24/02/2026
My Country, My Responsibility
میرا ملک، میری ذمہ داری
پاکستان کا مطلب کیا؟
یہ سوال آج بھی ہر نسل پوچھتی ہے۔ مگر سچ یہ ہے کہ ہم نے اس سوال کو صرف نعرہ بنا دیا، جواب نہیں۔
ہم ایک ایسے معاشرے میں رہ رہے ہیں جہاں ہر شخص ملک سے لینے میں مصروف ہے، دینے میں نہیں۔
بڑی کرنسیوں پر چھوٹے کردار، اور چھوٹے گھروں میں بڑے ضمیر والے لوگ۔
منبروں پر سچ کم اور دکھاوا زیادہ، جبکہ سچ بولنے والے اکثر کنارے بیٹھے رہ جاتے ہیں۔
ہم وطن کے نام پر جذباتی نعرے لگاتے ہیں، مگر ذاتی فائدے کے وقت ملک کو بھول جاتے ہیں۔ ریٹائرمنٹ کے بعد ساری فکر اپنی فیملی کی بیرونِ ملک سیٹلمنٹ تک محدود ہو جاتی ہے۔ عوام؟ نظام؟ نوجوان؟ بس باتوں تک۔
تعلیم کے نام پر بھی ایک تلخ حقیقت ہے۔
شاگرد غریب، ادارے امیر۔
نصاب پرانے زمانے کا، مستقبل جدید دور کا۔
بچے کو سوچنا نہیں سکھایا جا رہا، بس رٹنا سکھایا جا رہا ہے۔ نتیجہ؟ ڈگری ہے، سمت نہیں۔
استاد بھی اکثر مجبوری میں ہے، جذبے میں نہیں۔ نوکری کو مشن نہیں، بوجھ سمجھ کر کیا جا رہا ہے۔ اور جب بنیاد کمزور ہو تو عمارت کیسے مضبوط ہوگی؟
اگر ہم نے آج بھی صرف شکایت کی اور ذمہ داری نہ لی، تو آنے والا وقت ہمیں معاف نہیں کرے گا۔
ملک حکومت سے نہیں بنتا، رویّوں سے بنتا ہے۔
نظام اوپر سے نہیں بدلتا، نیچے سے بدلتا ہے۔
پاکستان صرف ایک نام نہیں، ایک امانت ہے۔
اور امانت کا تقاضا ہے کہ ہم خود بدلیں، سچ بولیں، انصاف کریں، اور کم از کم اپنی جگہ پر ایماندار رہیں۔
ملک ہم سے ہے۔ اگر ہم بدلیں گے تو پاکستان بدلے گا۔