31/01/2023
سینئر افسران ایمپائز اولڈایج بینفٹ انسٹیسٹوشن نے سپریم کورٹ کا حکم ہوا میں اُڑادیا۔
کراچی (نامہ نگار) ذرائع سے معلوم ہواہےسپریم کورٹ کے سینئر جج جسٹس اعجاز الحسن نے کیس نمبر 1427/2021 بتاریخ 10 اکتوبر 2022 کوایک حکم جاری کیا جس میں متاثرین اور متعلقہ پارٹیزکو سنے بغیر سینیارٹی لسٹ میں کسی تبدیلی یا پروموشن کرنے پر پابندی عائد کی۔ لیکن سینئر افسران نے منظور نظر اسسٹنٹ ڈاریکٹر عبدالقادر سومرو کو دو درجہ ترقی دے کر ڈاریکٹر کے عہدے پر اور ایک اور افسر حسنین مہدی امتیاز ڈپٹی ڈائریکٹر کو ڈائریکٹر کے عہدے پر ترقی دےدی ہے۔ محکمہ کی پروموشن کمیٹی کے منٹس کو اب تک خفیہ رکھا گیا ہے تاکہ کوئی حقدار افسر اپنے جائز حق کے لئے اعلیٰ عدلیہ سے رجوع نہ کر لے۔ واضح رہے کہ ایسا کرنا توہین عدالت کے زمرے میں آتا ہے۔ سپریم کورٹ نے اپنے 10 اکتوبر 2022 کے حکم نامہ میں واضح لکھا ہے کہ محکمہ تمام متاثرین اور پارٹیز کوسن کراپنا فیصلہ رولزاور ریگولیشن کے مطابق دے لیکن اس کے برعکس محکمہ کے چندافسران نے اعلیٰ عدلیہ کے فیصلہ کو ایک طرف رکھتے ہوئے اپنے منظور نظرافسران کو نوازنے کے لئے تمام قانونی حدود کو پامال کردیا ہے ان تمام غیر قانونی سرگرمیوں میں سینیر افسر ڈائریکٹر جنرل ایچ آر شازیہ رضوی کا کردار بے حد منفی ہے جو خود نیب کے مقدمات میں ملوث ہیں ان کی سربراہی میں ڈی جی آپریشن کی اہم پوسٹ خالی ہونے کے باوجود یہ ترقیاں جلد بازی میں عمل میں لائی گئی ہیں۔ معلوم ہوا ہے کہ ان غیر قانونی ترقیوں کا آرڈر متعلقہ افسروں کی ریٹائرمنٹ سے چند دن پہلے جاری کیا جائے گا تاکہ وہ بھاری مراعات اور پنشن کے ساتھ گھر جائیں۔ لیکن شائد توہین عدالت کی کارروائی ڈی پی سی کے ممبران کے خلاف عمل میں لائی جائے گی۔ اس کہانی کا دوسرا رخ یہ ہے سیکرٹری منسٹری آف ہیومن ریسورس کے احکامات کے باوجود محکمہ کے کچھ افسران کو اب تک ان کی جائز ترقی سے محروم رکھا گیا ہے ان افسران میں عرفان عالم، آصف خان، کنول ولی اور اخترعلی شامل ہیں ایک طرف سیکرٹری کے واضح حکم کے باوجود محکمہ قانونی اور جائز ترقیاں روک کر بیٹھا ہے اور دوسری طرف عدالت کے احکامات کو خاطر میں لائے بغیر اور من پسند افسران کو خوش کرنے کے لئے چند افسران اس محکمہ کو غلط سمت میں لےکر جارہے ہیں جس سے محکمہ کے افسران اور ملازمین غیر یقینی کا شکار ہورہے ہیں اعلیٰ عدلیہ کو اپنے 10 اکتوبر 2022 کے حکم نامہ پر عمل نہ کرنے پر ادارے سے جواب طلب کرنا چاہئے اور ذمہ دارن کو قرار واقعی سزا دینی چاہئے