Sara Amber Store

Sara Amber Store We deal in branded fabric stuff too🥰🥰
(2)

Ye post dekh k buhat afsos howa k ye payyara sa bacha ab is duniya men nae raha 😢😢😭😭 , wo to Jannat ka phool tha , Allah...
16/09/2025

Ye post dekh k buhat afsos howa k ye payyara sa bacha ab is duniya men nae raha 😢😢😭😭 , wo to Jannat ka phool tha , Allah Paak walden ko sabar day Ameen ゚viralシviralシfypシ゚viralシalシ

❤️ ایک عظیم ماں کی عظیم کہانی ❤️مس رفعت 5 دن پہلے صبح 8:30 بجے وفات پا گئیں۔ وہ ایک رضاکارانہ اعضاء عطیہ دہندہ تھیں جنہو...
16/09/2025

❤️ ایک عظیم ماں کی عظیم کہانی ❤️
مس رفعت 5 دن پہلے صبح 8:30 بجے وفات پا گئیں۔ وہ ایک رضاکارانہ اعضاء عطیہ دہندہ تھیں جنہوں نے اپنی زندگی میں یہ وصیت کی تھی۔ ان کے بھائی بریگیڈیئر زاہد بیگ مرزا، جو نیفرولوجسٹ اور کریٹیکل کیئر اسپیشلسٹ ہیں، نے اپنی فیملی کے ساتھ مل کر ان کی خواہش کو پورا کرنے کا فیصلہ کیا اور سی ایم ایچ/ایم ایچ راولپنڈی اور اے ایف آئی یو کی ٹیموں سے اعضاء نکالنے کی رضامندی کے لیے رابطہ کیا۔ مس رفعت کو وینٹی لیٹر پر رکھا گیا تاکہ ان کا دل موت کے بعد بھی زندہ رہے۔
اے ایف آئی یو، ایم ایچ، سی ایم ایچ، شفا، بحریہ اور سفاری اسپتالوں کی ٹیموں نے مل کر ایک ایسے مریض کا انتخاب کرنے کے لیے کام کیا جسے 18 گھنٹوں کے اندر گردے کی پیوند کاری کی ضرورت ہو، جو اعضاء نکالنے کی ڈیڈ لائن تھی۔ ڈاکٹر فیصل دار کی ٹیم نے جگر نکالنے کے عمل میں حصہ لیا۔ مجموعی طور پر، تین مریضوں کی جان بچائی جا سکتی تھی: ایک جگر اور دو گردے جو 18 گھنٹوں کے اندر میچ کیے گئے اور ٹرانسپلانٹ کیے گئے۔
اے ایف آئی پی امیونولوجی ٹیم نے رات بھر کام کرتے ہوئے 12 گھنٹوں کے اندر مطابقت کے ٹیسٹ مکمل کیے۔ الحمدللہ، دو گردے اور ایک جگر تین مریضوں کو پیوند کیا گیا اور وہ اچھی طرح کام کر رہے ہیں۔
یہ ٹرانسپلانٹ آپریشن ایک انوکھا اور قابلِ ذکر کارنامہ تھا، جو حقیقی صدقہ جاریہ ہے۔ آئیے اس مثبت خبر کو عام کریں تاکہ اعضاء کے عطیات اور پیوند کاری کے اس عظیم مقصد کے بارے میں آگاہی میں اضافہ ہو۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ایسے قابلِ تقلید عمل کرنے کی حکمت اور ہمت عطا فرمائے۔
مس رفعت کی بیٹیوں (جو سب ڈاکٹر ہیں) نے اپنی والدہ کو آخری الوداع کہا، جب ان کا دل وینٹی لیٹر پر دھڑک رہا تھا لیکن وہ دماغی طور پر مردہ تھیں۔ اعضاء کے عطیہ کے بعد انہوں نے اپنی پیاری اور عظیم ماں کی میت وصول کی۔
کیا بہادر خاندان ہے، کیا عظیم ماں ہے ❤️
اللہ پاک اس عظیم ماں کی مغفرت فرمائے🤲
Cp #
#دعائےخیر
゚viralシviralシfypシ゚viralシalシ

ایمان بالیقین کی کہانی ۔۔۔۔۔تحریر ڈاکٹر عظمٰی سلیمپرنسپل گورمنٹ کالج فار ومن سکردوکتنی کہانیوں سے سامنا  ہوتا ہے ہر روز۔...
16/09/2025

