North Karachi Property

North Karachi Property نارتھ کراچی پراپرٹی : پتہ LS 21 سیکٹر 5C4 کے الیکٹرک کے دفتر کے پیچھے پاور ہاؤس چورنگی سے نزدیک ۔۔
صرف واٹس ایپ میسج پر جواب دیا جائے گا
🇰 🇦 🇲 🇷 🇦 🇳
(1)

Specially we deals in all types of Residential Properties (Houses / Portions / Banglows / Flats) In all Over North Karachi.

صحابہ کرام علیہم الرضوان کی حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت اتنی گہری اور بے مثال تھی کہ اس کا موازنہ کائنات کی کسی...
25/08/2026

صحابہ کرام علیہم الرضوان کی حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت اتنی گہری اور بے مثال تھی کہ اس کا موازنہ کائنات کی کسی محبت سے نہیں کیا جا سکتا۔ صحابہ کرام کے ہاں ولادتِ مبارکہ کا تذکرہ، آپ کی آمد پر خوشی کا اظہار، اور آپ کی شان میں مدح و ثناء (خراجِ تحسین اور نغمے) بالکل ثابت ہیں، بلکہ احادیث اور سیرت کے دلائل میں اس کے متعدد واقعات موجود ہیں۔
صحابہ کرام کا اندازِ محبت کیا تھا اور وہ کس طرح آپ کی آمد اور آپ کے وجود پر خوشی اور مدح کا اظہار کرتے تھے، اسے چند روشن مثالوں سے سمجھا جا سکتا ہے:
1. آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنا میلاد خود منانا (پیر کا روزہ)
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خود اپنی ولادت کے دن کا شکر اور یاد منایا کرتے تھے:
* **صحیح مسلم** میں روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پیر (دوشنبه) کے روزے کے بارے میں پوچھا گیا، تو آپ نے فرمایا:
> *"ذَاكَ يَوْمٌ وُلِدْتُ فِيهِ، وَيَوْمٌ بُعِثْتُ أَوْ أُنْزِلَ عَلَيَّ فِيهِ"*
> (یہ وہ دن ہے جس میں، میں پیدا ہوا، اور اسی دن مجھ پر وحی نازل کی گئی)۔
> صحابہ کرام اس سنت پر عمل کرتے ہوئے آپ کی ولادت کے دن کی مناسبت سے یہ عبادتی شکر ادا کرتے تھے۔
>
2. حضرت عباس رضی اللہ عنہ کا آپ کی ولادت کا قصیدہ سنانا
صحابہ کرام آپ کی ولادت کے واقعات اور اس کی برکات پر منظوم خراجِ تحسین (نغمے/قصائد) پیش کرتے تھے:
* **سیرت ابن ہشام** اور **المستدرک للحاکم** میں روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: *"یا رسول اللہ! مجھے اجازت دیں کہ میں آپ کی مدح (ولادت کی برکات) میں کچھ اشعار پیش کروں۔"* آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: *"سناؤ، اللہ تمہارے منہ کو سلامت رکھے۔"*
* حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے جو قصیدہ پڑھا، اس کے آخری اشعار کا ترجمہ یوں ہے:
> *"جب آپ کی ولادت ہوئی تو پوری زمین چمک اٹھی اور آپ کے نور سے آفاق روشن ہو گئے، اور ہم اسی نور اور ہدایت کی روشنی میں چل رہے ہیں۔"*
> آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے سماعت فرمایا اور پسندیدگی کا اظہار کیا۔

3. حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ اور صحابہ کے نغماتِ محبت
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شاعرِ دربار حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ نے ولادت اور آپ کے حسنِ مبارک پر لازوال اشعار کہے، جنہیں منبر پر کھڑے ہو کر پڑھا جاتا تھا:
> *وأَحْسَنُ مِنْكَ لَمْ تَرَ قَطُّ عَيْنِي -- وَأَجْمَلُ مِنْكَ لَمْ تَلِدِ النِّسَاءُ*
> *خُلِقْتَ مُبَرَّءًا مِنْ كُلِّ عَيْبٍ -- كَأَنَّكَ قَدْ خُلِقْتَ كَمَا تَشَاءُ*
> **(ترجمہ:** آپ سے زیادہ حسین میری آنکھ نے کبھی دیکھا ہی نہیں، اور آپ سے زیادہ خوبصورت کسی عورت نے بچہ جنا ہی نہیں؛ آپ ہر عیب سے پاک پیدا کیے گئے، گویا آپ اپنی مرضی کے مطابق تخلیق فرمائے گئے ہیں۔)

