Quaid e Azam

Quaid e Azam Muhammad Ali Jinnah
Former Governor-General of Pakistan
He was a barrister, politician and the found

My Country, My Responsibilityمیرا ملک، میری ذمہ داریپاکستان کا مطلب کیا؟یہ سوال آج بھی ہر نسل پوچھتی ہے۔ مگر سچ یہ ہے کہ...
24/02/2026

My Country, My Responsibility
میرا ملک، میری ذمہ داری

پاکستان کا مطلب کیا؟
یہ سوال آج بھی ہر نسل پوچھتی ہے۔ مگر سچ یہ ہے کہ ہم نے اس سوال کو صرف نعرہ بنا دیا، جواب نہیں۔

ہم ایک ایسے معاشرے میں رہ رہے ہیں جہاں ہر شخص ملک سے لینے میں مصروف ہے، دینے میں نہیں۔
بڑی کرنسیوں پر چھوٹے کردار، اور چھوٹے گھروں میں بڑے ضمیر والے لوگ۔
منبروں پر سچ کم اور دکھاوا زیادہ، جبکہ سچ بولنے والے اکثر کنارے بیٹھے رہ جاتے ہیں۔

ہم وطن کے نام پر جذباتی نعرے لگاتے ہیں، مگر ذاتی فائدے کے وقت ملک کو بھول جاتے ہیں۔ ریٹائرمنٹ کے بعد ساری فکر اپنی فیملی کی بیرونِ ملک سیٹلمنٹ تک محدود ہو جاتی ہے۔ عوام؟ نظام؟ نوجوان؟ بس باتوں تک۔

تعلیم کے نام پر بھی ایک تلخ حقیقت ہے۔
شاگرد غریب، ادارے امیر۔
نصاب پرانے زمانے کا، مستقبل جدید دور کا۔
بچے کو سوچنا نہیں سکھایا جا رہا، بس رٹنا سکھایا جا رہا ہے۔ نتیجہ؟ ڈگری ہے، سمت نہیں۔

استاد بھی اکثر مجبوری میں ہے، جذبے میں نہیں۔ نوکری کو مشن نہیں، بوجھ سمجھ کر کیا جا رہا ہے۔ اور جب بنیاد کمزور ہو تو عمارت کیسے مضبوط ہوگی؟

اگر ہم نے آج بھی صرف شکایت کی اور ذمہ داری نہ لی، تو آنے والا وقت ہمیں معاف نہیں کرے گا۔
ملک حکومت سے نہیں بنتا، رویّوں سے بنتا ہے۔
نظام اوپر سے نہیں بدلتا، نیچے سے بدلتا ہے۔

پاکستان صرف ایک نام نہیں، ایک امانت ہے۔
اور امانت کا تقاضا ہے کہ ہم خود بدلیں، سچ بولیں، انصاف کریں، اور کم از کم اپنی جگہ پر ایماندار رہیں۔

ملک ہم سے ہے۔ اگر ہم بدلیں گے تو پاکستان بدلے گا۔

23/02/2026

نسلوں کی بات
کرنے والے دلوں
میں زندہ رہتے ہے

15/02/2026

ملک کا جو خیال رکھتے ہے ان کو گالی اور جو اس کے دشمن ہے ان کو واھ واھ،
ہم مسلمان ہے یا سیاسی ورکر

گل پلازہ کراچی پاکستانمجرم کون اور حل کیا ہے تمام اہم بات
21/01/2026

گل پلازہ کراچی پاکستان
مجرم کون اور حل کیا ہے تمام اہم بات



A devastating fire broke out at Gul Plaza shopping centre in Karachi, Sindh, Pakistan, causing massive destruction, dozens of confirmed deaths, and many peop...

جب انگریز برصغیر پر قابض تھا، اس خطے میں وہ تمام ریاستیں شامل تھیں جن سے بعد میں پاکستان وجود میں آیا۔ اگر ہم تاریخ کو غ...
14/12/2025

جب انگریز برصغیر پر قابض تھا، اس خطے میں وہ تمام ریاستیں شامل تھیں جن سے بعد میں پاکستان وجود میں آیا۔ اگر ہم تاریخ کو غیرجانبداری سے دیکھیں تو ایک حقیقت بار بار سامنے آتی ہے۔ جو بھی انگریز اقتدار کے خلاف کھڑا ہوا، جس نے آزادی کی بات کی، اسے فوراً باغی، ڈاکو، غدار، دہشت گرد یا مجاہد جیسے القابات دے دیے گئے۔ مقصد سادہ تھا۔ آواز کو بدنام کرو تاکہ سچ دب جائے۔

