26/05/2024
چیٹ Gpt کے بارے میں جانتے ہیں؟
جی جی وہی وڈے منہ والی بلا جو ہم جیسے نکے نکے رائٹرز کو ایک سیکنڈ میں کھا جائے گی اور ڈکار بھی نہیں لے گی۔
اچھا اس سے کبھی کوئی فائدہ بھی اٹھایا ہے؟
اگر نہیں اٹھایا تو اب اٹھا لیں۔فائدے تو اس کے اور بھی بہت ہیں مگر آج ہم صرف کونٹنٹ رائٹرز کے فائدے کی بات کریں گے۔اگر آپ سٹوری رائٹر ہیں یا سکرپٹ رائٹر۔اور روز کی سٹوری یا سکرپٹ پراجیکٹ آپ کے ہاتھ لگ گیا ہے تو اس سے مدد لے سکتے ہیں۔
اچھا تو آپ پہلے سے ہی اس مدد لیتے ہیں؟
چلیں بتائیں کیسے مدد لیتے ہیں؟
چیٹ Gpt اوپن کرتے ہیں۔اور اسے حکم دیتے ہیں کہ میرے لیے اردو میں ایک عدد جادوئی کہانی یا فلاں ٹاپک پر یوٹیوب ویڈیو سکرپٹ لکھ دو ۔۔وہ الہ دین کے چراغ کی طرح حکم بجا لاتی ہے۔
پھر آپ خوشی خوشی وہ سکرپٹ چیک کرتے ہیں۔۔کہ آہا لکھا تو زبردست ہے۔پھر ایک دو غلطیاں ٹھیک کر کے کلائنٹ کے متھے مار دیتے ہیں۔۔۔لو جی ہو گیا کام ۔۔بن گئے پیسے۔
اور کچھ دیر بعد وہی سکرپٹ یا سٹوری کلائنٹ آپ کے متھے مار دیتا ہے۔۔بالکل اس طرح تو ہوتا ہے اس طرح کے کاموں میں ۔۔
یہ تو تھا دو نمبر طریقہ جو آپ نے کبھی استعمال نہیں کرنا۔
اب اصل طریقہ سنیں اور پھر سر دھنیں۔
چیٹ Gpt اوپن کریں۔
اسے اچھی سی کمانڈ دیں۔اگرچہ ہم پاکستانیوں کو کمانڈ دینے کی نہیں لینے کی عادت ہے مگر آپ نے پھر بھی کوشش کرنی ہے کہ بالکل اسی دبنگ لہجے میں کمانڈ دیں جو گورے ہمارے دادا پردادا کو دیتے تھے۔
جتنی تفصیلی اور بہترین کمانڈ ہوگی اتنا ہی اچھا رزلٹ ہوگا۔مثلا کسی ٹاپک پر بچوں کے لیے سٹوری لکھوانی ہے تو مرکزی خیال کے ساتھ ساتھ ایک دو مین کیریکٹرز کے بارے میں لکھیں۔ساتھ کچھ سیچوئیشن جو آپ چاہتے ہیں وہ لکھیں ۔اب چیٹ Gpt کو سمجھ آ جائے گی۔
مگر خیال رہے کہ کمانڈ انگلش میں دینی ہے۔۔۔اردو میں یہ کنفیوز رہتی ہے۔پاکستانی نہیں ہے نا۔
ہم نے اگر کوئی ایسی بلا ایجاد کی تو اردو میں کریں گے۔۔گورے کان کھول کر سن لیں اور ابھی سے اردو سیکھنا شروع کر دیں۔
اب وہ آپ کی خواہش کے عین مطابق سٹوری تیار کر کے آپ کے سامنے پیش کر چکی ہے تو اسے کاپی کریں۔
اب آپ نے گوروں کی ایک اور ایجاد گوگل ٹرانسلیٹ اوپن کرنا ہے اور اس سٹوری کا اردو ترجمہ کروا لینا ہے۔ایک بار صحیح نہ لگے تو دو تین بار کر لیں۔
اب وہ ترجمہ کاپی کر کے اپنے موبائل کے نوٹ پیڈ میں لے آئیں۔اور ورڈ کاٶنٹر سے الفاظ چیک کر لیں۔ترجمے کے بعد ایک ہزار والی سٹوری چھ سو الفاظ کی رہ جاتی ہے۔
اب چیٹ gpt چونکہ انگریز ہے تو وہ ہر سٹوری میں ولیم ،جونسن یا الزبتھ نام استعمال کرے گی۔آپ اپنی مرضی سے نام تبدیل کر لیں۔ہندی سٹوری ہے تو گوپال ،شیکھر یا سمرن کر لیں۔
اردو سٹوری ہے تو انور ،ساجد یا فرزانہ کر لیں۔
اب مرکزی خیال کے ارد گرد اپنے مقامی ناموں کے ساتھ کہانی بنتے جائیں۔۔رائٹر ہیں نا ،یہ تو کرنا پڑے گا۔
ایک آدھ گھنٹے کی مغز کھپائی کے بعد ایک ہزار الفاظ کی کہانی تیار ہو جائے گی۔اب یہ آپ پر ہے کہ آپ کتنے فیصد رائٹر ہیں کہ کہانی کو اینڈ تک خوبصورتی سے سنبھال سکیں۔
اب آپ بڑے فخر اور مان کے ساتھ یہ سٹوری کلائنٹ کو پیش کر سکتے ہیں۔
تو اس سارے جھنجھٹ میں آپ نے کیا سیکھا؟
یہی کہ چیٹ gpt ہرگز بھی پکا پکایا حلوہ نہیں بلکہ ٹیڑھی کھیر ہے۔
یہ بھی وہی گائے ہے جو دودھ نہیں دیتی بلکہ اس سے دودھ نکالنا پڑتا ہے۔
آخری بات مشینیں انسان کو رپلیس نہیں کر سکتیں بلکہ یہ انسان کی دوست اور مددگار ہوتی ہیں ۔۔ان سے بنا کے رکھیں۔