4. ہجرت کے موقع پر مدینہ میں آمدِ رسول کا تاریخی جشن
اگرچہ یہ ولادتِ جسمانی کے وقت کا واقعہ نہیں، لیکن "رسولِ خدا کی آمد" پر صحابہ کی بے ساختہ خوشی اور نغمے گانے کی سب سے بڑی تاریخی مثال ہے:
* جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لائے، تو انصار کے مرد، خواتین اور بچے گھروں کی چھتوں پر نکل آئے۔
* مدینہ کی بچیوں نے دف بجا کر آپ کی آمد پر تاریخی نغمہ (ترانہ) پڑھا:
> *طَلَعَ الْبَدْرُ عَلَيْنَا -- مِنْ ثَنِيَّاتِ الْوَدَاعِ*
> *وَجَبَ الشُّكْرُ عَلَيْنَا -- مَا دَعَا لِلَّهِ دَاعِ*
> (ہم پر چودھویں کا چاند طلوع ہو گیا، ہم پر اللہ کا شکر واجب ہو گیا جب تک دعا کرنے والا دعا کرتا رہے)۔
>
5. ابو لہب کے لونڈی آزاد کرنے کا واقعہ
* **صحیح بخاری** میں روایت ہے کہ ابو لہب (جو نصرانی/کافر تھا) کو جب اس کی لونڈی ثویبہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت کی خوشخبری دی، تو اس نے خوشی میں اسے آزاد کر دیا۔ بعد میں خواب میں دیکھا گیا کہ اس خوشی کے بدلے میں (سوموار کے دن) اس کے عذاب میں تخفیف کی جاتی ہے۔
علماء فرماتے ہیں کہ جب ایک کافر کو ولادت کی خوشی پر یہ فائدہ ملا، تو مؤمن صحابہ اور امت کے لیے اس کی خوشی کا مقام کیا ہوگا۔
**خلاصہ:**
صحابہ کرام کی زندگی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذکر، آپ کے حسن و شمائل کی مدح، آپ کی ولادت پر اللہ کے فضل و کرم کے شکر، اور آپ کی آمد پر خوشی منانے سے بھری ہوئی تھی۔

حدیثِ مبارکہ ، **صحیح مسلم** کی ایک نہایت معروف اور بابرکت حدیث ہے۔یہ واقعہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، جس میں...
25/08/2026

