41Digital Plus

41Digital Plus اے ایمان والو! اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لائے تو تحقیق کرلو کہ کہیں کسی قوم کوانجانے میں تکلیف نہ دے بیٹھو پھر اپنے کئے پر شرمندہ ہونا پڑے

ہر خبر سے باخبر رہنے کیلئے 41 ڈیجیٹل نیوز دیکھئے

کرک: پی ایس پی افسران کی فہرست میں نوجوان، دلیر اور ایماندار ڈسٹرکٹ پولیس افیسر عمران خان کا نام ایک نمایاں حیثیت اختیار...
02/06/2026

کرک: پی ایس پی افسران کی فہرست میں نوجوان، دلیر اور ایماندار ڈسٹرکٹ پولیس افیسر عمران خان کا نام ایک نمایاں حیثیت اختیار کر چکا ہے۔ ان کی شخصیت اور خدمات نے ضلع کرک میں ایک مثبت اور مضبوط تاثر قائم کیا ہے، جسے عوام قدر کی نگاہ سے دیکھ رہے ہیں۔ ان کی تعیناتی نہ صرف ایک انتظامی فیصلہ تھا بلکہ یہ ایک ایسا قدم ثابت ہوا جو امن و امان کی بحالی اور عوامی اعتماد کی بحالی میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔

ڈسٹرکٹ پولیس افیسر عمران خان چترالی کی پیشہ ورانہ صلاحیتیں اور قائدانہ انداز ان کی کامیابی کی بنیادی وجہ ہیں۔ انہوں نے ضلع کرک میں آتے ہی پولیسنگ کے نظام کو بہتر بنانے پر خصوصی توجہ دی۔ ان کی پالیسیوں میں شفافیت، میرٹ اور انصاف کو اولین ترجیح دی گئی، جس کے باعث پولیس فورس کے اندر نظم و ضبط میں نمایاں بہتری آئی۔ ان کی قیادت میں پولیس نے نہ صرف جرائم کے خلاف مؤثر کارروائیاں کیں بلکہ عوام کے ساتھ اپنے تعلقات کو بھی بہتر بنایا۔

ان کی پولیسنگ پالیسی کی سب سے اہم خصوصیت عوام دوست رویہ ہے۔ وہ اکثر عوام کے درمیان جا کر ان کے مسائل سنتے ہیں، جو کہ پشتون روایات کی عکاسی کرتا ہے۔ ان کا یہ انداز عوام میں اعتماد پیدا کرنے کا باعث بنا ہے۔ لوگ اب پولیس کو ایک خوف کی علامت کے بجائے ایک محافظ ادارہ سمجھنے لگے ہیں۔ یہ تبدیلی کسی بھی معاشرے میں امن و امان کے قیام کے لیے انتہائی ضروری ہوتی ہے۔

ڈسٹرکٹ پولیس افیسر عمران خان کا اپنے ماتحت افسران اور اہلکاروں کے ساتھ رویہ بھی قابلِ تعریف ہے۔ وہ اپنے عملے کے ساتھ نہایت مہذب، شائستہ اور ہمدردانہ برتاؤ رکھتے ہیں، جس کے باعث فورس کے اندر ایک مثبت ماحول قائم ہوا ہے۔ ان کی قیادت میں اہلکار خود کو بااختیار اور ذمہ دار محسوس کرتے ہیں، جو ان کی کارکردگی میں بہتری کا باعث بنتا ہے۔ ایک مضبوط اور مطمئن پولیس فورس ہی مؤثر انداز میں عوام کی خدمت کر سکتی ہے۔

ان کی تعیناتی کے بعد ضلع کرک میں جرائم کی شرح میں واضح کمی دیکھنے میں آئی ہے۔ انہوں نے جرائم پیشہ عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائیاں کیں اور قانون کی عملداری کو یقینی بنایا۔ ان کی حکمت عملی میں جدید پولیسنگ تکنیکوں کا استعمال بھی شامل ہے، جس سے جرائم کی روک تھام میں مدد ملی ہے۔ ان اقدامات کے نتیجے میں ضلع میں امن و امان کی صورتحال بہتر ہوئی ہے اور عوام خود کو زیادہ محفوظ محسوس کر رہے ہیں۔

