25/02/2026
بلوچ اسٹوڈنٹ کونسل وفاقی اردو یونیورسٹی کراچی
بلوچ اسٹوڈنٹ کونسل وفاقی اردو یونیورسٹی کراچی اسلام آباد کے علاقے G-7 سے نبیل ارمان کی جبری گمشدگی پر گہری تشویش اور شدید افسوس کا اظہار کرتی ہے۔ نبیل ارمان NUML سے انگلش لٹریچر پڑھ چکے تھے ایک تعلیم یافتہ، باشعور نوجوان، BSC اسلام آباد کے سابق رکن، اور سماجی و ماحولیاتی امور پر کام کرنے والے ایک ذمہ دار شہری ہیں۔
جبری گمشدگی جیسے اقدامات نہ صرف پاکستان کے آئین بلکہ بین الاقوامی انسانی حقوق کے اصولوں کی بھی خلاف ورزی ہیں۔ اس طرح کے واقعات نہ صرف متاثرہ فرد بلکہ اس کے اہلِ خانہ، دوستوں اور تعلیمی برادری کو شدید ذہنی کرب اور عدم تحفظ کا شکار بنا دیتے ہیں۔ بلوچ طلبہ کو بار بار نشانہ بنانا ایک تشویشناک رجحان ہے جس کا فوری طور پر نوٹس لینا ضروری ہے۔
بلوچ اسٹوڈنٹ کونسل پُرامن اور آئینی انداز میں ریاستی و متعلقہ اداروں سے مطالبہ کرتی ہے کہ نبیل ارمان کو فوری اور محفوظ طور پر بازیاب کیا جائے، ان کی خیریت کو یقینی بنایا جائے اور بلوچ طلبہ کے خلاف ہراسانی و جبری اقدامات کا مکمل خاتمہ کیا جائے۔
بلوچ اسٹوڈنٹ کونسل وفاقی اردو یونیورسٹی کراچی