکی ہوئی تھی ۔پولیس نے رمشا کے بھائی عمر کھوکھر کی مدعیت میں تاجی کھوکھر کے بیٹے فرخ امتیازکھوکھر اور اس کے بھائی ثمر امتیازکھوکھر کے خلاف مقدمہ درج کرلیا، تھانہ ائرپورٹ کو علی رضاکھوکھر نے بتایا تھا کہ میری بہن رمشا کو شوہر فرخ امیتازکھوکھر ق۔ت۔ل کرنے کی د۔ھمکیاں دیتاتھا ،پانچ دن پہلے مجھے اور میرے والد کو رمشہ نے بتایاکہ فرخ نے کہاہے کہ میں آپ کوجان سے ماردوں گا،جس سے میری ہمشیرہ بہت خوف زدہ تھی ،تین دن قبل ہمیں چچی سلمیٰ نے بتایا کہ فرخ نے رات کے وقت رمشا کوبرابھلا کہا اور گا۔لیاں دیں ،مجھے اتوارکی صبح 7بج کر 9منٹ پر کال آئی کہ رمشا پنکھے کے ساتھ لٹکی ہوئی ہے میں اور عمر امتیاز دوڑ کر فرخ امتیازکے گھرپہنچے تومیری بہن پنکھے کے لٹکی ہوئی تھی جس کے گلے میں دوپٹے کاپھندہ تھا ، میری بہن رمشا کو میرے بہنوئی فرخ امتیازنے گلے میں پھنداڈال کرق۔ت۔ل کیا اور پنکھے کے ساتھ لٹکاکر ڈرامہ رچایاہے ،پھر کچھ دیر بعد آج 7 بج کر 47منٹ پر فرخ امتیاز نے اپنے نمبر سے وٹس ایپ پرکال کی اور مجھے کہااب آپ کی باری ہے ،دعویدار ہوں قانونی کارروائی کی جائے ،پولیس نے مق۔تولہ کی لا۔ش ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹرہسپتال میں پوسٹ ۔مار۔ٹم کرانے کے بعد ورثاکے حوالے کردی ۔رمشا کی ماں اور ایک بہن اپنے خاوند اور بیٹی سمیت بھی قبل ازیں ق۔ت۔ل ہوچکے ہیں ،کھوکھر ہاؤس میں جان کی بازی ہارنے والی رمشا دختر محمدرضاکھوکھر کی والدہ اور فرخ کھوکھر کی ساس اور چچی زاہدہ پروین کھوکھرکو9مئی 2010کو کھوکھر ہاؤس میں فا۔ئیرنگ کرکے موت کے گھات اتار دیا گیا تھا، 16سال قبل اس بہیمانہ ق۔ت۔ل کی ایف آئی آر فرخ کھوکھر کے خلاف تھانہ ائرپورٹ میں مق۔تولہ کے بیٹے علی رضاکی مدعیت میں درج کی گئی تھی ،بعدازاں میبنہ طور پر مدعی اور اس کے والدپردباؤڈال کر راضی نامہ کرکے کیس ختم کرادیاگیا، اس سے قبل رمشا کی ایک بہن نے اپنے سکول فیلوعثمان کے ساتھ پسند کی شادی کرلی تھی جن کوجنوری 2010 میں اغ۔واکرکے ان کی ایک شیرخواربچی کے ہمراہ موت کے گھاٹ اتاردیاگیا،لڑکے کی ماں مقصودہ بی بی نے سپریم کورٹ میں انصاف کی فراہمی کے لئے درخواست دی لیکن بعدازاں وہ بھی لاپتہ ہوگئی۔

جب دشمنی ہو جاتی ہے تو شروع میں لگتا ہے کہ ہم مضبوط ہیں، ہم صحیح ہیں۔لیکن وقت کے ساتھ اصل حقیقت سامنے آتی ہے۔کبھی باپ مر...
13/07/2026