ایمان بالیقین کی کہانی
۔۔۔۔۔تحریر ڈاکٹر عظمٰی سلیم
پرنسپل گورمنٹ کالج فار ومن سکردو

کتنی کہانیوں سے سامنا ہوتا ہے ہر روز۔ آئیے ایک چھوٹی سی کہانی اور سنیے۔
تین ہنستے کھیلتے نوجوان بچے کراچی سے اسکردو کی سیر کے لیے آئے۔ دوسرے ہی دن رافٹنگ کے دوران حادثے میں تینوں پانی کی نذر ہو گئے۔ ایک بھائی بچ نکلا، دوسرے کی بیوی نہ بچ پائی اور تیسرا جوان بچہ موجوں میں گم ہو گیا۔ دن، ہفتے مہینے گزرنے لگے لیکن اس کا کوئی پتہ نہ چلا۔ اصولی طور پر کہانی کا اختتام یہیں ہو جانا چاہئیے۔ کیونکہ پہاڑی علاقوں میں ایسا ہی ہوتا ہے۔
لیکن یہاں سے اس کہانی کو نیا عنوان ملا۔ اگلے ہی دن اس بچے کا باپ اپنی روتی بلکتی بیوی، بچوں، خاندان، شہر ، سب کو چھوڑ کر اسکردو میں آ بسا۔ روزانہ اس پانی کے پاس جا کر دیوانوں کی طرح اپنے بچے کو پکارتا، ہر کسی سے مدد مانگتا۔ اس کی پکار پر ریسکیو آپریشن بھی کیا گیا۔ قصور واروں پر مقدمہ بھی درج ہوا، لیکن جانے والے کا نشان بھی نہ ملا۔ کچھ دنوں بعد مقدمہ بھی داخل دفتر ہوا اور تلاش بھی ختم کر دی گئی۔
کہانیاں اس موڑ پر بھی ختم ہو جایا کرتی ہیں۔ پر یہ دیوانے کی ہٹ تھی۔ وہ ایک ہی بات کہتا تھا۔ میں اپنے بیٹے کو اپنے ساتھ لے کر جاوں گا۔ بیٹا، وہ بھی پہلونٹھی کا، اس کا شہزادہ، یہ کہنا تو بنتا ہی تھا۔ لیکن اب سب لوگ مایوس ہو چکے تھے۔ تسلیوں، بہلاووں اور مثالوں سے اسے سمجھاتے تھے۔ لیکن اس شخص پہ کوئی بات اثر نہ کرتی تھی۔ اس کی ایک ہی رٹ تھی۔ یا اللہ۔ میرا بیٹا مجھے واپس کر دے۔
اب لوگوں نے اسے دیوانہ سمجھنا شروع کر دیا تھا۔ یہاں کے باسی اسے بتاتے بتاتے تھک گئے کہ یہاں جنموں سے ایسا ہی ہوتا آیا ہے۔ پانی جسے لے جائے، اس کا سراغ نہیں ملتا۔ پھر بھی وہ شخص روز اگلے دن کی گنتی گن کر اسی نالے پہ پہنچ جاتا۔ حتی کہ سب نے اسے اس کے حال پہ چھوڑ دیا۔ 37 دن گزر گئے، کبھی آنکھوں میں آنسو، اور کبھی وحشت لیے، وہ باپ اپنے بیٹے کا نام پکارتا رہا۔
سب ماوں نے بیٹے کو بھول کر باپ کے لیے دعائیں کرنی شروع کر دیں۔ لیکن وہ ڈٹا رہا کہ میں یہاں سے اپنے بیٹے کو ساتھ لے کر ہی جاوں گا۔ آخر 37 دن بعد رحمت خداوندی کی جانب سے اسے مثبت جواب ملا اور قریبی جگہ سے اس کے بیٹے کی لاش برآمد ہوئی۔ جسے اس نے ہمت سے وصول کیا اور گھر واپسی کی تیاری پکڑی۔ کہ بس میرا کام مکمل ہوا۔