ڈسٹرکٹ پولیس افیسر عمران خان کی شخصیت کا ایک اور اہم پہلو ان کی ایمانداری اور دیانتداری ہے۔ وہ اپنے فرائض کی انجام دہی میں کسی قسم کے دباؤ یا مصلحت کا شکار نہیں ہوتے۔ ان کی یہی خصوصیت انہیں دیگر افسران سے ممتاز بناتی ہے۔ انہوں نے ثابت کیا ہے کہ اگر نیت صاف ہو اور عزم مضبوط ہو تو محدود وسائل کے باوجود بھی بہترین نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں۔

عوامی حلقوں میں ان کی کارکردگی کو بے حد سراہا جا رہا ہے۔ مختلف طبقات کے لوگ ان کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کر رہے ہیں اور ان کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کر رہے ہیں۔ ان کی موجودگی نے ضلع کرک میں ایک نئی امید کو جنم دیا ہے، جہاں لوگ ایک محفوظ اور پرامن ماحول میں زندگی گزارنے کے خواہاں ہیں۔

یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ ڈسٹرکٹ پولیس افیسر عمران خان چترالی کا نام ضلع کرک کی تاریخ میں سنہری حروف سے لکھا جائے گا۔ ان کی خدمات نہ صرف موجودہ دور کے لیے بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے بھی ایک مثال ہیں۔ انہوں نے یہ ثابت کیا ہے کہ ایک باصلاحیت اور مخلص افسر کس طرح ایک پورے ضلع کی تقدیر بدل سکتا ہے۔

آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ ان کی تعیناتی واقعی ایک نیک شگون ثابت ہوئی ہے۔ ان کی قیادت میں ضلع کرک میں امن و امان کا قیام ممکن ہوا ہے اور عوام کا اعتماد بحال ہوا ہے۔ امید کی جاتی ہے کہ وہ مستقبل میں بھی اسی جذبے اور لگن کے ساتھ اپنی خدمات جاری رکھیں گے اور مزید کامیابیاں حاصل کریں گے۔

02/06/2026

کرک میں بڑا اراضی و سڑک تنازعہ: دو اقوام میں خانہ جنگی کا خطرہ
​جہانگیری (کرک)
کرک کے علاقے جہانگیری میں سڑک کا دیرینہ تنازعہ شدت اختیار کر گیا۔ ڈپٹی کمشنر کرک کی جانب سے زرعی زمین پر سیکشن 4 (Section 4) نافذ کرنے کے فیصلے نے جلتی پر تیل کا کام کر دیا، جس کے باعث دو بڑی اقوام کے درمیان تصادم اور خانہ جنگی کا شدید خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔
​ دورخیل قوم کا سخت احتجاج اور مطالبات
ڈپٹی کمشنر کے اس فیصلے کے خلاف متاثرہ قوم دورخیل میدان میں آ گئی ہے۔ قوم دورخیل کے مشران اور زمینداروں نے زرعی اراضی پر زبردستی سیکشن 4 لگانے کو ناانصافی قرار دیتے ہوئے اعلیٰ حکام سے فوری مداخلت کی اپیل کی ہے۔
قوم دورخیل نے ضلع میں امن و امان کی ممکنہ مخدوش صورتحال کے پیش نظر درج ذیل شخصیات سے فوری نوٹس لینے اور انصاف فراہم کرنے کا پرزور مطالبہ کیا ہے
​محسن نقوی (وزیر داخلہ، پاکستان)
شہاب علی شاہ (چیف سیکرٹری، خیبر پختونخوا)
کمشنر کوہاٹ ڈویژن
​ڈپٹی کمشنر کرک کا فیصلہ مقامی زمینداروں کے حقوق پر ڈاکہ ڈالنے اور دو اقوام کو آپس میں لڑانے کے مترادف ہے۔ اگر یہ فیصلہ فوری واپس نہ لیا گیا اور ہمیں انصاف نہ ملا، تو کسی بھی ناخوشگوار واقعے یا امن و امان کی خرابی کی تمام تر ذمہ داری انتظامیہ پر ہوگی
​تصادم کو روکنے اور کرک کو کسی بڑے المیے سے بچانے کے لیے اعلیٰ حکام کو فوری طور پر اس حساس معاملے میں مداخلت کرنی ہوگی۔
اس اہم خبر کو زیادہ سے زیادہ شیئر کریں تاکہ حکامِ بالا تک آواز پہنچ سکے۔