جب دشمنی ہو جاتی ہے تو شروع میں لگتا ہے کہ ہم مضبوط ہیں، ہم صحیح ہیں۔
لیکن وقت کے ساتھ اصل حقیقت سامنے آتی ہے۔
کبھی باپ مر جاتا ہے، کبھی بھائی چلا جاتا ہے، کبھی کزن، اور آخر میں صرف پچھتاوا رہ جاتا ہے۔
دشمنی کسی ایک کو نہیں جلاتی، یہ پورے خاندان کو جلا دیتی ہے۔
ماں کی آنکھوں کے آنسو، گھر کی خاموشی، اور دل کا بوجھ کوئی نہیں دیکھتا۔
نئی نسل کے لیے پیغام یہ ہے:
دشمنی میں کوئی فائدہ نہیں، نہ دنیا میں نہ آخرت میں۔
سمجھداری یہ ہے کہ وقت پر رک جاؤ، بات کرو، اور معاملہ ختم کرو۔
کیونکہ جان چلی جائے تو نہ دشمنی کام آتی ہے، نہ انا۔

احتیاط کریں ، ذرا سی بے احتیاطی زندگی بھر کا روگ دے سکتی ہے 🚫 رحیم یارخان میں پیش آیا ایک انوکھا واقعہ جو خوفناک بھی ہو ...
13/07/2026

احتیاط کریں ، ذرا سی بے احتیاطی زندگی بھر کا روگ دے سکتی ہے 🚫
رحیم یارخان میں پیش آیا ایک انوکھا واقعہ جو خوفناک بھی ہو سکتا تھا
رحیم یارخان کے عباسیہ پُل ریلوے اسٹیشن کے قریب اُس وقت ایک انتہائی خطرناک اور سنسنی خیز صورتحال پیدا ہوگئی جب عباسیہ ٹاؤن کے رہائشی 25سالہ محمد شہاب ریلوے ٹریک عبور کرتے ہوئے اچانک حادثے کا شکار ہوگئے۔

اُن کا پاؤں ریلوے ٹریک کے اندر بری طرح پھنس گیا۔ نوجوان نے خود کو آزاد کروانے کی ہر ممکن کوشش کی مگر چند لمحوں میں پوری ٹانگ پٹری کے اندر دھنس گئی اور انتہائی تشویشناک صورتحال اختیار کرگئی۔

ہر گزرتا لمحہ قیمتی انسانی جان کے لیے خطرہ بنتا جارہا تھا کیونکہ کسی بھی وقت ریل گاڑی ٹریک پر آسکتی تھی۔

شدید خوف اور بے بسی کے عالم میں محمد شہاب نے فوراً ریسکیو1122 ہیلپ لائن پر کال کرکے اپنی جان بچانے کی اپیل کی۔ کال موصول ہوتے ہی ریسکیو کنٹرول روم نے معاملے کی سنگینی کو بھانپتے ہوئے فوری طور پر تمام صورتحال سے ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر ڈاکٹر عادل الرحمٰن کو آگاہ کیا۔

ڈاکٹر عادل الرحمٰن نے بروقت اور بہترین حکمتِ عملی کا مظاہرہ کرتے ہوئے سب سے پہلے اسٹیشن ماسٹر کے ذریعے اپ اور ڈاؤن دونوں اطراف سے آنے والی تمام ریل گاڑیوں کو فوری طور پر رکوا دیا تاکہ کسی بھی بڑے سانحے سے بچا جاسکے اور انسانی جان کا تحفظ یقینی بنایا جاسکے۔

ریسکیو1122 کی پیشہ ور ٹیمیں جدید ریسکیو آلات کے ساتھ چند ہی لمحوں میں جائے حادثہ پر پہنچ گئیں۔ موقع پر پہنچتے ہی ریسکیو اہلکاروں نے فوری بریفنگ کی، علاقے کو محفوظ بنایا اور نہایت مہارت کے ساتھ ریسکیو آپریشن کا آغاز کیا۔

ریسکیورز نے جدید تکنیک، خصوصی ہائیڈرولک آلات اور بھرپور پیشہ ورانہ مہارت استعمال کرتے ہوئے انتہائی محدود جگہ میں پیچیدہ آپریشن انجام دیا۔

ٹیم نے نہایت صبر، احتیاط اور بہترین کوآرڈینیشن کے ساتھ متاثرہ نوجوان کی ٹانگ کو محفوظ انداز میں ریلوے ٹریک سے باہر نکالا۔

یہ ریسکیو آپریشن نہ صرف ریسکیو1122 کی فوری رسپانس، بہترین منیجمنٹ اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کا عملی مظہر ثابت ہوا بلکہ انسانی جان بچانے کے جذبے کی ایک شاندار مثال بھی بن گیا۔

