Quaid e Azam

Quaid e Azam Muhammad Ali Jinnah
Former Governor-General of Pakistan
He was a barrister, politician and the found

14/09/2026

جب دفاعی ادارے بزنس کرنے لگیں، بزنس میں سیاستدان ہونے لگے،
تو سیاستدانوں کے حصے میں صرف دفاع رہ جاتا ہے۔

اس ملک کو سب نے بجایا ہے اب بچا بچا گلی گلی شھر شھر بجا رہا ہے باجا۔طاقتور کو آزادی میں دلچسپی نہیں اور غریب بچایا
14/08/2026

اس ملک کو سب نے بجایا ہے اب بچا بچا گلی گلی شھر شھر بجا رہا ہے باجا۔

طاقتور کو آزادی میں دلچسپی نہیں اور غریب بچایا

09/08/2026

" ہم غلہ کس سے کرے ہم شکایت کس سے کرے، جب میرے عزیز ہم وطنوں نے ملک سنبھال رکھا ہے "

میاں رضا ربانی کا نئے صوبوں کے قیام سے متعلق بیانمیاں رضا ربانی، سابق چیئرمین سینیٹ، نے پاکستان میں نئے صوبوں کے قیام کی...
07/08/2026

میاں رضا ربانی کا نئے صوبوں کے قیام سے متعلق بیان

میاں رضا ربانی، سابق چیئرمین سینیٹ، نے پاکستان میں نئے صوبوں کے قیام کی مہم کے حوالے سے ایک تفصیلی پریس بیان جاری کیا ہے، جس میں انہوں نے نئے صوبوں کے قیام، نظامِ حکمرانی، وفاقی ڈھانچے اور صوبائی خودمختاری سے متعلق اپنے مؤقف کا اظہار کیا ہے۔

1۔ نئے صوبوں کے قیام اور نظامِ حکمرانی کی ناکامی سے متعلق بحث نے ایک نئی اور شدید بحث کو جنم دیا ہے۔

2۔ اگر نظامِ حکمرانی ناکام ہے تو اس کی وجہ صرف چار صوبوں کا وجود نہیں، بلکہ اس کے پسِ پشت کئی دیگر عوامل اور حقائق بھی کارفرما ہیں، جن میں درج ذیل شامل ہیں:

(i) جمہوری عمل کو بار بار پٹڑی سے اتارنا؛

(ii) سیاسی میدان کو سول اور عسکری بیوروکریسی کے حوالے کرنا؛

(iii) اختیارات کو اسلام آباد میں مرتکز کرکے وفاق کو کمزور کرنا؛

(iv) آمروں کو یہ اجازت دینا کہ وہ اپنی مرضی سے آئین میں ترامیم کریں اور اس کے بنیادی اصول، یعنی Grundnorm، کو تبدیل کریں؛

(v) 1947ء سے آج تک حکمرانی کے دس سے زائد مختلف نظاموں اور تجربات سے گزرنا، جن میں آمریت، صدارتی نظام، نیم صدارتی نظام، غیر جماعتی انتخابات وغیرہ شامل ہیں؛

(vi) پارلیمان سے باہر پالیسی فیصلے کرنا، جس کے نتیجے میں پارلیمان عملاً غیر مؤثر ہو جاتی ہے؛

(vii) آئینِ 1973ء کے مطابق آزاد، منصفانہ اور شفاف انتخابات نہ ہونے دینا؛

(viii) آئینِ 1973ء کی کھلی خلاف ورزی کرتے ہوئے حکومت چلانا؛

(ix) آئینِ 1973ء میں بیان کردہ اختیارات کی ثلاثی تقسیم، یعنی مقننہ، انتظامیہ اور عدلیہ کے درمیان اختیارات کی تقسیم، کے اصول کو نظر انداز کرنا؛

(x) Rule of Law، یعنی قانون کی حکمرانی، کے بجائے Rule by Law، یعنی قانون کو حکمرانی کے ایک آلے کے طور پر استعمال کرنا؛

