M Dilawar Official

M Dilawar Official علم یہ نہیں کہ بات کتنی گہری، الفاظ کتنے مشکل ہو۔
بلکہ یہ ہے کہ بات کتنی ضروری، الفاظ کتنے آسان ہو۔

دشمن بنانے کے لئے ضروری نہیں کہ آپ کسی سے لڑائی کریں۔ بس حق اور سچ بولیں۔ بے شمار دشمن آپ کو اپنے خاندان میں ہی مل جائیں...
03/02/2024

دشمن بنانے کے لئے ضروری نہیں کہ آپ کسی سے لڑائی کریں۔ بس حق اور سچ بولیں۔ بے شمار دشمن آپ کو اپنے خاندان میں ہی مل جائیں گے۔۔۔!
(کڑوی سچ)

انقلاب ہمیشہ نوجوان لاتے ہیں۔ لیکن جس معاشرے کے نوجوان چمچہ گیری کی راہ پر چل پڑیں۔وہاں انقلاب نہیں غلامی راج کرتی ہے۔(چ...
02/02/2024

انقلاب ہمیشہ نوجوان لاتے ہیں۔ لیکن جس معاشرے کے نوجوان چمچہ گیری کی راہ پر چل پڑیں۔
وہاں انقلاب نہیں غلامی راج کرتی ہے۔
(چی گویرا)

کسی منفی شخص کے ساتھ رہنا بہت مشکل کام ہے۔ یہ لوگ ہماری ساری توانائی اور پوزیٹیوٹی نچوڑ لیتے ہیں۔ایسے میں اگر ہماری اپنی...
20/11/2023

کسی منفی شخص کے ساتھ رہنا بہت مشکل کام ہے۔ یہ لوگ ہماری ساری توانائی اور پوزیٹیوٹی نچوڑ لیتے ہیں۔ایسے میں اگر ہماری اپنی ذات کمزور ہو اور ارتقاء پر محنت کم ہو تو ہم بھی فورا خالی ہوجائیں اور پھر منفی ہوجائیں۔

یہاں کچھ چیزیں یاد رکھنے والی ہیں۔
1۔ فوکس دوسرے شخص یا اس کے کاموں پر سے ہٹانا اور خود پر مرکوز رکھنا۔
2۔ دوسرے کو بدلنے کی آرزو یا جستجو کو محور و مرکز نا بنانا۔
3۔ دوسرے کو جو ہے جیسا ہے کی بنیاد پر تسلیم کرنا۔
4۔ بحث و مباحثہ سے اجتناب۔
5۔ بات ماننے کے بجائے ویلیڈیٹ کرنا اور جب تک دم میں دم ہے حوصلہ سے سننا۔
6۔ جب خود کمزوری محسوس کریں یا جذبات منفی ہونے لگیں تو معذرت کرکے اٹھ جانا"فی الحال میرے لئے یہ باتیں سننا ممکن نہیں۔۔پھر کبھی کرتے ہیں۔"
7۔ Assertiveness کے اصول یاد رکھنا۔
8۔ دعا کرنا

منفی لوگ خود سخت مشکل میں ہوتے ہیں۔ ان کی اصل جنگ اپنے ساتھ چل رہی ہوتی ہے۔ ان کی باتوں کو پرسنل نہ لیں۔

اگر منفی بات سے زیادہ تکلیف محسوس ہونے لگے تو توجہ اس کی بجائے خود پر مرکوز کرنا، اپنے جذبات کا تجزیہ کرنا ضروری ہے۔ اس کے لئے معذرت کرکے اٹھ جایئں اور خود کو توجہ دیں۔

عام طور پر منفی لوگ ججمنٹل باتیں کرتے ہیں۔ نیتوں پر شک اور ہمارے اندر کی دنیا کے حال و احوال کے بارے میں ایسے بات کرتے ہیں جیسے وہ ہمارے اندر بیٹھے ہیں خدانخواستہ اللہ کی طرح ان کو سب پتہ ہے۔

یہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ اگر ہمارے بارے میں اللہ کے بعد کسی کو کچھ اندازہ ہے تو وہ ہم خود ہیں۔ کسی تیسرے چوتھے بندے کی بات صرف اس کی ذاتی رائے یا تجزیہ ہے حقیقت بلکل نہیں" اس لئے Furious ہونے کی بجائے Curious ہوجایئں۔
خود کو ٹھنڈا کریں۔ اور کلیئرلی کہیں "اچھا آپ کا یہ خیال ہے۔ آپ ایسا سمجھتے ہیں۔"
اگر حملے تابڑ توڑ ہوں تو واضح کر دیں" میرے یا کسی اور کے اندر کی کہانی، نیت کا حال صرف اللہ کے علم میں ہے۔ اور کچھ مجھے خود پتہ ہے آپ کی رائے زنی درست نہیں۔"
یہ بات اس وقت زوردار اور با اثر ہوگی جب سیلف کیئر اور خود آگاہی کی وجہ سے آپ کرسٹل کلیئر ہو۔
اگر آپ خود کلیئر نا ہوں یا شک کا شکار ہوں گے تب سمجھ لیں کہ منفی لوگوں کے لئے سافٹ ٹارگٹ بنے رہینگے۔

"ناکامی کے اسباب اور آسان سا حل"ناکامی کے اسباب انسان کے اپنے اندر موجود ہوتا ہے اور کامیابی کا راز بھی انساں کے اندر پو...
03/12/2022

"ناکامی کے اسباب اور آسان سا حل"
ناکامی کے اسباب انسان کے اپنے اندر موجود ہوتا ہے اور کامیابی کا راز بھی انساں کے اندر پوشیدہ ہے۔ ہم دنیا کی رنگینیوں میں مدہوش ہیں کہ اپنے آپ کو وقت نہیں دے پاتے۔ فضول باتوں میں اپنا قیمتی وقت ضائع کر دیتا ہے۔ دوسروں کو سنانے اور ان کو سننے میں وقت برباد تو کر دیتا ہے لیکن خودی کی تلاش سے بے زار ہے۔ خود کی نہیں سنتا۔ ہمیشہ دوسروں کا محتاج ہوتا ہے۔ چاہے مشورے لینے ہوں، چھوٹے بڑے فیصلے لینے ہو، ہر چیز میں آس پاس کے لوگوں کا محتاج ہوتا ہے۔ لیکن وہ خود سے فیصلے نہیں لے پاتے۔ خود سے کچھ کرنا نہیں چاہتے۔ پانا بہت کچھ چاہتا ہے لیکن کھونے سے ڈرتا لگتا ہے۔ یہ سچ ہے کہ کچھ پانے کے لیے کچھ کھونا پڑتا ہے۔ لیکن کھونے سے بزدل خوف کھاتا ہے لیکن پانے کی خواہش ہر کوئی رکھتا ہے۔ میں یہ نہیں کہتا کہ مشورہ نہ لیں۔ مشورہ ضرور لیں، ان لوگوں سے جو جانتا ہو، جنہوں نے کچھ حاصل کر چکا ہو اور کر رہا ہو، جسے صحیح اور غلط کا پتا ہو۔ جو ہماری بھلائی چاہتا ہو۔ جو ہمیں کچھ بن کر دیکھنا چاہتا ہو، حسد نہ رکھتا ہو۔ دوسروں کے دکھ سکھ میں شریک ہوتا ہو۔ ہم مشورہ لیتے ہیں ان لوگوں سے جو خود فضول بیٹھا رہتا ہے، گپیں مارتا پھرتا ہے۔ جس کا کوئی مقصد نہیں ہوتا، نہ بڑا خواب رکھتا ہے۔
نہ کوئی اس کا مقصد ہوتا ہے۔ نہ کھونے کا دل رکھتا ہے۔
اپنا سمت بدل لیں۔ اپنا رخ تبدیل کر لیں۔ مشورے لینے، سمجھنے اور عمل کرنے کا زاویہ نگاہ بدل لیں۔ اپنے مقصد کو ذہن میں رکھیں اور ذہن سازی کریں۔ اپنے نفس کا محاسبہ کریں۔ خود کو وقت دیں، اپنی صحبت کو اچھے لوگوں میں شمار کریں۔
تب ہی ممکن ہے کہ لائف میں آپ اچھا مقام حاصل کر سکتے ہیں۔۔۔!