موقع پر موجود شہریوں نے ریسکیو1122 کی بروقت کارروائی، بہترین حکمت عملی اور جراتمندانہ انداز کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا۔

اگر چند لمحوں کی تاخیر ہوجاتی تو یہ واقعہ ایک بڑے سانحے میں تبدیل ہوسکتا تھا، مگر ریسکیو1122 کی فوری کارروائی نے ایک قیمتی انسانی جان کو محفوظ بنا دیا

بیرون ملک کام کرنے والے پاکستانیو: خدارا بچوں سے دور رہا کرو ورنہ ۔۔۔۔ سعودی عرب میں مقیم ایک شہری نے اپنے ایک دوست کے س...
13/07/2026

بیرون ملک کام کرنے والے پاکستانیو: خدارا بچوں سے دور رہا کرو ورنہ ۔۔۔۔ سعودی عرب میں مقیم ایک شہری نے اپنے ایک دوست کے ساتھ پیش آیا سبق آموز واقعہ بیان کردیا ۔۔۔۔تصویر میں موجود اس پاکستانی نوجوان کے بقول ۔۔۔ کچھ ہفتے پہلے سعودی عرب میں رائیڈر کے طور پر کام کرنے والا ایک پاکستانی جب ڈیلیوری دینے ایک عربی کے گھر پہنچا تو ایک چھوٹی سی گول مٹول سی بچی دروازے پر آئی ۔ بچی کی عمر 6،7 سال ہوگی ، رائیڈر نے پیزا دیتے وقت بچی کو "سو کیوٹ" کہہ کر گال پر ہلکا سا پیار دے دیا ۔ جیسا پاکستان میں عمومی رواج ہے پیارا بچہ دیکھ کر پیار آہی جاتا ہے ۔۔۔ مگر بچی کے والدین اندر بیٹھے سی سی ٹی وی کیمرے کی سکرین پر سب کچھ دیکھ رہے تھے ، فورا باہر آئے اور رائیڈر کو پکڑ لیا ، شرطے بلائے گئے اور الزام لگایا گیا کہ اس نے ہماری بچی کو چھوا ہے جو بالکل نامناسب ہے ، شرطے اس شخص کو تھانے لے گئے پھر اگلے روز عدالت میں پیش کیا تو عدالت نے پہلی پیشی میں اس بدقسمت نوجوان کو 4 سال قید اور 15 ہزار ریال جرمانہ کی سزا سنا دی ۔۔۔۔ اس دوست نے دیگر ممالک میں موجود ہر رائیڈر اور دیگر پاکستانیوں کو مشورہ دیا ہے کہ جس ملک میں آپ رہتے ہیں کام کرتے ہیں اسے اپنا گاوں اور شہر نہ سمجھیں اپنے کام سے کام رکھیں اور اپنے جذبات کو ہمیشہ کنٹرول میں رکھیں ورنہ کبھی بھی کسی مصیبت میں پھنس سکتے ہیں ۔۔۔۔۔

اس بندے کا بہت بڑا نقصان ہو گیا ہے تقریبا 60 لاکھ کی موبائل فون اور نو لاکھ روپے کیش کل گلشن حدیث کراچی فیض ون میں اس بن...
13/07/2026

اس بندے کا بہت بڑا نقصان ہو گیا ہے تقریبا 60 لاکھ کی موبائل فون اور نو لاکھ روپے کیش کل گلشن حدیث کراچی فیض ون میں اس بندے کی دکان سے چار ڈاکو ائے اور بڑی اسانی سے موبائل فون اور لگتی رقم لے کر فرار ہو گئے تماشائی دیکھتے رہے لوگ ویڈیوز بناتے رہے لیکن کسی نے جرات نہیں کی کہ ان ڈاکو کو کسی طریقے سے روکا جائے اگر ان ڈاکوؤں کو پڑوسی دکان والے یا راستے سے جانے والے لوگ پتھر بھی مارتے تو وہ ڈر کے مارے بھاگ جاتے ہیں لیکن لوگ تماشہ بن کر پورا خیل 15 منٹ تک دیکھتے رہے اور ڈاکو جو ہے بڑی اسانی سے فرار ہو گئے افسوس افسوس افسوس دنیا کہاں کی کہاں پہنچ گئی ہے لیکن ہمارا ملک پیچھے چلا جا رہا ہے 😡😢👉

ڈی پی او آفس کے دروازے پر کھڑا وہ کھوکھا اس ملک کے پورے نظام کی تصویر ہے!کل رحیم یار خان ڈی پی او آفس جانا ہوا، داخل ہوت...
13/07/2026

ڈی پی او آفس کے دروازے پر کھڑا وہ کھوکھا اس ملک کے پورے نظام کی تصویر ہے!