ADMISSION OPENMEDICAL DIPLOMA REGISTRATION LAST DATE 4 JUNE 2026۔Contact us,, 03359419204                      034655611...
02/06/2026

ADMISSION OPEN
MEDICAL DIPLOMA REGISTRATION LAST DATE 4 JUNE 2026۔
Contact us,, 03359419204
03465561126

02/06/2026

صلح تقریب ۔
پاکستان تحریک انصاف صوبائی جائنٹ سیکرٹری کامران خٹک کی مکمل سپیچ

31/05/2026

وزیر اعلی خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی کا پارلیمانی پارٹی اجلاس سے خطاب

31/05/2026

*میانکی بانڈہ زمینی راستے* 👇

*مقام: میانکی بانڈہ، ضلع کرک*
میانکی بانڈہ میں زمینی راستے کا مسئلہ کئی سالوں سے چلا آ رہا ہے۔ *کونسلر و چیئرمین ملک عبدالملک* نے اس مسئلے کو حکومت کے سامنے رکھتے ہوئے کہا:
"ہم ڈی سی کرک، کمشنر کوہاٹ، ڈی پی او کرک اور تمام متعلقہ حکام سے پرزور اپیل کرتے ہیں کہ اس مسئلے کو فوری حل کیا جائے۔ یہ راستہ عوام کی بنیادی ضرورت ہے۔ لیکن ہم کسی بھی صورت اپنی جائیداد پر زبردستی راستہ دینے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ قانون کے مطابق اور باہمی رضامندی سے مسئلہ حل کیا جائے۔"

*🚨 میانکی بانڈہ کا دیرینہ مسئلہ 🚨*

*چیئرمین ملک عبدالملک* نے ڈی سی کرک، کمشنر کوہاٹ اور ڈی پی او کرک سے اپیل کی:
"میانکی بانڈہ کے زمینی راستے کا مسئلہ سالوں سے لٹکا ہوا ہے۔ عوام پریشان ہیں۔ خدارا نوٹس لیں!"

لیکن ساتھ ہی واضح کر دیا:
"ہم اپنی جائیداد پر زبردستی راستہ ہرگز نہیں دیں گے۔ انصاف اور قانون کے مطابق فیصلہ ہو!"

حکام سے گزارش ہے کہ فوری کارروائی کریں۔ عوام کا مسئلہ حل کریں!

اس ویڈیو کو شیئر کریں تاکہ حکام تک آواز پہنچے۔

* *

سیاست: نام، شناخت، جدوجہد اور عوامی خدمت کا سفرتحریر: راؤف خٹکسیاست ایک ایسا میدان ہے جس میں قدم رکھنے سے پہلے انسان کو ...
29/05/2026

سیاست: نام، شناخت، جدوجہد اور عوامی خدمت کا سفر

تحریر: راؤف خٹک

سیاست ایک ایسا میدان ہے جس میں قدم رکھنے سے پہلے انسان کو اپنے اندر برداشت، صبر، حوصلہ، بصیرت اور عوامی خدمت کا جذبہ پیدا کرنا پڑتا ہے۔ محض خواہش یا شہرت کی طلب کسی شخص کو کامیاب سیاستدان نہیں بنا سکتی بلکہ اس کے لیے مسلسل جدوجہد، عوامی رابطہ اور زمینی حقائق سے واقفیت ضروری ہوتی ہے۔

