22/01/2026
آج کل کراچی میں بطور ایس پی پولیس خدمات سر انجام دینے والی میڈم لبنیٰ ٹوانہ 1999 میں کراچی کے ایک تھانے میں ایس ایچ او تھیں ، ایک روز پولیس ٹیم دو کمر عمر خوبصورت لڑکیوں کو تھانے لے آئی ، ان لڑکیوں کی عمریں 12 سال اور 14 سال کے لگ بھگ تھیں دونوں سگی بہنیں تھیں اور بڑی لڑکی دلہن کے لباس میں ، سرخ جوڑا پہنے اور آرٹیفشل جیولری سے لدی ہوئی تھی ۔۔ لبنیٰ ٹوانہ کے بقول لڑکیاں انتہائی خوبصورت اور کسی اچھے گھرانے کی لگتی تھیں ، میں نے پیار اور شفقت کے ساتھ ان سے پوچھا تو دلہن نے بتایا کہ وہ شاید آفریدی سے شادی کرنے کے لیے گھر چھوڑ آئی ہے ، مگر انہیں شاہد آفریدی کے پاس لے جانیوالا لڑکا نہیں آیا ، لڑکیوں سے گھر کا پتہ پوچھا گیا تو انہوں نے بتانے سے انکار کردیا ، بڑی بہن چھوٹی کو کہتی پتہ نہیں بتانا ہم نے واپس نہیں جانا شاہد آفریدی کے پاس جانا ہے ۔۔۔ بڑی بہن شادی آفریدی کی دیوانی تھی وہ اکثر اپنے گھر دودھ دینے والے ایک نوجوان گوالے سے اس بات کا تذکرہ کرتی ، اس نے دیوانی کو یقین دلا دیا کہ وہ شاید آفریدی کو جانتا ہے اور اسے کرکٹر کے پاس پہنچا دے گا ۔ ایک پلان کے تحت گوالے نے مقررہ دن دونوں لڑکیوں کو ایک جگہ بلایا ، کم عمر لڑکی دھوکے میں آگئی اور کپڑے اور چھوٹی بہن کو ساتھ لے کر شاہد آفریدی کے خواب دیکھتی گھر سے نکل بھاگی ، مگر اس گوالے کے مقررہ جگہ پہنچنے سے پہلے پولیس کو یہ لڑکیاں نظر آئیں ، دلہن کے لباس اور ہاتھ میں بیگ کومشکوک سمجھ کر پولیس نے لڑکیوں کو روک لیا اور انکے گھبرا جانے پر انہیں تھانے لے آئے تھے ۔ دو دن یہ بچیاں تھانے میں ویمن پولیس کے زیر نگرانی رہیں ، پولیس نے ان بچیوں سے متعلق دیگر تھانوں کو بھی اطلاع دی ، تیسرے دن ایک اور تھانے سے ان بچیوں کے بارے میں معلومات آگئیں انکے والدین نے انکی گمشدگی کی اطلاع پولیس کو دی تھی ، لبنیٰ ٹوانہ کے بقول میں نے بچیوں کو ساتھ لیا اور فراہم کردہ ایڈریس پر انکے گھر چھوڑ آئی ، والدین کو سمجھایا کہ بچوں پر نظر رکھا کریں ایک گوالہ انہیں اس انتہائی اقدام پر راضی کر گیا ، خدانخواستہ کوئی افسوسناک واقعہ ہو جاتا تو یہ لوگ کیا کرتے ۔۔۔۔۔۔