کل رحیم یار خان ڈی پی او آفس جانا ہوا، داخل ہوتے ہی پولیس اہلکار نے روکا، موبائل اندر نہیں لے جا سکتے، ٹھیک ہے، یہ سمجھ میں آتا ہے۔ مگر اگلا جملہ سمجھ میں نہیں آیا۔ موبائل ادھر بھی جمع نہیں ہوگا، باہر والے کھوکھے پر رکھوائیں اور ٹوکن لے لیں!
باہر گیا، کھوکھے والے نے موبائل لیا، ٹوکن دیا، اور ساتھ مانگے پچاس روپے!
میں نے حیرانی سے سوال کیا کس چیز کے؟ بولا موبائل رکھنے کے!
میں نے کہا واپسی پر دیتا ہوں!
اندر گیا، کام نمٹایا، انفارمیشن کاؤنٹر پر بیٹھے آفیسر سے پوچھا کہ یہ پچاس روپے کس اتھارٹی کے تحت لیے جا رہے ہیں،گول مول جواب آیا، وہ پرائیویٹ دکان ہے، مجھے نہیں پتہ!
واپسی پر موبائل لیا، پچاس روپے دیے اور رسید مانگی!
اس نے ایسے دیکھا جیسے میں نے کوئی انوکھی زبان بول دی ہو، حیرانی سے کہتا کس چیز کی رسید؟
میں نے کہا تم عوام سے فیس وصول کر رہے ہو، نہ بلدیہ کا لیبل ہے، نہ کوئی منظوری، تو یہ پیسے کہاں جا رہے ہیں؟
کھسیانا ہو کر بولا، میں تو ملازم ہوں، مالکوں سے بات کریں، اور کھسک گیا!
اب ذرا حساب لگائیں۔
ڈی پی او آفس جس کے انڈر پورے ضلع کے ستائیس تھانے کام کرتے اور اس کو رپورٹنگ کرتے ہیں، جہاں روزانہ ہزاروں لوگ آتے ہیں، اس کے دروازے پر کھڑے اس کھوکھے پر اگر ایک دن میں صرف ایک ہزار لوگ آئیں، تو پچاس ہزار روپے روزانہ،مہینے کے پندرہ لاکھ، سال کے؟
جی ہاں کروڑوں!
بغیر کسی لائسنس کے، بغیر کسی رسید کے، بغیر کسی منظوری کے!
اب سوال یہ ہے کہ یہ کھوکھا وہاں کیسے لگا؟ کس نے اجازت دی؟ کس کی سرپرستی میں چل رہا ہے؟ اور یہ پیسہ کہاں جا رہا ہے؟
جو آفیسر اندر بیٹھا تھا اسے پتہ ہے، جو پولیس اہلکار باہر کھڑا تھا اسے بھی پتہ ہے، جس نے یہ کھوکھا لگوایا اسے پتہ ہے، اور ڈی پی او آفس کی چھت کو بھی پتہ ہے۔ صرف عوام کو نہیں پتہ، اور عوام کو پتہ نہ چلے، یہی اس کھیل کی کامیابی ہے۔
یہ پاکستان میں کرپشن کا وہ چہرہ ہے جو بڑے بڑے اسکینڈلز میں نہیں ملتا، یہ چھوٹے چھوٹے ڈاکوں میں ملتا ہے۔ ہر سرکاری دفتر کے باہر کوئی نہ کوئی کھوکھا ہے، ہر کام کے لیے کوئی نہ کوئی غیر سرکاری فیس ہے، ہر عام آدمی کو کہیں نہ کہیں کچھ نہ کچھ دینا پڑتا ہے اور یہی چھوٹے چھوٹے ڈاکے مل کر اربوں کا وہ کالا دھن بناتے ہیں جو نہ کسی ٹیکس ریٹرن میں ہے، نہ کسی رجسٹر میں، نہ کسی حساب میں!
اور سب سے تکلیف دہ بات کیا ہے؟
یہ کہ ہم سب جانتے ہیں ہر کوئی جانتا ہے مگر پچاس روپے کے لیے لڑنا اس ملک میں بہادری نہیں بلکہ پاگل پن سمجھا جاتا ہے۔
آدمی سوچتا ہے کہ چھوڑو جھگڑا، کام نکالو اور نکل چلو، اور یہی سوچ اس نظام کی سب سے بڑی طاقت ہے!