ہمارے معاشرے میں اکثر لوگ اپنے نام کے ساتھ اپنے گاؤں، شہر یا علاقے کا نام لگاتے ہیں۔ بظاہر یہ ایک سادہ سا عمل محسوس ہوتا ہے لیکن اس کے اندر محبت، وابستگی اور شناخت کا ایک گہرا پیغام پوشیدہ ہوتا ہے۔ جب کوئی شخص اپنے نام کے ساتھ اپنے علاقے کی نسبت جوڑتا ہے تو وہ اپنے لوگوں اور اپنی مٹی سے محبت کا اظہار کرتا ہے۔ ساتھ ہی یہ نام لوگوں کے اندر تجسس بھی پیدا کرتا ہے کہ آخر اس شخص کا تعلق کس علاقے سے ہے اور وہ اپنے علاقے کی نمائندگی کس انداز میں کرنا چاہتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ علاقائی شناخت اکثر سیاسی سفر کے آغاز میں توجہ حاصل کرنے کا ایک ذریعہ بن جاتی ہے۔

تاہم صرف نام کے ساتھ علاقے کی نسبت لگانے سے سیاسی کامیابی کی ضمانت نہیں ملتی۔ یہ ایک جستجو، ایک خواہش اور ایک ابتدائی قدم ضرور ہو سکتا ہے لیکن اصل امتحان میدانِ عمل میں ہوتا ہے۔ سیاست میں کامیابی صرف نعروں، دعوؤں یا سوشل میڈیا کی سرگرمیوں سے حاصل نہیں ہوتی بلکہ اس کے لیے عوام کے درمیان رہنا اور ان کے مسائل کو سمجھنا ضروری ہوتا ہے۔

بدقسمتی سے آج کے دور میں سیاست کو بہت سے لوگ کمائی کا ایک ذریعہ سمجھنے لگے ہیں۔ سیاست کا اصل مقصد عوامی خدمت، انصاف اور فلاح و بہبود ہونا چاہیے لیکن جب سیاست کو ذاتی مفادات اور مالی فوائد کے لیے استعمال کیا جاتا ہے تو یہی لفظ اپنی اصل روح کھو دیتا ہے۔ معاش اور بدمعاش دو الگ الگ الفاظ ہیں لیکن جب سیاست خدمت کے بجائے مفاد کا ذریعہ بن جائے تو لوگ ان دونوں کے درمیان فرق بھولنے لگتے ہیں۔ یہی وہ صورتحال ہے جو سیاست اور سیاستدانوں کے بارے میں منفی تاثر پیدا کرتی ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ سیاست کرنا اتنا آسان نہیں جتنا بظاہر دکھائی دیتا ہے۔ یہ دل گردے والا کام ہے۔ سیاستدان کو تنقید برداشت کرنا پڑتی ہے، مخالفین کے الزامات سننے پڑتے ہیں، ناکامیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور کئی مرتبہ اپنی محنت کا فوری صلہ بھی نہیں ملتا۔ ایسے حالات میں صرف وہی شخص ثابت قدم رہ سکتا ہے جس کے اندر صبر اور برداشت کا مادہ موجود ہو۔

سیاست میں حافظہ بھی بہت اہم کردار ادا کرتا ہے۔ عوام اپنے نمائندوں کے وعدے، دعوے اور کارکردگی کو یاد رکھتے ہیں۔ ایک سیاستدان کو بھی اپنے لوگوں کے مسائل، ضروریات اور توقعات سے باخبر رہنا پڑتا ہے۔ یہ تجربہ کسی کتاب یا تھیوری سے حاصل نہیں ہوتا بلکہ عوام کے درمیان رہنے اور ان کے ساتھ مسلسل رابطے سے پیدا ہوتا ہے۔ عوام کی طرف سے بار بار رد کیے جانے، شکستوں کا سامنا کرنے اور مختلف حالات سے گزرنے کے بعد ہی ایک سیاستدان پختگی حاصل کرتا ہے۔

