Lawyers in Karachi

Lawyers in Karachi Lawyers in Karachi is a page dedicated to providing information and insights about legal matters and events in Pakistan.

The page shares updates on various legal topics, aiming to educate and inform its followers about the law in Pakistan.

20/05/2026

کراچی: معروف وکیل شاہد قریشی کے چھوٹے بھائی ماجد قریشی انتقال کر گئے۔ اہل خانہ کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق مرحوم کی نمازِ جنازہ آج جامع مسجد نورانی لیاقت آباد میں نمازِ عصر کے بعد ادا کی جائے گی

13/05/2026

جائیداد پر ناجائز قبضہ: قانون کیا کہتا ہے؟

پاکستانی قانون کے مطابق کسی بھی شخص کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ بغیر قانونی اختیار کے کسی کی جائیداد میں داخل ہو کر اس پر قبضہ کرے، اسے ہتھیانے، کنٹرول کرنے یا مالک و قابض کو بے دخل کرنے کی کوشش کرے۔

قانون واضح طور پر کہتا ہے کہ اگر کوئی فرد ناجائز طور پر کسی کی ملکیت پر قبضہ کرتا ہے یا قبضہ کرنے کی نیت سے کارروائی کرتا ہے تو اس کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جا سکتی ہے۔ ایسے جرم میں ملوث شخص کو دس سال تک قید، جرمانہ یا دونوں سزائیں دی جا سکتی ہیں۔

مزید برآں متاثرہ فریق کو قانون کے تحت معاوضہ دینے کی بھی شق موجود ہے تاکہ اس کے نقصان کا ازالہ کیا جا سکے۔

قانون میں یہ بھی شامل کیا گیا ہے کہ اگر کوئی شخص زبردستی اور غیر قانونی طریقے سے کسی مالک یا قابض کو اس کی جائیداد سے بے دخل کرتا ہے، اور اس کا عمل پہلی شق کے دائرے میں نہ بھی آئے، تب بھی اسے تین سال تک قید، جرمانہ یا دونوں سزاؤں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

یہ قوانین اس بات کو یقینی بنانے کے لیے بنائے گئے ہیں کہ شہریوں کی جائیداد محفوظ رہے اور قبضہ مافیا یا غیر قانونی عناصر کے خلاف سخت کارروائی ممکن ہو سکے۔

03/05/2026

ویلتھ اسٹیٹمنٹ: کیا یہ دنیا بھر میں ہر ٹیکس دہندہ کے لیے لازمی ہے؟

دنیا کے مختلف ممالک میں ٹیکس کے قوانین ایک جیسے نہیں ہوتے، اسی لیے ویلتھ اسٹیٹمنٹ جمع کروانے کا معاملہ بھی ہر جگہ مختلف ہے۔ عام تاثر یہ پایا جاتا ہے کہ ہر ٹیکس دہندہ کو اپنی مکمل جائیداد اور اثاثوں کی تفصیل حکومت کو دینی پڑتی ہے، لیکن حقیقت اس سے کچھ مختلف ہے۔

بہت سے ممالک ایسے ہیں جہاں صرف انکم ٹیکس ریٹرن جمع کروانا ہی کافی ہوتا ہے اور ویلتھ اسٹیٹمنٹ کی ضرورت پیش نہیں آتی۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ان ممالک میں ویلتھ ٹیکس کا نظام موجود نہیں ہوتا۔ چنانچہ عام شہریوں کو اپنی جائیداد، بینک بیلنس یا دیگر اثاثوں کی مکمل تفصیل الگ سے فراہم نہیں کرنی پڑتی۔

البتہ کچھ ممالک ایسے بھی ہیں جہاں ویلتھ ٹیکس نافذ ہے۔ ان ممالک میں بھی یہ شرط ہر فرد پر لاگو نہیں ہوتی بلکہ صرف وہی افراد اس کے دائرے میں آتے ہیں جن کی دولت ایک مخصوص حد سے زیادہ ہو۔ ایسے افراد کو اپنی مجموعی دولت، جائیداد، سرمایہ کاری اور دیگر اثاثوں کی تفصیلات فراہم کرنا ضروری ہوتا ہے تاکہ ان پر درست ٹیکس عائد کیا جا سکے۔

