EOBI Breaking News

EOBI Breaking News EOBI BREAKING NEWS

03/02/2023
سینئر افسران ایمپائز اولڈایج بینفٹ انسٹیسٹوشن نے سپریم کورٹ کا حکم ہوا میں اُڑادیا۔کراچی (نامہ نگار) ذرائع سے معلوم ہواہ...
31/01/2023

سینئر افسران ایمپائز اولڈایج بینفٹ انسٹیسٹوشن نے سپریم کورٹ کا حکم ہوا میں اُڑادیا۔

کراچی (نامہ نگار) ذرائع سے معلوم ہواہےسپریم کورٹ کے سینئر جج جسٹس اعجاز الحسن نے کیس نمبر 1427/2021 بتاریخ 10 اکتوبر 2022 کوایک حکم جاری کیا جس میں متاثرین اور متعلقہ پارٹیزکو سنے بغیر سینیارٹی لسٹ میں کسی تبدیلی یا پروموشن کرنے پر پابندی عائد کی۔ لیکن سینئر افسران نے منظور نظر اسسٹنٹ ڈاریکٹر عبدالقادر سومرو کو دو درجہ ترقی دے کر ڈاریکٹر کے عہدے پر اور ایک اور افسر حسنین مہدی امتیاز ڈپٹی ڈائریکٹر کو ڈائریکٹر کے عہدے پر ترقی دےدی ہے۔ محکمہ کی پروموشن کمیٹی کے منٹس کو اب تک خفیہ رکھا گیا ہے تاکہ کوئی حقدار افسر اپنے جائز حق کے لئے اعلیٰ عدلیہ سے رجوع نہ کر لے۔ واضح رہے کہ ایسا کرنا توہین عدالت کے زمرے میں آتا ہے۔ سپریم کورٹ نے اپنے 10 اکتوبر 2022 کے حکم نامہ میں واضح لکھا ہے کہ محکمہ تمام متاثرین اور پارٹیز کوسن کراپنا فیصلہ رولزاور ریگولیشن کے مطابق دے لیکن اس کے برعکس محکمہ کے چندافسران نے اعلیٰ عدلیہ کے فیصلہ کو ایک طرف رکھتے ہوئے اپنے منظور نظرافسران کو نوازنے کے لئے تمام قانونی حدود کو پامال کردیا ہے ان تمام غیر قانونی سرگرمیوں میں سینیر افسر ڈائریکٹر جنرل ایچ آر شازیہ رضوی کا کردار بے حد منفی ہے جو خود نیب کے مقدمات میں ملوث ہیں ان کی سربراہی میں ڈی جی آپریشن کی اہم پوسٹ خالی ہونے کے باوجود یہ ترقیاں جلد بازی میں عمل میں لائی گئی ہیں۔ معلوم ہوا ہے کہ ان غیر قانونی ترقیوں کا آرڈر متعلقہ افسروں کی ریٹائرمنٹ سے چند دن پہلے جاری کیا جائے گا تاکہ وہ بھاری مراعات اور پنشن کے ساتھ گھر جائیں۔ لیکن شائد توہین عدالت کی کارروائی ڈی پی سی کے ممبران کے خلاف عمل میں لائی جائے گی۔ اس کہانی کا دوسرا رخ یہ ہے سیکرٹری منسٹری آف ہیومن ریسورس کے احکامات کے باوجود محکمہ کے کچھ افسران کو اب تک ان کی جائز ترقی سے محروم رکھا گیا ہے ان افسران میں عرفان عالم، آصف خان، کنول ولی اور اخترعلی شامل ہیں ایک طرف سیکرٹری کے واضح حکم کے باوجود محکمہ قانونی اور جائز ترقیاں روک کر بیٹھا ہے اور دوسری طرف عدالت کے احکامات کو خاطر میں لائے بغیر اور من پسند افسران کو خوش کرنے کے لئے چند افسران اس محکمہ کو غلط سمت میں لےکر جارہے ہیں جس سے محکمہ کے افسران اور ملازمین غیر یقینی کا شکار ہورہے ہیں اعلیٰ عدلیہ کو اپنے 10 اکتوبر 2022 کے حکم نامہ پر عمل نہ کرنے پر ادارے سے جواب طلب کرنا چاہئے اور ذمہ دارن کو قرار واقعی سزا دینی چاہئے