"ناکامی کے اسباب اور آسان سا حل"ناکامی کے اسباب ان کے اپنے اندر موجود ہوتا ہے اور کامیابی کا راز بھی انساں کے اندر پوشید...
24/11/2022

"ناکامی کے اسباب اور آسان سا حل"
ناکامی کے اسباب ان کے اپنے اندر موجود ہوتا ہے اور کامیابی کا راز بھی انساں کے اندر پوشیدہ ہے۔ ہم دنیا کی رنگینیوں میں مدہوش ہیں کہ اپنے آپ کو وقت نہیں دے پاتے۔ فضول باتوں میں اپنا قیمتی وقت ضائع کر دیتا ہے۔ دوسروں کو سنانے اور ان کو سننے میں وقت برباد تو کر دیتا ہے لیکن خودی کی تلاش سے بے زار ہے۔ خود کی نہیں سنتا۔ ہمیشہ دوسروں کا محتاج ہوتا ہے۔ چاہے مشورے لینے ہوں، چھوٹے بڑے فیصلے لینے ہو، ہر چیز میں آس پاس کے لوگوں کا محتاج ہوتا ہے۔ لیکن وہ خود سے فیصلے نہیں لے پاتے۔ خود سے کچھ کرنا نہیں چاہتے۔ پانا بہت کچھ چاہتا ہے لیکن کھونے سے ڈرتا لگتا ہے۔ یہ سچ ہے کہ کچھ پانے کے لیے کچھ کھونا پڑتا ہے۔ لیکن کھونے سے بزدل خوف کھاتا ہے لیکن پانے کی خواہش ہر کوئی رکھتا ہے۔ میں یہ نہیں کہتا کہ مشورہ نہ لیں۔ مشورہ ضرور لیں، ان لوگوں سے جو جانتا ہو، جنہوں نے کچھ حاصل کر چکا ہو اور کر رہا ہو، جسے صحیح اور غلط کا پتا ہو۔ جو ہماری بھلائی چاہتا ہو۔ جو ہمیں کچھ بن کر دیکھنا چاہتا ہو، حسد نہ رکھتا ہو۔ دوسروں کے دکھ سکھ میں شریک ہوتا ہو۔ ہم مشورہ لیتے ہیں ان لوگوں سے جو خود فضول بیٹھا رہتا ہے، گپیں مارتا پھرتا ہے۔ جس کا کوئی مقصد نہیں ہوتا، نہ بڑا خواب رکھتا ہے۔
نہ کوئی اس کا مقصد ہوتا ہے۔ نہ کھونے کا دل رکھتا ہے۔
اپنا سمت بدل لیں۔ اپنا رخ تبدیل کر لیں۔ مشورے لینے، سمجھنے اور عمل کرنے کا زاویہ نگاہ بدل لیں۔ اپنے مقصد کو ذہن میں رکھیں اور ذہن سازی کریں۔ اپنے نفس کا محاسبہ کریں۔ خود کو وقت دیں، اپنی صحبت کو اچھے لوگوں میں شمار کریں۔
تب ہی ممکن ہے کہ لائف میں آپ اچھا مقام حاصل کر سکتے ہیں۔۔۔!

20/11/2022

"کامیاب اور ناکام شخص کی کچھ نشانیاں"

کامیابی کا دوسرا نام ہے قربانی۔ جو کچھ کھونے سے نہیں ڈرتے، وہی سب کچھ پا لیتا ہے۔ کہتے ہیں کہ کچھ پانے کے لیے کچھ کھونا پڑتا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کھونے سے کیا مراد ہے ؟، جواب آتا ہے کہ کھونے سے مراد جب آپ کوئی کام شروع کرتے ہیں تو مشکلات آجاتے ہیں، مثلآ: صبح سویرے اٹھنا، اچھی اور سکون نیند سے بیدار ہونا، رزق حلال کے غرض سے۔ گھر والوں سے دور رہنا۔ کبھی کبھار تھکاوٹ، تیز دھوپ کی شدت، سرد موسم میں ٹھنڈ برداشت کرنا، بھوک، پیاس پر صبر کرنا، مختلف لوگوں سے واسطہ پڑنا، منفی لوگوں کی منفی سوچ اور ان کے تلخ الفاظ کو نظر انداز کرنا وغیرہ وغیرہ مراد ہے۔۔۔!

