03/08/2025
کتاب یاد نہیں رہتی؟ پڑھی ہے؟
تحریر : ڈاکٹر محمد طارق
کیا آپ کو کبھی کتاب پڑھنے کے بعد یہ محسوس ہوا کہ آپ کو اس میں سے کچھ یاد نہیں رہا؟ سب کچھ یا زیادہ تر بھول گیا. کیا واقعی ایسا ہی ہوتا ہے؟
بہت کم لوگ ایسے ہوتے ہیں جنہیں کتاب پڑھنے کے بعد اس کا متن جزئیات کے ساتھ یاد رہتا ہے. اکثر لوگوں سے جزئیات تو کیا موٹی موٹی تفصیل بھی پوچھ لیں تو سینکڑوں صفحات کی کتاب پر پندرہ منٹ شاید ہی بات کر پائیں. لیکن کیا ہم کتابیں یاد رکھنے کیلئے پڑھتے ہیں؟ نہیں. ہم کتابیں یاد نہیں رکھتے، یاد رکھنے کیلئے پڑھتے بھی نہیں ہیں. ہم کتاب سیکھنے کیلئے پڑھتے ہیں. جیسے جیسے ہم پڑھتے ہیں، ہمارا دماغ کتاب کے مواد کا جائزہ لیتا رہتا ہے اور نئے خیالات کو جذب کرتا جاتا ہے. نیا نکتۂ نظر تراشتا جاتا ہے. نئے خیالات ترتیب دیتا جاتاہے. اور ہمارے اندر ایک نیا شخص ارتقاء پاتا جاتا ہے. ہر نئی کتاب پڑھتے ہوئے ہمارے سابقہ تجربات، خیالات اور علم کی نوک پلک سنورتی جاتی ہے. ہم تبدیل ہوتے جاتے ہیں اور ہمارا ورلڈ ویو (worldview) بھی. ہم ہر کتاب کے ساتھ تبدیلی کے ایک نئے عمل سے گزرتے ہیں. یہ تبدیلی کبھی انتہائی تیزی سے آتی ہے (اور ہم کہتے ہیں کہ فلاں کتاب نے مجھے بدل دیا یا بدلنے میں سب سے زیادہ کردار ادا کیا). لیکن اکثر یہ تبدیلی انتہائی سست رفتار اور خاموش ہوتی ہے، اتنی غیر محسوس انداز سے آتی ہے کہ ہمیں خود نہیں پتہ چلتا کہ ہمارے خیالات، عقائد، نظریات، رویہ، لہجہ، ترجیحات یا مقاصد کب بدلے، کس کتاب نے کتنا کردار ادا کیا. عموماً یہ تبدیلی جتنی سست روی ہوتی ہے، اتنی ہی میچور اور دیرپا ہوتی ہے. اور اکثر دیکھا ہے کہ اگر تیزی سے آئے تو انتہائی جلد باز اور آئیڈیلسٹ ہوتی ہے. بہت شور مچاتی ہے.
بہرحال اگر اگلی بار کتاب پڑھنے کے بعد آپ کو لگے کہ کتاب تو ساری بھول گئی چنانچہ پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں ہوا تو یاد رکھیں کہ کتاب آپ کو بتائے بغیر آپ کو بدل گئی ہے. کچھ سکھا گئی ہے. اور سیکھنے کے عمل کا سب سے پہلا اور آسان indicator تبدیلی ہے. چنانچہ اگر کوئی کتاب آپ میں کوئی تبدیلی نہیں لا سکی تو پھر آپ نے کتا پڑھی ہی نہیں.