Master TV

Master TV Hello! Welcome to the official page of Master TV.

09/05/2026

Significance of Centre for Public Policy and Governance , FCCU Lahore.

In this insightful conversation, Major General (R) Dr. Noel Israel Khokhar, Director of Centre for Public Policy and Governance , shares the vision, role, and significance of this prestigious institution in shaping future leaders, policymakers, and governance professionals in Pakistan.

This discussion highlights how Forman Christian College is contributing to academic excellence, leadership development, public policy research, and national progress through CPPG.

Hosted by Ayaz Morris , CEO of Master TV , this interview offers valuable insights for students, researchers, policymakers, and anyone interested in governance and public leadership.

🎯 Topics Covered:
✔ Role of CPPG in Pakistan
✔ Leadership & Governance Development
✔ Public Policy Education
✔ Future Opportunities for Students
✔ Vision of FCCU Lahore

📍 Venue: Forman Christian College University
🎥 Presented by: Master TV

Coming up next only on Master TV
09/05/2026

Coming up next only on Master TV

On World Press Freedom Day, my message is clear for government institutions, news channels, newsrooms, and especially jo...
03/05/2026

On World Press Freedom Day, my message is clear for government institutions, news channels, newsrooms, and especially journalists themselves: take care of your mental health.

Your mind is your greatest weapon and your most valuable asset. No matter how tough your job is or how challenging your assignment may be, your mental health must always remain your first priority.

Take it seriously. Take responsibility for it.

When you are mentally strong and healthy, you can achieve great wonders and continue serving society with truth, courage, and responsibility.

On this important day, my message to all journalists is simple: Mental health is your greatest wealth.

Ayaz Morris
CEO Master TV

02/05/2026

"The Story of the book "Voices of Valour: A Tribute to Christian Defenders of Pakistan" |
Major General (r) Dr Noel Israel Khokhar | Ayaz Morris | Master TV |

ایازمورس کی کتاب ”زندہ لوگ“ کی پہلی باوقار تقریبِ رونمائیڈاکٹر ایچ ایم ڈریگو کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے پروگرام کا ا...
30/04/2026

ایازمورس کی کتاب ”زندہ لوگ“ کی پہلی باوقار تقریبِ رونمائی
ڈاکٹر ایچ ایم ڈریگو کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے پروگرام کا انعقاد

میرپورخاص (شیراز سائمن) معروف مصنف ایاز مورس کی کتاب ”زندہ لوگ“ کی پہلی باوقار تقریبِ رونمائی میرپورخاص میں منعقد ہوئی۔ اس تقریب کے مہمانِ خصوصی تقدس مآب کارڈینل جوزف کوٹس تھے، جو کراچی سے خصوصی طور پر تشریف لائے، جبکہ روٹری کلب کے ڈسٹرکٹ گورنر شکیل احمد قائم خانی مہمانِ خاص تھے۔ مصنف ایاز مورس اور کارڈینل جوزف کوٹس کا پرتپاک استقبال کیا گیا۔

پروگرام کا آغاز مذہبی ہم آہنگی کے خوبصورت پیغام کے ساتھ قرآنِ پاک کی تلاوت اور شمع روشن کر کے دُعا سے ہوا۔ ابتدائی دُعا فادر ولیم عماانوئیل نے کی جبکہ سینٹ بوناونچر سیمینری کے برادرز نے گیت پیش کیا۔ بعد ازاں تمام شرکاء نے قومی ترانہ گا کر تقریب کا باقاعدہ آغاز کیا۔ ماسٹر سیلویسٹربرکت نے مہمانوں اور شرکاء کو خوش آمدید کہا اور پروگرام کے اغراض و مقاصد بیان کیے۔یہ خوبصورت تقریب روٹری کلب آف میرپورخاص سینٹرل، سینٹ مائیکل کاتھولک چرچ میرپورخاص اور روٹریکٹ کلب آف میرپورخاص سینٹرل ڈیموکریٹک کے اشتراک سے“Unite for Good”کے پیغام کے تحت جوتی سینٹر ہال میں منعقد کی گئی۔

