01/04/2023
پریس ریلیز
رمضان پیکج سے ریلیف ملنے کے بجائے لوگ موت کے منہ میں جارہے ہیں، لوٹ کھسوٹ کے پیکج پر نظر ثانی کرکے قابل عمل طریقہ کار اپنایا جائے
حکمراں اتحاداور اپوزیشن انا پرستی کی جنگ سے نکل کر وطن عزیز کے وسیع تر مفاد کو مقدم رکھتے ہوئے میثاق معیشت کیلئے مذاکرات کے میز پر بیٹھیں
مرکزی تنظیم تاجران پاکستان معیشت کی بہتری کیلئے حکمرانوں اور اپوزیشن کو معاشی بہتری کیلئے مذاکرات کی میز پر بیٹھانے کی کوشش کرے گی
چارٹرڈ آف اکنامی کیلئے سٹیک ہولڈرزنے سنجیدگی نہ دیکھائی تو عید الفطر کے بعدملک گیر تاجر کنوونشن کا انعقاد اور سڑکوں پر صدائے احتجاج بلند کریں گے۔محمد کاشف چوہدری ، صدر مرکزی تنظیم تاجران پاکستان کی تاجر رہنمائوں کے ہمراہ پریس کانفرنس
اسلام آباد(یکم اپریل 2023ء )مرکزی تنظیم تاجران پاکستان کے صدرمحمد کاشف چوہدری نے53بلین روپے کے حکومتی رمضان پیکج پر نظر ثانی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ رمضان پیکج سے ریلیف ملنے کے بجائے لوگ موت کے منہ میں جارہے ہیں اس لوٹ کھسوٹ کے پیکج پر نظر ثانی کرکے قابل عمل طریقہ کار اپنایا جائے جس سے مائوں ، بہنوں ، بیٹیوں ، بزرگوں کی تذلیل نہ ہواور کہا کہ حکومت ، اپوزیشن سمیت تمام سٹیک ہولڈرز ،انا پرستی کی جنگ سے نکل کر وطن عزیز کے وسیع تر مفاد کو مقدم رکھتے ہوئے میثاق معیشت کیلئے مذاکرات کے میز پر بیٹھیں، اقتدار کیلئے جاری رسہ کشی اور بند بانٹ کا سلسلہ یوں ہی جاری رہا تو موجودہ معاشی بدحالی اور سیاسی انارکی سے نکلنا مشکل ہوگا ہم معیشت کی بہتری اور سیاسی عدم استحکام کے خاتمے کیلئے حکومت اور اپوزیشن کو مذاکرات کی میز پر بیٹھانے کی ہر ممکن کوشش کریں گے اگر تمام سٹیک ہولڈرز بلخصوص اپوزیشن نے چارٹرڈ آف اکنامی کیلئے مل بیٹھنے میں سنجیدگی نہ دیکھائی اور تو عید الفطر کے بعدملک گیر تاجر کنوونشن کا انعقاد کریں گے ، تاجر اور عوام سڑکوں پر صدائے احتجاج بلند کرکے حکمرانوں کو معیشت کی بہتری کیلئے سنجیدہ اقدامات اٹھانے پر مجبور کریں گے ان خیالات کا اظہار انہوںنے ہفتہ کوترجمان مرکزی تنظیم تاجران پاکستان ضیاء احمد راجہ،،چیئرمین فرنیچرز ایسوسی ایشن ملک رضوان،سی ای او الصفاء مارکیٹنگ فہد چوہدری،، نان بائی ایسویسی ایشن کے جنرل سیکرٹری جہانگیر عباسی ، محمد خورشید ،چوہدری طاہر ، ملک عارف،چوہدری ناصر ، عمران بخاری ، بابر چوہدری و دیگر کے ہمراہ یہاں پر ہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا انہوںنے کہا کہ مہنگائی کے ذمہ دار تاجر نہیں بلکہ حکومت کی ناقص پالیسیاں ہیںجس سے سب سے زیادہ عوام اورتاجر متاثر ہورہے ہیں آج ان ناقص حکومتی پالیسیوں کی وجہ سے ارکٹیں ویران،فیکٹریاں بند,مزدور بے روزگار ہوچکے ہیں ہر گھر میں آگ لگی ہوئی ہے اور عوام کے چہروں سے مسکراہٹ تک چھین لی گئی ہے انہوںنے حکومتی رمضان پیکج پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ حکومت ,عوام کو مفت آٹے کے پیچھے لگا کر ماوں بہنوں بزرگوں کی تذلیل کررہی ہے اور آٹا موت کی آواز بن چکی ہے پانچ لوگ وفات پاچکے ہیں،آج آٹا مہنگا اور موت سستی ہوگئی،حکومت رمضان پیکج پر نظر ثانی کرے انہوںنے کہا کہ پہلے رمضان پیکج کے تحت حکومتیں فلور ملوں کو سبسڈی دیتی تھی اور عوام کو بآسانی آٹے کا حصول ممکن ہوتا تھا لیکن اب لمبی لائنوں میں عوام کی تذلیل کی جاری ہے یہ سکیم بری طرح ناکام اور فلاپ ہو چکی ہے ۔