09/06/2026
جونیئر سائنس ٹیچر امیدواروں کا کراچی پریس کلب پر احتجاج دھرنے میں تبدیل، مطالبات کی منظوری کا مطالبہ
سندھ بھر کے جونیئر سائنس ٹیچر 2026 کے امیدواروں نے اپنے جائز مطالبات کے حق میں احتجاج کیا، جو اب باقاعدہ دھرنے میں تبدیل ہو چکا ہے۔ امیدواروں کا کہنا ہے کہ پانچ سال بعد فریش گریجویٹس کو جونیئر سائنس ٹیچر ٹیسٹ کے ذریعے روزگار حاصل کرنے کا موقع ملا ہے، لیکن دستیاب سیٹیں انتہائی کم ہونے کے باعث ہزاروں قابل، اہل اور میرٹ پر پورا اترنے والے امیدوار شدید مایوسی کا شکار ہیں۔
امیدواروں نے سندھ حکومت اور وزیرِ تعلیم سندھ سردار شاہ سے مطالبہ کیا ہے کہ:
• بجٹ سے قبل نئی SNE کے ذریعے جونیئر سائنس ٹیچر کی مزید آسامیوں کی فوری منظوری دی جائے اور جونیئر سائنس ٹیچر 2026 کی سیٹوں میں نمایاں اضافہ کیا جائے۔
• ایلیمنٹری، مڈل، ہائی اور اپگریڈ ہونے والے تمام اسکولوں میں جونیئر سائنس ٹیچر کی مستقل آسامی مختص کی جائے تاکہ سائنس کی تعلیم کے معیار کو بہتر بنایا جا سکے۔
• پاسنگ مارکس اور کٹ آف میں مناسب نرمی کی جائے تاکہ زیادہ سے زیادہ اہل اور میرٹ پر پورا اترنے والے امیدواروں کو روزگار کے مواقع فراہم کیے جا سکیں۔
مظاہرین کا کہنا ہے کہ سندھ کے سرکاری اسکولوں میں اساتذہ کی ہزاروں آسامیاں خالی ہیں، اس لیے جونیئر سائنس ٹیچر کی سیٹوں میں اضافہ نہ صرف نوجوانوں کو روزگار فراہم کرے گا بلکہ تعلیمی نظام کو بھی مضبوط بنائے گا۔
دھرنے کے شرکاء نے سندھ حکومت، محکمہ تعلیم اور وزیرِ تعلیم سردار شاہ سے اپیل کی ہے کہ نوجوانوں کے مستقبل اور صوبے کے تعلیمی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے ان کے جائز مطالبات فوری طور پر تسلیم کیے جائیں تاکہ بے روزگار فریش گریجویٹس میں پائی جانے والی بے چینی اور مایوسی کا خاتمہ ہو سکے۔
جاری کردہ:
جونیئر سائنس ٹیچر 2026 امیدواران سندھ
Syed Sardar Ali Shah