وٹری کلب آف میرپورخاص سینٹرل کے صدر ڈاکٹر منٹھار تھبوڈانے کہا کہ تقریب کا بنیادی مقصد میرپورخاص کی معروف شخصیت ڈاکٹر ایچ ایم ڈریگو کو خراجِ تحسین پیش کرنا اور اُن کی خدمات کو اجاگر کرنا تھا، جنہیں مصنف ایاز مورس نے اپنی کتاب ”زندہ لوگ“ میں قلمبند کیا ہے، اور وہ اس فہرست میں سرِفہرست شامل ہیں۔تقریب میں ڈاکٹر ڈریگو کی بیٹی ڈاکٹر فیلومیناڈریگو، کارڈینل جوزف کوٹس، ڈسٹرکٹ گورنر شکیل احمد قائم خانی، پونم پاسکل، پادری شامو،پادری عارف منضور،دومنیک اسٹیفن، ڈاکٹر جیکب ظہیرالدین، شہزاد ملک، فرقان احمد شیخ، ڈاکٹر نصیر شیخ، روٹری کلب سینٹرل کے اراکین،سسٹرز صاحبات، پادری صاحبان و دیگر نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔

اس موقع پر ڈاکٹر ایچ ایم ڈریگو کی بیٹی ڈاکٹر فیلومینا نے اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے مصنف ایاز مورس کا شکریہ ادا کیا اور اس شاندار تقریب کے انعقاد پر منتظمین اور مہمانوں، خصوصاً کارڈینل جوزف کوٹس اور دیگر شہروں سے آئے ہوئے شرکاء کا تہہ دِل سے شکریہ ادا کیا۔
مصنف ایاز مورس نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انہیں خوشی ہے کہ انہوں نے ڈاکٹر ایچ ایم ڈریگو جیسی عظیم شخصیت کی خدمات کو اجاگر کیا، جن کی خدمات معاشرے کے لیے بے مثال ہیں۔تقریب سے پونم پاسکل، سلیم ڈومنک اور روٹری کلب میرپورخاص کے ڈسٹرکٹ گورنر شکیل قائم خانی نے بھی خطاب کیا اور ڈاکٹر ایچ ایم ڈریگو کی زندگی اور خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ ڈسٹرکٹ گورنر شکیل قائم خانی نے کہا کہ ان کی کوشش ہے کہ وہ ڈاکٹر ڈریگو کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے اپنی خدمات انجام دے سکیں۔ انہوں نے مصنف ایاز مورس کا شکریہ ادا کیا جن کی کاوشوں سے یہ تقریب ممکن ہوئی

مہمانِ خصوصی کارڈینل جوزف کوٹس نے اپنے خیالات کا
اظہار کرتے ہوئے ڈاکٹر ڈریگو کی خدمات کو سراہا اور مصنف کی کاوشوں کی تعریف کی۔تقریب میں ڈاکٹر ڈریگو کی یاد میں خصوصی کیک کاٹا گیا۔ کتاب کی تقریبِ رونمائی کے موقع پر کتاب کو نہایت خوبصورتی سے سجا کر پیش کیا گیا۔ ڈاکٹر فیلومینا ڈریگو نے مصنف ایاز مورس کے ہمراہ ربن کاٹ کر کتاب شرکاء کے سامنے پیش کی تو پورا ہال تالیوں سے گونج اٹھا۔

تقریب کے اختتام پر مہمانوں کو سندھی ثقافت کی روایتی اجرک اور سندھی ٹوپی پیش کی گئی۔ محمد بخش کپری نے تمام مہمانوں اور شرکاء کا شکریہ ادا کیا گیا۔ تمام روٹیرین، پیرش پریسٹ فادر کیمسٹون مونگا، جوتی سینٹر کے ڈائریکٹر فادر تھامس کنگ اور پروگرام کے انتظامت کے فرائض انجام دینے والے طلال خان کا شکریہ ادا کیا۔ اس موقع پر تمام روٹیرین اور مہمانوں نے گروپ فوٹو بنوایا جبکہ شرکاء کے لیے بہترین ریفریشمنٹ کا بھی انتظام کیا گیا۔