وقت بدلا، نقشے بدلے، مگر سوچ نہ بدلی۔ پاکستان بننے کے بعد بھی وہی نوآبادیاتی ذہنیت زندہ رکھی گئی۔ فرق صرف اتنا تھا کہ اب حکم چلانے والے مقامی تھے۔ شاہ سے زیادہ شاہ کے وفادار۔ انہی لوگوں نے اس نظام کو مضبوط کیا اور اس سورج کو آج تک غروب نہ ہونے دیا۔

اسی پس منظر میں ایک نام آتا ہے۔

دنیا کے لیے وہ رحمان ڈکیت تھا،
لیکن لیاری کے لیے وہ مسیحا تھا۔

سردار عبدالرحمن بلوچ عرف رحمان ڈکیت، لیاری والوں کے لیے محض ایک شخص نہیں تھا بلکہ ایک کیفیت تھا۔ محبت، خوف، احترام اور بغاوت کا ایسا امتزاج جو آسانی سے سمجھ میں نہیں آتا۔

کہا جاتا ہے وہ اندھیروں میں پیدا ہوا، مگر روشنی بانٹتا رہا۔ جہاں دولت چند ہاتھوں میں قید تھی اور طاقت بے لگام ہو چکی تھی، وہاں وہ سوال بن کر کھڑا ہوا۔ وہ نظام کے خلاف تھا، ناانصافی کے خلاف تھا، اور ان لوگوں کے ساتھ تھا جن کی کوئی آواز نہیں تھی۔

امیر کے دروازے سے لے کر غریب کی دہلیز تک پہنچنے میں اس نے کبھی جھجک محسوس نہیں کی۔ کسی گھر میں چولہا نہ جلتا ہو، کسی ماں کے پاس علاج کے پیسے نہ ہوں، کسی بیٹی کی شادی غربت کی دیوار سے رکی ہو، ایسے لمحوں میں رحمان ڈکیت لیاری کی گلیوں میں محافظ بن کر سامنے آتا تھا۔

اس کی کمائی کا بڑا حصہ یتیموں اور غریبوں کے لیے وقف تھا۔ ایدھی جیسے اداروں کو فنڈز دینا بھی اسی سلسلے کی کڑی تھی۔

اسی لیے لیاری میں آج بھی کہا جاتا ہے: “وہ لیاری کا بیٹا تھا، جس نے اس بستی کی دھڑکنوں کو اپنے سینے میں جگہ دی۔”

بلاشبہ وہ متنازع تھا۔ یہ سچ ہے۔
لیکن اس کا ایک رخ ایسا بھی تھا جو صرف لیاری والوں نے دیکھا۔
وہ رخ جو دکھ کو پہچانتا تھا، ظلم کے سامنے ڈٹ جاتا تھا، اور اپنے لوگوں کو کبھی اکیلا نہیں چھوڑتا تھا۔

یہ بھی ممکن ہے کہ رحمان بلوچ کا اصل چہرہ وہ نہ ہو جو آپ کو دکھایا گیا۔
اختلاف آپ کا حق ہے، اس تحریر سے بھی، اس سوچ سے بھی۔

مگر اگر سچ کو قریب سے دیکھنا ہو تو لیاری کی گلیوں کا رخ کرنا پڑے گا،
جہاں آج بھی لوگوں کی زبان پر ایک نام زندہ ہے۔

سردار عبدالرحمن بلوچ۔

دھرھندر بھارت کی کوئی پہلی فلم نہیں ہے۔ وہ ہمیشہ کراچی پر بنی فلموں میں اسی طرح کے کردار دکھاتا رہا ہے۔ چاہے وہ ڈان کا ن...
10/12/2025

دھرھندر بھارت کی کوئی پہلی فلم نہیں ہے۔ وہ ہمیشہ کراچی پر بنی فلموں میں اسی طرح کے کردار دکھاتا رہا ہے۔ چاہے وہ ڈان کا نظام ہو یا بھائی گیری، سب کچھ پہلے بھی دکھایا اور سکھایا جاتا رہا ہے، اور کامیابی سے چلتا بھی آیا ہے۔

آج کے دور میں ایسے موضوعات پر بننے والی فلم صرف کمائی کے لیے نہیں ہو سکتی۔ اس وقت ایسی فلم کا آنا، اور یوٹیوبرز کا حکومتی کارکردگی پر شور مچانا، ساتھ ہی ایم کیو ایم کے خراب تاثر کو مختلف پروگراموں میں دھونا، یہ سب کسی نہ کسی سمت کی طرف اشارہ ضرور کرتا ہے۔

عمران خان کی تعریف میں بھی سوشل میڈیا پر بڑی تعداد میں لوگ شامل ہیں۔ جو عمران خود پروگرام نہیں بتاتے، عوام وہ بھی جان لیتی ہے۔