پاکستان میں صورتحال نسبتاً مختلف ہے۔ یہاں اگر کوئی شخص انکم ٹیکس ریٹرن فائل کرتا ہے تو عموماً اس کے ساتھ ویلتھ اسٹیٹمنٹ جمع کروانا بھی ضروری ہوتا ہے۔ اس اسٹیٹمنٹ میں فرد کو اپنے تمام اثاثوں جیسے جائیداد، گاڑیاں، بینک بیلنس اور سرمایہ کاری کے ساتھ ساتھ اپنے واجبات یعنی قرض وغیرہ کی تفصیل بھی دینی ہوتی ہے۔ اس کا مقصد ٹیکس دہندہ کی مالی حیثیت کا مکمل جائزہ لینا اور آمدن و اخراجات میں مطابقت کو یقینی بنانا ہوتا ہے۔

بعض ممالک میں ویلتھ اسٹیٹمنٹ صرف خاص حالات میں طلب کی جاتی ہے، جیسے کہ جب کسی فرد کے بیرون ملک اثاثے ہوں یا اس کی دولت غیر معمولی حد تک زیادہ ہو۔ اس طرح ٹیکس حکام شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے مخصوص کیسز میں اضافی معلومات حاصل کرتے ہیں۔

خلاصہ یہ ہے کہ ویلتھ اسٹیٹمنٹ ہر ملک میں ہر ٹیکس دہندہ کے لیے لازمی نہیں ہوتی۔ اس کا انحصار ملک کے ٹیکس نظام، ویلتھ ٹیکس کی موجودگی اور فرد کی مالی حیثیت پر ہوتا ہے۔ تاہم پاکستان جیسے ممالک میں یہ عمل ٹیکس نظام کا ایک اہم حصہ ہے، جو مالی شفافیت کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

عورتوں کا حقِ وراثت — ایک اہم سماجی اور دینی مسئلہہمارے معاشرے میں اکثر یہ سوال اٹھایا جاتا ہے کہ اگر عورتوں کو وراثت می...
03/03/2026

عورتوں کا حقِ وراثت — ایک اہم سماجی اور دینی مسئلہ

ہمارے معاشرے میں اکثر یہ سوال اٹھایا جاتا ہے کہ اگر عورتوں کو وراثت میں حصہ نہ دیا جائے تو ایسی صورت میں انہیں کیا کرنا چاہیے؟ بدقسمتی سے عورتوں کو وراثت سے محروم کرنا ہمارے ہاں ایک عام رویہ بنتا جا رہا ہے۔ بعض اوقات انہیں یہ کہہ کر ٹال دیا جاتا ہے کہ وہ اپنا حق استعمال نہ کریں یا خاموشی اختیار کریں، حالانکہ یہ رویہ نہ صرف غیر قانونی ہے بلکہ غیر شرعی بھی ہے۔

اسلام نے عورت کو وراثت میں باقاعدہ اور واضح حق دیا ہے۔ قرآنِ مجید میں اس کی مکمل تفصیل موجود ہے، جہاں بیٹی، بہن، بیوی اور ماں کے حصے متعین کیے گئے ہیں۔ اس لیے عورت کا وراثت میں حق محض ایک سماجی مطالبہ نہیں بلکہ ایک الٰہی حکم ہے، جس کی ادائیگی ہر صورت لازم ہے۔

عورتوں کو چاہیے کہ وہ اپنے حق کے بارے میں مکمل آگاہی حاصل کریں اور اگر انہیں ان کے جائز حصے سے محروم کیا جا رہا ہو تو قانونی اور شرعی طریقے سے اپنا حق طلب کریں۔ خاموشی اختیار کرنا مسئلے کا حل نہیں، بلکہ یہ ناانصافی کو تقویت دیتا ہے۔ خاندان کے بڑوں اور معاشرے کے بااثر افراد پر بھی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ انصاف کو یقینی بنائیں اور عورتوں کے حقِ وراثت کی ادائیگی میں رکاوٹ نہ بنیں۔

