INNTV

INNTV News, Reports Articls Research and Analysis Education Social Journalism for all.

11/06/2026
گلگت بلتستان اور کشمیر حق کی پامالی،گلگت بلتستان اور کشمیر، دونوں خطے قدرتی حسن اور قربانیوں کی سرزمین ہیں! مسعود حسین ج...
09/06/2026

گلگت بلتستان اور کشمیر حق کی پامالی،گلگت بلتستان اور کشمیر، دونوں خطے قدرتی حسن اور قربانیوں کی سرزمین ہیں! مسعود حسین جعفری

گلگت بلتستان اور کشمیر حق کی پامالی۔گلگت بلتستان اور کشمیر، دونوں خطے قدرتی حسن اور قربانیوں کی سرزمین ہیں۔ لیکن آج ان کے اصل حقدار، یعنی یہاں کے باسی، اپنے بنیادی حقوق سے محروم ہیں۔ دہائیوں سے وعدے کیے گئے، قراردادیں پاس ہوئیں، مگر زمینی حقیقت یہ ہے کہ فیصلے ہمیشہ اوپر سے مسلط کیے جاتے رہے۔گلگت بلتستان کے لوگ آج بھی آئینی حیثیت کے انتظار میں ہیں۔ ان کے وسائل، بجلی، معدنیات اور پانی پر دوسروں کا کنٹرول ہے جبکہ مقامی آبادی روزگار، تعلیم اور صحت کی بنیادی سہولتوں کو ترستی ہے۔ ہر الیکشن کے بعد نعرے بدلتے ہیں، مگر پالیسی وہی رہتی ہے۔ طاقتور مافیا نے زمینوں، ٹھیکوں اور وسائل پر قبضہ جما رکھا ہے۔ اصل باشندے تماشائی بن کر رہ گئے ہیں۔ادھر کشمیر میں بھی صورتحال مختلف نہیں۔ کشمیریوں کی رائے کو ہمیشہ نظر انداز کیا گیا۔ ان کی شناخت، ان کی تہذیب اور ان کے مستقبل کے فیصلے ان کی مرضی کے بغیر کیے گئے۔ باہر سے آنے والے مافیا گروپ معیشت، زمین اور سیاست پر حاوی ہیں۔ مقامی نوجوان بیروزگاری اور مایوسی کا شکار ہے۔دونوں خطوں کا مسئلہ ایک ہے: حقدار کو حق نہیں مل رہا۔ جب تک فیصلے ایوانوں میں بیٹھے لوگ کریں گے اور مقامی آواز دبائی جائے گی، امن و ترقی ممکن نہیں۔ گلگت بلتستان اور کشمیر کے لوگ خودمختار فیصلے چاہتے ہیں۔ وہ مافیاز کی جبری مسلط کردہ سیاست سے تنگ آ چکے ہیں۔حقداروں کو ان کا حق دیا جائے، ورنہ محرومی کی یہ آگ مزید شدت پکڑے گی۔

گلگت بلتستان اور کشمیر حق کی پامالی۔گلگت بلتستان اور کشمیر، دونوں خطے قدرتی حسن اور قربانیوں کی سرزمین ہیں۔ لیکن آج ان کے اصل حقدار، یعنی یہاں کے باسی، اپنے بنیادی ح....

الیکشن چوری کی وارداتوں کا سلسلہ جاری،مافیا مسلط! مسعود حسین جعفریگلگت بلتستان اور کشمیر اب مزید دھوکہ نہیں چلے گا۔موجود...
09/06/2026

الیکشن چوری کی وارداتوں کا سلسلہ جاری،مافیا مسلط! مسعود حسین جعفری

گلگت بلتستان اور کشمیر اب مزید دھوکہ نہیں چلے گا۔موجودہ صورتحال شرمناک ہے۔ گلگت بلتستان اور کشمیر کے اصل وارث آج اپنی ہی سرزمین پر اجنبی بن چکے ہیں۔ ان کے حقِ حکمرانی، حقِ ملکیت اور حقِ رائے کو کھلم کھلا روندا جا رہا ہے یہ محرومی اتفاق نہیں یہ ایک سوچی سمجھی پالیسی ہے۔ذمہ دار کون؟ وفاقی اشرافیہ اسلام آباد میں بیٹھے فیصلہ ساز جنہوں نے دونوں خطوں کو ہمیشہ سودے بازی کا مال سمجھا۔ وعدے کیے، قراردادیں توڑیں، اور آئینی حیثیت کو لٹکایا ہوا ہے۔ گلگت بلتستان کو آج تک مکمل آئینی صوبہ بنانے سے انکار اور کشمیر کی سیاسی قیادت کو کچلنا ان کی پالیسی کا ثبوت ہے۔اسٹیبلشمنٹ اور بیوروکریسی جنہوں نے ہر الیکشن ہر احتجاج اور ہر مطالبے کو اپنے اشاروں پر نچایا مقامی نمائندے صرف کٹھ پتلی ہیں اصل اختیارات ہمیشہ غیر مقامی افسران اور اداروں کے پاس رہے۔مقامی مافیا گروپ زمین مافیا، ٹھیکہ مافیا اور معدنیات مافیا جو اشرافیہ کے سہولت کار بنے ہوئے ہیں انہوں نے سرکاری مشینری کے ساتھ مل کر وسائل لوٹے گلگت کی زمینیں کشمیر کے جنگلات اور دریا آج ان کی جاگیر بن چکے ہیں مقامی نوجوان کو روزگار نہیں صرف مایوسی ملی۔نتیجہ یہ نکلا کہ بجلی پیدا کرنے والے اندھیرے میں ہیں۔ معدنیات کے مالک خود خالی ہاتھ ہیں پانی پر حق رکھنے والے پیاسے ہیں۔ بس اب کافی ہو گیا اگر حقداروں کو فوری حقِ خودارادیت اور آئینی تحفظ نہ دیا گیا تو یہ مافیاز کی مسلط کردہ خاموشی زیادہ دیر نہیں ٹکے گی۔ تاریخ گواہ ہے کہ محکوم قومیں ہمیشہ اٹھ کھڑی ہوتی ہیں۔

گلگت بلتستان اور کشمیر اب مزید دھوکہ نہیں چلے گا۔موجودہ صورتحال شرمناک ہے۔ گلگت بلتستان اور کشمیر کے اصل وارث آج اپنی ہی سرزمین پر اجنبی بن چکے ہیں۔ ان کے حقِ حکمرانی...

