10/06/2026
کیا دنیا تیسری عالمی جنگ کے دہانے پر کھڑی ہے؟
عالمی تنازعات دوسری جنگِ عظیم کے بعد خطرناک ترین سطح پر پہنچ گئے.
بین الاقوامی تحقیقی اداروں کی تازہ رپورٹس نے دنیا بھر میں بڑھتے ہوئے مسلح تنازعات پر سنگین خدشات ظاہر کیے ہیں۔ سویڈن کے معروف تحقیقی ادارے اوپسالا کانفلکٹ ڈیٹا پروگرام (UCDP) کے مطابق سال 2025 میں ریاستوں کے درمیان ہونے والے براہِ راست تنازعات کی تعداد بڑھ کر 8 تک پہنچ گئی، جو 1946 میں ریکارڈنگ شروع ہونے کے بعد سب سے زیادہ تعداد ہے۔
رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں مجموعی طور پر 65 ریاستی نوعیت کے مسلح تنازعات ریکارڈ کیے گئے، جبکہ تقریباً 2 لاکھ 44 ہزار سے زائد افراد منظم تشدد میں ہلاک ہوئے، جس کے باعث 2025، روانڈا کی 1994 کی نسل کشی کے بعد سب سے خونریز برسوں میں شمار کیا گیا۔
ان تنازعات میں روس۔یوکرین جنگ، ایران و اسرائیل کشیدگی، بھارت و پاکستان کے درمیان جھڑپیں اور مشرقِ وسطیٰ کے دیگر محاذ شامل رہے۔ ماہرین کے مطابق یہ رجحان عالمی طاقتوں کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی اور بدلتے ہوئے سکیورٹی نظام کی عکاسی کرتا ہے۔
تاہم ماہرین یہ نہیں کہتے کہ تیسری عالمی جنگ شروع ہو چکی ہے، بلکہ ان کا انتباہ یہ ہے کہ بین الاقوامی تنازعات کی بڑھتی ہوئی تعداد عالمی امن کے لیے ایک خطرناک اشارہ ہے اور اگر سفارتی کوششیں ناکام رہیں تو بڑے پیمانے پر تصادم کے خطرات بڑھ سکتے ہیں۔