Asad khan Yousafzai

Asad khan Yousafzai Turning Dreams Into Plans And plans into reality.

گدون کے گاؤں دالوڑی میں کلاؤڈ برسٹ کی تباہ کاریوں کے بعد ملبے سے ایک بچے کی ننھی سی گاڑی ملی۔ وہ معصوم بچہ اس ہولناک سان...
23/08/2025

گدون کے گاؤں دالوڑی میں کلاؤڈ برسٹ کی تباہ کاریوں کے بعد ملبے سے ایک بچے کی ننھی سی گاڑی ملی۔ وہ معصوم بچہ اس ہولناک سانحے میں جان کی بازی ہار گیا۔ اس کھلونے کو دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ کیسے ایک پل میں خواب بکھر جاتے ہیں😢۔ اللہ اس معصوم کے درجات بلند کرے. آمین

11/08/2025

کیا آپ بھی اس عادتِ بد کا شکار تو نہیں؟

چند روز قبل ایک کالج وزٹ کرنے کا موقع ملا۔ میں دفتر میں بیٹھا ہوا تھا کہ طلباء گیلری میں سے گزرنے لگے۔ ان کے قدموں کی آواز سن کر بہت افسوس ہوا۔ اکثر طالبعلم ایک بری عادت میں مبتلاء تھے۔ میں نے سوچا پرنسپل صاحب آتےہیں تو انکو توجہ دلاٶں گا۔ لیکن جب وہ کمرے میں داخل ہوۓ تو وہ بھی اس عادت میں مبتلاء تھے سو مجبوراً خاموش رہا۔
آج میں آپ سے ذکر کرنا چاہتاہوں۔

آج سے دس بیس سال پہلے تک شاید ہی کوئی مرد یا عورت اس عجیب عادت میں مبتلا دکھائی دیتی تھی، جو اب ہر طرف پھیلتی جا رہی ہے۔ مرد ہو یا عورت، چھوٹا ہو یا بڑا، ہر تیسرا شخص اس پریشان کن رویے کا شکار نظر آتا ہے۔

پہلے تو ہم صرف مریضوں کو ہی اس انداز میں چلتے دیکھتے تھے۔ آواز سے ہی اندازہ ہو جاتا تھا کہ یہ شخص بیمار ہے، اس لیے یوں چل رہا ہے۔
لیکن اب تو صحت مند اور نوجوان لوگ بھی اسی مریضانہ انداز میں چلتے دکھائی دیتے ہیں۔

یہ عادت ہے چلتے ہوئے پاؤں گھسیٹنا، گھسٹ گھسٹ، کچر کچر، چر چر کی آوازیں کرتے ہوئے چلنا۔
ایک صحت مند شخص کا یوں پاؤں گھسیٹ کر چلنا نہ صرف بدنظمی کی علامت ہے بلکہ شخصیت کو بھی گہنا دیتا ہے۔
اچھا بھلا شخص جب کچر کچر کرتا ہوا گزرتا ہے، تو بہت برا لگتا ہے۔

درحقیقت، والدین نے بچوں کی تربیت کرنا چھوڑ دی ہے۔

ہمیں یاد ہے، جب کبھی ہم پاؤں گھسیٹ کر چلتے، تو ابا جی فوراً ٹوکتے۔ اگر وہ نہ ہوتے تو بھائی، دادی اماں یا کوئی بھی بڑا فرد ہمیں ضرور سمجھاتا کہ پاؤں اٹھا کر چلا کرو۔
دادی اماں کہا کرتی تھیں:
"پاؤں گھسیٹ کر چلنے سے گھر میں نحوست پھیلتی ہے!"