ایک مہذب اور اسلامی معاشرے کی پہچان یہی ہے کہ وہاں کمزور طبقے کے حقوق کا تحفظ کیا جائے۔ عورت کا حقِ وراثت اس کی عزت، خودمختاری اور معاشی تحفظ کی ضمانت ہے۔ لہٰذا ہمیں بطور فرد اور بطور معاشرہ اس حق کو تسلیم بھی کرنا چاہیے اور اس پر عمل بھی یقینی بنانا چاہیے۔

24/02/2026

کلائنٹس بریف ڈائری — وکلاء کے لیے ایک ضروری احتیاط

ایڈووکیٹ مصباح اکرم کی فیس بک وال

میرے ہم عمر اور نوجوان وکلاء کے لیے یہ ایک نہایت اہم اور عملی مشورہ ہے۔ وکالت کے پیشے میں ہمیں اکثر ایسے مؤکلین کا سامنا کرنا پڑتا ہے جو مقدمہ دائر کروانے کے بعد اپنے ہی مؤقف سے پھر جاتے ہیں۔ ابتدا میں وہ سنجیدہ اور پُراعتماد دکھائی دیتے ہیں، مگر وقت گزرنے کے ساتھ الزامات، بدتمیزی، فیس کی عدم ادائیگی اور بعد ازاں نیا وکیل مقرر کر کے سابق وکیل کے بارے میں منفی باتیں پھیلانا ایک عام مسئلہ بن جاتا ہے۔

یہ صورتحال بظاہر غیر ضروری ذہنی دباؤ کا سبب بنتی ہے، حالانکہ اگر بروقت احتیاط کر لی جائے تو اس سے بچا جا سکتا ہے۔ اسی تناظر میں “کلائنٹ بریف ڈائری” رکھنے کی ترکیب نہایت مؤثر ثابت ہو سکتی ہے۔ ایک علیحدہ ڈائری مختص کی جائے جس میں ہر آنے والے کلائنٹ کا مکمل بریف تحریری طور پر درج کیا جائے۔

کلائنٹ بریف ڈائری کیوں ضروری ہے؟

مؤکل کی جانب سے بیان کردہ تمام حقائق اور مؤقف باقاعدہ قلمبند ہو جاتے ہیں۔

فریقین کے درمیان طے پانے والے نکات واضح رہتے ہیں۔

آئندہ کسی بھی اختلاف یا انکار کی صورت میں تحریری ریکارڈ موجود ہوتا ہے۔

وکیل کی ساکھ اور پیشہ ورانہ وقار محفوظ رہتا ہے۔

جب مؤکل اپنے دستخط کے ساتھ اپنے بیان کی تصدیق کر دیتا ہے تو وہ بلاوجہ مؤقف تبدیل کرنے سے پہلے ضرور سوچتا ہے، کیونکہ اسے علم ہوتا ہے کہ تمام باتیں تحریری ریکارڈ کا حصہ بن چکی ہیں۔

اگرچہ ہر کیس میں فوری طور پر اس کی شدید ضرورت محسوس نہیں ہوتی، مگر احتیاط ہمیشہ فائدہ مند ہوتی ہے۔ بطور وکیل ہماری اچھی شہرت ہی ہمارا اصل اثاثہ ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہم اپنے پیشہ ورانہ معاملات کا مکمل ریکارڈ محفوظ رکھیں۔

یقیناً ایک منظم “کلائنٹ بریف ڈائری” نہ صرف غیر ضروری پریشانی سے بچاتی ہے بلکہ بوقتِ ضرورت ایک مضبوط ثبوت کے طور پر بھی کام آتی ہے۔

Address

Talpur Road
Karachi
74000

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Lawyers in Karachi posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Lawyers in Karachi:

Shortcuts

Share