زندہ لوگ: فن و شخصیت کے آئینے میںڈاکٹر شاہد ایم شاہد آسمان و زمین ایک حقیقت ہے۔ خدا کے تجسم کی عمل داری ہے۔ صدیوں کی دری...
30/04/2026

زندہ لوگ: فن و شخصیت کے آئینے میں
ڈاکٹر شاہد ایم شاہد

آسمان و زمین ایک حقیقت ہے۔ خدا کے تجسم کی عمل داری ہے۔ صدیوں کی دریافت ہے۔ نہ اس کا شروع نہ آخر بلکہ تا قیامت قائم و دائم رہنے والا ایک سلسلہ ہے۔ دنیا میں آنکھ کھولتے ہی انسان پر مکاشفے کھلنے لگتے ہیں۔ قدرت اپنے رازوں کو منکشف کرنا شروع کر دیتی ہے۔ انسان ایک خاص مقصد کے تحت پیدا کیا گیا ہے۔ اس کی تاریخ اتنی ہی پرانی ہے جتنا آسمان و زمین کا تجسم۔
خدا کائنات اور انسان کا باہمی تعلق ہے جن پر کچھ لکھنا چراغ کو روشنی دکھانے کے مترادف ہے۔ تاہم پھر بھی تجسس عرفانی سرگوشی کر کے اہداف و مقاصد کا تعین کر لتا ہے۔ کوئی انسان عقل کل نہیں ہے بلکہ ہر انسان اپنی بساط کے مطابق زندگی کے باغیچے میں یادوں کے گل اگاتا ہے۔ سبھی لوگ ایک جیسے ہی پیدا کیے گئے ہیں۔ البتہ فرق اس وقت سامنے آتا ہے جب کوئی عام سے خاص بن جاتا ہے۔ قوت ارادی مقاصد کے پر پھیلا کر اڑان سکھا دیتی ہے۔ جب عام سے لوگ اونچی پرواز بھرتے ہیں۔ عوام کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ جاتی ہیں۔ اس پر عجیب و غریب کیفیت طاری ہو جاتی ہے۔ وہ سوچ کے ناخن سے اپنی قسمت کا دروازہ کھرچنے لگتا ہے۔ کبھی اپنی ذات سے شکوہ اور کبھی قانون قدرت سے۔ مگر قسمت کے کھیل انوکھے ہوتے ہیں۔ انھیں کون ہار جیت میں بدل سکتا ہے۔ البتہ کائنات کی وسعتوں میں یہی ایک فرق ہے کہ یہاں کوئی بادشاہ ہے اور کوئی فقیر۔ کوئی تخلیق کار ہے اور کوئی ان پڑھ۔ وقت کی انوکھی داستان ہے جو حیرتوں کے جہان آباد کر کے دل چسپ مناظر پیدا کر دیتی ہے۔

آسمان کے نیچے روئے زمین پر اربوں لوگ بستے ہیں۔ ہر انسان خدا کی صورت پر پیدا ہونے کے باوجود اپنی عادات، کردار اور حاصلات میں ایک دوسرے سے مختلف ہے۔ قدرت نے کچھ لوگوں کو الگ پیدا کیا ہوتا ہے۔ ان کی شخصیت کے پرتو میں ایک خاص کشش ہوتی ہے جو انفرادیت کے لبادے میں پہچان کا ذریعہ بنتی ہے۔ شخص سے شخصیت بنتے بنتے عمر گزر جاتی ہے۔ پھر کہیں جا کر زندگی کامیابی کا پہاڑا گنگناتی ہے۔ لوگ رشک و تحسین بھرے جذبات کا اظہار کرتے ہیں۔ تخلیق، تحقیق اور تنقید انسانی فطرت کا خاصا ہے۔ انسان نے روز اول سے ہی قلم کی قوت کے بل بوتے پر تاریخ ادب میں زندہ رہنا سیکھا ہے۔ ہماری دنیا میں اربوں کھربوں کتابیں لکھی جا چکی ہیں۔ اصناف ادب میں ہر کسی نے اپنے اپنے حصے کی شمع جلا کر تاریک راہوں کو روشن کرنے کی کوشش کی ہے۔ یہ عمل وقوع پذیر ہونے سے لے کر نفوذ ہونے تک کارآمد ہے۔