انہوںنے کہا کہ اس وقت حکومت ، فلور ملوں کو گندم خریداری کے پرمٹ نہیں دے رہی جس سے آنے والے دنوں میں آٹے بحران کا خدشہ ہے۔انہوںنے کہا کہ عام آدمی کی مہنگائی کی وجہ سے زندگی اجیرن ہوچکی ہے ادارہ شماریات کے اعداد و شمار کے مطابق مہنگائی میں 35سے40فیصد اضافہ ہو ا ہے لیکن عام آدمی کی آمدن میں کوئی اضافہ نہیں ہوا ۔انہوںنے کہا کہ عالمی مارکیٹ میں پٹرولیم قیمتیں کم ہو رہی ہیںاوریہاں لیوی لگا کر عوامی ریلیف نہیں دیا جا رہا انہوںنے کہا کہ حکومتی کفایت شعاری کے فیصلے صرف باتیں ہی رہ گئی ہیں،نہ بڑی گاڑیوں کا استعمال کم کیا گیا نہ پروٹوکول ختم کیے گئے آج بھی وزراء ، مشیر ، معاونین اور بیوروکریسی چھوٹی گاڑیاں استعمال نہیں کرتے اور نہ محلات کے بجائے چھوٹے گھروں میں رہ کر کوئی مثال قائم کر رہے ہیں ان کی عیاشیوں کی وجہ سے ملک بحرانوں کا شکار ہے اور ہر بحران کے پیچھے یہی لوگ ہوتے ہیں چاہئے ،آٹے بحران سمیت تمام بحرانوں کے ذمہ دار ایوانوں میں بیٹھے مافیاز ہیں،جنہوںاپنے اثاثے بیرون ملک منتقل کرتے ہیں اور ملک میں لیکر نہیں آتے ، کفایت شعاری کی باتیں کرتے ہیں اور بحرانوں کے باوجود مشیروں وزیروں کو مزید بھرتی کیا جا رہا ہے،ملک پیچھے جارہا اور ان کی عیاشیاں ختم نہیں ہورہی ہیں۔انہوںنے کہا کہ ملک کو عالمی بھیگ کی ضرورت نہیں بلکہ متبادل ذرائع کی ضرورت ہے،آئی ایم ایف سے ملنے والا قرضہ حکمرانوں کی عیاشیوں پر لگایا جاتا ہے ایف بی آر پوائنٹ آف سیل کے نام پر جرمانے کر رہا ہے آج تک ایف بی آر میں اصلاحات نہیں لائی جا سکی اور پیچیدہ ٹیکس نظام کی وجہ سے مشکلات بڑھتی جا رہی ہیں اصلاحات تو دور کی بات ایف بی آر اردو میں ٹیکس گوشوارہ تک نہیں بنا سکاایف بی آر پوائنٹٹ آف سیل کے نام پر کاروبار بند کر رہی ہے حالات ایسے ہیں کہ حکومت نام کی کوئی چیز نظر نہیں آ رہی کہ بات کریں بھی تو کس سے کریں،انہوںنے کہا کہ تمام سیاسی جماعتیںکرسی کی جنگ سے نکلیں،اقتدار کی ہوس اور رسہ کشی عوام کے مفاد میں نہیں ہے ملک میں سب کو ملکر میثاق معیشت کرنا ہوگاملک بھر کے تمام سٹیک ہولڈر کو تاجر مذاکرات کی میز پر اکٹھا کریں گے اگر حکمران اکٹھے نہ ہوئے اور ملکی معیشت ددرست نہ کی تو تاجر عید کے بعد ملک گیر احتجاج کریں گے ،عید کے فورا بعد ملک گیر کنونشن کرینگے اگر معاملات حل نہیں ہوتے تو سڑکوں پر نکلیں گے اور حکمرانوں کو مجبور کریں گے کہ مل بیٹھ کر معیشت کی بہتری کیلئے حل نکالیں انہوںنے کہا کہ ایل سیز نہیں کھل رہی سامان پورٹ پر پھنسا ہے حکومت سنجیدہ ہوتو تمام مسائل کا حل نکل سکتا ہے انہوںنے کہا کہ حکومت فوری اخراجات کو پچاس فیصد تک عملی طور پر کم کرے،تین سو ارب کا مفت پیٹرول، فری بجلی فوری بند نہیں کی جارہی،نہ سیاسیدان اور نہ ہی بیوروکریسی اپنے اخراجات کم کررہی ہے۔