اسی طرح اسکول میں بھی اساتذہ کرام کی تربیت کا حصہ تھا کہ بچوں کو یہ بات سمجھائیں۔
جو بچہ پاؤں گھسیٹ کر چلتا، اسے روکا جاتا اور تاکید کی جاتی کہ ادب و وقار سے چلو۔

لیکن اب جس گھر میں چلے جائیں، جوتوں کی کچر کچر سنائی دیتی ہے۔

خواتین کو کچھ رعایت دی جا سکتی ہے، لیکن نوجوان، تندرست مرد حضرات بھی معذرت کے ساتھ حاملہ خواتین کی طرح پاؤں گھسیٹتے نظر آتے ہیں۔

یاد رکھیں، ایک مسلمان کو وقار کے ساتھ، متانت سے، سر اٹھا کر اور قدم جما کر چلنا چاہیے۔

کندھے جھکا کر، پاؤں گھسیٹ کر چلنا نہ صرف غیر مہذب عمل ہے بلکہ سنت نبوی ﷺ کے خلاف بھی ہے۔

حضرت سلف صالحین سے منسوب ایک قول ہے:

"ایاکم وخوالفۃ المشی، فإنها من فعل أهل النار"
"پاؤں گھسیٹ کر چلنے سے بچو، کیونکہ یہ دوزخی لوگوں کا عمل ہے۔"

لہٰذا تمام احباب سے گزارش ہے کہ پروقار انداز میں، مکمل پاؤں زمین سے اٹھا کر، مہذب طریقے سے چلا کریں۔
یہی ایک باوقار مسلمان کی پہچان ہے۔
خود بھی عمل کی کوشش کیجیے اور اس پیغام کو دوسروں کہساتھ شٸیر بھی کیجیے۔شکریہ

آج جمعہ کا مبارک دن ہے، کثرت سے درود شریف پڑھنے کا دن۔ تو ایک مرتبہ کم از کم درود شریف پڑھ لیجیے۔شکریہ

عثمان غنی رانا

11/08/2025

+18چھوٹے بچے اور برائلر کھانے والی عوام اس پوسٹ سے دور رہیں ۔۔۔

شادی کے فوراً بعد سب کی نظریں دلہن کے پیٹ پہ ہوتی ہیں کہ یہ پھول کیوں نہیں رہا ۔۔۔۔ ڈھکے چھپے انداز میں پوچھا جاتا ہے، پیروں فقیروں اور حکمیوں کے مشورے دیے جاتے ہیں۔۔۔اور کچھ سال انتظار کے بعد اولاد نہ ہونے پہ یا تو دوسری شادی کرلی جاتی ہے یا عورت کو طلاق دے دی جاتی ہے۔۔۔۔ اگر بیٹیاں زیادہ پیدا ہو تو بھی عورت کو قصور وار ٹھہرایا جاتا ہے۔۔۔ تو جانی یہ غلط ہے اصل مجرم کوئی اور ہے۔۔۔جی ہاں مرد ہے۔۔۔

اولاد مرد کے مقدر میں اور رزق عورت کے نصیب میں ہوتا ہے ۔۔۔ ہم نے الٹا کھیل شروع کردیا ہے۔۔۔

" شادی سے پہلے مرد کے ٹیسٹ کروائے جائیں۔۔۔ کیونکہ زیادہ تر مسئلہ مرد کے تولیدی جراثیم کی کمی یا نہ ہونے کی وجہ سے اولاد نہیں پیدا ہوتی۔۔۔ اور قصور وار عورت کو ٹھہرایا جاتا ہے ساس نند ہی سانس نہیں لینے دیتیں۔۔ سو اس میں شرم والی کوئی بات نہیں ہے۔۔۔بعد کے عذاب سے بہتر ہے صاف کہا جائے کہ لڑکے کی میڈیکل رپورٹ دیں۔۔۔
میڈیکل فیلڈ سے ہوں۔۔۔اور بہت سے تماشے روز دیکھتا ہوں۔۔۔ لوگ ٹیسٹ کروانے آتے ہیں مردانہ بانجھ پن کا شکار مردوں کی خواہش ہوتی ہے کہ ہم انہیں کلئیر کردیں۔۔اور بیوی کا قصور نکال دیں۔۔۔

بے راہ روی سے بچیں جیسے عورت کے لیے لازم ہے کہ اسے کسی نے چھوا نہ ہو۔۔۔ ( مردوں کی خواہش) اسی طرح مرد کو بھی چاہیئے کہ ہتھ ہولا رکھے۔۔۔ تاکہ بعد میں فیک رپورٹس بنوانے کے لیے رونا نہ پڑے. زندگی عذاب نہ ہو شکریہ

