27/02/2026
خاتون کے قتل کا معمہ حل، ٹک ٹاکر دوست قاتل نکلا، 43 سالہ 8 بچوں کی ماں کی لاش اقرا کالج کے باہر سے ملی تھی۔
گوجرخان کے نجی کالج کے سامنے سے ملنے والی خاتون کے قتل کا معمہ حل ہوگیا، قاتل خاتون کا وہ دوست نکلا جس سے اس 43 سالہ شادی شدہ خاتون کی سوشل میڈیا پر دوستی ہوئی تھی جو محبت میں تبدیل ہوگئی اور جسکے نتیجہ میں اسے جان سے ہاتھ دھونے پڑے۔ پولیس نے قاتل کو گرفتار کرلیا ہے جسکے شریک جرم دوست کی تلاش جاری ہے ،ایس ایچ او گوجرخان طیب ظہیر بیگ اور ایچ آئی یو گوجرخان کے انچارج چوہدری ارسلان اور انکی ٹیم نے ذرائع کی مدد سے اس اندھے قتل کا سراغ لگایا، پولیس زرائع کے مطابق لکی مروت کی رہائشی 8 بچوں کی ماں 43 سالہ نعمانہ افضل کی ملائشیا میں مقیم 32 سالہ عدنان اختر سے ٹک ٹاک پر دوستی ہوئی جو جلد ہی محبت میں تبدیل ہوگئی، شاطر ملزم عدنان اختر خاتون سے رقوم بٹورتا رہا اور غیر قانونی سرگرمیوں پر ملائیشیا سے ڈیپورٹ ہونے کے بعد دونوں ایک دوسرے کے اور قریب ہو گئے، گوجرخان کے رہائشی عدنان کی خاتون سے لکی مروت میں متعدد ملاقاتیں بھی ہوئیں اور وہ راتوں کو بھی وہاں رہتا رہا۔تنہائی میں ملاقاتوں سے مطمئن نعمانہ نے ملزم کو اپنے پہلی اہلیہ کو طلاق دیکر شادی کرنے پر زور دینا شروع کر دیا، اور نعمانہ نے پیسے دینا بند کر دئیے تو قتل کرنے سے دو روز قبل عدنان لکی مروت گیا اور گاڑی پر نعمانہ کو لیکر راولپنڈی آگیا، دو دن اور ایک رات دونوں اکٹھے رہے، کیمروں سے لی گئی فوٹیج کے مطابق کئی مقامات پر دونوں گاڑی میں اکٹھے دیکھے گئے، ملزم نے نعمانہ سے بھاری رقوم بٹورنے کے بعد اس سے جان چھڑانے کا فیصلہ کیا عدنان اختر نے اپنے دوست کامران کے ساتھ مل کر اسے راستے سے ہٹانے کا منصوبہ بنایا، دونوں نے گاڑی میں ہی خاتون کو گلہ دبا کر قتل کیا اور نعش گوجرخان میں ایک نجی کالج کے قریب سڑک کنارے پھینک دی، خاتون کے اندھے قتل کا مقدمہ پولیس کی مدعیت میں درج کیا گیا تھا، پولیس نے خاتون کی شناخت نادرا ریکارڈ سے کرائی تو اسکی شناخت لکی مروت کی رہائشی نعمانہ نکلی، اسکے خاوند کو بلوایا گیا تو اس نے بتایا کہ اسکی اہلیہ دو دن سے گھر سے غائب تھی۔ پولیس نے مقتولہ کے موبائل کا ریکارڈ چیک کیا تو انہیں اس بات پر حیرت ہوئی کہ نعمانہ کی موت سے دو دن قبل دونوں کے مابین لاتعداد رابطے ہوئے مگر دو دن انکا کوئی رابطہ نہیں ہوا کیونکہ دونوں اکٹھے تھے، پولیس ٹیم نے عدنان کو حراست میں لیا تو پہلے اس نے شاطر ملزم کے طریقے اختیار کیے بعد ازاں ملزم عدنان نے ساتھی کامران کے ساتھ مل کر نعمانہ کے قتل کا اعتراف کرلیا، پولیس نے ملزم کو گرفتار کرکے اسکا ریمانڈ حاصل کر لیا ہے جبکہ اسکے شریک ملزم کامران کی گرفتاری کے لیے پولیس متحرک ھے۔