سوشل میڈیا کے بڑھتے ہوئے اثرات نے نہ صرف تخلیقی صلاحیتوں کو متاثر کیا ہے بلکہ قارئین کو بھی نظروں سے اوجھل کر دیا ہے۔ پتہ نہیں یہ وقت کی سزا ہے یا غیر مہذب ہونے کا ثبوت۔ خیر دنیا میں اب بھی بہت سے ایسے لوگ موجود ہیں جو ادب پروری کا جذبہ رکھتے ہیں۔ خوابوں کی تعبیر کرتے ہیں۔ انسانیت کی خدمت کرتے ہیں۔ لوگوں کے دلوں میں زندہ رہتے ہیں۔ ناقابل فراموش کارنامے سر انجام دیتے ہیں۔ انہی چند لوگوں میں ایاز مورس کا نام بھی شامل ہے جس نے اپنی صلاحیتوں کے مرہون منت خاص مقام حاصل کیا ہے۔ زندہ لوگ جیسی کتاب لکھ کر مصنف بننے کا جوہر دکھا دیا ہے۔ یہ اس کی پہلی کامیابی ہے جو اس نے خداداد صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے حاصل کر لی ہے۔ کتاب میرے ہاتھوں میں ہے۔ ورق گردانی کے بعد اپنے احساسات، تجربات اور مشاہدات کو زینت ایاز بنا دوں تاکہ پذیرائی کا عمل ادھورا نہ رہ جائے۔ کتب بینی میرا پسندیدہ مشغلہ ہے اور اس سے بڑھ کر مصنف کی داد و تحسین کرنا میری اولین ذمہ داری میں شامل ہے۔ میں فاضل دوست کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے مضمون کا سہارا لوں، تمثیل نگاری کی روایت اجاگر کروں، انشائیہ پردازی کا تجسس پیدا کروں یا افسانوی کرداروں کو روح میں بیان کروں۔ حقائق تو وہی ہوتے اور زندہ رہتے ہیں لیکن فرق اور تجسس شگفتہ بیانی کی بدولت قائم رہتا ہے۔ میں اپنے ہاتھوں میں ایک کتاب تھامتا ہوں جس کا عنوانی نوشتہ زندہ لوگ سچی کہانیوں پر مشتمل ہے۔ اس کتاب کے مصنف روزنامہ ایکسپریس سنڈے میگزین کے لکھاری جناب ایاز مورس ہیں۔ وہ تواتر و تسلسل کے ساتھ روزنامہ ایکسپریس میں لکھ رہے ہیں۔ وہ کئی دہائیوں سے ڈیجیٹل میڈیا کے سفیر ہیں۔ اس امر کے ساتھ ساتھ شخصیت نگاری پر قلم اٹھانے کا تجربہ اور گہری قابلیت رکھتے ہیں۔

اس نے زندہ لوگوں کو تاریخ ادب کی لڑی میں جس خوب صورتی کے ساتھ پرویا ہے۔ وہ عمل نہ صرف قابل تحسین ہے، بلکہ مصنف کی فخریہ پیشکش کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ جن کا فن و شخصیت کتاب کے اوراق پر پھیلا ہوا ہے۔ اس نے جس محنت اور عرق ریزی سے زندہ لوگوں کی کہانیوں کو مشق بام تک پہنچایا ہے۔ وہ ایک پیچیدہ اور سنجیدہ نسخہ ہے جس کا دوسروں تک بانٹنا فراخ دلی کے زمرے میں آتا ہے۔ وہ ان ہیروں کی تلاش میں کبھی مٹی کی تہوں کو کھودتا ہے، کبھی ریت کے ذروں کو الگ کرتا ہے، کبھی گم شدہ لوگوں کو ڈھونڈنے کے لیے شہر شہر سفری کوفت برداشت کرتا ہے۔ حالات و واقعات کی پرواہ نہ کرتے ہوئے خود مٹی بن جاتا ہے۔ مگر دوسروں کے فن و شخصیت پر سونے اور چاندی کے رنگ چڑھا دیتا ہے۔ میں قارئین پر اس بات کو بھی واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ وہ رنگ چڑھانے کا عادی نہیں بلکہ حقیقت پسندی کی پرکار گھمانے کا فن جانتا ہے۔ اس کی آنکھوں میں جن جن شخصیات کا عکس اترا ان سب کی ایک ایک تصویر بنا ڈالتا ہے۔ اس نے ہر ممکن کوشش کی ہے کہ تاریخ کے جھروکوں میں جو لوگ گمشدہ سکوں کی مانند تھے۔ ان کی تلاش کر کے قدر و قیمت بڑھا دی ہے۔ وہ محض انوکھی داستان نہیں بلکہ زندگی کے نچوڑ کو قلم کی سیاہی سے اوراق کی زینت بنا دیا ہے۔ اس کے ذاتی تجسس نے خزاں میں بہار کے پھول کھلا دیے ہیں۔ وہ یوں رقم طراز ہے۔