نوٹ: میرے کو گھنٹہ فرق نہیں پڑتا تم لوگ میری پوسٹ لائک کرو یا نہ کرو۔۔ اچھا رائٹر کہو یا نہ کہو۔۔۔ ! میں مزے میں ہوں۔۔۔

جگر کی چربی  لیور بہت سی بیماریوں  کا بھی باعث بنتا ہے۔ صحت مند جگر کے لئے اس کا خیال رکھنا بہت ضروری ہے۔ جگرکی چربی کی ...
11/08/2025

جگر کی چربی

لیور بہت سی بیماریوں کا بھی باعث بنتا ہے۔ صحت مند جگر کے لئے اس کا خیال رکھنا بہت ضروری ہے۔
جگرکی چربی کی کیا علامات ہوسکتی ہیں؟

بعض اوقات جگرکی چربی کی کوئی خاص علامات ظاہر نہیں ہوتیں۔اگر آپ جگر کی چربی کا شکار ہیں تو آپ کو تھکاوٹ اور اوپر والے دائیں حصے میں درد محسوس ہوسکتی ہے۔ اس کی یہ علامات ہوسکتی ہیں؛
۔ 1 بھوک کا نہ لگنا
۔ 2 وزن کا کم ہونا
۔ 3 جسم میں کمزوری
۔ 4 تھکاوٹ محسوس ہونا
۔ 5 ناک سے خون کا بہنا
۔ 6 جلد کی الرجی
۔ 7 آنکھوں اور جلد کا پیل
۔ 8 پیٹ میں درد
۔ 9 ٹانگوں کا سوج جانا

جگر کی چربی کی وجوہات کیا ہیں؟

جگر کی چربی کی بہت سی وجوہات کی بنا پر ہم فیٹی لیور کا شکار ہوسکتے ہیں۔
۔ 1 جب ہمارا جسم بہت زیادہ فیٹ پیدا کرتا ہے تو ہم جگرپر بھی فیٹ جمع کرتے ہیں۔
۔ 2 اس کے علاوہ بہت زیادہ سافٹ ڈرنک کے استعمال کی وجہ سے بھی جگرکی چربی بڑھ جاتی ہے۔
۔ 3 جو افراد موٹاپے کا شکار ہوتے ہیں ان میں بھی فیٹی لیور زیادہ ہوتا ہے۔
۔ 4 اس کے علاوہ بلڈ پریشر اور بہت زیادہ فیٹس کا ہونا ہمیں جگر کی چربی می مبتلا کرسکتا ہے۔
۔ 5 اس کی بہت کم وجوہات میں حاملہ ہونے کی وجہ سے ہوسکتی ہے۔

6 اچانک وزن کا کم ہونا
۔ 7 کوئی انفیکشن جیسے ہیپاٹائٹس سی بھی اس کی وجوہات میں شامل ہے۔
۔8 ذيابيطس كي بيماری عموماً چربی دار جگر كا باعث بنتی ہے۔

جگر کی چربی کا علاج کیسے کریں؟

ہم کچھ طریقوں کی مدد سے جگرکی چربی کو کم کرسکتے ہی۔آئیں وہ طریقے جانتے ہیں؛

۔ 1 اضافی وزن کو کم کریں

آپ کے جگر پر چربی آپ کے اضافی وزن کی وجہ سے بھی ہوسکتی ہے۔ اگر آپ صحت مند جگر چاہتے ہیں تو آپ کو اپنے وزن پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔ تاکہ آپ کی مجموعی صحت بھی بہتر ہوسکے۔ اگر آپ موٹے ہیں تو 3 سے 5 فیصد اپنا وزن کم کریں۔آپ وزن کم کرنے کے لئے کوئی بھی پروگرام شروع کرنے سے پہلے ڈاکٹر سے لازمی بات کریں۔

