News & Views

News & Views Spot-on reports & news from Karachi, Pakistan, Middle East, and around the world.

Every story that matters!

کراچی، پاکستان اور دنیا بھر کی اہم خبریں اور درست تجزیہ۔
​

"تاریخ کو جذبات اور نعروں کے بجائے حقائق کی روشنی میں سمجھنا چاہیے! تالپور دور میں سندھ کی سرکاری زبان سندھی نہیں بلکہ ف...
17/09/2026

"تاریخ کو جذبات اور نعروں کے بجائے حقائق کی روشنی میں سمجھنا چاہیے! تالپور دور میں سندھ کی سرکاری زبان سندھی نہیں بلکہ فارسی تھی"

پاسبان ڈیموکریٹک پارٹی کے رہنما الطاف شکور نے سندھ کی تاریخی حقیقتوں پر اہم روشنی ڈالی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ۱۷۸۳ء سے ۱۸۴۳ء تک تالپور حکمرانوں کے دور میں سرکاری اور عدالتی زبان فارسی تھی۔
ان کے مطابق اس دور میں سندھی عوام کی بول چال، تہذیب اور شاعری کی بنیادی زبان کی حیثیت رکھتی تھی۔
برطانوی قبضے کے بعد ۱۸۴۳ء میں فارسی کی جگہ سندھی کو رائج کر کے ۱۸۴۸ء میں سرکاری زبان بنایا گیا۔
الطاف شکور کا کہنا تھا کہ یہ حقائق کسی زبان کی اہمیت گھٹانے کے لیے نہیں بلکہ درست تاریخ سمجھنے کے لیے ہیں۔
انہوں نے زور دیا کہ باشعور قومیں اپنی شناخت جذباتی نعروں کے بجائے مستند تاریخی علم سے مضبوط کرتی ہیں۔

​

وسائل کی منصفانہ تقسیم اور سروس ڈیلیوری میں بہتری کے لیے نئے یونٹس کا قیام ناگزیر؛ ڈان نیوز کی رپورٹسندھ سے تعلق رکھنے و...
17/09/2026

وسائل کی منصفانہ تقسیم اور سروس ڈیلیوری میں بہتری کے لیے نئے یونٹس کا قیام ناگزیر؛ ڈان نیوز کی رپورٹ

سندھ سے تعلق رکھنے والے شہریوں نے ملک میں نئے انتظامی یونٹس کے قیام کی بھرپور حمایت کا اعلان کیا ہے۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ نئے انتظامی یونٹس بننے سے عوام کے سالہا سال سے معطل بنیادی مسائل جلد حل ہو سکیں گے۔
ان کے مطابق اندرونِ سندھ میں بجلی، پانی، گیس، معیاری سڑکیں اور ہسپتالوں جیسی بنیادی سہولیات کا شدید فقدان ہے۔
شہریوں نے گلہ کیا کہ موجودہ صوبائی حکومت نے نہ سڑکیں بنائیں، نہ ہسپتال اور نہ ہی اسکول قائم کیے۔
ان کا ماننا ہے کہ نیا انتظامی فریم ورک قائم ہونے سے مہنگائی میں کمی اور تعلیمی و صحتی سہولیات بہتر ہوں گی۔
شہریوں کے مطابق نئے سسٹم سے صوبائی وسائل کی منصفانہ تقسیم ممکن ہو گی اور سروس ڈیلیوری میں حقیقی بہتری آئے گی۔

​

چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے صوبوں کے معاملے پر وفاقی وزرا کو پارلیمان میں بحث کا کھُلا چیلنج دیا ہے۔لندن می...
16/09/2026

چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے صوبوں کے معاملے پر وفاقی وزرا کو پارلیمان میں بحث کا کھُلا چیلنج دیا ہے۔
لندن میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان کا کوئی بھی وفاقی وزیر اس ایشو پر ان سے ایوان میں مناظرہ کر سکتا ہے۔
بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ ملک کے موجودہ پیچیدہ مسائل کا حل کسی بھی ایک سیاسی جماعت کے پاس اکیلے موجود نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ محسن نقوی کو اپنی رائے کے اظہار کا حق حاصل ہے لیکن انہیں بزنس فورمز کے بجائے پارلیمان میں آنا چاہیے۔
ان کے مطابق اگر موجودہ انتظامی سسٹم فیل ہو چکا ہے تو قومی اسمبلی کے فورم پر اس کی وجوہات پر باقاعدہ بحث ہونی چاہیے۔
چیئرمین پی پی پی نے زور دیا کہ ملک کا آئینی و سیاسی مستقبل چند تاجروں یا بزنس مینوں کے ہاتھ میں نہیں دیا جا سکتا۔