حدیثِ مبارکہ ، **صحیح مسلم** کی ایک نہایت معروف اور بابرکت حدیث ہے۔
یہ واقعہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، جس میں صحابہ کرام علیہم الرضوان کا ایک حلقہ (مجلس) بیٹھ کر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کر رہا تھا کہ اس نے انہیں اسلام کی ہدایت دی اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی صورت میں عظیم نعمت سے نوازا۔
**حدیثِ مبارکہ اور اس کا ترجمہ**
**روایت:**
حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کرام کے ایک حلقے (مجلس) کے پاس سے گزرے، تو آپؐ نے دریافت فرمایا:
**"ما أَبْلَسَكُمْ/مَا أجْلَسَكُمْ؟"** *(تم لوگ یہاں کس لیے بیٹھے ہو؟)*
صحابہ کرام نے عرض کیا:
**"جَلَسْنَا نَذْكُرُ اللهَ وَنَحْمَدُهُ عَلَى مَا هَدَانَا لِلإِسْلاَمِ، وَمَنَّ بِهِ عَلَيْنَا"**
*(ہم یہاں بیٹھ کر اللہ کا ذکر کر رہے ہیں اور اس بات پر اس کی حمد و ثناء کر رہے ہیں کہ اس نے ہمیں اسلام کی ہدایت دی اور آپ کو بھیج کر ہم پر احسان فرمایا۔)*
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
**"آللهِ مَا أَجْلَسَكُمْ إِلاَّ ذَاكَ؟"** *(اللہ کی قسم! کیا تم صرف اسی وجہ سے بیٹھے ہو؟)*
صحابہ نے عرض کیا:
**"وَاللهِ مَا أَجْلَسَنَا إِلاَّ ذَاكَ"** *(اللہ کی قسم! ہم صرف اسی مقصد کے لیے بیٹھے ہیں۔)*
تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
> **"أَمَا إِنِّي لَمْ أَسْتَحْلِفْكُمْ تُهْمَةً لَكُمْ، وَلَكِنَّهُ أَتَانِي جِبْرِيلُ فَأَخْبَرَنِي أَنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ يُبَاهِي بِكُمُ الْمَلاَئِكَةَ"**
> *(سنو! میں نے تم سے کسی شک یا تہمت کی وجہ سے قسم نہیں لی، بلکہ میرے پاس جبریل علیہ السلام آئے اور انہوں نے مجھے خبر دی کہ **اللہ عزوجل تم پر فرشتوں کے سامنے فخر فرما رہا ہے**۔)*
>
**حدیث مبارکہ کے مصادر (References):**
* **صحیح مسلم:** کتاب الذکر والدعاء، باب فضل الاجتماع على تلاوة القرآن وعلى الذكر، **حدیث نمبر: 6851 (دار السلام: 2701)**
* **جامع الترمذی:** **حدیث نمبر: 3379**
* **سنن النسائی:** **حدیث نمبر: 5426**
* **مسند احمد:** **حدیث نمبر: 16895**
**اس حدیث کے اہم نکات:**
* **رسولِ پاکؐ کی بعثت کا شکرانہ:** صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا یہ عمل صریحاً اس بات کی دلیل ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریف آوری اور ہدایت ملنے پر **شکر ادا کرنا اور خوشی و ذکر کی محفل قائم کرنا** صحابہ کی سنّت ہے۔
* **قسم کا مقصد:** آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا قسم دینا صحابہ پر شک کی بنا پر نہیں تھا، بلکہ اس محفل اور اس شکرانے کی عظمت و اہمیت کو واضح کرنا تھا۔
* **بارگاہِ الٰہی میں مقبولیت:** اللہ تعالیٰ اپنے ان بندوں پر فرشتوں کے سامنے فخر فرماتا ہے جو رسولِ پاکؐ کی نعمت پر اللہ کا شکر اور آپؐ کی بعثت کا ذکر کرتے ہیں۔

کراچی کے نظام، اس کے تلخ حقائق اور سفید پوش طبقے کو درپیش سنگین مسائل کی درست عکاسی ۔ کراچی کا شمار دنیا کے ان شہروں میں...
21/08/2026

کراچی کے نظام، اس کے تلخ حقائق اور سفید پوش طبقے کو درپیش سنگین مسائل کی درست عکاسی ۔ کراچی کا شمار دنیا کے ان شہروں میں ہوتا ہے جہاں نظام کا دوہرا معیار ایک عام شہری کی زندگی کو جہنم بنا چکا ہے۔ آپ کے اٹھائے گئے نکات شہر کی بنیادی خرابیوں کی عین تصویر ہیں۔
دوہرا نظام اور سفید پوش طبقے کی مشکلات
* **قانونی خرید و فروخت کا خمیازہ:** ایک عام شہری جو اپنی زندگی بھر کی جمع پੂੰی لگا کر، کے ڈی اے (KDA) کی لیز، تمام واجبات، سیٹلڈ (Settled) کارروائیاں اور موٹیشن کے قانونی چارجز ادا کرتا ہے، اسے ایس بی سی کی طرف سے ہراساں کیا جاتا ہے۔ نقشہ نہ ہونے یا معمولی تکنیکی خامی کی آڑ میں توڑ پھوڑ کا ڈر دکھا کر رشوتیں وصول کی جاتی ہیں۔
* **غیر قانونی آبادیاں اور سرپرستی:** اس کے برعکس، کٹی پہاڑی، منگو پیر، غازی گوٹھ اور دیگر علاقوں میں قائم غیر قانونی کچی آبادیوں اور سرکاری یا نجی املاک پر قبضے کھلے عام ہوتے ہیں۔ وہاں نہ صرف یہ کہ کوئی قانونی کارروائی نہیں ہوتی، بلکہ انہیں سیاسی یا انتظامی آشیرواد بھی حاصل ہوتی ہے۔
وسائل کی چوری اور بوجھ سفید پوش پر
* **یوٹیلیٹی بلوں کی مہنگائی:** ان غیر قانونی علاقوں میں بجلی (کنڈا کلچر)، گیس اور پانی کی چوری عام ہے۔ ان تمام چوریوں کا مالی بوجھ "لائن لاسز" اور ٹیکسوں کی صورت میں باقاعدگی سے بل ادا کرنے والے سفید پوش اور متوسط طبقے پر ڈالا جاتا ہے۔
* **جرائم اور منشیات کی صنعت:** ان علاقوں کو مبینہ طور پر جرائم، منشیات کے اڈوں اور قانون شکنی کی پناہ گاہوں کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے، جس کی وجہ سے پورے شہر کا امن تباہ ہو چکا ہے۔
کراچی کا بگڑتا ہوا امن و امان
* **شہریوں کی محصور زندگی:** ان ہی انتظامی اور پالیسی نقصانات کی وجہ سے آج کراچی کے باسی اپنے اہل خانہ کے ساتھ محفوظ تفریح، پرسکون گھومنے پھرنے اور بنیادی شہری سہولتوں سے محروم ہو چکے ہیں۔ شہر کے گرد غیر قانونی گوٹھوں اور آبادیوں کے جال نے اس کی ڈیموگرافی اور امن کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔
کیا آپ اس دوہرے معیار اور ناانصافی کے خلاف سول سوسائٹی یا قانونی محاذ پر کسی خاص حل یا پہلو پر مزید بات کرنا چاہیں گے؟

کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (KCCI) اور پالیسی ریسرچ اینڈ ایڈوائزری کونسل (PRAC) کی جاری کردہ ایک رپورٹ کا جائزہ پی...
21/08/2026

کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (KCCI) اور پالیسی ریسرچ اینڈ ایڈوائزری کونسل (PRAC) کی جاری کردہ ایک رپورٹ کا جائزہ پیش کیا گیا ہے، جو صوبائی محصولات میں مقامی حکومتوں کے حصے اور رجحان کو ظاہر کرتی ہے:
1. صوبائی وصولیوں میں مقامی حکومت کا حصہ (فیصد کے لحاظ سے)
پہلا گراف یہ دکھاتا ہے کہ سندھ حکومت کی کل وصولیوں میں سے مقامی حکومتوں کو فیصد کے اعتبار سے کتنا حصہ ملا:
* **سال 2011-12** میں یہ حصہ سب سے زیادہ یعنی **15.7 فیصد** تھا۔
* اس کے بعد کے سالوں میں اس کی شرح میں نمایاں کمی دیکھی گئی اور یہ زیادہ تر **4.4 فیصد سے 7.8 فیصد** کے درمیان رہی۔
* حالیہ برسوں (جیسے **2023-24 میں 6.5 فیصد** اور **2024-25 میں 6.2 فیصد**) کے دوران یہ شرح اسی نچلی حد کے قریب ہی ریکارڈ کی گئی ہے۔
2. صوبائی ریونیو اور مقامی حکومتوں کو منتقلی کا رجحان (ارب روپے میں)
دوسرا گراف صوبائی کل آمدنی (General Revenue Receipts) اور اس میں سے مقامی حکومتوں کو دی جانے والی رقوم (Transfers to Local Government) کا تقابلی جائزہ پیش کرتا ہے:
* **کل صوبائی آمدنی میں اضافہ:** سندھ حکومت کی کل آمدنی میں پچھلے چند سالوں میں زبردست اضافہ ہوا ہے؛ سال **2020-21** میں یہ آمدنی **960.4 ارب روپے** تھی، جو بڑھتے بڑھتے **2024-25** میں **2,562.7 ارب روپے** (2.5 ٹریلین سے زائد) تک پہنچ گئی۔
* **لوکل گورنمنٹس کو منتقلی:** اس کے مقابلے میں مقامی حکومتوں کو منتقل کی جانے والی رقوم (پیلی لائن کا گراف) انتہائی کم رفتار سے بڑھی ہیں۔ مالی سال **2020-21** میں یہ رقم **67.2 ارب روپے** تھی، جو سال **2024-25** میں بڑھ کر **160.0 ارب روپے** ہوئی ہے۔
**خلاصہ:**
یہ اعداد و شمار اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ اگرچہ صوبے کی کل آمدنی اور ٹیکسوں کا حجم اربوں روپے سے بڑھ کر ٹریلینز میں جا چکا ہے، لیکن اس کے تناسب سے مقامی حکومتوں (بلدیات اور یو سیز) کو ملنے والا حصہ فیصد کے لحاظ سے بہت کم (تقریباً 6 فیصد کے لگ بھگ) رہ گیا ہے، جو کہ کاروباری حلقوں اور بلدیاتی نمائندوں کے اس شکوے کو تقویت دیتا ہے کہ مقامی اداروں کو ان کے حق کے مطابق مالی وسائل نہیں مل رہے۔