آج اگر واجدکمالئین جیسے لوگ سیاست میں قدم رکھنے یا کوئی بڑا سیاسی فیصلہ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں تو یقیناً اس کے پیچھے کافی سوچ بچار، مشاورت اور منصوبہ بندی شامل ہوگی۔ سیاست میں کوئی بھی بڑا قدم بغیر تیاری کے نہیں اٹھایا جاتا۔ ممکن ہے کہ ان کے پاس مشیروں کی ایک ٹیم ہو جس نے انہیں سیاسی حالات، ممکنہ مشکلات اور مستقبل کے امکانات سے آگاہ کیا ہو۔ یہ بھی ممکن ہے کہ انہیں سیاست کے میدان میں کامیابی اور ناکامی دونوں پہلوؤں کے بارے میں مکمل بریفنگ دی گئی ہو۔

یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ جیت ہر کسی کے مقدر میں نہیں ہوتی۔ سیاست میں بعض اوقات انتہائی محنتی اور قابل لوگ بھی کامیاب نہیں ہو پاتے جبکہ بعض لوگ غیر متوقع طور پر کامیابی حاصل کر لیتے ہیں۔ انسان کی ذمہ داری کوشش، جدوجہد اور محنت کرنا ہے جبکہ نتائج کا اختیار اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے۔ اسی لیے ایک باشعور سیاستدان شکست کو بھی سیکھنے کا ذریعہ سمجھتا ہے اور کامیابی کو عاجزی کے ساتھ قبول کرتا ہے۔

ووٹ حاصل کرنا بھی کوئی آسان کام نہیں۔ ووٹ صرف نعروں سے نہیں ملتے بلکہ اعتماد، کردار اور مسلسل عوامی خدمت کے نتیجے میں حاصل ہوتے ہیں۔ عوام کسی امیدوار کو اس وقت ووٹ دیتے ہیں جب انہیں یقین ہو کہ وہ ان کے مسائل کو حل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سیاسی کارکنوں اور نئے امیدواروں کو اپنی سیاسی تربیت مقامی سطح سے شروع کرنی چاہیے۔

حجرے، جرگے، سماجی تقریبات اور عوامی اجتماعات سیاست کی ابتدائی درسگاہیں ہیں۔ ان مقامات پر لوگوں سے ملنے، ان کی بات سننے اور ان کے مسائل کو سمجھنے کا موقع ملتا ہے۔ یہاں ہونے والی چھوٹی چھوٹی کامیابیاں اور ناکامیاں انسان کو پختگی کی طرف لے جاتی ہیں۔ یہ تجربات مستقبل کی بڑی سیاسی ذمہ داریوں کے لیے بنیاد فراہم کرتے ہیں۔

سیاست دراصل عوام کے دل جیتنے کا نام ہے۔ یہ صرف الیکشن لڑنے یا اقتدار حاصل کرنے کا عمل نہیں بلکہ ایک مسلسل سفر ہے جس میں خدمت، قربانی، برداشت اور اخلاص کی ضرورت ہوتی ہے۔ جو لوگ اس میدان میں صبر، استقامت اور عوامی خدمت کے جذبے کے ساتھ آگے بڑھتے ہیں وہی وقت کے ساتھ اپنی شناخت قائم کرتے ہیں اور لوگوں کے دلوں میں جگہ بناتے ہیں۔

لہٰذا سیاست میں آنے والے ہر فرد کو یہ سمجھنا چاہیے کہ یہ راستہ آسان نہیں۔ یہاں کامیابی سے زیادہ سیکھنے کے مواقع ہوتے ہیں، تعریف سے زیادہ تنقید سننی پڑتی ہے اور فوری فائدے کے بجائے طویل المدتی جدوجہد کرنی پڑتی ہے۔ لیکن اگر نیت خدمت کی ہو، ارادے مضبوط ہوں اور عوام کے ساتھ تعلق خلوص پر مبنی ہو تو یہی سیاست ایک شخص کو عزت، احترام اور دائمی شناخت عطا کر سکتی ہے۔