مگر میں آج کہتا ہوں کہ یہ پچاس روپے چھوڑنے والا معاملہ نہیں۔ جب تک ہم یہ سوال نہیں پوچھیں گے، جب تک ہم رسید نہیں مانگیں گے، جب تک ہم یہ نہیں کہیں گے کہ یہ کس کی اجازت سے ہے، یہ کھوکھے پھیلتے رہیں گے، یہ ڈاکے چلتے رہیں گے، اور یہ نظام عوام کو لوٹتا رہے گا!
ڈی پی او رحیم یار خان سے سوال ہے کہ آپ کے آفس کے دروازے پر یہ کھوکھا کس کی اجازت سے ہے، اس کی کمائی کہاں جا رہی ہے، اور کیا آپ کو واقعی نہیں پتہ؟
عوام جانتی ہے۔ اور اب عوام پوچھے گی بھی!

🚫 باقی ڈی پی او آفس کے دروازے کے سامنے بغیر نمبر پلیٹ کے کھڑی غیر قانونی موٹر سائیکل اتفاقی بات ہے اب اس پر بھی سوال اٹھانے نہ لگ جانا !

قلم میرا ہتھیار ہے، آپ کی آواز میری طاقت، ساتھ دیں تو یہ نظام بدل سکتا ہے!

تحریر: مسعود باجوہ
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
🖊️ قلم سے سوچ، سوچ سے تبدیلی Voice of the People

I.G Punjab Office in Lahore.
Office Of The Inspector General Punjab Police
Maryam Nawaz Sharif
Govt of Punjab
Chief Secretary Punjab
Government of Punjab
Ombudsman Punjab






میرا کوئی قصور نہیں ، میرے اندر جن آگیا تھا ۔۔۔۔۔ 2022 میں لاہور میں اپنی ماں کو ق۔ت۔ل کرنے والے بیٹے کا بیان جو پولیس ح...
13/07/2026