"نظام بدلے گا اور نئے انتظامی یونٹس کی تشکیل ہر صورت ممکن بنائی جائے گی۔"ایم کیو ایم پاکستان کے سینئر رہنما وسیم اختر نے...
16/09/2026

"نظام بدلے گا اور نئے انتظامی یونٹس کی تشکیل ہر صورت ممکن بنائی جائے گی۔"

ایم کیو ایم پاکستان کے سینئر رہنما وسیم اختر نے سندھ میں نئے انتظامی یونٹس کے مخالفین پر طنز کیا ہے۔
انہوں نے "مرسوں مرسوں سندھ نہ ڈیسوں" کے نعرے لگانے والوں کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے ردِعمل دیا۔
وسیم اختر نے کہا کہ جو لوگ اس وقت سخت نعرے بازی اور مخالفت کر رہے ہیں وہ جلد تسلیم کریں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ جب بات آگے بڑھے گی اور بلڈ پریشر بڑھے گا تو سب کان پکڑ کر مان جائیں گے۔
انہوں نے واضح کیا کہ نئے انتظامی یونٹس اور اصلاحات کا قیام وقت کی اہم ترین ضرورت بن چکا ہے۔
وسیم اختر نے زور دیا کہ عوامی حقوق اور بہتر نظامِ حکومت کے لیے نئے یونٹس بن کر ہی رہیں گے۔

​

"محسن نقوی وزیراعظم کی پالیسی کو فالو کرتے ہیں۔ کچھ لوگ اپنے مفادات اور توقعات پوری نہ ہونے پر ان پر تنقید کر رہے ہیں۔"و...
16/09/2026

"محسن نقوی وزیراعظم کی پالیسی کو فالو کرتے ہیں۔ کچھ لوگ اپنے مفادات اور توقعات پوری نہ ہونے پر ان پر تنقید کر رہے ہیں۔"

وزیر مملکت طلال چوہدری نے نئے انتظامی یونٹس پر سندھ میں پیدا کی جانے والی سیاسی فضا پر تشویش ظاہر کی ہے۔
جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سندھ میں بلاوجہ ایسا تاثر قائم کیا جا رہا ہے جیسے ملک تقسیم ہو رہا ہو۔
طلال چوہدری نے واضح کیا کہ محسن نقوی ن لیگ اور وزیراعظم کے باضابطہ وزیر داخلہ ہیں اور انہی کی ہدایت پر عمل کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ وزیر داخلہ تمام انتظامی فیصلے حکومت کی مقرر کردہ واضح پالیسیوں کے تحت انجام دے رہے ہیں۔
ان کے مطابق بعض سیاسی افراد یا گروہ اپنی مخصوص توقعات پوری نہ ہونے پر وزیر داخلہ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہیں۔
انہوں نے زور دیا کہ انتظامی بہتری کے اقدامات کو ملکی یکجہتی کے خلاف پیش کرنے کا بیانیہ حقیقت کے منافی ہے۔

۱۹۹۷ کے بعد مون سون کا سب سے خشک ترین موسم؛ ستمبر کے وسط تک بارش کا کوئی امکان نہیںکراچی میں رواں برس مون سون کے موسم کے...
15/09/2026

۱۹۹۷ کے بعد مون سون کا سب سے خشک ترین موسم؛ ستمبر کے وسط تک بارش کا کوئی امکان نہیں