کراچی میں پراپرٹی کے مالکان کو کس طرح پہلے سب رجسٹرار کے پاس رجسٹری کی بھاری فیس اور ٹیکس دینا پڑتا ہے، اور پھر کے ڈی اے...
08/08/2026

کراچی میں پراپرٹی کے مالکان کو کس طرح پہلے سب رجسٹرار کے پاس رجسٹری کی بھاری فیس اور ٹیکس دینا پڑتا ہے، اور پھر کے ڈی اے (KDA) یا متعلقہ ادارے میں میوٹیشن (انتقال) کے نام پر دوبارہ الگ سے چارجز ادا کرنے پڑتے ہیں۔

“ ہم لائے ہیں طوفان سے کشتی نکال کے” جون 1948 کے لائف میگزین سے لی گئ کراچی کی ایک تصویر۔یہ سن 1948 کا کراچی ہے۔ ایک کھل...
29/07/2026

“ ہم لائے ہیں طوفان سے کشتی نکال کے”

جون 1948 کے لائف میگزین سے لی گئ کراچی کی ایک تصویر۔
یہ سن 1948 کا کراچی ہے۔ ایک کھلے میدان میں یہ سفید خیمے دراصل ان سرکاری اھل کاروں کے دفتر ہیں جو نوزائیدہ مملکت پاکستان کے دارالحکومت میں قائم اس سیکریٹیریٹ سے پورے ملک کا نظم و نسق سنبھالتے تھے۔ سخت گرمی دھوپ اور ریتیلی ہوائوں کا مقابلہ کرتے ان قابل مہاجر افسران نے کچھ ہی عرصے میں کراچی کو ایک مثالی شہر بنا دیا تھا۔
کسمپرسی کا یہ عالم تھا کہ کاغذات کو نتھی کرنے کے لئے پنیںں تک دستیاب نہ تھیں بلکہ اس مقصد کے لئے کیکر کے لمبے کانٹے استعمال کئے جاتے تھے۔ یہ کوئ افسانہ بیان نہیں کر رہا بلکہ آج بھی سندھ سیکریٹیریٹ اور دیگر دفتروں کے پرانے کباڑخانے یا ریکارڈ میں آپ کو نیچے دبی ایسی فائلیں مل جائیں گی جن کے کاغذات کیکر کے کانٹوں سے نتھی کئے گئے ہیں۔ جمیل الدین عالی لکھتے ہیں کہ ببول کے کانٹے کراچی میں تین آنے سینکڑہ جبکہ گھارو اور ٹھٹھہ میں ایک آنے سینکڑہ تھے۔ وہ اور انکا ایک دوست بزریعہ سائیکل جاتے اور ایک آنے سینکڑہ پر ہر ماہ کانٹے خریدتے تاکہ دو آنے فی سینکڑہ بچائے جاسکیں۔
اسوقت ایک روپے میں چونسٹھ پیسے ہوتے تھے.