میرا کوئی قصور نہیں ، میرے اندر جن آگیا تھا ۔۔۔۔۔ 2022 میں لاہور میں اپنی ماں کو ق۔ت۔ل کرنے والے بیٹے کا بیان جو پولیس حراست میں ریکارڈ ہوا تھا ۔۔۔۔ یہ ایک بیوہ خاتون تھی جسکے 6 بیٹے تھے ،شوہر 2013 میں انتقال کر چکا تھا ، دکھی غریب ماں لوگوں کے گھروں میں محنت مزدوری کرکے شوہر کی وفات کے بعد بچوں کو پال رہی تھی ۔ سب سے بڑا بیٹا بری صحبت میں پڑ گیا ابتدا میں اس نے چر۔س والے سگریٹ شروع کیے اور پھر ترقی کرتا پاؤڈر تک پہنچ گیا ۔۔ جب اسے ڈوز نہ ملتی تو اس کے بقول اس پر جن آجاتا تھا اور اسے ہوش نہ رہتا کہ وہ کیا کررہا ہے ، وقوعہ کے روز ماں کام سے واپسی پر سبزی لے کر گھر پہنچی تاکہ سالن بنا کر بچوں کو کھانا کھلائے ، لیکن اس بڑے بیٹے نے ماں سے پیسوں کا مطالبہ شروع کردیا ، خاتون کے پاس یقینا پیسے نہیں ہونگے اگر ہوتے تو وہ ضرور دیتی کہ اسے بیٹے کے حالات کا علم تھا ۔۔ ماں کے انکار پر بیٹے نے اسے اوپر منزل سے دھکا دے دیا خاتون سیڑھی پر سر لڑھکتی ہوئی نچلی منزل یعنی زمین پر آگری تو بیٹا بھی چھری اٹھائے پیچھے آیا اور پھر پوچھا پیسے دینے ہیں یا نہیں ؟ غصے میں ماں کے منہ سے بیٹے کے لیے بددعا نکلی تو بدبخت بیٹے نے ماں کو چھریوں کے وار کرکے شدید زخمی کردیا اور فرار ہو گیا ، محلے داروں نے 15 پر اطلاع کی , پولیس اور 1122 موقع پر پہنچے خاتون زخمی تھی اسے فوری طور پر ہسپتال منتقل کیا گیا ، اب حالات یہ تھے کہ باقی بچے چھوٹے تھے ، انکے جیب میں پھوٹی کوڑی تک نہ تھی کوٹ عبدالمالک پولیس کے افسران و اہلکاروں نے اپنی جیب سے بیوہ زخمی خاتون کا علاج کروایا مگر تین روز بعد خاتون جان بحق ہو گئی ، خاتون کے ق۔ت۔ل کا مقدمہ اسکے بیٹے کے خلاف درج ہوا اور محلے داروں کی مخبری پر پولیس نے چند روز بعد ہی اس بدبخت شخص کو گرفتار کر لیا تھا ۔۔ پولیس کی حراست میں صحافی قیصر خان سے بات چیت کرتے ہوئے ملزم کا کہنا تھا کہ اس پر جن آگئے تھے بھلا یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ وہ اپنی ماں کو مار ڈالتا ، میرا کوئی قصور نہیں جو کروایا جنوں نے کروایا ہے ۔۔۔۔ بعد ازاں پولیس نے ملزم کو بھرپور چالان مرتب کرکے عدالت سے جیل بھجوا دیا تھا جہاں کئی ہفتے یہ شخص جن آنے کی وجہ سے تڑپتا رہا اور خصوصی علاج معالجے پر بعد ازاں اسکی حالت بہتر ہوئی تھی ۔۔۔۔

یہ تو حال ہے لوگوں کا : 600 روپے کا کھانا کھا کر باپ بیٹے کو ہوٹل پر گروی بٹھا کر چلا گیا ۔۔۔ کوئٹہ میں پیش آئے واقعہ کی...
13/07/2026

یہ تو حال ہے لوگوں کا : 600 روپے کا کھانا کھا کر باپ بیٹے کو ہوٹل پر گروی بٹھا کر چلا گیا ۔۔۔ کوئٹہ میں پیش آئے واقعہ کی حیران کن تفصیلات ۔۔۔۔ چند روز قبل رات گئے کچھ لوگ کھانا کھانے ایک ہوٹل پر گئے ، کھانا کھایا بل ادا کرنے کاؤنٹر پر گئے تو ایک بچہ کاؤنٹر کے قریب کرسی پر بیٹھا رو رہا تھا ، ان لوگوں نے ماجرا پوچھا تو ہوٹل مالک نے جو کہانی بتائی اس نے ان گاہکوں کو پریشان کرکے رکھ دیا ۔ ہوٹل مالک کے بقول ۔۔۔۔یہ بچہ گزشتہ چار ، پانچ گھنٹوں سے یہاں بیٹھا ہے۔ اس کا باپ بچے سمیت آیا کھانا کھایا مگر پھر کہا میرے پاس پیسے نہیں آپ میری گھڑی رکھ لیں ، ہوٹل مالک نے گھڑی لینے سے انکار کیا تو اس شخص نے کہا آپ میرے بیٹے کو یہاں بٹھا لیں میں 5 منٹ میں پیسے لے آتا ہوں ، اصل میں گھر سے نکلتے وقت میں پیسے لانا بھول گیا ، گھر قریب ہے میں ابھی واپس آجاتا ہوں ۔ وہ شخص اپنے بیٹے کو بٹھا کر چلا گیا ۔ مگر وہ پانچ منٹ گھنٹوں میں بدل گئے، ان گاہکوں نے بچے سے نام پتہ پوچھا ۔ ان لوگوں نے اس شخص کا ہوٹل کا بل ادا کیا اور بچے کو ساتھ لیا کہ اسے اسکے گھر پہنچا دیں ۔ یہ لوگ اسی علاقے کے جانے پہچانے لوگ تھے اس لیے ہوٹل مالک نے اعتراض نہ کیا ۔بچے کے پیچھے چلتے یہ لوگ اسکے گھر پہنچے تو معلوم ہوا کہ بچے کا باپ گھر نہیں پہنچا تھا اور دروازہ باہر سے بند اور تالہ لگا تھا ۔ پڑوسیوں نے بتایا کہ میاں بیوی کی لڑائی چل رہی ہے ۔ دونوں ساتھ نہیں رہتے ۔ قریب ہی پولیس سٹیشن تھا ۔ یہ لوگ بچے کی حفاظت کے پیش نظر اسے تھانے چھوڑ گئے کیونکہ پڑوسیوں نے بھی بچے کو گھر میں رکھنے سے معذرت کر لی تھی کہ اسکا باپ اللہ جانے کیا مصیبت کھڑی کردے ۔۔۔۔ اللہ ہی بہتر جانتا ہے باپ نےپھر بچے کی کوئی خبر لی یا نہیں ۔۔۔