کراچی میں رواں برس مون سون کے موسم کے دوران تقریباً ۲۹ سال کی کم ترین بارشیں ریکارڈ کی گئی ہیں۔
محکمہ موسمیات کے مطابق شہر میں اس نوعیت کا شدید خشک موسم اس سے قبل ۱۹۹۷ میں دیکھا گیا تھا۔
رواں برس مون سون سیزن کا باقاعدہ اختتام ستمبر کے وسط تک ہونے کی توقع ظاہر کی گئی ہے۔
ماہرینِ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ باقی ماندہ دنوں میں بھی کراچی میں مزید بارش کا کوئی امکان نہیں ہے۔
شہر میں بارشوں کی عدم موجودگی کے باعث درپیش خشک سالی سے درجہ حرارت اور حبس میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
موسمیاتی تبدیلیوں اور ال نینو (El Niño) کے اثرات کو اس خشک سالی کی بنیادی وجہ قرار دیا جا رہا ہے۔
پانی کے پہلے سے موجود بحران کے پیشِ نظر بارشوں کا نہ ہونا شہر کے لیے مزید خدشات پیدا کر رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ مون سون کے اس خشک سپیل کے بعد اب موسمِ سرما کے سسٹمز کا انتظار کرنا ہو گا۔
اس صورتحال نے کراچی اور سندھ کے دیگر حصوں میں موسمیاتی اثرات پر نئی بحث کا آغاز کر دیا ہے۔

​

"جب تک اختیارات کا مرکز ختم کر کے نچلی سطح کے اداروں کو بااختیار نہیں بنایا جاتا، ملک میں بہتر گورننس کا قیام ممکن نہیں ...
15/09/2026

"جب تک اختیارات کا مرکز ختم کر کے نچلی سطح کے اداروں کو بااختیار نہیں بنایا جاتا، ملک میں بہتر گورننس کا قیام ممکن نہیں معلوم ہوتا۔"

سابق نگران وزیراعظم محمد میاں سومرو نے ملکی نظامِ حکومت اور گورننس پر اہم بیان جاری کیا ہے۔

انہوں نے زور دے کر کہا کہ پاور اور فیصلہ سازی کا حقیقی اختیار فوری طور پر ضلع اور تحصیل سطح تک منتقل کیا جانا چاہیے۔

محمد میاں سومرو کا کہنا تھا کہ مرکزی اور صوبائی سطح پر اختیارات کا جمود عوامی مسائل کے فوری حل میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ ملکی وسائل اور فنڈز کی تمام علاقوں میں مکمل طور پر مساویانہ اور مناسب بنیادوں پر تقسیم کو یقینی بنایا جائے۔

سابق وزیراعظم کے مطابق محض فنڈز کی فراہمی کافی نہیں بلکہ ترقیاتی رقم کے شفاف اور باقاعدہ آڈٹ کا نظام بھی نافذ ہونا چاہیے۔

انہوں نے واضح کیا کہ ملک کو موجودہ بحرانوں سے نکالنے کے لیے مضبوط فیصلہ سازی اور بااختیار مقامی حکومتوں کا ہونا انتہائی ضروری ہے۔

محمد میاں سومرو نے کہا کہ جب تک طرزِ حکمرانی یعنی گورننس کی بنیادوں کو درست نہیں کیا جاتا، عام آدمی کو ریلیف نہیں مل سکتا۔

ان کے مطابق انتظامی اختیارات نچلی سطح پر منتقل ہونے سے شفافیت قائم ہوگی اور صوبائی و مرکزی سطح پر کرپشن کا خاتمہ ہوگا۔

ان کے اس بیان نے ملک بھر میں جاری نئے انتظامی یونٹس اور نچلی سطح پر اختیارات کی منتقلی سے متعلق جاری بحث کو مزید طاقت دی ہے۔

"جب تک بانی پی ٹی آئی عمران خان کی رائے نہ آ جائے ہم انتظامی یونٹس کے عمل میں شامل نہیں ہوں گے! یہ فارم ۴۷ کی اسمبلی ہے"...
14/09/2026

"جب تک بانی پی ٹی آئی عمران خان کی رائے نہ آ جائے ہم انتظامی یونٹس کے عمل میں شامل نہیں ہوں گے! یہ فارم ۴۷ کی اسمبلی ہے"

