Gujjar Sarkar

Gujjar Sarkar ♕︎★𝙂𝙐𝙅𝙅𝘼𝙍★♕︎

28/01/2026

Celebrating my 4th year on Facebook. Thank you for your continuing support. I could never have made it without you. 🙏🤗🎉

آج کل کراچی میں بطور ایس پی پولیس خدمات سر انجام دینے والی میڈم لبنیٰ ٹوانہ 1999 میں کراچی کے ایک تھانے میں ایس ایچ او ت...
22/01/2026

آج کل کراچی میں بطور ایس پی پولیس خدمات سر انجام دینے والی میڈم لبنیٰ ٹوانہ 1999 میں کراچی کے ایک تھانے میں ایس ایچ او تھیں ، ایک روز پولیس ٹیم دو کمر عمر خوبصورت لڑکیوں کو تھانے لے آئی ، ان لڑکیوں کی عمریں 12 سال اور 14 سال کے لگ بھگ تھیں دونوں سگی بہنیں تھیں اور بڑی لڑکی دلہن کے لباس میں ، سرخ جوڑا پہنے اور آرٹیفشل جیولری سے لدی ہوئی تھی ۔۔ لبنیٰ ٹوانہ کے بقول لڑکیاں انتہائی خوبصورت اور کسی اچھے گھرانے کی لگتی تھیں ، میں نے پیار اور شفقت کے ساتھ ان سے پوچھا تو دلہن نے بتایا کہ وہ شاید آفریدی سے شادی کرنے کے لیے گھر چھوڑ آئی ہے ، مگر انہیں شاہد آفریدی کے پاس لے جانیوالا لڑکا نہیں آیا ، لڑکیوں سے گھر کا پتہ پوچھا گیا تو انہوں نے بتانے سے انکار کردیا ، بڑی بہن چھوٹی کو کہتی پتہ نہیں بتانا ہم نے واپس نہیں جانا شاہد آفریدی کے پاس جانا ہے ۔۔۔ بڑی بہن شادی آفریدی کی دیوانی تھی وہ اکثر اپنے گھر دودھ دینے والے ایک نوجوان گوالے سے اس بات کا تذکرہ کرتی ، اس نے دیوانی کو یقین دلا دیا کہ وہ شاید آفریدی کو جانتا ہے اور اسے کرکٹر کے پاس پہنچا دے گا ۔ ایک پلان کے تحت گوالے نے مقررہ دن دونوں لڑکیوں کو ایک جگہ بلایا ، کم عمر لڑکی دھوکے میں آگئی اور کپڑے اور چھوٹی بہن کو ساتھ لے کر شاہد آفریدی کے خواب دیکھتی گھر سے نکل بھاگی ، مگر اس گوالے کے مقررہ جگہ پہنچنے سے پہلے پولیس کو یہ لڑکیاں نظر آئیں ، دلہن کے لباس اور ہاتھ میں بیگ کومشکوک سمجھ کر پولیس نے لڑکیوں کو روک لیا اور انکے گھبرا جانے پر انہیں تھانے لے آئے تھے ۔ دو دن یہ بچیاں تھانے میں ویمن پولیس کے زیر نگرانی رہیں ، پولیس نے ان بچیوں سے متعلق دیگر تھانوں کو بھی اطلاع دی ، تیسرے دن ایک اور تھانے سے ان بچیوں کے بارے میں معلومات آگئیں انکے والدین نے انکی گمشدگی کی اطلاع پولیس کو دی تھی ، لبنیٰ ٹوانہ کے بقول میں نے بچیوں کو ساتھ لیا اور فراہم کردہ ایڈریس پر انکے گھر چھوڑ آئی ، والدین کو سمجھایا کہ بچوں پر نظر رکھا کریں ایک گوالہ انہیں اس انتہائی اقدام پر راضی کر گیا ، خدانخواستہ کوئی افسوسناک واقعہ ہو جاتا تو یہ لوگ کیا کرتے ۔۔۔۔۔۔

16/01/2026
15/01/2026
10/01/2026

Follow everyone
#

10/01/2026

*‎مسکرائیں😇*

ایک کنجوس کی حکایت ہے
اسکے گھر کوئی مہمان وارد ہوا.. 😜😜
اس کنجوس نے اپنے بیٹے سے کہا کہ آدھا کلو عمدہ گوشت لیتے آؤ بیٹا گیا باہر اور کافی دیر بعد خالی ہاتھ لوٹا...
😊😊
باپ نے پوچھا گوشت کہاں ھے ؟
*بیٹا* : میں قصائی کے پاس گیا اور کہا کہ جو سب سے عمدہ گوشت ہے تمھارے پاس وہ دیدو
قصائی نے کہا میں تمہیں ایسا گوشت دونگا گویا کہ مکھن هو.. 😊😊
تو میں نے سوچا اگر ایسا ہی ہے تو مکھن ہی لے لوں
تو میں بقال کے پاس گیا اور کہا جو سب سے عمدہ مکھن ہے تمہارے پاس وہ دیدو..
بقال نے کہا میں تمھے ایسا مکھن دونگا گویا کہ شھد ہو
تو میں نے سوچا اگر ایسا ہی ہے تو شھد ہی خرید لوں تو میں شھد والے کے پاس گیا اور کہا جو سب سے عمدہ شھد ہے تمہارے پاس وہ دیدو..
تو شہد والے نے کہا میں تمھے ایسا شھد دونگا گویا کہ بالکل صاف شفاف پانی ہو..
تو مینے سوچا اگر یہی قصہ ہے تو پانی تو ہے ہی گھر میں موجود
اسلئے میں خالی ھاتھ واپس آ گیا... 😝😝😝😝😝
*باپ* : واہ بیٹے یہ تم نے بہت شاطرانہ عقل بھڑائی لیکن ایک نقصان کر دیا
وہ یہ کے ایک دکان سے دوسری دکان جانے میں تمہاری چپل گِھس گئ ہوگی.. 😝😝😝😝
*بیٹا*: نہی ابا ایسا نہی ہے میں مہمان کی چپل پہن کے گیا