دوستو۔ آج میں صبر کے اس پہاڑ سے ملی، جس کا نام یاسر لودھی ہے۔ وہ 36 دن سے اس نالے کی پہرہ داری پر مامور تھے، جہاں سے ان کا بیٹا غائب ہوا تھا۔ سوشل میڈیا پہ بہت دن سے ان کی پکار دیکھ رہی تھی۔ 37 دن جن میں 888 گھنٹے اور ان تمام گھنٹوں میں 53،230 منٹ اور نہ جانے کتنے سیکنڈ ہوں گے، جن میں وہ باپ ہر لمحہ مرا اور جیا ہو گا۔ پھر بھی کس یقین نے اسے کھڑا رکھا، اس سوال کا صرف ایک ہی جواب ہے۔ ایمان بالیقین۔
اس نے اپنے رب پہ ایمان لانے کے ساتھ ساتھ اپنی ضد اس یقین سے جاری رکھی کہ اسے گوہر مراد مل گیا۔
تو جب اللہ تعالٰی فرماتا ہے کن تو فیکون یقینی ہوتا ہے۔
یہی بالیقین ایمان ہے۔ اور ایسے لوگ کتنے خوش قسمت ہیں۔ زندگی میں آپ کے آس پاس ایسے افراد کی موجودگی بھی ایک خوش بختی ہے، کہ آپ ان پر رشک کر سکیں۔
یوں تو یہ زندگی ایک خاص عمر تک پہنچتے پہنچتے اپنی معنویت کھو دیتی ہے۔ ضروریات اور خواہشات کے پیچھے بھاگتے بھاگتے ہی جیون بیت جاتا ہے۔ کب یہ کھلتا ہے کہ اصل میں کیا ضروری تھا۔ کبھی کبھی تو تمام عمر اسی تلاش میں گزرتی ہے اور کبھی یہ راز اچانک ہی آپ پر کھلتا ہے۔ ایمان کی ایسی ایسی شکلیں سامنے آتی ہیں جو انسان کو جھنجھوڑ کر رکھ دیتی ہیں۔ رونگٹے کھڑے کر دیتی اور رہ نما بن کر اشارہ کرتی ہیں کہ یہ ہے زندگی کی حقیقت۔ یہ ہے ایمان۔ اور یہ ایمان بالیقین جہاں شبے کی کوئی گنجائش نہیں۔ کتنے انسانوں میں یہ کامل یقین ہو گا کہ وہ مسلسل تکرار کرتے رہیں اور اپنا وعدہ پورا کروا کے دم لیں۔ یاسر لودھی کے گزشتہ ڈیڑھ ماہ کے اسٹیٹس میں روزانہ کی بنیاد پر ایک ہی تکرار تھی کہ میں یہاں سے اپنے بیٹے کو ساتھ لے کر ہی جاوں گا۔ اور بالآخر ایسا ہی ہوا۔ اس شخص نے کہانی کے انجام کو خود تبدیل کر دیا۔
کاش ہمیں بھی ایمان کی ایسی طاقت نصیب ہو۔ آمین copied
゚viralシalシ



2 سال میں 2 بہن بھائی اس دنیا سے رخصت ہو گئے 💔موت آنے سے پہلے اجازت نہیں لیتی 😭یہ چار بہن بھائی صرف اپنے گھر والوں کی شا...
16/09/2025

2 سال میں 2 بہن بھائی اس دنیا سے رخصت ہو گئے 💔
موت آنے سے پہلے اجازت نہیں لیتی 😭

یہ چار بہن بھائی صرف اپنے گھر والوں کی شان نہیں تھے پورا پاکستان ان سے محبت کرتا تھا انکی ویڈیوز دیکھ کر خوش ہوتے تھے اس وقت پاکستان بھر میں جن تک یہ خبر پہنچی صدمہ سے دوچار ہیں

سوچے ماں باپ کی کیا حالت ہو گی 💔اس ماں پر گیا گزر رہی ہو گی جو کبھی کیمرہ کے سامنے نہیں آئی لیکن انکے بچے کروڑوں لوگوں کے چہروں کی مسکراہٹ کا باعث تھے

کیسا وقت آگیا یے جیسے جیسے بڑے ہوتے گئے یہی سنا لوگ بوڑھے ہو کر مرتے ہیں لیکن اب تو موت نہ جوانی دیکھتی نہ پڑھایا نہ بچپنا 💔


゚viralシviralシfypシ゚viralシalシ

آم درخت سے کچا توڑا جاتا ہے۔ پھر اسے کریٹ پیٹی وغیرہ میں بند کرکے اندر مسالہ رکھ دیا جاتا ہے کہ دو سے تین دن میں آم کا گ...
19/06/2025

