06/10/2024
*مستونگ*
*اے موت تجھے کیوں موت نہیں آتی*
*7اکتوبر سیاہ ترین دن یہ دن زندگی بھر ہم سے بھولا نہیں جائیگا..😭*
شہید یوسف جان لہڑی (منجھو) 4اپریل 1979کو کلی گلقنڈ مستونگ میں غلام حیدر لہڑی کے گھر پیدا ہوئے.. انہوں ابتدائی تعلیم کلی محمدشہی بوائز ہائی سکول سے حاصل کی.......
انہوں زمانہ طالب علمی سے بلوچ قوم پرستانہ سیاست میں حصہ لینے شوقین تھا...
ابتدائی سیاست کا آغاز بلوچ سٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے پلیٹ فارم سے شروع کیا..
بعد میں راہشون سردار عطاءاللہ خان کی بلوچستان و بلوچ قوم کےلیے مخلصی کے ساتھ سیاسی جدوجہد کی پاداش میں انکا پیروکار بن گیا...
اور بلوچستان نیشنل پارٹی سے اپنے قوم پرستانہ سیاست کا آغاز کردیا...
وہ ایک نڈر بہادر انسان و شخصیت کے مالک تھا..
وہ بلوچستان نیشنل پارٹی پر آنے والےہر مشکلات سختی وسوری،خوشی و غم میں سیسہ پلائی دیوار بن کر پارٹی کی دفاع میں بلالچ و مقاصد کھڑا رہتا تھا...
اسکی مخلصی کی واضح مثال اس نے تا شہادت کسی بھی قسم کے پارٹی سے مراعات لینے کی لالچ کی اور نہ ہی اپنے کسی فیملی ممبران کےلیے مراعات لینے کی کوشش کی...
اور وہ ہمیشہ بلوچستان نیشنل پارٹی کے اس سہہ رنگ کے جھنڈے کی سربلندی کےلیے اپنے تمام تر وسائل بروئے کار لاکر بڑی ایمانداری و مخلصی کے ساتھ پارٹی کی ہر پروگرام کو کامیاب بنانے کےلیے پرجوش کوششیں کرکے کامیاب بناتا تھا....
وہ بلوچستان نیشنل پارٹی کے تحصیل صدر سمیت مختلف عہدوں پر فائز رہ چکا تھا..
اور وہ بازار یونین کے صدر و جنرل سیکرٹری اور دیگر عہدوں پر بھی اپنے زمہ داریاں بڑی ایمانداری و احسن طریقے سے سرانجام دیتا تھا....
شہید کا سپورٹس سے لگاو بھی بہت تھا.انکا اپنا بھی تین فٹبالز کلب کے ساتھ وابستگی تھی انکا علاقے میں سپورٹس کے حوالے سے کارکردگی بھی بےحد اطمینان بخش تھا.. اور وہ
ڈی ایف اے مستونگ کے سینئر نائب صدرو خازن سمیت مختلف عہدوں پر بھی فائز رہ چکا تھا..
شہید محمد یوسف لہڑی کی صبر برداشت، ایمانداری، پیار و محبت، مخلصی اور اسکے گزرے ہوئے دنوں کو دوستوں کے ساتھ ہمیشہ اچھے انداز میں یاد کرکے افسردہ ہو جاتے ہے..
پارٹی کے سارے دوست گواہ انہوں کبھی بھی بلیک میلنگ لالچ دھوکہ دہی کی سیاست نہیں کیے...
1998میں جب بلوچستان نیشنل پارٹی اقتدار میں آئے وہ پر بھی اپنی زات و زاتی مفادات کی خاطر کسی بھی قسم کے مراعات کو حاصل کرنے کےلیے اپنی جدوجہد تیز نہیں کیا...
اور وہ ہمیشہ کی طرح سردار عطاءاللہ خان مینگل اور سردار اختر جان مینگل کے ہر اس اعلامیہ پر بلاغرض و مقاصد لبیک کہہ کر انکے شانہ بشانہ کھڑا رہتا تھا....
مشرف کے دور میں پارٹی ورکروں کے خلاف ایکشن لینے کے دوران شہید یوسف لہڑی نے اپنے جان ہتھیلی پر رکھکر پارٹی کی دفاع اور قائد کی گرفتاری کے خلاف ہر احتجاج میں ہر اول دستے کا کردار ادا کرتا رہا....
مستونگ کے باشعور عوام ہمیشہ اپنے ایسے مخلص سیاسی ورکر کی قربانیوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہویے. انکو انکے قربانیوں کے بدولت لال سلام پیش کرتے ہیں....
ہمیشہ کی طرح اس خونی قومی شاہراہ نے ہم سے ہمارا ایک نایاب ہیرا چھین کر ہمیشہ ہمیشہ کےلیے جدا کردیا...
اور وہ 7اکتوبر 2018کے دن رات 7بجے کی وقت لکپاس کے قریب غنجہ ڈوری کے مقام پر ایک روڈ حادثہ میں جام شہادت حاصل کرکے ہم سے ہمیشہ ہمیشہ کےلیے جدا ہوگئے..
اور اس طرح بلوچستان نیشنل پارٹی اپنے ایک اور مخلص نظریاتی سیاسی ورکر اور مستونگ کے عوام ایک سچا ایماندار صبر و برداشت تحمل اور خیر خواہ انسان کی پیار و محبت سے محروم ہوگئے...
اسطرح مستونگ کے غیرت مند باشعور عوام شہید یوسف جان لہڑی کی قربانیوں خیرخواہی کی کوششوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہوئے مستونگ کی تاریخ میں ہمیشہ کےلیے سنہری الفاظ میں لکھا اور پڑھا جائیگا...
اسی سلسلے میں 7اکتوبر شہید یوسف جان لہڑی کی چھٹی6 برسی نہایت عقیدت و احترام سے انکے رہائش گاہ پر قرآن خوانی کرکے منایا جائیگا....
تمام دوست شہید یوسف جان لہڑی کو اپنے خصوصی دعاوں میں یاد رکھے... وسلام
(*تحریر انجینیئر امیرجان*)