۔ 2 متوازن غذا

ہم متوازن غذا کی مدد سےاپنی صحت کو بہتر اور اچھا بنا سکتے ہیں۔ اپنے جگر کی چربی کو کم کرنے کے لئے صحت مند غذا کھانے اپنی روٹین میں شامل کریں۔ قدرتی غذاؤں کا استعمال جن میں پھل، سبزیاں شامل ہیں ان کا استعمال کریں۔ آپ اپنے جگر کی صحت کے لئے ان پھلوں اور سبزیوں کا استعمال کریں ؛
۔1 سیب
۔2 کینو
۔3 کجھور
۔4 تربوز
۔5 کیلے
۔6 شکر قندی
۔7 کھیرے
۔8 گاجر
۔9 ٹماٹر
۔ 10 بند گوبھی
اسے کے علاوہ آپ سبز پتوں والی سبزیوں کا بھی استعمال لازمی کریں۔

۔3 چینی کا کم استعمال

آپ جانتے ہیں کہ چینی ہمیں موٹا کرنے کے ساتھ ساتھ صحت کے بہت سے مسائل میں مبتلا کرسکتی ہے۔ اس لئے ان چیزوں کا استعمال کم کریں جس میں چینی شامل کی گئی ہو۔ جیسے آئس کریم، سافٹ ڈرنکس، کینڈی، انرجی ڈرنک اس کے علاوہ فلیور والا دہی استعمال کرنے سے گریز کریں۔
4 چست رہیں

اگر آپ روزمرہ زندگی میں کوئی بھی جسمانی سرگرمی نہیں کررہے اور آپ زیادہ وقت اپنے بستر پر گزار رہے ہیں توآپ بہت سی بیماریوں کا شکار ہوسکتے ہیں۔ اس وجہ سے آپ ٹائپ 2 ذیابیطس اور موٹاپے میں مبتلا ہوسکتے ہیں۔ اپنے جگر کی چربی کو کم کرنے لئے روزانہ 30 منٹ لازمی چلیں۔

۔ 5 کافی

مطالعات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ آپ کافی کے استعمال کی وجہ سے جگر کی بیماریوں سے نجات حاصل کرسکتے ہیں۔ روزانہ ایک سے 2 کپ کافی کا استعمال آپ کو جگر کی بیماری سے محفوظ رکھ سکتا ہے۔ اس کے علاوہ سافٹ ڈرنک کا استعمال بالکل ترک کریں۔

جگر کی چربی سے كيسے بچا جا سكتا ہے؟

۔ 1 موٹاپا كم كرنے كی كوشش كرنی چاہیئے۔
۔ 2 موٹاپے ميں چربی دار جگر كے علاوه اور بہت زياده خطرناک بيمارياں مثلاً بلڈپریشر، فالج، ذيابيطس اور دل كی بيماری لاحق ہو سكتی ہے۔
۔ 3 اپنی خوراک كا خاص خيال ركھنا چاہیئے۔ فاقه كشی، ضرورت سے زياده كھانے ميں كمی بھی چربی دار جگر كا باعث بن سكتی ہے۔
۔ 4 شراب نوشی ہرگز نہيں كرنی چاہیے كيونكه الكحل چربی كے استعمال اور اخراج كم كر ديتی ہے اور يوں چربی دار جگر كا باعث بنتی ہے۔
سبزیاں استعمال کریں، ورزش کریں، سگریٹ نوشی کو کم کرنا غذائیت سے بھرپور غذا کا استعمال کرنا۔
مٹھائیاں، چاول، سفید روٹی، بیکری کی بنی اشیاء کا استعمال کم کریں۔
گوشت کا استعمال بھی بہت ہی کم کرنا چاہیے۔
اگر احتیاطی تدابیر اختیار کی جائے تو حفظانِ صحت کے اصولوں پر عمل کرکے، متوازن خوراک اور زیادہ مرغن غذاؤں کا استعمال کم کیا جائے تو اس قسم کے مسائل سے بچا جاسکتا ہے۔

11/08/2025

میں اسدخان پورے ہوش و حواس میں فیسبک کو اجازت دیتا ہوں کے میری تمام تصاویر اور معلومات پورے آب و تاب کے ساتھ وائرل کر دے🙏