ایسے لوگوں کی کہانی جنھوں نے اپنی محنت لگن اور سچائی سے معاشرے میں خدمت کو زندگی کا مقصد بنایا۔

32 لوگوں کا انتخاب اس حقیقت کا غماز ہے کہ مصنف اپنے آبا و اجداد سے کس قدر محبت کرتا ہے۔ جہاں ان کی اولاد انھیں پہچاننے سے قاصر ہے وہاں فاضل دوست کی محبت زندہ احساس میں بدل جاتی ہے۔ یوں ایک ایسی کہانی معرض وجود میں آتی ہے، جو لوگوں کی توجہ کا مرکز بن جاتی ہے۔ جہاں دل چسپی کے ایسے مناظر پیدا ہو جاتے ہیں۔ جنھیں بار بار دیکھنے کو دل کرتا ہے۔ ظاہر ہے جس تحریر میں تجسس کی روح پھونک دی جائے۔ وہاں فن و شخصیت کو چار چاند لگ جاتے ہیں۔ فاضل دوست کی چھٹی حس انھیں کئی دہائیوں سے چراغ جلا کر ڈھونڈ رہی تھی۔ آخر کار اس کی محنت رنگ لے آئی، جس نے گھر گھر، گاؤں گاؤں، شہر شہر دھوم مچا رکھی ہے۔ تبصرے اور تجزیے سوشل میڈیا کے پلیٹ فارم سے لے کر قومی اخبارات تک رسائی حاصل کر رہے ہیں۔ یہ کتاب کوئی فلسفیانہ خیالات کی عکاس تو نہیں ہے۔ البتہ ان شخصیات کی خدمات کے اعتراف کا ایک بنیادی جز ہے جو حقیقت پسندی کا شاندار تجربہ ہے۔ ایاز نے زندگی کے جھوٹے اور مصنوعی راگ الاپنے کی بجائے اصلی چہروں کی پہچان کا رخ متعارف کروایا ہے جو تاریخ ادب میں سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس کا یہ عمل اسے دیر تک زندہ رکھے گا۔ اس کے غبار سے کئی خاکے جنم لیں گے۔

اس نے ناہموار راہوں پر سفر کر کے قوم کے ایسے لوگوں کو تلاش کیا ہے جنھیں خدا تو جانتا تھا لیکن لوگوں کے دلوں میں زندہ نہ تھے۔ اس کی سچی لگن اور محنت نے اسے ایک ایسے مقام پر لا کر کھڑا کر دیا ہے جہاں اس کی ذاتی پہچان ہونے کے ساتھ ساتھ ان لوگوں کی پہچان بھی سامنے آئی ہے شاید وہ تاریخ کی دھول میں گم ہو گئے تھے۔ اس کی فراخ دلی اور عظمت کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں جس کی زندہ دلی نے زندہ لوگ جیسی کتاب کو تخلیق کیا۔ ان تمام مشاہیر کی تاریخ پڑھنے کے بعد اس بات کا بخوبی اندازہ ہو جاتا ہے کہ یہ کتنے گہرے، سچے، محنتی، دیانت دار اور عظیم لوگ تھے۔ ایاز کی منطقی سوچ نے ہم سب کو سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ وہ اپنے اسلاف سے کتنی زیادہ محبت کرتا ہے۔ یہ کتاب ایک تحریک بھی ہے اور سچائی کا انمول تحفہ بھی۔ ہمیشہ خداداد صلاحیتیں اور خوبیاں پہچان کا ذریعہ بنتی ہیں۔ اگرچہ دولت وقتی طاقت اور اختیار کا نشہ ضرور ہے لیکن تاریخ کے سنہری حروف میں زندہ رہنا منفرد لوگوں کا شیوہ ہے۔ دنیا میں ہمیشہ وہی لوگ سرخرو ہوئے ہیں۔ جنھوں نے محنت، لگن اور اور ایمانداری کا ہاتھ تھاما ہے۔ پھر اس ہاتھ نے نہ تو انھیں گرنے دیا ہے اور نہ بکھرنے دیا۔