(xi) صوبائی خودمختاری سے انکار کرنا۔

یہ تو صرف برفانی تودے کی نوک (Tip of the Iceberg) ہے۔

پاکستان کا وفاقی تشخص

1۔ پاکستان ایک وفاق کے طور پر قائم ہوا، جہاں وفاقی اکائیوں نے ریاستِ پاکستان کے قیام میں اپنا کردار ادا کیا۔ دوسرے الفاظ میں، پاکستان کا قیام ان سیاسی اور جمہوری عملوں کا نتیجہ تھا جن کے ذریعے برصغیر کے مختلف علاقوں کے مسلمانوں کی سیاسی خواہشات کا اظہار ہوا۔ یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ پاکستان ایک کثیرالنسلی، کثیراللسانی اور کثیرالثقافتی ریاست ہے، جس کی وحدت اس کے تنوع سے جنم لیتی ہے۔

2۔ لہٰذا ایسے تاریخی حقائق کی بنیاد پر قائم ہونے والے وفاقی ڈھانچے اور صوبائی اکائیوں کو محض انتظامی بنیادوں پر تقسیم کرنا ایک حساس معاملہ ہے، اگرچہ نئے صوبوں کے قیام کی بحث ملک میں ایک عرصے سے جاری ہے اور اس کے مختلف سیاسی و انتظامی پہلو موجود ہیں۔

3۔ ایسے وقت میں اس بحث کا آغاز، جب ملک پہلے ہی مختلف داخلی مسائل سے دوچار ہے، اندرونی اختلافات اور تقسیم کو مزید گہرا کر سکتا ہے اور بلوچستان، خیبر پختونخوا اور دیگر وفاقی اکائیوں میں سرگرم دہشت گرد اور علیحدگی پسند تحریکوں کو مزید تقویت ملنے کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے۔

مسئلے کا ممکنہ حل

4۔ مسئلے کا حل صرف وفاقی اکائیوں کی مزید تقسیم میں نہیں، بلکہ درج ذیل امور پر سختی سے عمل درآمد میں ہے:

(i) آئینِ 1973ء کی بالادستی؛

(ii) قانون کی حکمرانی؛

(iii) آئینِ 1973ء میں دی گئی صوبائی خودمختاری پر مکمل عمل درآمد؛

(iv) آئین میں بیان کردہ اختیارات کی سہ جہتی تقسیم، یعنی مقننہ، انتظامیہ اور عدلیہ کے درمیان اختیارات کی تقسیم، کے اصول کی مکمل پابندی؛

(v) آئین کے آرٹیکل 140-A کے مطابق سیاسی، انتظامی اور مالی اختیارات منتخب بلدیاتی نمائندوں کو منتقل کرنا۔

نئے صوبوں کے ممکنہ اثرات

اگر اس راستے کے برعکس وفاقی اکائیوں کی مزید تقسیم کا عمل آگے بڑھایا گیا تو وفاق کو سنگین خطرات لاحق ہونے کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے اور یہ صورتِ حال جلتی آگ پر تیل ڈالنے کے مترادف ثابت ہو سکتی ہے، کیونکہ:

(i) پہلے سے موجود بیرونی مالی معاونت یافتہ دہشت گرد تحریکوں کو تقویت مل سکتی ہے؛

(ii) انتہا پسند قوم پرست قوتیں ابھر کر سامنے آ سکتی ہیں؛

(iii) لسانی اور نسلی تضادات مزید شدت اختیار کر سکتے ہیں؛

(iv) قدرتی وسائل کی ازسرِ نو تقسیم کا سوال بھی شدت سے اٹھ سکتا ہے۔

03/08/2026

میں پاکستان انگریزوں سے آزاد ہوتے ہی انگریز کے غلاموں کے قبضے میں چلا گیا، نہ جانے کب آزاد ہونگے۔

03/08/2026

بات یے نہیں کے ہم پاکستانیوں کو جینے کی تمنا نہیں، بات یے ہے کے ہم سے تو کسی نے پوچھا بھی نہیں

03/08/2026

Celebrating my 3rd year on Facebook. Thank you for your continuing support. I could never have made it without you. 🙏🤗🎉

20/07/2026

آج کل جو بيانات پر بات ہورہی ہے، اس کا نتیجا کچھ نہیں، ہر بات ردی عمل ہے، اصلاح سب کو کرنی چاہیے۔