آم درخت سے کچا توڑا جاتا ہے۔ پھر اسے کریٹ پیٹی وغیرہ میں بند کرکے اندر مسالہ رکھ دیا جاتا ہے کہ دو سے تین دن میں آم کا گودا اندر سے نرم ہو جائے اور رنگ بھی پیلا ہوجائے۔ آم کھانے کے لیے تیار ہے۔
مسالہ ہے کیلشیم کاربائیڈ CaC2 جسے بازار میں موجود اکثریت آموں کو لگا کر آموں کا رنگ بدلا گیا ہوتا ہے۔ یہ ایک زہر ہے جو پوری دنیا میں پھلوں کو لگا کر پکانا ممنوع ہے۔ اسکا ایک استعمال آپکو بتاتا ہوں۔ گیس ویلڈنگ دیکھی ہے؟ جو لوہے کی بڑی سی ٹینکی ہوتی اس میں ایک مسالہ ڈال کر آگ پیدا کی جاتی جس سے ویلڈنگ کی جاتی ہے۔ وہ مسالہ یہی کیلشیم کاربائیڈ ہوتا ہے۔ یہ آتش گیر مادہ ہے جسے فیکٹریوں میں استعمال کیا جاتا۔ آموں کی پیٹی میں اسکی تھوڑی سی مقدار اتنی حرارت پیدا کر دیتی کہ آموں کا رنگ بدل جاتا اندر تک گل سڑ جاتے آم۔ اور یہ زہر آموں میں بھی سرائیت کر جاتا ہے۔
اسکا استعمال پاکستان میں بھی ممنوع ہے مگر یہاں کونسا قانون ہے۔ اسکے ساتھ ایک تو آم کی قدرتی خوشبو بدل جاتی۔ دوسرا کیلشیم کاربائیڈ سے پکے آم فوری تو منہ میں تیزابیت پیدا کرتے۔ گلا پکڑا جاتا جلے میں جلن سی ہوتی ہے، خوراک کی نالی میں زخم ہوجاتے اور لانگ ٹرم نقصانات میں معدے کے السر انتڑیوں کے زہر، اسکن پرابلمز اور کینسر، گردے فیل ہونا جیسی بیماری کا باعث بنتے ہیں۔
دوسرا طریقہ ہے ایک گیس کا استعمال۔ جس کا نام ہے ethylene ایتھائلین C2H2 ہے۔ یہ گیس آموں کے اپنے اندر بھی ہوتی ہے۔ جس سے خود ہی آم پک جاتے ہیں۔ اسے پنجاب فوڈ اتھارٹی سمیت پوری دنیا پھل پکانے کے استعمال میں ریکمنڈ کرتی ہے۔ ایک بند چیمبر میں آم پھیلا کر ایتھائلین گیس چھوڑ دی جاتی ہے۔ اس سے پکے آم رنگ تو بہت زیادہ پیلا نہیں کرتے۔ مگر ان کا ذائقہ بلکل قدرتی اور کمال ہوتا ہے۔ دوسرا صحت کے لیے اسکا کوئی بھی نقصان نہیں۔
ان ایتھائلین سے پکے یا اپنی ہی حرارت سے پکے آموں کا ذائقہ کیا بتاؤں آپ کو ایک نشہ سا ہے۔
اکثریت دوکانداروں کو اس بات کا پتا ہی نہیں ہے۔ کہ ایتھائلین اور کیلشیم کاربائیڈ کیا بلا ہیں۔ اور گاہک کو بھی بس گہرے پیلے رنگ کے آم چاہیں۔ تو جو ڈیمانڈ ہے اسی کے پیش نظر کیلشیم کاربائیڈ لگا کر آم فوراً پکا دیے جاتے جو ہم آج تک آم کے نام پر زہر کھا رہے ہیں۔
میرا آپکو مشورہ ہے۔ کہ ایتھا ئلین سے پکے یا قدرتی طور پر بھی کسی بلکل بند کمرے میں جہاں ہوا نہ گزر سکے آم پڑے رہنے سے بھی پک جاتے ہیں وہ کھائیں۔ جہاں سے مرضی منگوائیں انہیں کہیں کہ کیلشیم کاربائیڈ نہیں لگانا۔
ریڑھیوں یا دوکانوں پر پڑے آم نوے فیصد کیلشیم کاربائیڈ سے پکے ہوتے۔ منڈی سے لائی پیٹی میں بھی نوے فیصد کیلشیم کاربائیڈ ہی ہوگا تجربہ کرلیں ایک بار۔