ہیروشیما پر ایٹم بم کا حملہاج کے دن، یعنی 6 اگست 1945 کو، صبح 6 بج کر 15 منٹ پر جاپان کے شہر ہیروشیما پر امریکہ نے "لٹل ...
06/08/2025

ہیروشیما پر ایٹم بم کا حملہ

اج کے دن، یعنی 6 اگست 1945 کو، صبح 6 بج کر 15 منٹ پر جاپان کے شہر ہیروشیما پر امریکہ نے "لٹل بوائے" (𝑳𝒊𝒕𝒕𝒍𝒆 𝑩𝒐𝒚) نام کا ایٹم بم گرایا، جو انسانی تاریخ کا سب سے ہولناک اور تباہ کن حملہ شمار ہوتا ہے۔ یہ حملہ نہ صرف دوسری جنگ عظیم کے خاتمے کا ذریعہ بنا، بلکہ ایٹمی ہتھیاروں کی تباہ کاری کا خوفناک پہلو بھی دنیا کے سامنے لے آیا۔

دوسری جنگِ عظیم (1939-1945) کے دوران جاپان، جرمنی اور اٹلی "ایکسِس پاورز" (𝑨𝒙𝒊𝒔 𝑷𝒐𝒘𝒆𝒓𝒔) کا حصہ تھے۔ چونکہ 7 دسمبر 1941 کو جاپان نے امریکہ کے فوجی اڈے پرل ہاربر (𝑷𝒆𝒂𝒓𝒍 𝑯𝒂𝒓𝒃𝒐𝒓) پر حملہ کیا، جس کے بعد امریکہ جنگ میں شامل ہوا۔ ساتھ ہی امریکہ نے خفیہ طور پر ایٹمی ہتھیار بنانے کا منصوبہ شروع کیا، جسے "منہیٹن پراجیکٹ" (𝑴𝒂𝒏𝒉𝒂𝒕𝒕𝒂𝒏 𝑷𝒓𝒐𝒋𝒆𝒄𝒕) کہا گیا۔

"لٹل بوائے" ایٹم بم کی تفصیلات

اس ایٹم بم کی لمبائی تقریباً 10 فٹ اور وزن 4,400 کلوگرام تھا۔ اس میں دھماکہ خیز مواد یورینیم (𝑼-235) استعمال کیا گیا تھا۔ یہ ایٹم بم 𝐸𝑛𝑜𝑙𝑎 𝐺𝑎𝑦 (B-29) نامی بمبار طیارے سے، 1900 فٹ (600 میٹر) کے بلندی سے پھینکا گیا۔

ہیروشیما میں تباہی کا اندازہ

▪️فوری ہلاکتیں 70,000 – 80,000
▪️ایک سال کے اندر 140,000 – 150,000 سے زائد مزید ہلاکتیں
▪️زخمی افراد 70,000+
▪️شہر کی 69 % عمارات مکمل تباہ
▪️درجہ حرارت Ground Zero پر 4,000°C سے زائد
▪️جھلسے ہوئے افراد ہزاروں میں
▪️ریڈی ایشن اثرات کئی دہائیوں تک بیماریوں کا سبب بنتے رہے

▪️لوگ خون کے کینسر (Leukemia) اور تھائرائیڈ کینسر میں مبتلا ہوگئے

▪️پیدائشی نقائص اور معذور بچوں (𝑮𝒆𝒏𝒆𝒕𝒊𝒄 𝑫𝒆𝒇𝒐𝒓𝒎𝒊𝒕𝒊𝒆𝒔) کی پیدائش شروع ہوئی

▪️بعد از صدمہ ذہنی تناؤ (PTSD)، ڈپریشن، انزائٹی اور خوف شروع ہوا

▪️تابکار ذرات زمین میں سرایت کر گئے

▪️زمین کئی سالوں تک غیر زرخیز ہو گئی

▪️ہزاروں افراد یتیم، معذور، اور بے گھر ہوگئے

ایٹمی حملے سے بچ جانے والے افراد کو "ہیباکوشا"
(Hibakusha) کہا جاتا ہے، جو آج بھی جسمانی و ذہنی اثرات سے متاثر ہیں۔