یہ تصویر مشہور امریکی جریدے **"لائف" (LIFE Magazine)** کے ایک شمارے کی ہے، جو **1948** میں شائع ہوا تھا (اس پر تاریخ جنوری 2، 1948 درج ہے)۔
اس صفحے پر قیامِ پاکستان کے فوراً بعد کے حالات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا ہے، جس کا مرکزی عنوان (Headline) یہ ہے:
**"Despite Lack of Money and Skills Nation Fights to Avoid Collapse"**
*(پیسے اور ہنر کی کمی کے باوجود، قوم دیوالیہ ہونے سے بچنے کے لیے لڑ رہی ہے)*
اس مضمون میں درج ذیل اہم شعبوں اور حقائق کی تفصیلات بیان کی گئی ہیں:
* **پس منظر:**
مضمون کے شروع میں لکھا گیا ہے کہ 15 اگست کو جب پاکستان کو آزادی ملی تو ملک کو شدید مالی اور انتظامی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا۔ دارالحکومت کراچی کے حالات اور ملک کی معاشی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ نوزائیدہ ملک معاشی بحران سے نبرد آزما تھا۔
* **مزدوری اور افرادی قوت (Labor):**
اس وقت کی آبادی تقریباً 7 کروڑ تھی، جس میں سے 80 فیصد کسان تھے۔ بڑے زمیندار اور تاجر زیادہ تر اقلیتوں سے تعلق رکھتے تھے جو ہجرت کر کے چلے گئے تھے۔ ملک میں ہنر مند تکنیکی ماہرین اور منتظمین کی شدید کمی تھی۔
* **خوراک (Food):**
پاکستان خوراک کے معاملے میں خود کفیل تھا اور گندم و چاول وافر مقدار میں پیدا کرتا تھا، لیکن کچے راستوں اور نقل و حمل کے محدود ذرائع کی وجہ سے خوراک کو دور دراز علاقوں (جیسے سرحد اور بلوچستان) تک پہنچانا ایک بڑا مسئلہ تھا۔
* **خام مال (Raw Materials):**
بنگال کا پٹسن (Jute) پاکستان کی سب سے بڑی تجارتی فصل تھی، لیکن اس کی پروسیسنگ کے لیے زیادہ تر کارخانے بھارت کے حصے میں آئے تھے۔ ملک میں معدنیات، تیل اور کوئلے کے ذخائر اس وقت غیر ترقی یافتہ حالت میں تھے۔
* **صنعت (Industry):**
صنعتی لحاظ سے ملک کو خود کفیل ہونے کے لیے بہت کام کرنا تھا۔ پورے پاکستان میں فیکٹریوں اور بڑے کارخانوں کا فقدان تھا، اور ٹین کٹن ملیں ہندوستان کے مقابلے میں آٹے میں نمک کے برابر تھیں۔
* **نقل و حمل (Transportation):**
370,000 مربع میل رقبے پر پھیلے ہوئے اس ملک میں سڑکیں اور ریلوے لائنیں بہت محدود تھیں۔ بھارت اور پاکستان کے درمیان ٹرینیں ہجرت کرنے والے مہاجرین کو لا رہی تھیں، جبکہ ایندھن (کوئلے) کی شدید قلت کی وجہ سے ریلوے کا نظام چلانا انتہائی دشوار تھا۔
* **مالیات (Finances):**
تقسیم کے وقت بھارت نے پاکستان کا حصہ بروقت ادا نہیں کیا تھا، اور ملک کی آمدنی کے ذرائع انتہائی محدود تھے جبکہ اخراجات بہت زیادہ تھے۔

House For SaleGround Plus 2 RCC 120 square yards 8 Meter Street North Karachi Sector 5MDemand 2 Crores 10 LacsKamran Buk...
23/07/2026

House For Sale
Ground Plus 2 RCC 120 square yards
8 Meter Street
North Karachi Sector 5M
Demand 2 Crores 10 Lacs
Kamran Bukhari
WhatsApp 03112100928


نارتھ کراچی سیکٹر 5C2گراؤنڈ پلس ون آر سی سی سیکنڈ فلور پریکاسٹ کے ڈی اے لیز روڈ سے ایک فٹ اپر مارکیٹ سے قریب ڈیمانڈ ایک ...
22/07/2026

نارتھ کراچی سیکٹر 5C2
گراؤنڈ پلس ون آر سی سی سیکنڈ فلور پریکاسٹ
کے ڈی اے لیز
روڈ سے ایک فٹ اپر مارکیٹ سے قریب
ڈیمانڈ ایک کروڑ 40 لاکھ
House For Sale
Ground Plus One Rcc 2nd Floor Precast
North Karachi Sector 5C2
Demand 1 Crores 40 Lacs
WhatsApp 03112100928


نارتھ کراچی سیکٹر 5C4گراؤنڈ پلس ون آر سی سی کے ڈی اے لیز روڈ سے ایک فٹ اپر ماربل فلورنگ مارکیٹ سے قریب ڈیمانڈ ایک کروڑ 4...
21/07/2026

نارتھ کراچی سیکٹر 5C4
گراؤنڈ پلس ون آر سی سی
کے ڈی اے لیز
روڈ سے ایک فٹ اپر ماربل فلورنگ مارکیٹ سے قریب
ڈیمانڈ ایک کروڑ 40 لاکھ
House For Sale
Ground Plus One Rcc
North Karachi Sector 5C4
Demand 1 Crores 40 Lacs
WhatsApp 03112100928


Address

LS 21 Sector 5C/4 North Karachi Near Power House
Karachi
75850

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when North Karachi Property posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to North Karachi Property:

Shortcuts

Share