10/01/2026

Gujjari language bayan by :mulana Atiq Urbman Mula khel

10/01/2026

Abu obaida

قومی ترانے کے خالق حفیظ جالندھری نے دوسری اور تیسری شادی بیٹے کی خواہش میں کی حالانکہ شاید انہیں ایسا نہیں کرنا چاہیے تھ...
07/01/2026

قومی ترانے کے خالق حفیظ جالندھری نے دوسری اور تیسری شادی بیٹے کی خواہش میں کی حالانکہ شاید انہیں ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا لیکن جس بات کی اجازت شریعت دے اس پر بھلا کسے اعتراض ہو سکتا ہے مگر تیسری شادی سے بھی بیٹیاں ہی پیدا ہوئیں۔ اس سے وہ بہت آزردہ تھے اور اندر اندر اس بات کو محسوس کرتے تھے۔ بعض اوقات یہ رنج ان کی زبان پر بھی آجاتا تھا۔ ایک دن کسی دوست نے انہیں مذاق سے کہا کہ آئیے ابو الاثر صاحب! یہ سن کر حفیظ صاحب اپنے آپ کو کرسی میں گرا کر کہنے لگے کہ مجھے ابوالاثر کیوں کہتے ہو۔ مجھے ابوالبنات کہو بیٹیوں کا باپ۔۔۔۔۔اللہ کریم حفیظ جالندھری مرحوم کے درجات بلند فرمائے

07/01/2026

کوہستان میں #گجر قوم کی تاریخ: ایک نظر
​عام طور پر لوگ سمجھتے ہیں کہ "کوہستان" کسی قوم کا نام ہے، لیکن حقیقت میں یہ صرف ایک علاقے کا نام ہے۔ کوہستان کے معنی ہیں پہاڑوں کی زمین یا جگہ
اس خطے کے اصل باشندے دردک (Dardic) نسل کے لوگ اور گجر قوم ہیں۔ اباسین اور اپر کوہستان میں گجروں کی موجودگی صدیوں پرانی ہے جس کے اہم پہلو درج ذیل ہیں:
​1. قدیم پس منظر
​قدیم آباد کاری: مورخین کا ماننا ہے کہ گجر یہاں اس وقت سے آباد ہیں جب "گندھارا تہذیب" اپنے عروج پر تھی۔ یہ لوگ وسطی ایشیا سے ہجرت کر کے ان پہاڑی سلسلوں میں مقیم ہوئے تھے۔
​نقل مکانی: پانچویں اور چھٹی صدی عیسوی میں خوراک اور پانی کی تلاش میں مختلف قبائل خانہ بدوشوں کی طرح ہجرت کرتے تھے، اسی دوران گجر قبائل نے بھی کشمیر اور کاغان سے ہوتے ہوئے کوہستان کے محفوظ پہاڑی علاقوں کا رخ کیا۔
​2. تاریخی ثبوت اور شواہد
​لسانی ثبوت: کوہستان میں بولی جانے والی "گوجری" زبان اس بات کی سب سے بڑی دلیل ہے کہ یہ لوگ یہاں کے قدیم رہائشی ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ زبان صدیوں سے اس علاقے میں رائج ہے۔
​مغلیہ اور برطانوی دور: مغل بادشاہ اکبر اور جہانگیر کے دور کی تحریروں میں "کوہستانِ ہزارہ" کے گجروں کا ذکر ملتا ہے۔ اسی طرح انگریزوں نے بھی 19ویں صدی کے ریکارڈز (Gazetteers) میں گجروں کو ایک محنتی، طاقتور اور زمیندار قوم کے طور پر لکھا ہے۔
​3. سماجی اور ثقافتی پہچان
​طرزِ زندگی: مال مویشی پالنا اور پہاڑوں کی چوٹیوں پر رہنا گجروں کا ہزاروں سال پرانا طریقہ زندگی ہے جو آج بھی کوہستان کی پہچان ہے۔
​شجرہ نسب: کوہستان کے گجر قبائل (جیسے چوہان، کھٹانہ، بنیا وغیرہ) اپنا تعلق ان قدیم گجر بادشاہتوں سے جوڑتے ہیں جنہوں نے آٹھویں صدی میں ہندوستان کے بڑے حصے پر حکومت کی تھی۔
​4. موجودہ صورتحال
​آج کوہستان میں گجر قوم کی حیثیت محض چرواہوں کی نہیں ہے بلکہ:
​وہ علاقے کی سیاست میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔
​کوہستان کی مختلف وادیوں میں زمینوں کے مالکان ہیں۔
​آبادی کا ایک بہت بڑا حصہ گجر قبائل پر مشتمل ہے جو علاقے کی ترقی میں برابر کے شریک ہیں۔
​خلاصہ:
کوہستان کی تاریخ اور وہاں کی مٹی میں گجر قوم کی جڑیں بہت گہری ہیں۔ یہ لوگ یہاں کے ماحول کا لازمی حصہ ہیں اور ان کی تاریخ ہزاروں سال کی محنت اور بہادری سے عبارت ہے۔

Address

Karachi

Telephone

+923481134539

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Gujjar Sarkar posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Gujjar Sarkar:

Share