ای او بی آئی میں اندھیر نگری چوپٹ راجکراچی (نیوز ایجنسیاں) ای او بی آئی میں ڈی جی ایچ آر شازیہ رضوی ایک بار پھر ایکسٹنشن...
30/01/2023

ای او بی آئی میں اندھیر نگری چوپٹ راج
کراچی (نیوز ایجنسیاں) ای او بی آئی میں ڈی جی ایچ آر شازیہ رضوی ایک بار پھر ایکسٹنشن لینے میں کامیابی کے بعد اپنا اگلا ہدف حاصل کرنے کی جانب گامزن ۔ مبینہ طور پر ایک کرپٹ افسر سجاد احمد جس کو شازیہ رضوی نے ایک مخصوص پلاننگ کے تحت حال ہی میں ڈی ڈی جی ایچ آر کی منفعت بخش پوسٹ پر تعینات کرایا اس کے ذریعے واردات ڈالنے کی تیاریاں مکمل کر لی گئیں۔ واضح رہے کہ موصوفہ اپنے سابقہ محکمہ میں بھی واردات ڈال کر آئی ہیں اور نیب کو مطلوب ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ سجاد احمد جیسے کرپٹ اور خراب ریکارڈ کے افسر کو اچانک فیصل آباد سے اٹھا کر ہیڈ آفس میں ڈی ڈی جی ایچ آر کی منفعت بخش پوسٹ پر لگانے کی وجہ یہ سامنے آئی ہے کہ وہ دو نمبری کا ماسٹر ہے اور انتہائی ہوشیاری اور چاپلوسی سے واردات کرتا ہے ۔مبینہ طور پر موصوف اب تک افسران کی ٹرانسفر پوسٹنگ سے کروڑوں روپے کما کر اپنی باس کو دے چکے ہیں۔ سجاد احمد جیسے کرپٹ افسر کو اس سیٹ پر لگانے کے محرکات پر مزید غور کیا جائے تو یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہو جاتی ہے کہ وہ ماضی میں بھی اس طرح کے ریکارڈ کا حامل ہے - اس افسر کا سابقہ ریکارڈ دیکھا جائے تو معلوم ہو گا کہ کس طرح وہ ایک کلرک بھرتی ہو کر انتظامیہ کی نگاہوں میں دھول جھونکتے ہوئے اور ریکارڈ میں خورد برد کر کے بغیر تعلیمی معیار اور قابلیت کے ڈائریکٹر کے عہدے تک برق رفتاری سے پہنچا ۔ ۲۰۱۰ میں بھی سجاد احمد چئرمین ظفر گوندل کا سٹاف افسر رہ چکا ہے اور ان ۳۵۸ لوگوں کی غیر قانونی بھرتی میں کلیدی کردار کا حامل ہے جن کو سپریم کورٹ نے نکال دیا تھا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ وہ اس معاملے میں بدنام زمانہ ریکارڈ کا حامل ہے۔ ذرائع کے مطابق موصوف کی اس موقع پرست اور چابکدستی کو دیکھتے ہوئے شازیہ رضوی ڈی جی ایچ آر نے اس موقع کو غنیمت جانتے ہوئے اس وارداتیے افسر کے ذریعے کر پٹ اور ناکارہ افسران کو بنا ٹریننگ اور معیار کے پروموٹ کر کے موقع کا بھر پور فائدہ اٹھانے کا نا صرف منصوبہ بنایا بلکہ اربوں روپے کا فائدہ اٹھا کر چاندی کی۔ ذرائع کا کہنا یہ بھی ہے کہ وہ مزید چاندی کرنا چاہ رہی ہیں اور اپنی نئی سادہ لوح چئرمین کو چونا لگانے کے لئے اس معاملے پر برق رفتاری سے کام کر رہی ہیں کیونکہ اس سے اچھا موقع انھیں میسر نہیں آ سکتا جبکہ چئرمین نے اپنی بیماری کی وجہ سے پورا کنٹرول انکے ہاتھ میں دیا ہوا ہے۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ ای او بی آئی انتظامیہ ان اقدامات کی بدولت ایک بار پھر نیب اور ایف آئی اے کا لقمہ بنتے نظر آ رہی ہے۔

Address

Karachi

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when EOBI Breaking News posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share