▪️ایٹم بم کے لئے ہیروشیما کیوں چُنا گیا؟

یہ شہر فوجی و صنعتی لحاظ سے اہم تھا۔ امریکی حکمتِ عملی کے مطابق، وہ ایسا شہر چاہتے تھے جو اب تک بمباری سے محفوظ ہو تاکہ ایٹمی اثرات کا مکمل مشاہدہ کیا جا سکے۔ سائنس دان اور فوجی ماہرین چاہتے تھے کہ دنیا کو ایٹم بم کی تباہ کاری پوری شدت سے دکھائی جائے۔

میں نے ابا سے پوچھا۔"یہ کتے رات کو کیوں بھونکتے ہیں؟ابا مطالعے میں غرق تھے۔ ایک نگاہمجھ پر ڈالی اور سرسری جواب دیا۔"کتے ...
05/08/2025

میں نے ابا سے پوچھا۔

"یہ کتے رات کو کیوں بھونکتے ہیں؟
ابا مطالعے میں غرق تھے۔ ایک نگاہ
مجھ پر ڈالی اور سرسری جواب دیا۔
"کتے جو ہیں رات کو ہی بھونکیں گے۔"
ابا جواب دے کر دوبارہ مطالعہ کرنے لگے مگر جو ابا نے
کہا تھا وہ میرے سوال کا جواب نہیں تھا۔
میں پھر گویا ہوئی۔ لیکن رات کو ہی کیوں؟"
ابا نے ایک ہنگاری بھری اور میری طرف متوجہ ہوتے
ہوئے بولے۔ "یہ بتانے کے لیے کہ جب جب تم پر رات جیسے کالے حالات آئیں گے کچھ کتے اٹھیں گے تم پر بھونکیں گے۔ ان سے گھبرانا نہیں بھونک کر چپ ہو جاتے ہیں۔

ایک پیغام تمام والدین کے نام۔۔۔۔امتحانات سے قبل ایک اسکول کے پرنسپل نے بچوں کے والدین کو خط بھیجا جس کا مضمون کچھ یوں تھ...
04/08/2025

ایک پیغام تمام والدین کے نام۔۔۔۔
امتحانات سے قبل ایک اسکول کے پرنسپل نے بچوں کے والدین کو خط بھیجا جس کا مضمون کچھ یوں تھا۔۔

" محترم والدین!
آپ کے بچوں کے امتحانات جلد ہی شروع ہونے والے ہیں میں جانتا ہوں آپ سب لوگ اس چیز کو لے کر بہت بے چین ہیں کہ آپ کا بچہ امتحانات میں اچھی کارکردگی دکھائے۔
لیکن یاد رکھیں یہ بچے جو امتحانات دینے لگے ہیں ان میں (مستقبل کے) آرٹسٹ بھی بیٹھے ہیں جنھیں ریاضی سمجھنے کی ضرورت نہیں ہے۔
اس میں بڑی بڑی کمپنیوں کے ترجمان اور مالکان بھی ہوں گے جنھیں ہسٹری سمجھنے کی ضرورت نہیں ۔
ان بچوں میں (مستقبل کے) ادیب بھی بیٹھے ہوں گے جن کے لیے کیمسٹری کے کم مارکس کوئی معنی نہیں رکھتے ان سے ان کے مستقبل پر کوئی اثر نہیں پڑنے والا۔
ان بچوں میں ایتھلیٹس بھی ہو سکتے ہیں جن کے فزکس کے مارکس سے زیادہ ان کی فٹنس اہم ہے۔
لہذا اگر آپ کا بچہ زیادہ مارکس لاتا ہے تو بہت خوب لیکن اگر وہ زیادہ مارکس نہیں لا سکا تو خدارا اسکی خوداعتمادی اور اس کی عظمت اس بچے سے نہ چھین لیجئے گا۔