میرے خیال میں ڈارک ویب کا غلط استعمال پاکستان سمیت دنیا کے کئی ممالک میں بڑھتا جا رہا ہے ! گزشتہ کچھ عرصے سے پاکستان میں...
12/07/2026

میرے خیال میں ڈارک ویب کا غلط استعمال پاکستان سمیت دنیا کے کئی ممالک میں بڑھتا جا رہا ہے !

گزشتہ کچھ عرصے سے پاکستان میں بچوں کے اغوا اور قتل کے واقعات میں تشویش ناک حد تک اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ ہر دوسرے دن کسی نہ کسی گھر کا چراغ بجھنے کی خبر دل دہلا دیتی ہے۔

آج ایک اہم سوال یہ ہے کہ ان درندگی بھرے جرائم کے اصل محرکات کیا ہیں؟ کیا یہ صرف مجرمانہ ذہنیت کا نتیجہ ہیں، یا ان کے پیچھے کوئی منظم نیٹ ورک بھی کام کر رہا ہے؟

حالیہ دنوں میں یہ خدشات بھی سامنے آ رہے ہیں کہ کہیں "ڈارک ویب" (Dark Web) جیسے خفیہ آن لائن پلیٹ فارمز کا غلط استعمال تو ایسے گھناؤنے اور غیر قانونی جرائم میں نہیں ہو رہا؟ کیا ٹیکنالوجی کے اس تاریک پہلو سے فائدہ اٹھا کر مجرم اپنی شناخت چھپا کر سنگین جرائم کا ارتکاب کر رہے ہیں؟

یہ ایک سنجیدہ اور قابلِ غور موضوع ہے جس پر تحقیق مؤثر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارروائی اور عوامی آگاہی، تینوں کی ضرورت ہے۔

ایم اے انگلش ، سی ایس ایس کا امتحان دیتے دیتے ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ لڑکی اکلوتے بھائی کی قا۔تلہ بن گئی ۔۔۔۔سچ ہے انسان م...
11/07/2026

