22/07/2026
اس نوجوان کو اپنا نام ساجد یاد ہے۔
ساجد کا کہنا ہے کہ میں چار یا پانچ سال کا تھا جب اپنے گھر کے باہر سے اغ*واء ہوا تھا۔
ساجد کا کہنا ہے ہم فلیٹ میں رہتے تھے۔میں ماں باپ کا اکلوتا تھا،
امی نے مجھے سختی سے منع کیا تھا کہ بیٹا نیچے مت جانا کوئی اٹھاکر لےجائےگا۔میں چیز لینے کے لئے لفٹ کے ذریعے نیچے اترا کسی نے میرے سر پر ہاتھ رکھا اسکے بعد مجھے ہوش نا رہا۔ جب ہوش میں آیا تو ٹرین میں تھا۔
وہ شخص مجھے لاہور لایا۔لاہور میں ایک جگہ رکھا تھا وہ ن*شہ کرتا تھا مجھے بہت مارتا تھا،مقامی لوگوں نے میری حالت دیکھ کر مجھے اس شخص سے چھین لیا۔
کسی فیملی نے اپنا بیٹا بنا لیا۔ پھر ان کے بعد مزید دو فیملیز نے رکھا۔ ابھی میں 23/24 سال کا ہوں۔میری شادی ہوچکی ہے۔ایک فیکٹری میں کام کرتا ہوں۔ امی ابو کی یاد نے مجھے کھوکھلا کردیا ہے۔ خدا کے لئے مجھے میرے گھر سے ملوائیں۔
ساجد کا کہنا ہے کہ مجھے لوگوں نے بتایا کہ تم جب شروع شروع میں آئے تھے بہت صاف شفاف اردو بولتے تھے۔ شاید میں کراچی سے ہوں۔
صاف اردو اور فلیٹ میں رہائش ممکن ہے کراچی سے ساجد اغو*اء ہوا ہو۔
لیکن یقینی طور پر نہیں کہا جاسکتا کہ کراچی کا ہی ہو۔ جسکی وجہ سے ہمیں صرف کراچی نہیں پاکستان بھر میں اس پوسٹ کو پھیلانا ہے تاکہ ملک کے جس کونے میں ساجد کے خاندان والے پوسٹ دیکھیں تو رابطہ کریں۔
بچپن کی جو تصویر ہے یہ لاہور آنے کے ایک سال بعد کی ہے امید ہے گھر والے پہچان لیں گے۔
شئیر کریں اور ڈھیروں نیکیاں کمائیں۔
کسی بھی اطلاع کے لئے نیچے درج نمبر پر وٹس ایپ کریں
+923162529829
21 july 2026