اگر وہ محنت کے باوجود بہت اچھے مارکس نہ لا سکیں تو انھیں حوصلہ دیجئے گا کہ کوئی بات نہیں یہ ایک چھوٹا سا امتحان ہی تھا وہ زندگی میں اس سے بھی کچھ بڑا کرنے کے لیے بنائے گئے ہیں!!! بچوں پر ظلم نہ کریں ان کو ذہنی اذیت نہ دیں۔ اور یہ نہ سوچیں کے صرف ڈاکٹر یا انجینئر دنیا میں خوش رہ سکتے ہیں کے صرف وہی عزت دار شعبہ ہے اور صرف اسی سے پیسے کمائے جا سکتے ہیں۔ اور بہت سے کام ہیں اور بہت سے شعبے ہیں اور بہت سے پروفیشن ہیں اس سے آپ کے بچے عزت کا حلال روزگار بھی کما سکتے ہیں۔ ہر بچہ ہر بچی ایک جیسے نہیں ہوتے۔ سب کو ایک ہی ترازو میں نہ تولا جائے پلیز۔ پوسٹ اچھا لگے تو لائک کمنٹ شیر فالو نہ بھولیں جزاک اللّہ

17/07/2025

ہم جب کسی پرندے کو دیکھتے ہیں، تو پہلا خیال اس کے شکار یا قیمت کا آتا ہے — کہ اسے پکڑ کر پیٹ بھرا جائے یا بیچ کر جیب بھر...
23/06/2025

ہم جب کسی پرندے کو دیکھتے ہیں، تو پہلا خیال اس کے شکار یا قیمت کا آتا ہے — کہ اسے پکڑ کر پیٹ بھرا جائے یا بیچ کر جیب بھری جائے۔

لیکن جو قومیں دنیا پر حکمرانی کرتی ہیں، وہ پرندوں کو صرف شکار نہیں سمجھتیں، بلکہ ان پر تحقیق کرتی ہیں۔ ان کی اُڑان کو سمجھتی ہیں، ان کی ساخت، رفتار اور توازن کا مطالعہ کرتی ہیں۔ پھر انہی مشاہدات کی بنیاد پر جہاز بناتی ہیں، اور دنیا پر چھا جاتی ہیں۔

یہی فرق ہے ہمارے اور اُن کے سوچنے کے انداز میں۔

جب نیوٹن سیب کے درخت کے نیچے بیٹھا تھا اور اس کے سر پر ایک پکا ہوا سیب گرا، تو اُس نے اُسے صرف کھانے کی چیز نہیں سمجھا، بلکہ سوچا کہ یہ زمین پر کیوں گرا؟ یہی سوال اُس نے اپنے ذہن میں اٹھایا — اور اسی سوچ نے ہمیں “قانونِ کشش ثقل” دیا۔

آج اُسی قانون کی بدولت جہاز فضا میں اُڑتے ہیں، اور مصنوعی سیارے خلا کی وسعتوں میں بھیجے جاتے ہیں۔

ہم صرف پیٹ بھرنے اور اچھی تنخواہوں کے لیے علم حاصل کرتے ہیں۔ لیکن ترقی یافتہ قومیں علم کو صرف روزگار کا ذریعہ نہیں سمجھتیں۔ وہ کچھ نیا ایجاد کرنے، دنیا کو آگے بڑھانے، اور تاریخ میں اپنا نام سنہرے حروف میں لکھوانے کے لیے جیتی ہیں۔

یہی سوچ ہمیں بدلنی ہوگی۔

قوموں نے فطرت سے سیکھا ہے؛مشاہدہ، ریسرچ، تجربہ، علم . .
اسلام میں مومن کو بھی غور و فکر کی دعوت ہے ۔۔ قدرت عقلمند کا ساتھ دیتی ہے۔ جاہل اور عالم یعنی علم رکھنے والا برابر نہیں ہو سکتے۔۔👍🏼

تصویر:B2 کا نقشہ عقاب سے ملتا ہے۔

22/08/2024

Address

Karachi

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Asad khan Yousafzai posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Asad khan Yousafzai:

Share