کبھی کبھار افسوس ہوتا ہے جب کچھ حقیقت سامنے آتی ہے اس ملک کے آفیسرز، عدالت اور فوج کے بارے میں۔کیا اس ملک پر اللہ کی رحم...
12/07/2026

کبھی کبھار افسوس ہوتا ہے جب کچھ حقیقت سامنے آتی ہے اس ملک کے آفیسرز، عدالت اور فوج کے بارے میں۔

کیا اس ملک پر اللہ کی رحمتیں نازل ہورہی ہونگی یا پھر ہے تیار رہے کسی نہ کسی عذاب کے لئے۔

غریب شخص کا اگر 15 ہزار تنخواہ پر نوکری مل جائے تو وہ اپنی پوری محنت اور ایمانداری سے نوکری کرتا ہے لیکن جب یے اعلیٰ افسران کو جب بڑی بڑی تنخواہوں پر نوکری دے کر رکھا جاتا ہے تو وہ کام کم پیسہ چھاپنے کی مشین بن جاتے ہے۔

او ایک دن مر جاؤگے کچھ بھی دنیا سے ساتھ لے کر نہیں جاؤ گے اور جو چھوڑ جاؤ گے اس پر تمہاری نسل عیاشی کرے گی لیکن تمہارے لئے دعا اور خیرات کا کہیں تصور بھی نہیں ہوگا۔

جاگ جاؤ اس میں کو غلام در غلام تو بنا دیا ہے اب کیا عوام کے گردے، اور باقی ساماں بیچو گے۔

عدالت میں انصاف نہیں، فوج میں رحم نہیں سیاستدان میں ھمدردی نہیں اور جن لوگوں کو حفاظت پر رکھا ہے خدا کبھی ان میں کوئی کام نہ ڈالے کس قدر ظالم بن جاتے ہے کچھ نہیں معلوم۔

پرویز مشور صاحب کو جو سزا سنائی گئی اس کے مرنے کے بعد اس سے کیا ثابت ہے کے کیا فرعوں پرویز مشرف سے زیادہ پاور فل تھا کے اس کے جیتے جی قلم اور زبان نے بھی ساتھ نہ دیا۔

بھٹو کو صدارتی ریفرنس پر مارا گیا جو چیف آف آرمی اسٹاف بھی تھے عدالت تو صرف ایکٹنگ ہی کرتی رہ گئی اور انہونے وہ فیصلا سنایا گیا جو سپریم کمانڈر سے آیا تھا اور سپریم کمانڈر نے وہ فیصلا سنایا جو اس کے سپریم کمانڈر اور ڈالرز نے بولا تھا۔

اللہ کا واسطہ میرے نبی کا واسطہ اب تو سودھرجاؤ اس سے پہلے کے خدا کا عذاب نہ جائے اور تمہارے چکر میں جو ایماندار لوگ ہے وہ بھی تباھ ہو جائے۔

80 سے کراچی میں کیا ہو رہا تھا بلدیہ ٹاؤں فیکٹری کے مجرم کو بھی باعزت بری کیا گیا اور ایسے کئی ظلم جو پاکستان بننے کے بعد ہوئے اس پر کس کا قصور لکھو گے صرف سیاستدان جس کا اس جمھوری سیاسی نظام میں ایک چپڑاسی والا نظام ہے کے مالک کو کھلاؤ تم کو بخشش ملے گی بس سیاست میں وہی ہو رہا ہے اور ہوتا رہے گا۔

اے میرے اللہ یے تو نہیں دیکھتے تم تو دیکھ رہے ہو، ظلم کرنے والوں اور گناھ کرنے والوں کو اب تیری بھی ضرورت نہیں رہی وہ دولت کے پوجاری بن چکے ہے۔

یااللہ یے سودی نظام اس ملک میں چلانے والوں کو تو نستونابود کر دے جن کی وجھ سے ہم تباھ برباد ہوگئے ہمارا تم سے رابطے ختم ہوگیا ہم تجھ سے مانگ بھی نہیں سکتے کیو کے ہم نے سود پر گھر، سود پر گاڑی وغیرہ لے کر جو دشمنی تجھ سے اور نبی پاک سے شروع کی ہے وہ صرف ہماری بربادی پر ختم ہوگی۔

Address

Karachi

Telephone

+923220000000

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Quaid e Azam posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Quaid e Azam:

Shortcuts

Share