پاکستان تحریک انصاف کے جنرل سیکریٹری سلمان اکرم راجا نے نئے انتظامی یونٹس پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
سانگھڑ میں جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عمران خان کی رائے کے بغیر انتظامی یونٹس کے عمل میں شامل نہیں ہوں گے۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت پہلے بانی پی ٹی آئی عمران خان کو اس قومی مکالمے کا حصہ بنائے پھر گفتگو کی جائے۔
سلمان اکرم راجا نے واضح کیا کہ ان کی جماعت سندھ کے تمام حقوق اور وہاں کے عوام کے ساتھ مکمل طور پر کھڑی ہے۔
انہوں نے मौजूदा اسمبلی کو 'فارم ۴۷' قرار دیتے ہوئے کہا کہ ۲۶ویں اور ۲۷ویں ترمیم کی طرح اسے نئی آئینی ترمیم کا حق نہیں۔
پی ٹی آئی رہنما کے مطابق نیا صوبہ آئینی ترمیم کے بغیر نہیں بن سکتا، اس کے لیے پہلے شفاف الیکشن کا انعقاد ضروری ہے۔

​

"موجودہ نظام میں کرپٹ اور نااہل افراد کے خلاف ایکشن لینا ناممکن ہو چکا ہے، ادارہ فارغ کرتا ہے اور وہ عدالت سے سٹے لے آتے...
14/09/2026

"موجودہ نظام میں کرپٹ اور نااہل افراد کے خلاف ایکشن لینا ناممکن ہو چکا ہے، ادارہ فارغ کرتا ہے اور وہ عدالت سے سٹے لے آتے ہیں۔"

وفاقی وزیر اور ایم کیو ایم رہنما مصطفیٰ کمال نے ملک کے موجودہ حکمرانی اور عدالتی نظام پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔

انہوں نے ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم سب کو کھلی آنکھوں سے یہ سچائی تسلیم کرنی ہوگی کہ پورا سسٹم تباہ اور ناکام ہو چکا ہے۔

مصطفیٰ کمال کے مطابق موجودہ نظامِ حکومت میں انتظامیہ کی طاقت بالکل ختم ہو چکی ہے اور برا کام کرنے والوں کی گرفت ناممکن ہو گئی ہے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ اگر آپ کسی کرپٹ یا برے کام کرنے والے افسر کو فارغ کرنا چاہیں تو وہ فوراً عدالت جا کر اسٹے آرڈر لے آتا ہے۔

انہوں نے افسوس ظاہر کیا کہ قانونی اور انتظامی سقم کی وجہ سے ملک کا پورا فریم ورک مفلوج ہو کر رہ گیا ہے۔

مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا کہ جب تک اس سڑے ہوئے نظام اور قانونی کمزوریوں کو یکسر تبدیل نہیں کیا جاتا، ملک آگے نہیں بڑھ سکتا۔

ان کے مطابق انتظامی نااہلی اور سٹے آرڈرز کے کلچر نے اداروں کو تباہ کر دیا ہے اور عوام کو بنیادی انصاف نہیں مل پا رہا۔

وفاقی وزیر نے تمام متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ وہ ملکی بہتری کے لیے نئے اور جدید انتظامی ڈھانچے کی تشکیل پر توجہ دیں۔

ان کے اس بیباک بیان نے ملک میں عدالتی اصلاحات، سٹے آرڈر کے غلط استعمال اور گورننس سے متعلق ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔

امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے حکومت پر قوم کا پیسہ عیاشیوں میں اڑانے اور شدید نااہلی کا الزام لگایا ہے۔انہوں نے...
13/09/2026

امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے حکومت پر قوم کا پیسہ عیاشیوں میں اڑانے اور شدید نااہلی کا الزام لگایا ہے۔
انہوں نے کہا کہ عوام کو ریلیف دینے کے بجائے حکمران طبقہ اپنی بے جا عیاشیوں اور نااہلی چھپانے میں مصروف ہے۔
حافظ نعیم الرحمان نے بتایا کہ عوامی ریلیف کے لیے جماعت اسلامی کا مرکزی دھرنا ۲۲ویں روز میں داخل ہو چکا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ملک بھر میں اس وقت عوامی مطالبہِ ریلیف کے حق میں ۳۰ سے زائد مقامات پر دھرنے جاری ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ حکومت کے ساتھ کل ہونے والے مذاکرات کے لیے جماعت اسلامی کی ٹیم مکمل تیار ہے۔
امیر جماعت اسلامی نے خبردار کیا کہ اگر مطالبات نہ مانے گئے تو لانگ مارچ اور حکومت گراؤ تحریک کا فیصلہ کیا جائے گا۔

​

Address

Karachi
75330

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when News & Views posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share