کامیاب وہی شخص ہوتا ہے، جو زمانے کے تلخ رویے اور حالات سے لڑنا جانتا ہے۔
ناکام وہی ہے جو لوگوں کے سخت الفاظ سے اپنے آپ کو موازنہ کرتا ہے، آیا لوگ درست تو نہیں کہہ رہے؟ میں شاید نہیں کر سکتا، میں کن ذہن ہوں، میں ضعیف و ناتواں ہوں، میرے آگے پیچھے کوئی نہیں ہے، بے یار و مددگار ہوں، اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، میں سب سے کمتر ہوں کیونکہ فلاں شخص نے ایسا کہا تھا، ویسا کہا تھا۔

کامیاب شخص ہمیشہ خود کے دل کا سنتا ہے۔ لوگوں کے رویوں کی پرواہ نہیں کرتا۔ بس اپنی منزل کی جانب رواں دواں رہتا ہے۔ کھٹن راہوں کے حالات سے گھبرایا نہیں کرتے۔ حالات جیسے بھی ہوں، بس سفر جاری رکھتا ہے۔ زندگی ہی مسلسل سفر جاری رکھنے کا دوسرا نام ہے۔ حالات سے سمجھوتہ کبھی نہیں کرتے۔

کسی شاعر نے کیا خوب کہا ہے کہ
بڑے عظیم حوصلے لے کر چلا ہوں، جانب منزل
میں کٹ تو سکتا ہوں مگر ہٹ نہیں سکتا

ناکام شخص ہمیشہ دوسروں کا سنتا ہے۔ سنی سنائی باتوں پر عمل کرتا ہے۔ تحقیق کیے بغیر تنقید کرتا ہے۔ سفر کے تھکن کا خوف ہوتا ہے اور رک رک کر چلتا ہے۔ حالات سے گھبرا جاتا ہے۔ پہلا قدم اٹھاتا ہے، پھر سوچتا ہے، دوسرا قدم اٹھاتا ہے، پھر سوچتا ہے، تیسرا قدم اٹھاتا ہے، پھر سوچتا ہے۔ آخر گھبرا کر ہار مان لیتا ہے۔ مشکلات سے سمجھوتا کر لیتا ہے۔
ایسے لوگوں کے لئے کسی شاعر نے بڑا اچھا کلام لکھا ہے۔ آپ کی نذر کرتا ہوں،
وہ مرد نہیں جو ڈر جائے، حالات کے خونی منظر سے
جس دور میں جینا مشکل ہو، اس دور میں جینا لازم ہے

تو اب آپ کے پاس دو ہی آپشنز ہیں۔
مشکلات سے لڑ کر کامیابی اور اچھی زندگی جینا چاہتے ہو یا ناکام ہو کر زندگی بھر لوگوں کے احسانات اٹھاتے رہنا ہے۔

مزید اچھی تحریر کے لیے پیج کو فالو اور شئیر کریں۔
شکریہ

آج کے دن کی مناسبت سے پڑھ لیجیے گا، آزادی گلگت بلتستان کے بارے میں۔ 1st نومبر 1947بالاورستان (گلگت بلتستان) کے چند حقائق...
01/11/2022

آج کے دن کی مناسبت سے پڑھ لیجیے گا، آزادی گلگت بلتستان کے بارے میں۔ 1st نومبر 1947
بالاورستان (گلگت بلتستان) کے چند حقائق، جن کے بارے میں جاننا ہر خاص و عام پر لازم و ملزوم ہے۔ خاص کر سیاسی شخصیات کو جو حب الوطنی کا دعویٰ کرتے نظر آتے ہیں اور ہم سے ووٹ لیکر ہمیں اندھیرے میں پھینک دیتے ہیں۔

یوں تو ہر شخص کو ہر حال میں مر جانا ہےکون کس شان سے مرتا ہے کمال اس میں ہے(نعیم ضرار)
29/10/2022

یوں تو ہر شخص کو ہر حال میں مر جانا ہے
کون کس شان سے مرتا ہے کمال اس میں ہے

(نعیم ضرار)

