16/12/2025
ایک اور معصوم جان، ایک اور خاموش سوال…
آج ہمارا محلہ عابدآباد ایک ناقابلِ تلافی صدمے سے گزر رہا ہے۔
اٹھارہ سالہ نصیر — ہمارے محلے کا بچہ، نہایت شریف، معصوم اور بااخلاق نوجوان — موبائل اسنیچنگ کی واردات کے دوران بے دردی سے گولی مار کر قتل کر دیا گیا۔
آخر ہم کب تک اپنے بچوں کی لاشیں سڑکوں سے اٹھاتے رہیں گے؟
کب تک مائیں اپنے جوان بیٹوں کے انتظار میں دروازوں پر بیٹھی رہیں گی؟
اور کب تک ہم یہ ظلم صرف سہتے رہیں گے؟
سوال یہ ہے کہ
جب یہاں عابدآباد میں پولیس چوکی موجود ہے تو پھر یہ چوکی کس کام کی ہے؟
اگر پولیس یہ ذمہ داری ادا نہیں کر سکتی
تو ہمیں صاف صاف بتا دیا جائے کہ
ڈاکو آزاد ہیں
اور ہم شہری بے یار و مددگار۔
ہم کوئی احسان نہیں مانگ رہے،
ہم اپنا حق مانگ رہے ہیں — تحفظ، انصاف اور جوابدہی۔
نصیر کے قاتلوں کو فوری گرفتار کیا جائے
اور پولیس اپنی ڈیوٹی سنجیدگی سے ادا کرے
کیونکہ اگر آج ہم خاموش رہے
تو کل یہ سانحہ کسی اور گھر کا دروازہ کھٹکھٹائے گا۔
بس بہت ہو چکا۔
اب خاموشی نہیں، جواب چاہیے۔