آپ نے آم کو پکانے کے لیے کیلشیم کاربائیڈ کے استعمال کے خطرناک حقائق بہت عمدہ انداز میں بیان کیے ہیں، جو کہ واقعی عوامی آگاہی کے لیے نہایت ضروری ہے۔ اب آئیے بات کرتے ہیں کہ اس کا محفوظ، قدرتی اور صحت مند متبادل کیا ہو سکتا ہے۔

✅ کیلشیم کاربائیڈ کا محفوظ متبادل: ایتھائلین گیس (Ethylene Gas)

1. ایتھائلین (C₂H₄)

فطری ہارمون ہے جو پھل خود بھی پیدا کرتے ہیں۔

پھلوں کے پکنے کے عمل کو قدرتی انداز میں تیز کرتا ہے۔

صحت کے لیے محفوظ ہے اور دنیا بھر کے فوڈ سیفٹی ادارے جیسے FAO، WHO اور پنجاب فوڈ اتھارٹی اسے تجویز کرتے ہیں۔

طریقہ استعمال:

آموں کو ایک بند چیمبر یا کمرے میں رکھیں۔

100 کلو آم کے لیے 1 گرام ایتھائلین ریلیز کریں۔

24–48 گھنٹے میں آم قدرتی خوشبو اور ذائقے کے ساتھ پک جائیں گے۔

---

✅ قدرتی گھریلو متبادل طریقے:

2. بند کمرے یا بوری میں پکانا:

آموں کو اخبار میں لپیٹ کر کسی بند بوری یا ٹوکرے میں رکھ دیں۔

ان کے ساتھ ایک پکا ہوا کیلا یا سیب رکھیں۔ یہ پھل بھی ایتھائلین گیس خارج کرتے ہیں۔

کمرے کا درجہ حرارت 25-30°C ہو تو آم 3-5 دن میں قدرتی طور پر پک جاتے ہیں۔

3. مٹی یا راکھ کا استعمال (دیسی طریقہ):

آموں کو خشک راکھ یا مٹی میں دبا کر رکھیں۔

راکھ نمی جذب کرتی ہے اور اندر کی حرارت آموں کو دھیرے دھیرے پکاتی ہے۔

---

❌ کیلشیم کاربائیڈ کیوں نہیں؟

زہریلا کیمیکل، انسانی صحت کے لیے خطرناک۔

جلن، السر، کینسر تک کے خطرات۔

آم کا ذائقہ، خوشبو اور غذائیت بھی خراب ہو جاتی ہے۔

✅ صارفین کے لیے مشورہ:

آم خریدتے وقت پوچھیں: "یہ کاربائیڈ سے پکے ہیں یا نہیں؟"

سخت آم خریدیں اور خود گھر پر پکائیں۔

ایتھائلین سے پکے آم کسی اچھی سپلائی چین یا فارمر سے منگوائیں۔
📌 آخر میں:

قدرتی طریقے سے پکا ہوا آم صرف ایک پھل نہیں، بلکہ خوشبو، ذائقے اور صحت کی مکمل ضمانت ہے۔ ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ ایسے زہریلے طریقوں کی حوصلہ شکنی کریں اور قدرت کو اپنے طریقے سے کام کرنے دیں۔

تحریر ڈاکٹر ساجد سندھو
Sajid Sandhu Agriculturist



So sad
08/06/2025

So sad

Renowned Pakistani television writer Saira Raza, celebrated for her impactful storytelling in dramas such as Mere Humsafar, Dil Mom Ka Diya, and Ishq Murshid, passed away on June 3, 2025, following a heart attack. Her sudden demise has deeply saddened fans and colleagues alike, who remember her for her compelling narratives and significant contributions to Urdu literature and television.

Mere Humsafar, one of her most acclaimed works, aired from December 2021 to September 2022 on ARY Digital. The drama, starring Farhan Saeed and Hania Aamir, captivated audiences with its poignant portrayal of love and familial bonds, amassing nearly 2 billion views across South Asia and the Middle East .

Address

Karachi
75530

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Sara Amber Store posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share