ایم اے انگلش ، سی ایس ایس کا امتحان دیتے دیتے ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ لڑکی اکلوتے بھائی کی قا۔تلہ بن گئی ۔۔۔۔سچ ہے انسان مجبور ہو جائے تو کچھ بھی کر ڈالتا ہے ۔ش۔س۔م۔۔ یہ واقعہ دسمبر 2022 کا ہے ۔۔۔ یہ تین بہنیں اور انکا ایک ہی بھائی تھا جو سب سے بڑا تھا ، دو بہنوں کی شادی ہو چکی تھی جب تصویر میں نظر آنیوالی لڑکی کی منگنی اپنی پھوپھو کے بیٹے سے ہو چکی تھی جو اٹلی میں کام کرتا تھا لیکن شادی کی راہ میں رکاوٹ یہ تھی کہ بھائی کو اپنے والدین کے فیصلے سےاختلاف تھا ۔ بھائی نے صاف کہہ رکھا تھا جہاں مرضی اس کا رشتہ کردو لیکن یہاں نہیں ہونے دونگا ۔۔حیران کن بات ہے بھائی اپنی بہنوں سے ازحد پیار کرتا تھا ، انہیں کسی چیز کی کمی نہ ہونے دی ، شادی شدہ بہنوں کی ضروریات کا بھی اکثر پوچھتا رہتا ، لیکن اس کا قصور یہ تھا کہ حد سے زیادہ پڑھی لکھی بہن کی اپنے رشتہ داروں یعنی پھوپھو کے بیٹے سے شادی کے خلاف تھا ۔ یہ تنازعہ وقوعہ سے چار ماہ پہلے سے جاری تھا۔بہن نے بھائی کی بہت منت سماجت کی لیکن بھائی کا فیصلہ اٹل تھا ۔ غیب کا علم اللہ کو ہے لیکن شاید بھائی کے ذہن میں ہو گا کہ بہن اپنی پڑھائی پر توجہ دے اپنا مستقبل بنائے یا اسے پھوپھو کے بیٹے کی کسی ایسی خامی کا علم ہو گا اور وہ اپنی بہن کی زندگی برباد ہوتے نہیں دیکھنا چاہتا تھا بہرحال اٹلی مقیم منگیتر کے ساتھ اس لڑکی کا موبائل اور واٹس ایپ پر مسلسل رابطہ رہا جب کوئی اور حل سمجھ نہ آیا تو دونوں نے فیصلہ کیا کہ بھائی صاحب کو راستے سے ہٹا دیا جائے ، منگیتر تو اٹلی میں تھا وہ یہاں اس کام کے لیے نہیں آسکتا تھا اس نے یہاں مقیم اپنے سگے بھائیوں کو پیسوں کا لالچ دیا ۔ جو بھائی کی خاطر یہ کام کرنے پر راضی ہو گئے ۔ اٹلی والے نے اپنے ایک بھائی کو تین لاکھ روپے اس کام کے لیے بھیجے جس نے لاکھ روپیہ جیب میں ڈالا اور دو لڑکوں کو دو لاکھ روپے دے کر کام سونپ دیا جنہوں نے وقوعہ کے روز اس لڑکی کے بھائی کو گو۔لیوں سے بھون دیا ۔۔۔ لڑکے کے والدین اور اس لڑکی نے پولیس کو ٹالنے کی بہت کوشش کی کہ ہماری کسی سے دشمنی نہیں ہم اپنا معاملہ اللہ پر چھوڑتے ہیں ، مگر اللہ تو بے پروا ہے ۔ حیرانگی کی بات ہے کہ ق۔ت۔ل کے اگلے روز اٹلی والے منگیتر نے لڑکی کو تعزیتی کال بھی کی افسوس کا اظہار بھی کیا اور اسکے والدین سے بھی تعزیت کی ۔ یہ تک کہا کہ پریشان نہ ہوں میں آپ کو سگے بیٹے سے بڑھ کر محبت دوں گا ساری زندگی آپ کی خدمت کروں گا ۔۔۔ پولیس نے بعد میں کال ڈیٹا ریکارڈ اور روزانہ کی بنیاد پر رابطوں کی وجہ سے لڑکی پر شک کیا اسے شامل تفتیش کیا گیا تو اس نے ساری کہانی بیان کردی اپنے جرم کا اعتراف کر لیا ، اٹلی والے نوجوان کے بھائی کو بھی گرفتار کر لیا گیا جس نے کرائے کے قا۔تلوں کی نشاندہی کی ۔۔۔۔ پولیس کی حراست میں اس لڑکی کا کہنا تھا کہ جذبات نے میری زندگی برباد کردی ۔ شاید میں ایک پولیس افسر یا اسسٹنٹ کمشنر بن جاتی لیکن غلط فیصلے نے میری زندگی برباد کردی کاش میں یہ فیصلہ کرنے سے پہلے بزرگوں والدین یا کسی رشتہ دار سے مشورہ کر لیتی تو یہ دن نہ دیکھنا پڑتے ۔۔۔ بعد میں پولیس نے اٹلی والے نوجوان کو بھی انٹرپول کے ذریعے پاکستان لانے کی کوشش شروع کردی تھی ۔۔۔۔۔لڑکی سمیت گرفتار ملزمان اب جیل میں ہے اور انکا عدالت میں ٹرائل جاری ہے ۔۔۔۔

Address

Nawabshah
Karachi Lines
67200

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Muhammad Saeed posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Muhammad Saeed:

Shortcuts

Share