بہتر یہی ہے کہ جن مسلمانوں کا ایمان اب بھی سلامت ہے وہ مسجدوں کی طرف رجوع کریں، اور اللہ کی کتاب پڑھیں اور سمجھیں۔

اگر میں نے کچھ غلط سمجھا ہو تو آپ بتا دیں، میں اسے درست کر دوں گا۔ شکریہ۔

29/11/2025

پاکستان میں جب کوئی نظام ہی کامیاب نہیں ہے تو عوام اور میڈیا والے جو پرفیکٹ کرنے کا بولتے ہے وہ کس نظام کے تحت بول رہے ہوتے ہے، کیو کے جو ہے وہ کام کرنے جیسا نہیں

24/11/2025

کیا کوئی بغیر مفاد کے سوشل میڈیا پر عوام کے لئے آواز اٹھا سکتا ہے؟

14/11/2025

سوشل میڈیا دیکھو تو 27 ترمیم پر ہر عقل مند کی فکر سامنے آتی ہے، لگتا ہے صرف حکومت میں بیوقوف بیٹھے ہے باقی ساری دنیا عقلمند ہے۔ اس ملک میں کیا کیا نہیں ہوچکا ہے اور کیا اس ملک کا نظام ہے؟ اگر اب تک ان عقل مندو کو سمجھ نہیں آیا تو فضول کی باتے کرکے عوام جو پہلے مہنگائی سے پریشان ہے اس کو اور پریشان نہ کرے۔

08/11/2025

پاکستان کا مطلب کیا؟سمجھنا پڑے گا کے
پاکستان آزاد کیو ہوا تھا۔۔؟

15/10/2025

پاکستانی فوج ادارہ نہیں ایک عسکری جماعت ہے

یے بیان فوج کا سامنے آنے کے بعد عوام کیا سوچ رہی ہے۔ کے ان باتون کا کیا مطلب ہے۔

پاکستانی لوگ ایک بڑے دھوکے میں ہے، یے دھوکہ کب اور کس نے دیا یے تو ایک بہت پرانی بات ہوگئی لیکن اس دھوکے کو سمجھنا بہت ض...
19/09/2025

پاکستانی لوگ ایک بڑے دھوکے میں ہے، یے دھوکہ کب اور کس نے دیا یے تو ایک بہت پرانی بات ہوگئی لیکن اس دھوکے کو سمجھنا بہت ضروری ہے۔

غلام لفظ آتے ہی ذھن میں آتا ہے کے ایک انسان ہتھکڑیوں میں جکڑا ہوا، ایک جیل کے کالی کوٹھڑی میں پڑا ہو نظر آتا ہے، لیکن دنیا نے ترقی کرلے منافقوں نے منافقی میں پی ایچ ڈی کرلی اور جب کوئی اتنا زیادہ اگے چلا جائے تو ہم اسے صرف منافق تھوڑی بول سکتے ہے

پہلے ایک بادشاہ سلامت کے پیچھے اس ایریا اور علائقے کی عوام اس بادشاہ کو مرتے دم تک بادشاہ کہ تی تھی وہ بادشاہ جو کرے جو مذھب اختیار کرے اس کے علائقے میں رہنے والا ہر شخص اس کے تابع تھا اور اس کو وہ کرنا ہی ہوتا تھا جب تک اس علائقی پر کوئی دوسرا بادشاہ آکے حملا کرکے اس بادشاہ کو قتل کرکے خود اس علائقی پر دوسرا بادشاہ حکومت نہ کرلے پھر عوام کو وہ نیا بادشاہ اپنے قانوں اور اپنے اصول اور اپنا مذھب نہ بتا دے تب تک اس عوام میں کوئی تبدیلی نہیں آتی۔ اچھا اس میں کمال اس بادشاہ کا نہیں لیکن سارہ کمال ان غریب سپاہیوں کا کے جو اپنے روزگار کے لئے اس بادشاہ کی حفاظت کرتے ہے اور دوسرے اپنے جیسے غریبوں کو ان کا غلام بنا کر رکھنے میں مدد کرتے ہے۔

پھر ایک دور آیا کے کچھ لوگوں نے اس دنیا میں ایک کرنسی نکالی اور اس کو آہستہ آہستہ ریاست اور پھر پوری دنیا پر نافظ کر دی پھر اس ایک کرنسی نے کاروبار اور سنت کی طرف انسانیت کے لے گئے تو اس میں کام کرنے والے بچارے ورکر کو پتا بھی نہیں تھا کے مشین کی ہوتی ہے اور پراڈکٹ کیا ہوتی ہے، پھر ان کو سکھانے کے لئے کچھ بزنس میں نے ان کو ایک ساتھ سکھانے کی کلاس دی جس کو اس دور میں اسکول بولتے تھے، جو نام آج تک ہر انسان کی زبان پر ہوتا ہے۔