زمانہ جاہلیت کی یہ منھ بولتا ثبوت ہے کہ جہاں حوصلہ افزائی کی جائے۔ حسن کی تعریف کرے۔ اچھائی کو اچھا کہے۔ ہر وقت میسر رہے...
26/10/2022

زمانہ جاہلیت کی یہ منھ بولتا ثبوت ہے کہ جہاں حوصلہ افزائی کی جائے۔ حسن کی تعریف کرے۔ اچھائی کو اچھا کہے۔ ہر وقت میسر رہے۔ خیریت دریافت کرے۔ کچھ دیتے رہے۔
داد رسی کے لیے جائے۔ خوشیاں بانٹے۔ قریب جانے کی کوشش کرے تو سمجھتے ہیں کہ مفاد پرست ہے، خود کے فائدے کا سوچتا ہے، اپنی خوشی کا دیکھتا ہے۔
کسی کہنے والے نے سچ ہی کہا تھا،" بھلائی کا زمانہ ہی نہ رہا۔"

The people who make fun of you, are the same people who are the first to congratulate you on your success.
20/09/2022

The people who make fun of you, are the same people who are the first to congratulate you on your success.



علم کی اہمیت سے محروم ۔۔۔؟علم کی طلب ہر مسلمان (مرد و عورت) پر فرض ہے۔(حدیث)علم حاصل کرو چاہے تمھیں چین بھی جانا پڑے۔(حد...
08/09/2022

علم کی اہمیت سے محروم ۔۔۔؟

علم کی طلب ہر مسلمان (مرد و عورت) پر فرض ہے۔
(حدیث)
علم حاصل کرو چاہے تمھیں چین بھی جانا پڑے۔
(حدیث)
ماں کی گود سے لیکر قبر تک علم حاصل کرو۔