میں پالشی نہیں بلکہ حقیقی ورکر ہوں، ورکروں کا ترجمان اور عوام کا خادم ہوںتحصیل تخت نصرتی کے سابق جنرل سیکرٹری محیط خان ک...
29/05/2026

میں پالشی نہیں بلکہ حقیقی ورکر ہوں، ورکروں کا ترجمان اور عوام کا خادم ہوں
تحصیل تخت نصرتی کے سابق جنرل سیکرٹری محیط خان کی آپ بیتی، اُنہی کی زبانی
تحریر۔ راؤف خٹک

تحصیل تخت نصرتی کی سیاسی تاریخ گواہ ہے کہ یہاں مختلف ادوار میں کئی سیاسی شخصیات اور کارکنان نے اپنی اپنی صلاحیتوں کے مطابق خدمات سرانجام دی ہیں، تاہم کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جو عہدوں، مراعات اور ذاتی مفادات سے بالاتر ہو کر ایک نظریے، ایک مقصد اور ایک مشن کے لیے اپنی زندگی وقف کر دیتے ہیں۔ میں بھی اُن کارکنوں میں شامل ہوں جنہوں نے سیاست کو اقتدار حاصل کرنے کا ذریعہ نہیں بلکہ عوامی خدمت اور کارکنوں کے حقوق کے تحفظ کا میدان سمجھا ہے۔
میں واضح الفاظ میں کہنا چاہتا ہوں کہ میں کبھی بھی پالشی یا خوشامدی سیاست کا حصہ نہیں رہا۔ میری سیاست کا محور ہمیشہ کارکن، عوام اور پارٹی کا نظریہ رہا ہے۔ میں ایک حقیقی ورکر ہوں، ورکروں کا ترجمان ہوں اور عوام کا خادم ہوں۔ میں نے ہمیشہ سچ کو سچ اور غلط کو غلط کہا ہے، خواہ اس کی قیمت مجھے سیاسی نقصان یا ذاتی مشکلات کی صورت میں ہی کیوں نہ ادا کرنی پڑی ہو۔
میرا سیاسی سفر کسی سفارش یا شارٹ کٹ کا مرہون منت نہیں بلکہ مسلسل جدوجہد، قربانیوں اور کارکنوں کے ساتھ عملی وابستگی کا نتیجہ ہے۔ تحصیل تخت نصرتی کی سابق کابینہ میں بطور جنرل سیکرٹری ذمہ داریاں نبھاتے ہوئے میری اولین ترجیح کارکنوں کے مسائل کو حل کرنا، ان کی آواز کو قیادت تک پہنچانا اور تنظیمی ڈھانچے کو مضبوط بنانا تھا۔ میں نے اپنی ذمہ داری کو صرف ایک عہدہ نہیں سمجھا بلکہ اسے ایک امانت تصور کیا۔
مجھے فخر ہے کہ میں نے ہر مشکل وقت میں کارکنوں کے ساتھ کھڑے ہو کر ان کا حوصلہ بڑھایا۔ جب حالات سازگار تھے تو کارکنوں کے ساتھ تھا اور جب مشکلات آئیں تب بھی ان کا ساتھ نہیں چھوڑا۔ میری سیاست کا مقصد ہمیشہ کارکنوں کی عزت، وقار اور حقوق کا تحفظ رہا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ کسی بھی سیاسی جماعت کی اصل طاقت اس کے کارکن ہوتے ہیں۔ اگر کارکن مطمئن اور متحرک ہوں تو جماعت ترقی کرتی ہے اور اگر کارکنوں کو نظر انداز کیا جائے تو تنظیم کمزور پڑ جاتی ہے۔
میں نے اپنی سیاسی زندگی میں ایسے حالات بھی دیکھے ہیں جب پارٹی کا نام لینے والے بہت کم لوگ تھے۔ آج جو لوگ اقتدار، عہدوں اور مراعات کے سائے میں پارٹی سے وابستگی کا دعویٰ کرتے ہیں، شاید انہیں وہ دن یاد نہ ہوں جب پورے ضلع میں چند درجن کارکن بھی مشکل سے ملتے تھے۔ اُس وقت ہم نے نہ صرف پارٹی کا پرچم بلند رکھا بلکہ عوام تک اس کا پیغام بھی پہنچایا۔ شدید مخالفت، مشکلات اور وسائل کی کمی کے باوجود ہم نے اپنے نظریے سے وفاداری نبھائی۔
