25/08/2026
صحابہ کرام علیہم الرضوان کی حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت اتنی گہری اور بے مثال تھی کہ اس کا موازنہ کائنات کی کسی محبت سے نہیں کیا جا سکتا۔ صحابہ کرام کے ہاں ولادتِ مبارکہ کا تذکرہ، آپ کی آمد پر خوشی کا اظہار، اور آپ کی شان میں مدح و ثناء (خراجِ تحسین اور نغمے) بالکل ثابت ہیں، بلکہ احادیث اور سیرت کے دلائل میں اس کے متعدد واقعات موجود ہیں۔
صحابہ کرام کا اندازِ محبت کیا تھا اور وہ کس طرح آپ کی آمد اور آپ کے وجود پر خوشی اور مدح کا اظہار کرتے تھے، اسے چند روشن مثالوں سے سمجھا جا سکتا ہے:
1. آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنا میلاد خود منانا (پیر کا روزہ)
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خود اپنی ولادت کے دن کا شکر اور یاد منایا کرتے تھے:
* **صحیح مسلم** میں روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پیر (دوشنبه) کے روزے کے بارے میں پوچھا گیا، تو آپ نے فرمایا:
> *"ذَاكَ يَوْمٌ وُلِدْتُ فِيهِ، وَيَوْمٌ بُعِثْتُ أَوْ أُنْزِلَ عَلَيَّ فِيهِ"*
> (یہ وہ دن ہے جس میں، میں پیدا ہوا، اور اسی دن مجھ پر وحی نازل کی گئی)۔
> صحابہ کرام اس سنت پر عمل کرتے ہوئے آپ کی ولادت کے دن کی مناسبت سے یہ عبادتی شکر ادا کرتے تھے۔
>
2. حضرت عباس رضی اللہ عنہ کا آپ کی ولادت کا قصیدہ سنانا
صحابہ کرام آپ کی ولادت کے واقعات اور اس کی برکات پر منظوم خراجِ تحسین (نغمے/قصائد) پیش کرتے تھے:
* **سیرت ابن ہشام** اور **المستدرک للحاکم** میں روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: *"یا رسول اللہ! مجھے اجازت دیں کہ میں آپ کی مدح (ولادت کی برکات) میں کچھ اشعار پیش کروں۔"* آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: *"سناؤ، اللہ تمہارے منہ کو سلامت رکھے۔"*
* حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے جو قصیدہ پڑھا، اس کے آخری اشعار کا ترجمہ یوں ہے:
> *"جب آپ کی ولادت ہوئی تو پوری زمین چمک اٹھی اور آپ کے نور سے آفاق روشن ہو گئے، اور ہم اسی نور اور ہدایت کی روشنی میں چل رہے ہیں۔"*
> آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے سماعت فرمایا اور پسندیدگی کا اظہار کیا۔
3. حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ اور صحابہ کے نغماتِ محبت
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شاعرِ دربار حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ نے ولادت اور آپ کے حسنِ مبارک پر لازوال اشعار کہے، جنہیں منبر پر کھڑے ہو کر پڑھا جاتا تھا:
> *وأَحْسَنُ مِنْكَ لَمْ تَرَ قَطُّ عَيْنِي -- وَأَجْمَلُ مِنْكَ لَمْ تَلِدِ النِّسَاءُ*
> *خُلِقْتَ مُبَرَّءًا مِنْ كُلِّ عَيْبٍ -- كَأَنَّكَ قَدْ خُلِقْتَ كَمَا تَشَاءُ*
> **(ترجمہ:** آپ سے زیادہ حسین میری آنکھ نے کبھی دیکھا ہی نہیں، اور آپ سے زیادہ خوبصورت کسی عورت نے بچہ جنا ہی نہیں؛ آپ ہر عیب سے پاک پیدا کیے گئے، گویا آپ اپنی مرضی کے مطابق تخلیق فرمائے گئے ہیں۔)
4. ہجرت کے موقع پر مدینہ میں آمدِ رسول کا تاریخی جشن
اگرچہ یہ ولادتِ جسمانی کے وقت کا واقعہ نہیں، لیکن "رسولِ خدا کی آمد" پر صحابہ کی بے ساختہ خوشی اور نغمے گانے کی سب سے بڑی تاریخی مثال ہے:
* جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لائے، تو انصار کے مرد، خواتین اور بچے گھروں کی چھتوں پر نکل آئے۔
* مدینہ کی بچیوں نے دف بجا کر آپ کی آمد پر تاریخی نغمہ (ترانہ) پڑھا:
> *طَلَعَ الْبَدْرُ عَلَيْنَا -- مِنْ ثَنِيَّاتِ الْوَدَاعِ*
> *وَجَبَ الشُّكْرُ عَلَيْنَا -- مَا دَعَا لِلَّهِ دَاعِ*
> (ہم پر چودھویں کا چاند طلوع ہو گیا، ہم پر اللہ کا شکر واجب ہو گیا جب تک دعا کرنے والا دعا کرتا رہے)۔
>
5. ابو لہب کے لونڈی آزاد کرنے کا واقعہ
* **صحیح بخاری** میں روایت ہے کہ ابو لہب (جو نصرانی/کافر تھا) کو جب اس کی لونڈی ثویبہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت کی خوشخبری دی، تو اس نے خوشی میں اسے آزاد کر دیا۔ بعد میں خواب میں دیکھا گیا کہ اس خوشی کے بدلے میں (سوموار کے دن) اس کے عذاب میں تخفیف کی جاتی ہے۔
علماء فرماتے ہیں کہ جب ایک کافر کو ولادت کی خوشی پر یہ فائدہ ملا، تو مؤمن صحابہ اور امت کے لیے اس کی خوشی کا مقام کیا ہوگا۔
**خلاصہ:**
صحابہ کرام کی زندگی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذکر، آپ کے حسن و شمائل کی مدح، آپ کی ولادت پر اللہ کے فضل و کرم کے شکر، اور آپ کی آمد پر خوشی منانے سے بھری ہوئی تھی۔