مذکورہ کتاب میں زندگی کی وہ تمام ان مٹ داستانیں اور خدمات کا احاطہ کیا ہے، جو تاریخی، ثقافتی اور معاشرتی تہذیب کا حصہ رہی ہے۔ انفرادیت سے اجتماعیت تک جن روشن پہلوؤں کو اجاگر کیا گیا ہے وہ انسانیت، بشریت اور آدمیت کی بہترین ترجمانی ہے۔ دلوں میں زندہ رہنے کا فن تو ہر کسی کو نہیں آتا کیونکہ ہر انسان کی طبیعت میں خدمت اور محبت کا جذبہ موجود نہیں ہوتا۔ اس لیے وہ زندگی کے میدان میں بہت پیچھے رہ جاتے ہیں۔ شکست کھا کر بے دل ہو جاتے ہیں۔ لیکن دنیا کی تاریخ ایسے لوگوں سے بھرپور ہے جن کا فن و شخصیت ہر موسم میں ہرے بھرے درخت کی مانند رہا ہے۔ وہ ایک ایسے موسم کی مانند ہوتے ہیں جن پر ہزار دفعہ خزاں گزرے۔ نہ تو وہ مرجھاتے ہیں اور نہ ساتھ چھوڑتے ہیں۔ بلکہ انھیں ہر دور اور تاریخ نے زندہ رکھا ہے۔ ایاز مورس کی کوشش بھی کچھ ایسے لمحات میں ڈھل گئی ہے، جہاں فن و شخصیت سنہری حروف کی ضرورت محسوس کرتے ہیں۔
Master TV | Ayaz Morris | Shahid Masih |

فضیلت مآب کارڈینل جوزف کوٹس،  مصنف ایاز مورس کی کتاب "زندہ لوگ" کی تقریبِ رونمائی اور ڈاکٹر ڈریگو کو خراجِ تحسین پیش کرن...
29/04/2026

فضیلت مآب کارڈینل جوزف کوٹس،
مصنف ایاز مورس کی کتاب "زندہ لوگ" کی تقریبِ رونمائی اور ڈاکٹر ڈریگو کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے پروگرام میں بطور مہمانِ خصوصی شریک ہوئے اور اپنے خیالات کا اظہار کیا۔
اس موقع پر انتظامیہ اور شرکاءِ تقریب کی جانب سے انہیں سندھی اجرک اور سندھی ٹوپی کے روایتی تحائف پیش کیے گئے۔
ماسٹر ٹی وی اور ایاز مورس، کارڈینل جوزف کوٹس کی اس باوقار تقریب میں بطور مہمانِ خصوصی شرکت پر دل
کی گہرائیوں سے ان کے شکر گزار ہیں۔
Master TV | | Ayaz Morris | Sheraz Simon

29/04/2026

Master TV 's Ayaz Morris had the honor of conducting an online interview with renowned gynecologist Dr. Tahira Kazmi —a senior consultant, trainer, author, and truly inspiring personality.

She is currently serving with the Oman Government as a healthcare consultant, making significant contributions to the medical field.

In this insightful conversation, we explored her early life, where her passion for learning, discipline, and service began to take shape. She shared how her formative years influenced her journey into medicine, leadership, and writing.

We also discussed her literary journey and her passion for creative writing. She spoke about her four books, the importance of promoting a reading culture, and how literature can play a vital role in building a progressive society.

Her thoughtful perspectives and inspiring life story make this interview truly worth watching.