مجھے آج بھی وہ دن یاد ہیں جب سیاسی سرگرمیوں کے لیے ذاتی وسائل استعمال کرنا پڑتے تھے۔ پارٹی پروگراموں کے انعقاد، کارکنوں کی مدد اور تنظیمی امور کے لیے میں نے اپنی استطاعت سے بڑھ کر کردار ادا کیا۔ کئی مواقع پر ذاتی ضروریات کو پس پشت ڈال کر پارٹی کے لیے مالی تعاون کیا۔ یہ قربانیاں کسی صلے یا عہدے کے حصول کے لیے نہیں بلکہ نظریے سے محبت اور کارکنوں کے اعتماد کی خاطر تھیں۔
میں نے ہمیشہ اُن عناصر کی مخالفت کی جو کارکنوں اور عہدیداروں کے درمیان تفریق پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ بدقسمتی سے ہر دور میں کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جو ذاتی مفادات کے لیے پارٹی کو تقسیم کرنے اور کارکنوں کو ایک دوسرے کے خلاف کھڑا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ میں نے ہمیشہ ایسی سوچ کے خلاف آواز بلند کی ہے اور آئندہ بھی بلند کرتا رہوں گا۔ میری نظر میں پارٹی کا اتحاد ہی اس کی اصل طاقت ہے اور اتحاد کو نقصان پہنچانے والا کوئی بھی عمل جماعت کے مفاد میں نہیں ہو سکتا۔
میں نے اپنی سیاسی جدوجہد کے دوران وقت کے فرعونوں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا ہے۔ میں نے کبھی کسی کے دباؤ، دھونس یا سیاسی اثر و رسوخ کو قبول نہیں کیا۔ اگر کسی نے کارکنوں کے حقوق سلب کرنے یا تنظیم کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی تو میں نے اس کے سامنے کھل کر اپنا مؤقف رکھا۔ میں سمجھتا ہوں کہ ایک حقیقی کارکن کی ذمہ داری صرف نعرے لگانا نہیں بلکہ حق بات کہنا بھی ہے، چاہے وہ کتنی ہی تلخ کیوں نہ ہو۔
میری سیاست کسی شخصیت کے گرد نہیں بلکہ اصولوں کے گرد گھومتی ہے۔ جو بھی پارلیمنٹرین، عہدیدار یا سیاسی رہنما پارٹی اور کارکنوں کے ساتھ مخلص ہوگا، میں اس کا بھرپور ساتھ دوں گا۔ جو کارکنوں کی عزت کرے گا، ان کے مسائل سنے گا اور ان کی خدمت کرے گا، میں اسے اپنا قائد مانوں گا اور اس کے ساتھ کھڑا رہوں گا۔ لیکن اگر کوئی کارکنوں کو نظر انداز کرے گا یا ان کے حقوق پامال کرے گا تو میں خاموش تماشائی نہیں بنوں گا۔
آج مجھے سب سے زیادہ دکھ اس بات کا ہے کہ وہ کارکن جو برسوں تک پارٹی کا سرمایہ اور اثاثہ سمجھے جاتے تھے، ان میں سے بہت سے لوگ نظر انداز ہو چکے ہیں۔ وہ لوگ جنہوں نے مشکل ترین حالات میں پارٹی کا پرچم اٹھایا، جلسے جلوسوں میں شرکت کی، مخالفت برداشت کی اور پارٹی کے لیے قربانیاں دیں، آج ان کی قدر کم ہوتی جا رہی ہے۔ میں ایسے تمام کارکنوں کی آواز بننا اپنا فرض سمجھتا ہوں۔