پھر اس کاروبار نے طاقت لی اور صرف اپنے ملک میں ترقی کے بعد باہر ملکوں میں تاجروں نے جانا شروع کیا جیسے پرانے دور میں ہوتا تھا مگر فرق یے تھا کے ایک تاجر خود جاتا تھا مال لے کے اور دوسرے ملک کے مارکیٹ میں سیل کرتا تھا مگر یے تو بزنس کی شکل اختیار کر گیا اور ہر خاص اور عام کو سمجھانے شروع ہوگئے اور نئی نئی چیزے ایجاد ہونے لگی۔

ایسے ہی کچھ تاجر انگلینڈ سے ھندستان آئے تھے جو ھندستان کی زمیں پر ایسی پروڈکٹ اور بزنس لائے تھے جس کو تصور بھی ھندستان کے لوگ نہیں کر سکتے، پھر ان تاجروں نے ترقی کر لی اور آہستہ آہستہ ھندستان کے سوئے ہوئے بادشاہوں نوابوں کے ناک کے نیچے ان لوگوں نے پرورش پائی اور ترقی کی پھر اپنے ملک کی آرمی بھی ساتھ لے آئے جیسے پرانے دور میں ہوتا تھا غلام ویسے ہی وہ انگریز اپنی حفاظت کے لئے فوج کے سپاہی لائے اور اپنی بزنس کی ترقی کے ساتھ ساتھ زمینوں پر قبضہ اور حکمرانوں کو اپنے ساتھ ملاتے گئے اور جس نے مخالفت کی اس کو نشان عبرت بنا دیا گیا۔

وہ ایس انڈیا کمپنی جس نے ھندستان میں قدم رکھا تھا بزنس کے لئے اب وہ برٹش امپائر بنانا شروع ہوگئی اور اس زمیں کے سب وسائل پر قبضہ کیا اور عوام کو غلام بنانا شروع کردیا اب ان کے آئے غلام دو قسم کے تھے ایک جو ان کے حکم پر وہو سارے کام کر لیتے تھے اور دوسرے جن کو مار کر کام لیا جاتا تھا مطلب مار کھانے والے بھی ہمارے مارنے والے بھی ہمارے حکم کسی اور کا اور فائیدہ بھی کسی اور کا بس اپنوں نے اپنوں کو غلام بنانے میں مدد کی جو آج تک جاری ہے

پھر جب ھندستان کا تمام حکومت ان کے ہاتھ میں آگئی تو ان لوگوں نے سازش شروع کی جس کے وہ ماہر تھے اور پھر ان لوگوں نے مذھب سے چھیڑخانی شروع کی پرنٹنگ پریس میں جہان کچھ صحیح کتابے چھپی وہان کچھ غلط کتابے بھی چھپی اور وقت کے ساتھ مذھب کا نقشا بھی بدلنے لگا پھر اس ہی ھندستان جس میں وہ انگریز جو مسلمان کے نام سے ڈرتا تھا پھر اسی مسلمان نے فرقا پرستی شروع کی کیو کے انگریز کے وظیفے جو آتے تھے لیکن اس دور میں بھی کچھ ایمان والوں نے کام کیا اور ہر غلط بات کا مقابلہ کیا اور اپنی مثال آپ ہی بنے رہے۔

اچانک ھٹلر صاحب جو کے خود انہی کی پیداوار تھا اس کے رستے برٹش کو سبق سکھانے کے لئے فنڈنگ کرکے ایک حاکم بنایا گیا اور اس نے نہ دن دیکھ نا رات جو آیا اس پر چڑ دوڑا اور ہزاروں لوگوں کو قتل کیا اسی دور میں برٹش کمزور ہوگئی اور ھندستان پر برٹش حکومت کا زور ختم ہوتا جا رہا تھا اس کے پاس وسائل نہیں تھے کے وہ ھندستان پر حکومت کر سکے۔

اگر اس سے آپ کو کچھ سمجھ آرہا ہے تو آپ کمینٹ میں بتانا اس سے آگے اور بھی بہت کچھ ہے جس کی وجھ سے ہم نقصاں میں آج تک ہے۔

ویسے تو بہت دیر ہوچکی ہے لیکن اگر اب بھی جاگ جاؤ گے تو بہت کچھ بچا سکتے ہے شکریہ

کمینٹ لائیک اور شیئر پلیز۔





Address

Karachi

Telephone

+923220000000

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Quaid e Azam posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Quaid e Azam:

Share