مجھے نہایت افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ ہمارے سماج کا المیہ یہ بنا ہوا ہے، جیسے تعلیم صرف مردوں پر فرض کیا گیا ہو۔ والدین پر چند اہم فرائض ہیں جن میں سے ایک فریضہ اولاد کی تعلیم و تربیت بھی ہے۔ لیکن بعض والدین اس اہم عمل سے ناآشنا ہو کر اپنے بچے، بچیوں کو تعلیم کی زیور سے آراستہ کرنے کے بجائے ان کو محروم رکھ کر اندھیر زندگی کی طرف دھکیل رہا ہے۔ جو کہ سراسر خود کے ساتھ،اپنے بچوں کے ساتھ اور آنے والی نسلوں کے ساتھ بڑا ظلم ہے۔
تعلیم کا مقصد فقط جاب حاصل کرنا نہیں ہے بلکہ اچھا انسان بن کر انسانیت کا احترام کرنا، اللہ تعالیٰ کے بندوں کی خدمت کرنا اور انسانیت کے تقاضے پر پورا اترنا تعلیم کا اصل مقصد ہے۔
ہم سمجھتے ہیں کہ بچے پردیس جا کر تعلیم سے مستفید ہوں گے، درست ہے لیکن ماحول بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔
اگر اپنے بچوں کی تربیت اچھی سے کریں گے، تو ماحول یورپ جیسا ہی کیوں نہ ہوں، نباض فطرت ڈاکٹر علامہ اقبال رح کی طرح گند اور غلیظ دلدل سے بچ کر اپنے قوم و ملت کے لیے کارفرما ثابت ہوگا، اگر تربیت میں کوتاہی کرے، ان پر نظر نہ رکھے، صحیح اور غلط میں تمیز نہ سکھائے، تو ماحول کتنا ہی سازگار اور نفع بخش ہو، غلط ماحول کا اثر انہیں اپنے لپیٹ میں لے لے گا۔
اپنے بچوں اور بچیوں میں فرق نہ کریں۔ ہمارے معاشرے کے خواندہ اور ناخواندہ طبقے کے کثیر لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ لڑکوں کو تعلیم دلانے سے اپنا فائدہ ہوتا ہے، پرائے نہیں ہوتے کہ بعد میں نفع بخش بھی ثابت ہوتے ہیں۔ صرف لڑکوں کو تعلیم دلانا ضروری سمجھتے ہیں کہ بڑھاپے میں رفیق ثابت ہوں گے، یہ خیال اپنے اذہان سے نکال پھینکنے کی ضرورت ہے، ورنہ ایسی سوچ ترقی کرنے کے بجائے تنزلی اور ذلت کا شکار ہو جاتی ہے۔
اس کے برعکس لڑکیوں کے متعلق یہ تصور کرتے ہیں کہ
لڑکیوں کو تعلیم دلانے سے نقصان یہ ہوتا ہے، پیسے ضائع ہوں گے، کیوں کہ انہیں تو گھر بار چھوڑ کر سسرال جانے ہیں، پھر کیوں ان کو تعلیم کی طرف بھیج دیں، اتنے خرچے کر کے ان کو پڑھوائیں، یہ خیال سو فیصد غلط ہے۔ دین اسلام دونوں (مرد و عورت) کو یہ پیغام دے رہا ہے کہ تعلیم حاصل کرو خواہ کچھ بھی ہو۔
لیکن ہمارے سماج کے لوگوں کے ذہنوں سے یہ خیال نکال پھینکنے کی ضرورت ہے، کہیں یہ سماج ترقی اور عروج پانے سے قاصر نہ رہے۔
ایک افریقی مشہور پرو ورب ہے کہ:"اگر تم ایک مرد کو تعلیم دلاتے ہو، تو تم نے ایک فرد کو تعلیم دلوائی۔ اگر تم نے ایک عورت کو تعلیم دلائی، گویا تم نے ایک قوم یعنی پوری ایک جنریشن کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کیا۔"
(_Brigam Young)
ہمیں اپنے سماج میں دونوں کو یکساں تعلیم دینے کی ضرورت ہے۔ چاہے وہ دنیاوی تعلیم ہو یا اخروی تعلیم۔
تعلیم انسان کو آگاہی فراہم کرتی ہے۔ تعلیم ایک پڑھے لکھے معاشرے کو جنم دیتی ہے۔ جہاں تعلیم سب کے لیے مساوی ہو وہاں ترقیاتی کام زیادہ ہونگے۔ شعور والے لوگ زیادہ ہوں گے۔ معاشرے میں خرابیاں کم پیدا ہوں گی۔
افسوس ہمارے سماج میں ایسا نہ ہونے کے برابر ہے۔ تھوڑی بہت تعلیم جہاں دی جاتی ہو وہاں تعلیم کے اصل مقصد کو غلط لیا جاتا ہے۔ اگر اساتزہ اچھے ہیں تو نظام درہم برہم ہے۔
تعلیم کا اصل ہدف آج کل کچھ یوں ہے: پڑھ لکھ کے پیسے کمانا، اچھی جاب کرنا، بڑی پوسٹ حاصل کر کے دائیں بائیں ہاتھوں سے تگ و دو کر کے لوٹ لینا۔ اچھے اور برے کی تمیز بھول جانا، غریبوں پر ظلم و زیادتی کرنا، حاسدانہ اور متکبرانہ طور طریقوں سے دوسروں کو نیچا دکھانا۔ سچ کو جھوٹ اور جھوٹ کو سچ ثابت کرنا۔ احترام کو بھول جانا، بڑوں کا حکم نہ ماننا، یتیموں اور مسکینوں کے حق حقوق کو یاد نہ رکھنا، مستورات کی عصمت پامال کرنا، اثر و رسوخ کے بل بوتے جنسی استحصال کے حدود کو پار کرنا، دوسروں کی مجبوریوں کا غلط فائدہ اٹھانا، مراقبہ کا رجحان کم ہونا، انسانیت کو بھول کر درندگی اور وحشی زندگی گزارنا۔
نہ جانے کیا کیا خرابیاں ہیں، جن کو ریمو کرنے اور درست کر کے اچھے معاشرے کو نئے سرے سے تشکیل دینے کی ضرورت ہے۔ لہذا! ہمیں اپنے حصے کی شمع جلانا ہے۔
اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو آمین ثم آمین۔

تحریر: محمد دلاور بلتستانی

Address

11
Karachi
05444

Opening Hours

Saturday 10:00 - 22:00
Sunday 10:00 - 22:00

Telephone

+923200833513

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when M Dilawar Official posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to M Dilawar Official:

Share