🎥 Watch the full interview.

کتھائیں اجلے لوگوں کی  عثمان جامعی  بہ قول علامہ اقبال ان کی ساری سرگزشت ”کھوئے ہوؤں کی جستجو“ ٹھہری، اور ہمارے نوجوان ...
29/04/2026

کتھائیں اجلے لوگوں کی
عثمان جامعی

بہ قول علامہ اقبال ان کی ساری سرگزشت ”کھوئے ہوؤں
کی جستجو“ ٹھہری، اور ہمارے نوجوان دوست ایاز مورس کی ساری کہانی حوصلہ بڑھانے کی تگ و دو ہے۔ وہ ”حوصلہ ساز مقرر Motivational Speaker) ) ہے، اور اس حیثیت میں اپنے لفظوں کے جگنو اْڑا کر نوجوانوں کو آگے بڑھنے کا راستہ دکھاتا ہے۔ بہ طور قلم کار وہ ترقی اور کام یابی کے گْر بتاتا اور اپنے پڑھنے والوں کو سوچنے اور غور کرنے کی سمتیں عطا کرتا ہے، اس کا کھوج کھوج کر سماج کو اپنے اجالے سے منور کرنے والی شخصیات تلاش کرنا اور ان کے کام، زندگی اور افکار کو قارئین تک پہنچانا بھی حوصلہ سازی کی اسی مہم کا حصہ ہے جو ایاز ہمہ وقت چلائے ہوئے ہے۔ ان شخصیات کے احوال زیست کے ذریعے وہ مشکلات سے لڑنے اور مصائب سے مقابلے کی ہمت بڑھاتی کہانیاں نوجوانوں کے سامنے لاتا ہے۔ اس کی اپنی زندگی بھی اپنے اندر امید کا دیا جلا کر اور آنکھوں میں خواب کی تابانی سجا کر اندھیروں کو ہرانے کی ایسی ہی کہانی ہے۔

متوسط طبقے کے دیہی خاندان کے اس فرزند نے شاید اپنے سفر میں جس سب سے بڑی رکاوٹ کو عبور کیا وہ احساس کم تری کا پہاڑ تھا، جو دیہات اور قصبوں سے تعلق رکھنے والے اکثر نوجوان خود اپنی راہ میں حائل کرلیتے ہیں اور پھر شہری بابوؤں کے رویے اس پہاڑ کو بلند کیے جاتے ہیں۔ اس کے راستے کی کھائی وہ بے گانگی کا احساس بھی ہو گا جو ہماری ان مذہبی اقلیتوں کے افراد کو آگے بڑھنے سے روکتا ہے جن کی مذہبی برادریاں اپنے مذہب سے زیادہ اپنے طبقے کی بنا پر معاشرے میں غیریت کا درد سہ رہی ہیں، یعنی مسیحیوں کی بڑی تعداد اور پچھڑی ہوئی ذاتوں کے ہندو، ایاز کے ارادوں کو یہ کھائی بھی نہ روک پائی۔

وہ مسلسل آگے بڑھتا رہا اور آج معاشرے میں اپنا ایک معزز اور معتبر مقام بنا چکا ہے۔ اس کی اصل کام یابی یہ ہے کہ علم و ترقی کے کتنے ہی زینے چڑھ جانے کے باوجود اس نے اپنے لباس اور جوتوں سے اپنے گاؤں کی مٹی نہیں جھاڑی۔ وہ پوری طرح اپنے کھیتوں، کھلیانوں اور کچی گلیوں سے جُڑا ہے، اور دوران گفتگو مغربی مفکرین کے نہیں اپنے زیرک دادا کے تجربات میں گْندھے اقوال پورے فخر سے بیان کرتا ہے۔ اپنی ذات کا یہی اعتماد اور خودشناسی وہ دوسروں میں بانٹ رہا ہے۔