کوئی بھی ملک اپنی مرضی سے ٹیکس لگائے خرچ کرے پھر IMF/World Bank بیچ میں کیوں آتے ہیں؟  مسعود حسین جعفریبجٹ تو ہر ملک کا ...
08/06/2026

کوئی بھی ملک اپنی مرضی سے ٹیکس لگائے خرچ کرے پھر IMF/World Bank بیچ میں کیوں آتے ہیں؟ مسعود حسین جعفری

بجٹ تو ہر ملک کا اندرونی معاملہ ہی ہوتا ہے۔ کوئی بھی ملک اپنی مرضی سے ٹیکس لگائے، خرچ کرے پھر IMF/World Bank بیچ میں کیوں آتے ہیں؟ جب پاکستان IMF سے بیل آؤٹ پیکج لیتا ہے، جیسے $3 ارب یا $7 ارب کا پروگرام، تو IMF کہتا ہے پیسے دوں گا، لیکن پہلے تمہاری معیشت ٹھیک کرو۔ وہ شرائط بجٹ پر لگتی ہیں - جیسے سبسڈی کم کرو، ٹیکس بیس بڑھاؤ، خسارہ کم کرو۔ ورنہ قسط روک دیتے ہیں۔عالمی ساکھ World Bank والے پروجیکٹ لون دیتے ہیں سڑکیں، بجلی، تعلیم کے لیے۔ وہ بھی بجٹ میں شفافیت اور مخصوص ہدف مانگتے ہیں۔ڈالر کا مسئلہ ہمارے پاس ڈالر کم ہیں تیل، گندم، دوائیں باہر سے خریدنی ہیں IMF کے بغیر ڈالر نہیں ملتے، روپیہ گرتا ہے، مہنگائی بڑھتی ہے تو مجبوراً ان کی بات ماننی پڑتی ہے۔گھر آپ کا ہے، خرچے آپ کی مرضی۔ لیکن اگر آپ نے بینک سے قرض لیا ہوا ہے تو بینک کہے گا "غیر ضروری خرچہ بند کرو، پہلے قسط دو"۔ IMF بھی وہی بینک ہے، بس پیمانہ پورے ملک کا ہے۔تو تکنیکی طور پر بجٹ اندرونی ہے، لیکن عملی طور پر جب تک ہم قرض میں ہیں، IMF کی رضامندی کے بغیر بجٹ پاس نہیں ہو سکتا۔ پاکستان ہر سال $60 ارب+ کی امپورٹ کرتا ہے۔ تیل، LNG، دوائیں، مشینری - سب ڈالر میں۔ ہمارے پاس ڈالر نہیں بنتے۔ IMF قسط دے تو ڈالر آتے ہیں، روپیہ مستحکم رہتا ہے۔ ورنہ 1 ڈالر = 400 روپے والا سین ہو جائے۔ہمارا بیرونی قرضہ $130 ارب+ ہے۔ ہر سال $20-25 ارب واپس کرنے ہیں۔ نئے قرضے کے بغیر پرانے نہیں اترتے World Bank, IMF, سعودیہ، چین یہی نئے قرضے دیت ہے۔امریکہ IMF بورڈ میں سب سے بڑا ووٹ رکھتا ہے۔ اگر امریکہ ناراض ہو جائے تو IMF پیسے نہیں دیتا پھر کوئی اور ملک بھی قرض نہیں دیتا ریٹنگ جنک ہو جاتی ہے۔لیکن آکسیجن کا مسئلہ یہ ہے مریض آکسیجن پر زندہ رہ سکتا ہے، صحت مند نہیں ہو سکتا۔ 35 سال سے ہم IMF پروگرام میں ہیں۔ ہر 3 سال بعد نیا پروگرام آکسیجن لگ گئی، سانس چل پڑی، پھر اتار دی۔ پھر سانس پھول گئی۔لیکن سوال یہ ہے ہم کب تک آکسیجن پر رہیں گے؟ برآمدات بڑھائیں، ٹیکس چوری روکیں، توانائی سستی کریں تبھی ہم وینٹی لیٹر سے اتر پائیں گے۔

بجٹ تو ہر ملک کا اندرونی معاملہ ہی ہوتا ہے۔ کوئی بھی ملک اپنی مرضی سے ٹیکس لگائے، خرچ کرے پھر IMF/World Bank بیچ میں کیوں آتے ہیں؟ جب پاکستان IMF سے بیل آؤٹ پیکج لیتا ہے، جیسے $3...

07/06/2026

*🌹الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا.. 🌹*
🌹 عیدِ غدیر مبارک 🌹
غدیر وہ دن ہے جب ولایتِ علیؑ کا اعلان ہوا اور حق کی راہ کو ہمیشہ کے لیے روشن کر دیا گیا۔
اللہ تعالیٰ ہمیں محبتِ اہلِ بیتؑ اور سیرتِ مولا علیؑ پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔




















Address

Karachi

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when INNTV posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to INNTV:

Share