میرا ایمان ہے کہ اگر کسی جماعت نے ترقی کرنی ہے تو اسے اپنے کارکنوں کو عزت دینا ہوگی۔ کارکن صرف ووٹ جمع کرنے یا جلسے بھرنے کے لیے نہیں ہوتے بلکہ وہ جماعت کی بنیاد ہوتے ہیں۔ بنیاد کمزور ہو جائے تو عمارت زیادہ دیر قائم نہیں رہ سکتی۔ اسی لیے میں ہمیشہ کارکنوں کے حقوق، ان کی عزت اور ان کی فلاح کے لیے آواز اٹھاتا رہوں گا۔
میں نے اپنی پوری زندگی عوامی خدمت کے لیے وقف کی ہے۔ میرے دروازے ہمیشہ عام لوگوں کے لیے کھلے رہے ہیں۔ میں نے کوشش کی کہ لوگوں کے مسائل سنوں، ان کے دکھ درد میں شریک ہوں اور اپنی استطاعت کے مطابق ان کی مدد کروں۔ میری سیاست کا مقصد کبھی ذاتی مفاد حاصل کرنا نہیں رہا بلکہ عوام کی خدمت اور کارکنوں کی نمائندگی رہا ہے۔
سال 2013 سے لے کر آج تک پارٹی کو صوبے میں عوام کی بھرپور حمایت حاصل رہی ہے۔ اس کامیابی کے پیچھے صرف قیادت نہیں بلکہ لاکھوں کارکنوں کی محنت، قربانیاں اور جدوجہد شامل ہیں۔ یہی کارکن اصل سرمایہ ہیں اور انہی کی بدولت پارٹی مضبوط ہوئی ہے۔ اس لیے ان کی عزت اور قدر کرنا ہر ذمہ دار شخص کی اولین ترجیح ہونی چاہیے۔
میں آج بھی اسی جذبے اور عزم کے ساتھ میدان میں موجود ہوں جس جذبے کے ساتھ اپنے سیاسی سفر کا آغاز کیا تھا۔ نہ ماضی میں کسی دباؤ کے سامنے جھکا تھا اور نہ مستقبل میں جھکوں گا۔ میں ہمیشہ حق، انصاف اور کارکنوں کے حقوق کے لیے آواز بلند کرتا رہوں گا۔ میری وفاداری کسی فرد سے نہیں بلکہ نظریے، کارکنوں اور عوام سے ہے۔
میں تمام کارکنوں، سپورٹرز اور مخلص ساتھیوں کو یقین دلاتا ہوں کہ ان کی آواز کو ہر فورم پر اٹھاتا رہوں گا۔ ان کے حقوق کا دفاع کروں گا اور کسی بھی ایسے عمل کی مخالفت کروں گا جو کارکنوں کے مفادات کے خلاف ہو۔ میری جدوجہد کا مقصد صرف اور صرف کارکنوں کی عزت، تنظیم کا استحکام اور عوام کی خدمت ہے۔
میں سمجھتا ہوں کہ سیاست خدمت، دیانت اور قربانی کا نام ہے۔ اگر سیاست سے خدمت کا جذبہ ختم ہو جائے تو وہ صرف اقتدار کی جنگ بن کر رہ جاتی ہے۔ میری خواہش ہے کہ پارٹی میں ایسی روایات کو فروغ دیا جائے جہاں کارکن کو عزت ملے، میرٹ کو ترجیح دی جائے اور فیصلے اجتماعی مشاورت سے کیے جائیں۔
آخر میں میں یہی کہنا چاہتا ہوں کہ میں نہ کبھی پالشی تھا، نہ آج ہوں اور نہ آئندہ بنوں گا۔ میں ایک حقیقی کارکن ہوں، کارکنوں کا ترجمان ہوں اور عوام کا خادم ہوں۔ میری زندگی، میری جدوجہد اور میری سیاست کارکنوں اور عوام کے نام ہے، اور میں آخری سانس تک اپنے اس مشن پر قائم رہوں گا۔

Address

Karachi
WHATSAPP 00923432179255

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when 41Digital Plus posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to 41Digital Plus:

Share