ایاز مورس کی اس کتاب میں شامل مضامین روزنامہ ایکسپریس کے سنڈے میگزین میں شایع اور بہ طور مْدیر میری نظر سے گزر چکے ہیں۔ مصنف نے ”زندہ لوگ“ کا خوب صورت عنوان دے کر کتاب کا حصہ بنی تحریروں کو معنویت عطا کردی ہے۔ ایاز مورس نے ان مضامین کے ذریعے قارئین کو بہت سی ایسی شخصیات سے روشناس کرایا جن کی اپنے اپنے شعبوں میں گراں قدر خدمات ہیں، لیکن یا تو انھیں سرے سے جانا ہی نہیں جاتا یا وہ یادداشتوں سے اتر چکی ہیں۔

مصنف کی چنیدہ شخصیات میں مسلمان بھی شامل ہیں، لیکن ان میں سے زیادہ تر کا تعلق مسیحی برادری سے ہے۔ جتنا میں ایاز کو جانتا ہوں وہ ایک راسخ العقیدہ مسیحی ہے، لیکن تعصب اور تفریق کا اس کی شخصیت اور برتاؤ میں شائبہ تک نہیں ملتا۔ اس نے اپنی ہم مذہب شخصیات پر زیادہ لکھا تو اس کا مقصد ایک طرف مسیحیوں خاص طور پر مسیحی پاکستانیوں کی نوجوان نسل کو یہ بتانا تھا کہ ان کی برادری نے کس پائے کی شخصیات پیدا کی ہیں، جو مسیحی پاکستانیوں اور ملک کے لیے قابل فخر ہیں۔

اس طرح ایاز نے یہ حقیقت بھی اجاگر کی کہ پاکستان میں غیر مسلم افراد نے اپنی صلاحیتوں کی بنیاد پر خود کو منوایا۔ یوں وہ اپنے مسیحی قارئین کو بین السطور یہ سمجھاتا ہے کہ پاکستان میں ان کے لیے وہ تمام امکانات موجود ہیں جو ان کے ہم وطن مسلمانوں کو حاصل ہیں۔ ساتھ ہی وہ اپنے مسلم قارئین تک مسیحی شخصیات کا تعارف پہنچا کر ملک کی تعمیر و ترقی اور سماج کی بہتری کے لیے مسیحی برادری کا روشن کردار اجاگر کرتا ہے۔

یوں وہ ہم وطنوں کو جوڑنے اور ان کے درمیان بے گانگی کی خلیج پاٹنے کا مخلصانہ فریضہ انجام دے رہا ہے۔ اپنے ان زاویوں کے ساتھ ایاز مورس اور اس کی یہ کتاب محض قلم کار اور تصنیف نہیں رہتے، بلکہ صاحب کتاب اور کتاب پاکستان میں مذہبی آزادی، غیر مسلم اقلیتوں کے لیے ملک میں مواقع اور ملک سے مسیحی برادری کی محبت کے ترجمان اور بیانیہ بن کر سامنے آتے ہیں۔ اس پہلو سے قطع نظر بھی ”زندہ لوگ“ اپنے مواد کے اعتبار سے ایک دل چسپ اور ہماری معلومات میں اضافہ کرنے والی کتاب ہے، جو ہمیں کتنی ہی ایسی شخصیات اور ان کے کارناموں سے روشناس کراتی ہے جو ہمارے اردگرد پھیلی تاریکیاں دور کرنے کے لیے اپنے اپنے حصے کے چراغ جلا گئے۔

ایسے ہی افراد زندہ لوگ کہے جانے کے مستحق ہیں۔ ہم انھیں خراج تحسین پیش کرنے کے لیے کم ازکم اتنا تو کر سکتے ہیں کہ ان کے بارے میں جان لیں، پڑھ لیں، انھیں یاد کر لیں۔ ایاز مورس نے ان اُجلے لوگوں کی بابت لکھ کر اپنا فرض پورا کر دیا، اب یہ ہماری ذمے داری ہے کہ اس کتاب کے ذریعے اپنے سماج کے ان روشن کرداروں سے خود بھی آگاہ ہوں اور یہ آگاہی اپنی آئندہ نسلوں کو بھی منتقل کریں۔
Master TV | Ayaz Morris | Sheraz Simon |

22/04/2026

"Inspring Life Journey of Major General (r) Noel I Khokhar." | Ep 01 | Ayaz Morris | Master TV |

Address

DHA Phase II Ext
Karachi
75500

Telephone

+923422739678

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Master TV posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Master TV:

Share